قیامت کی صحافت


omair mahmood جب قیامت آئے گی، اور  حضرت اسرافیل صور پھونکنا شروع کریں گے ،تو پاکستان کے ٹی وی نیوز رومز میں کام کرنے والے صحافیوں کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔۔۔ کہ یہ آواز اجل کی ہے یا ان کے افسران کی۔

پھر قیامت آنے کی خبر چلے گی۔ ہانک لگائی جائے گی، قیامت آنے کی خبر سب سے پہلے ہمارے چینل نے دی، پھٹہ چلا دو۔ (بریکنگ نیوز کو ترکھان صفت صحافیوں نے پھٹے کا نام دے رکھا ہے۔ اسی پھٹے پر رکھ کر خبر کو قبر تک پہنچایا جاتا ہے۔ لہذا کوئی بھی اہم، یا غیر اہم خبر آئے، نیوزروم میں آواز لگتی ہے۔۔۔اس کا پھٹہ چلا دو، یعنی اسے بریکنگ نیوز قرار دے کر اسکرین پر انڈیل دو)۔
قیامت کی  کوریج کےلیے تیاریاں شروع کر دی جائیں گی۔ چونکہ واقعہ بڑا ہوگا، اس لیے رپورٹر کےساتھ ساتھ اینکر بھی فیلڈ میں بھجوا دیا جائے گا۔ وہ چیخ چیخ کر کہے گا، دیکھیے ناظرین سورج سوا نیزے پر آگیا ہے، سورج اتنا قریب ہے کہ میں اسے ہاتھ بڑھا کر چھو سکتا ہوں۔۔اوئی۔
آپ دیکھ سکتے ہیں، یہاں ہر کسی کو اپنی پڑی ہے۔ قیامت دکھانے میں بھی ہمارا چینل بازی لے گیا۔ ہم ایک صاحب سے بات کرتے ہیں۔۔۔جی قیامت آنے پر کیسا محسوس کر رہے ہیں آپ۔
حساب شروع ہو گا، ساری خلقت اپنی نیکیاں شمار کرائے گی، ٹی وی صحافی بارگاہ ایزدی میں پھٹے پیش کر دیں گے۔اسی قطار میں، اپنا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں تھامے، صحافیوں کے افسر بھی کھڑے ہوں گے۔ وہ بھی حساب کتاب شروع کر دیں گے۔۔۔تم نے پھٹے میں املاء کی غلطیاں کیں، دوسرے چینل کا رپورٹر قیامت کے مناظر براہ راست دکھا رہا تھا، تمہیں کیا موت پڑ گئی تھی؟ قیامت متاثرین سے بہتر سوال نہیں پوچھ سکتے تھے؟
چونکہ صحافی تمام امور میں اپنے آپ کو ماہر سمجھتے ہیں، اور رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنی رائے دینا بھی ضروری سمجھتے ہیں، وہ یہاں بھی مختلف چیزوں میں خامیاں تلاش کر لیں گے۔ ایک رپورٹر پل صراط کے کنارے کھڑا کہہ رہا ہو گا۔۔۔دیکھیے ناظرین، اس پل کی چوڑائی انتہائی کم ہے۔ اگر تھوڑا زیادہ چوڑا کر دیا جاتا تویہاں سے گزرنے والوں کو آسانی ہو جاتی۔
کچھ صحافی فرشتوں کو پریس کارڈ دکھا کر جنت کی طرف جانے کی کوشش کریں گے، لیکن ان کی ایک نہیں چلنے دی جائے گی۔ تمام صحافیوں کو جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ البتہ انہیں آگ میں نہیں جلایا جائے گا۔ داروغہ جہنم کو حکم ہو گا، ان صحافیوں کے بنائے پھٹے انہیں زور زور سے لگائے جائیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عمیر محمود

عمیر محمود ایک خبری ٹیلی وژن چینل سے وابستہ ہیں، اور جو کچھ کرتے ہیں اسے صحافت کہنے پر مصر ہیں۔ ایک جید صحافی کی طرح اپنی رائے کو ہی حرف آخر سمجھتے ہیں۔ اپنی سنانے میں زیادہ اور دوسروں کی سننے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ عمیر محمود نوک جوک کے عنوان سے ایک بلاگ سائٹ بھی چلا رہے ہیں

omair-mahmood has 27 posts and counting.See all posts by omair-mahmood

2 thoughts on “قیامت کی صحافت

  • 17-03-2016 at 12:14 am
    Permalink

    بہت خوب لکھا ہے عمیر!

  • 17-03-2016 at 2:11 pm
    Permalink

    sir aap nay to waqae phatty hi chuk diyehain.lajwab

Comments are closed.