پاکستانی لبرل: ساون کے اندھو ں کے بناوٹی اصول


انور غازی

anwar ghazi

گزشتہ دنوں ایک معاصر جریدے نے دنیا کے ہزار کے قریب ارب پتیوں پر تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ مجھے بھی وہ رپورٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ بل گیٹس، وارن بفٹ، انگوار، لی کاشنگ اور آٹھ دس اور کے علاوہ کوئی ایسا نہیں ہے جس نے خیراتی منصوبے شروع کررکھے ہوں یا وہ دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہوں، بلکہ وہ سب اپنی اپنی عیاشیوں میں مگن ہیں۔ نجانے کیوں کئی دوست صحافی ان ارب پتیوں کو ہی سب سے بڑا ہیرو بناکر پیش کرتے ہیں۔ ان کوتاریخِ اسلام میں مسلمانوں میں سے کوئی صاحبِ ثروت شخص نظر نہیں آتا جس نے غریبوں کے لیے اپنی تجوریوں کے منہ کھول دیے ہوں؟ کیا ان کو متحدہ عرب امارات کے ارب پتی ولید بن طلال نظر نہیں آتے جنہوں نے اپنی ساری دولت غریبوں کے نام وقف کر دی ہے؟

ہماری ریسرچ کے مطابق 264 صاحبِ ثروت اور ارب کھرب پتی مسلمان ایسے ہیں جو اپنی تمام تر دولت غریبوں اور اشاعت دین کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔ میں ذاتی طور پرایک بزنس مین کو جانتا ہوں کہ انہوں نے کئی مشہور ہسپتالوں کے قریب میڈیکل اسٹور والوں کو کہہ رکھا ہے کہ ضرورت مند مریض کا بل مجھ سے لیا کرو۔ کسی کو دوائی دینے سے انکار نہ کرو۔ امریکا و یورپ کے ارب پتیوں کے چیئریٹی فنڈ کا ذکر کرتے ہوئے میرے اس دوست صحافی نے کئی سوالات پوچھے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سوال یہ کہ” کیا یہ لوگ مسلمانوں سے زیادہ مسلمان نہیں ہیں؟“ ”کیا یہ لوگ دوزخ میں جاسکتے ہیں؟“ ”ان کا معاشرہ ہم مسلمانوں کے معاشرے سے ہر اعتبار سے بدرجہا اچھا کیوں ہے؟“ ”مسلمان بحیثیت مسلمان بد دیانت کیوں ہیں؟ “ ”فلاحِ انسانیت کا کام کرنے والے بڑے بڑے بزنس مین مسجدوں، چرچوں، سنیگوگوں، مندورں اور ٹیمپلز وغیرہ میں کیوں نہیں جاتے؟ وہ روحانیت اور عبادت کے قائل کیوں نہیں؟“ مسلمان دکھی انسانیت کی خدمت کیوں نہیں کرتے؟

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی تمام دولت کے بل بوتے پر ”ایمان“ کی دولت نہیں خرید سکتے۔ آپ ﷺنے فرمایا:” اگر ترازو کے ایک پلڑے میں آسمان وزمین رکھ دی جائیں اور دوسرے میں صرف کلمہ طیبہ تو بھی یہ پلڑا جھک جائے گا۔“ آپ ﷺکے چچا ابو طالب، جنہوں نے آپ ﷺپر بہت احسانات کئے تھے۔ آپ ﷺان کو اچھا بدلہ دینا چاہتے تھے لیکن آڑ صرف ”کلمہ طیبہ“ تھا۔ جب ابو طالب کے مرنے کا وقت قریب آیا تو آپ ﷺنے ان سے فرمایا: ”اے میرے پیارے چچا! صرف ایک دفعہ میرے کان میں ہی ”کلمہ طیبہ“ پڑھ دو تاکہ قیامت کے دن میں تیرے لیے اللہ سے نجات طلب کرسکوں لیکن جواب ندارد!“ تو میرے دوست! ایمان کے دو حرف بہت بڑی چیز ہے۔ کلمہ طیبہ کے مقابلے میں پوری دنیا ہیچ ہے۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، البتہ ان کو ان کے اچھے کاموں کا بدلہ دنیا میں دے دیا جاتا ہے، لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ اہلِ ایمان کے عقیدے کے مطابق اس میں رتی بھر شک کی گنجائش بھی نہیں۔ تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ مسلم معاشرہ اتنا بد دیانت نہیں ہوا ہے جتنا آپ نے بنادیا ہے۔ الحمد للہ! زیادہ تر مسلمان امانت دار ہیں۔ تازہ واقعہ ہے۔ کراچی کے ایک مدرسے کے طالب علم نے ایک صاحب کے لاکھوں روپے پڑے پائے تو اسے پوری امانت اور ذمہ داری سے مالک تک پہنچایا۔ اس گئے گزرے دور میں مسلمانوں کی دیانتداری کے واقعات کو جمع کیا جائے تو ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔ چوتھے سوال کا جواب یہ کہ ان کا عجیب فلسفہ ہے کہ جس ہستی نے ان کو پیدا کیا ہے اس ذات کو بھول جاتے ہیں اور اپنے جیسے بندوں کی خدمت کو ہی دنیا اور آخرت کی فلاح سمجھنے لگتے ہیں۔ آخرت کے اعتبار سے یقینا یہ گھاٹے کا سودا ہے۔ پانچویں سوال کا جواب یہ کہ انسانوں کی خدمت اور امداد پیغمبرانہ اوصاف میں سے ہے۔ آپ اسلام کی تاریخ پر سرسری سی نظر بھی ڈالیں تو معلوم ہوگا آغاز ہی سے اسلام کی روشنی دنیا کے کونے کونے میں پھیلنا شروع ہوئی اور پھر موجودہ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر یورپ، افریقہ اور سینٹرل ایشیا تک مسلمان سلطنتیں قائم ہوئیں۔ اگر ہر طرف اسلام کا ڈنکا بجنے لگا تو اس عروج میں بنیادی عنصر مسلمان کا اپنا کردار تھا۔ مسلمان جہاں جہاں گئے وہاں وہاں اپنے ساتھ سچائی، احترام آدمیت، ایمان داری، انصاف، مساوات، حیا، محبت، فراخدلی اور خداخوفی کا پیغام لے کر گئے۔ اسلام کی خوبیوں اور اس کے عالمگیر نظام کو آج بھی دنیا بھر کے حقیقت پسند افراد مانتے ہیں۔ اسلام کی تعلیم کا گہری اور عمیق نظر سے مطالعہ کرنے والا غیر مسلم، مسلمان ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اگر وہ کسی وجہ سے مسلمان نہ بھی ہو، متاثر ضرور ہوتا ہے۔

یورپ و امریکا میں جواچھائیاں ہیں درحقیقت وہ اچھائیاں مسلمانوں کی ہیں جس کو انہوں نے چھوڑ دیا ہے اور امریکی اس پر عمل پیرا ہوکر اپنے معاشرے کو ترقی کی معراج کی طرف لے جارہے ہیں۔ مثلاً: جھوٹ نہ بولنا، سب کی عزت کرنا، انصاف ملنا، اچھے کام کی تعریف کرنا، لڑائی ہوجائے تو صلح کروانا، غریبوں کی مدد کرنا، کام کے وقت میں کام کرنا، ذاتی اور سرکاری اشیا کا استعمال دیانت کے ساتھ کرنا، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا، سرکاری چیز کو ذاتی استعمال میں نہ لانا، خیانت نہ کرنا، شکست تسلیم کرنا، خیرات کرنا، ہرکام میں مسابقت یہ سب وہ کام ہیں جو اسلام نے مسلمانوں کو دیے ہیں تاکہ وہ اس پر عمل پیرا ہوکر دونوں جہانوں میں سرخرو ہو جائیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو اس میں اسلام کا کوئی قصور نہیں۔

میرے دوست صحافی نے مغرب کے مادر پدر آزاد معاشرے کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملا دیے ہیں۔ انہیں مغربی تہذیب کا سب کچھ ٹھیک اور ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جہاں امریکی و یورپی معاشرے میں اچھائیاں ہیں وہاں برائیاں بھی ہیں، بلکہ ان کے معاشرے میں اچھائیاں کم اور برائیاں زیادہ ہیں۔ وہ خود غرض ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ صرف انہی کو ہی زندہ رہنے کا حق ہے۔ انہیں صرف اپنی زندگی کی پرواہ ہے۔ امریکی معاشرے میں والدین کی عزت جانوروں سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ وہ کتوں اور بلیوں کو تو گھروں میں پالتے ہیں، اپنے بیڈوں تک پر سلا لیتے ہیں،مگر بوڑھے والدین کو ”اولڈ ہومز“ میں چھوڑ آتے ہیں۔ عورت کے حقوق کا رونا رونے والے ملک میں سب سے زیادہ ”گت“ عورت ہی کی بنی ہوئی ہے۔ وہ صبح سے شام تک مردوں کی طرح کام کرتی ہیں اور جواب میں نوکروں جتنی بھی عزت نہیں ملتی۔ امریکا میں امریکی بھکاریوں کی بھی کمی نہیں۔ چوری اور ڈاکے کے واقعات سب سے زیادہ امریکا ہی میں ہوتے ہیں۔ مغرب کے ایک مصنف نے صرف انسانی دماغ کی کارکردگی پر کئی درجن کتابیں تصنیف کی ہیں۔ معاشرے کی اجتماعی نفسیات ہوں یا کسی فرد کے انفرادی ذہنی میلانات، ان کی رائے اہلِ مغرب کے ہاں اپنے موضوع پر سند مانی جاتی ہے۔ ہمارے ایک سابقہ وزیر اور حالیہ سینیٹر کو ان سے ملاقات کا موقع ملا تو دریافت کیا کہ ہمارے ہاں دہشت گردی اور قتل و غارت کا دور دورہ ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ وہ گویا ہوئے:”آپ کے ہاں قتل و غارت ہے کہاں؟ قتل و غارت تو امریکا و یورپ میں ہے جہاں کے مشہور ترقی یافتہ شہروں میں سالانہ 50 ہزار سے زیادہ افراد قتل ہوتے اور لاکھ سے زیادہ لٹتے ہیں۔“ جو کام ہمارے ہاں ڈھکے چھپے ہوتے ہیں وہ امریکی معاشرے میں ڈنکے کی چوٹ پر ہوتے ہیں۔ وہاں پر سو (Sue) کرنا عام ہے۔ نادار بوڑھے (اس میں جوان بیٹوں کے والدین بھی شامل ہوتے ہیں) سسک سسک کر اپنا آخری وقت گزارتے ہیں۔ جب مرجاتے ہیں تو ان کی اولاد صرف ایک گلدستہ لیے ”حاضرِ خدمت“ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان بوڑھوں کو کچھ نصیب نہیں ہوتا اور اب تو وہاں پر میت کو دفنانے کا سلسلہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ میت کو ایک طرف سے بھٹی نما مشین میں ڈالا جاتا ہے۔ دوسری طرف سے راکھ ایک بیگ میں آجاتی ہے۔ کوئی چاہے تو اسے تھوڑی سی راکھ شیشی میں ڈال کر دے دی جاتی ہے۔

قارئین! ہمارے ہاں دو قسم کے مسلمان رہتے ہیں: ایک ”مسلمان“ اور دوسرے ”لبرل مسلمان۔“ صرف مسلمان اپنی دینی، مذہبی اور قومی روایات کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اپنے مسلمان ہونے پر فخر بھی کرتے ہیں۔ اسلام اور مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنی ملازمت اور دیگر کاموں میں پیش آنے والی مشکلات کو اللہ کے لیے برداشت کرتے ہیں جبکہ ”لبرل مسلمان“ حرام حلال اور جائز ناجائز کے” چکر“ سے بے نیاز ہیں۔ شعائرِ اسلام کو برا بھلا کہتے ہیں۔ غیرمسلموں میں شادی تک کو جائز سمجھتے ہیں۔ ان کے طور طریقوں کو دیکھتے ہوئے کوئی نہیں کہہ سکتا یہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم؟ ان کے لیے گویا امریکا و یورپ ایک جنت ہے۔ یہ لوگ در اصل مغربی معاشرے کے مکروہ چہرے کو چھپانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ امریکی معاشرے کو آئیڈیل کہنے اور مشرقی روایات کو سر سے پاؤں تک برا بھلا کہنے والے امریکی معاشرے کا سات تہوں میں چھپا حقیقی چہرہ دیکھیں تو انہیں ہوش آجائے۔ ہماری اپنے صحافی دوست سے درخواست ہے کہ وہ دینِ اسلام اور مسلم معاشرے پر طرح طرح کے البیلے و فرضی سوالات اُٹھا اُٹھا کر مسلمانوں کا رہا سہا ایمان خراب کرنے کی بجائے ایک نظر ادھر بھی ڈالیں۔


Comments

FB Login Required - comments

9 thoughts on “پاکستانی لبرل: ساون کے اندھو ں کے بناوٹی اصول

  • 16-03-2016 at 11:36 pm
    Permalink

    حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں ۔۔۔۔۔ ۔

    ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں سے ایک شیخ کا نام لے کر سارا حق ادا کر دیا آپ نے تو۔۔۔

    یعنی پاکستان میں اور اسلامی ممالک میں والدین کے ساتھ وہ حسنِ خلق کا سلوک کیا جاتا ہےکہ آسمان جھک جاتا ہے۔۔۔ کبھی جاو نہ خوشبولگا کے ایدھی سینٹر ۔۔۔۔۔ ا

    یعنی پاکستان میں “کام نہ کرنے والی عورتوں” کی ایسی زینت وعزت ہے کہ عرش عش عش کر اُٹھتا ہے۔ اسلام میں تو خواتین کی اتنی توقیر، وقعت اور عزت ہے کہ ایک مرد بیک وقت چار چار سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حرم اس کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ عورتوں سے محبت کی اس سے زیادہ واضح مثال کہاں مل سکتی ہے بھلا ۔۔۔۔ کیوں بھائی؟

    “غیرمسلموں میں شادی تک کو جائز سمجھتے ہیں” ۔۔۔۔۔۔ یعنی اہل کتاب کے ساتھ شادی کی تعلیمات بھی غلط ہے ۔۔۔۔۔۔۔

    جو جو اچھائیاں مغرب میں ہے وہ اسلام کی ہیں ۔۔۔۔ گمشدہ میراث سینڈروم ۔۔۔۔ 🙂

    یعنی اسلام آنے سے پہلے دنیا میں کوئی اچھائی نہیں تھی؟ سب جھوٹ بولتے تھے ۔۔۔ سب مکار تھے ۔۔۔۔ سچائی کا کوئی نام ونشان نہیں تھا ۔۔۔۔ سب چوری کو اچھا کام سمجھتے تھے ۔۔۔۔۔ ہر ایک کو ڈاکو بننے کی تربیت دی جاتی ہے ۔۔۔۔ سب اپنی ماووں اور بہنوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔

    یعنی اسلام سے پہلے کوئی معاشرہ اچھے اقدار کا امین نہ تھا؟ یعنی اقدار کی ابتدا اسلام کے ساتھ ہوئی۔

    تو پھر مسلمانوں کی حالت ایسی کیوں ہوئی کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کے خاندان کا قتلِ عام کردیا ۔۔۔ پیغمبر کے وصال کے فورا بعد؟

    آپ کی بات مانی جائے تو پھر یہ بھی خود کو باور کروانا پڑے گا کہ انسانیت، اقداراور اخلاقیات کے مبلغ ارسطو، افلاطون اور سقراط، بھی مسلمان ہی ہونگے ۔۔۔۔۔۔ یا پھر اس سے پہلے بابل کے تہذیب کو بامِ عروج پر لے جانے والے بھی مسلمان ہی تھے ۔۔۔۔۔۔۔

    اچھا مذاق کرتے ہو صاحب۔ دوسروں کی اچھائیوں کو اپنا کہنے والے یا تو خود فریبی کے مریض ہیں، یا بیوقوفی کے، یا پھر دونوں کے۔

    خود کردہ را علاج نیست ۔۔۔۔۔۔۔

    اوریا مقبول جان کے کالمز، انصار عباسی کی بکواسیات اور پاکستان کی سرکاری اسلامیات یا پھر مدرسوں میں پڑھائی جانے والی متعصب، فرقہ واریت کی تعلیم دینے والی، کتابیں پڑھ کر رٹی رٹائی کہانیاں اور خود تراشیدہ دلائل دہرا کر خود کو بہتر ثابت کرنے کی کوشش کرنا اپنے چھیتڑے اُڑانے کے مصداق ہے۔

  • 16-03-2016 at 11:48 pm
    Permalink

    ایڈیٹر صاحب‘
    آپ ان صاحب کے بے سروپا‘ سطحی اورغیرشائستہ مضامین کیوں شائع کرتے ہیں؟ ان کی تحقیقی صلاحیتوں کا یہ عالم ہے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ولید بن طلال کا تعلق متحدہ عرب امارات نہیں‘ سعودی عرب سے ہے۔

    • 17-03-2016 at 12:47 am
      Permalink

      شکیل صاحب، ہم نے ساری زندگی اپنے لئے بات کہنے کا حق مانگا ہے۔ کسی کی بات حقائق کے اعتبار سے درست ہے یا غلط، اس کا بات کہنے کا حق محترم ہے اور ناقابل تنسیخ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مصنف کے حقائق یا استدلال مین کوتاہی ہے تو آپ جواب لکھیے۔ شائع کیا جائے گا۔

  • 17-03-2016 at 4:34 am
    Permalink

    وارن بوفٹ نے جب خیراتی کام کا سوچا تو اسے بل گیٹ کی پہلے قائم فاؤنڈیشن نظر آئی اور اس نے فیصلہ کیا کہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے سے بہتر ہے کہ بل گیٹ کے ساتھ مل کر کام کیا جائے تاکہ خیراتی کام کیلئے وقف کردہ رقم کا بیشتر حصہ ایک نیا انفراسٹرکچر قائم کرنے میں خرچ نہ ہو۔ پورا عالم اسلام چھان مارنے کے بعد اگر صرف شہزادہ طلال بن ولید کا نام ہی ملا تھا تو لگے ہاتھوں یہ بھی بتا دیا جاتا کہ شہزادہ موصوف نے کس کار خیر میں طبع آزمائی کی ہے ؟ سعودی عرب کی طرف سے جب یمن پر اندھا دھند بمباری کی گئی تو شہزادہ صاحب کی طرف سے ایک اعلان سامنے آیا تھا، جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
    مولانا صاحب ! اگر آپ نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائے ہیں تو واضح رہے کہ گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلانے کی اس مہم کو مالی طور پر بل گیٹ ہی سپورٹ کر رہا ہے۔

  • 17-03-2016 at 9:27 am
    Permalink

    Guftaar kay Ghazi Zindabad

  • 17-03-2016 at 9:58 am
    Permalink

    وجاہت صا حب‘ جواب کا شکریہ۔ میں فکری اورنظریاتی تنوع کے حوالے سے آپ کے خیالات کی قدر کرتا ہوں۔ یقین کریں مجھے اختلاف رائے سے کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن کیا ’ہم سب‘ میں شائع ہونے والی تحریروں کے معیار کی پرکھ کی جاتی ہے؟ کیا آپ لکھاریوں سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ اپنے طور پر حقائق کی چھان بین کرکے اپنی تحریریں آپ کو بھیجا کریں۔
    اِن حضرت کے مضامین کے ساتھ ان کا تعارف بھی نہیں ہوتا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان کا حدود اربعہ کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ آپ کو مضمون بھیج کرقطعی طور پرلاتعلق ہوجاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے وہ اس بحث میں بالکل حصہ نہیں لیتے جو ان کے مضامین کے حوالے سے جنم لیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوسروں کی آراء کواہمیت دینے اوران سے سیکھنے پرقطعاً یقین نہیں رکھتے۔

  • 17-03-2016 at 1:10 pm
    Permalink

    لگتا ہے جناب نے دلیل کی بجائے الہامات کی بنیاد پر تحریر کو عدم سے وجود میں لایا ہے۔ہمارے مسلمان معاشرہ جس کی کئی ایک وجوہات پر تعریف فرمائی گئی ہے بوجوہ دنیا بھر میں اس کا تعارف اخلاقیات سے عاری معاشرہ کے طور کیا جاتا ہے۔اسی مسلمان معاشرہ میں دودہ والا صبح دودہ میں پانی ملا کر زرداری کو گالیاں نکالتا ہے،جان بچانے والی ادویات تک ملاوٹ زدہ ہوتی ہیں۔جھوٹ بول کر کوچھڑانے کا عمل ہوشیاری سمجھا جاتا ہے۔دلیل کے بجائے بے بنیاد مفروضات زیادہ بھروسہ مند ہیں۔ گھروں میں بوڑہے ماں باپ کو اس لئے رکھا جاتا ہے کہ جائیداد کسی اور کے ہتھے نہ چڑھ جائے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اس حال میں ہوتے ہیں جن سے جانور بھی بہتر انداز میں سنبھالے جاتے ہیں۔

  • 17-03-2016 at 5:19 pm
    Permalink

    محترم قارئین
    السلام علیکم
    ہم معذرت چاہتے ہیں کہ شہزادہ ولید بن طلال کو متحدہ عرب امارات کا شہزادہ لکھ دیا گیا ہے۔ یہ غیر دانستہ طور پر ہوا ہے۔ شہزادہ ولید بن طلال کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔

  • 18-03-2016 at 1:16 pm
    Permalink

    ” یہ لوگ آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، البتہ ان کو ان کے اچھے کاموں کا بدلہ دنیا میں دے دیا جاتا ہے، لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔”

    کیا یہ بتایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں ان بےایمانوں کو انکے اچھے کاموں کا بدلہ کس شکل میں دیا جاتا ہے؟ کسی جائز شکل میں یا شرعاً ناجائز شکل میں؟ غالباً جائز شکلیں انھیں مناسب صلہ نہ معلوم ہوں اس لئے خیال ہوتا کہ ناجائز شکلوں میں دیا جاتا ہوگا، تاکہ حرامزادے کی رسی مزید دراز ہو۔ (یہ محاورہ ہے جسکی تصدیق جناب مدیر کر سکتے ہیں، میں گالی نہیں دے رہا ہوں۔) اب سوال یہ اٹھے گا کہ صلہ میں ملے ناجائز مواقع یا اشیاٗ سے مزا لوٹنے کا جو گناہ ان بد بختوں سے ہوگا اسکا بھی کوئی اجر، اچھا یا برا، ہوگا یا نہیں۔ بہرحال محترم نے ہم سب کو غور و فکر کا ایک موقع مہیا کر دیا ہے۔ افسوس بس یہ ہے کہ کوئی نام نہیں دیا کہ انھوں جو دعوے کیے ہیں انکی تصدیق کی جاسکے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا کرنے سے وہ کہیں غیبت کے مرتکب تو نہیں ہوئے ہیں۔

Comments are closed.