ایک دیسی پاکستانی سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت؟


 zeeshan hashimسوشل کنٹریکٹ ایک سیاسی فلسفہ ہے جس میں ہم ریاست، سول سوسائٹی، اور فرد کے حقوق و فرائض کا تعین کرتے ہیں۔ اس نظریہ کی سرگوشیاں یونانی سوفسطائیوں سے سنی جا سکتی ہیں مگر اسے بطور سیاسی فلسفہ تھامس ہابس نے متعارف کروایا- یہ سترھویں صدی کا ایسا سیاسی موضوع ہے جس نے جدید لبرل ازم کی بنیاد رکھی اور فرد کے حقوق و فرائض کو سیاست کا مرکزی موضوع بنایا۔ ریاست، سیاست اور معیشت کے تناظر میں فرد کا جائزہ لیا گیا اور دانشورانہ مکالمہ کو ایک سمت ملی۔

فلسفی ہابس نے حقوق و فرائض میں تقسیم کی۔ اس کے مطابق آزادی فرد کا بنیادی حق ہے، اور قانون آزاد فرد کے فرائض مقرر کرتا ہے۔ اس نے فطری حقوق سے یہ مراد لیا کہ ہم سب کو یہ حق حاصل ہے کہ ہم جو چاہیں کریں، جبکہ اس کے نزدیک فطری قوانین سے مراد ہے کہ قوانین ہمیں یہ بتائیں کہ حقیقتا ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ لوگ حکومت اس لئے قائم کرتے ہیں کہ ان کی زندگی کو تحفظ ملے یوں ریاست ان سے زندگی نہیں چھین سکتی۔ حکومت کا اختیار صرف اتنا ہے جتنا عوام اسے دیں۔ اس کا کہنا تھا کہ سماج افراد کے باہمی اعتماد، تعاون، اور اشتراک سے بنتا ہے اور یہی تین عوامل سوشل کنٹریکٹ کی بنیاد ہیں۔

ہابس کے کام کو جس نے جدت دی اور اسے مغربی سیاسی سماجی اور معاشی مکالمہ میں بلندیوں تک پہنچایا وہ جان لاک ہے۔ سوشل کنٹریکٹ کے اسی تصور کی وجہ سے لاک کو لبرل ازم کا بانی مانا جاتا ہے۔ اس کے کچھ خیالات درج ذیل ہیں۔

– لوگ اس کا فطری حق رکھتے ہیں کہ اپنی زندگی، آزادی، اور جائیداد کا دفاع کریں اور ریاست اس لئے قائم کی جاتی ہے کہ وہ فرد کے ان بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔ ریاست کے پاس صرف اتنی طاقت ہو کہ ان ذمہ داریوں کو سرانجام دے سکے۔ اگر کوئی حکومت ان تین بنیادی حقوق کا تحفظ نہیں کرتی تو ایسی حکومت کو تحلیل کر کے نئی حکومت قائم کی جائے۔ لاک فرد کے فطری حقوق اور فطری فرائض (یعنی قانون) میں امتیاز نہیں کرتا۔ اس کی رائے میں قانون فرد کے فطری حقوق کے تحفظ کے لئے ہی قائم کیا جاتا ہے۔

-جائیداد اس لئے ہر فرد کا بنیادی حق ہے کہ ہر فرد اپنی محنت،شوق،اور فطری استعداد کو استعمال کر کے اسے حاصل کرتا یا کماتا ہے۔ آپ کی محنت، آپ کا شوق، اور آپ کی ذہنی استعداد آپ کی پراپرٹی ہے اور یقینا ان تینوں سے حاصل شدہ نتیجہ بھی آپ کی پراپرٹی ہے۔ اسی طرح محنت اپنے ساتھ سرمایہ، ٹیکنالوجی یا کوئی اور “ان پٹ” بھی اگر شامل کرتی ہے تو اس سے حاصل نتیجہ بھی آپ کی ذاتی جائیداد ہے اور اس پر آپ کا فطری حق مسلم ہے۔

-انصاف پر قائم حکومت اسے کہتے ہیں جو ان لوگوں کی مرضی کے تابع ہو جن پر حکومت کی جا رہی ہو۔ اگر کوئی بھی ایسی گورنمنٹ جو لوگوں کی مرضی کی تابع نہیں وہ ایک تخریبی ریاستی بندوبست ہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ ایسی حکومت کی اطاعت چھوڑ دیں، اسے تحلیل کر دیں، بدل دیں، اور نئے آئین کی بنیاد ڈالیں جو زندگی، آزادی،اور جائیداد کا تحفظ کر سکے۔ یہی وہ نظریہ ہے جس نے سول نافرمانی کی تحریک کو نظریاتی بنیاد دی۔ امریکی انقلاب و انقلاب فرانس میں اسی نظریہ کی گونج پورے امریکہ میں رہی تو لوتھر کی سول نافرمانی کی تحریک میں لوتھر بھی اسی نظریہ کو بار بار دہراتا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی آئین کی تشکیل میں لاک کا کردار ویسا ہی ہے جیسے سوویت یونین کے آئین میں کارل مارکس کا کردار تھا۔

لاک کی خوش قسمتی ہے کہ اسے جان سٹارٹ مل، بینتھم، اور والٹیر جیسے پیشرو ملے جنہوں نے اس کی فکر میں تضادات کو دور کیا اور اس کے کام کو بہترین انداز سے آگے بڑھایا-

لاک کے بعد سوشل کنٹریکٹ کے نظریہ پر روسو نے کافی کام کیا۔ روسو کا کہنا تھا کہ ہم قوانین کی تشکیل و ترتیب کے وقت اپنی آزادی کو سرنڈر کرتے ہیں اور خود کو اس کی پابندی میں دے دیتے ہیں، اسی لئے حکومت کا بھی اخلاقی فرض ہے کہ لوگوں کی مرضی کی پابندی کرے۔ یاد رہے کہ روسو اور لاک کا سوشل کنٹریکٹ کا تصور کافی مختلف ہے،یہی سبب ہے کہ والٹیر اور روسو کا نظریاتی مکالمہ کافی تند و تیز رہا۔

سوشل کنٹریکٹ پر نظریاتی کام یقینا ان تین صاحبان کا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سترھویں صدی سے اب تک کا سیاسی سماجی اور معاشی مکالمہ اس بنیادی بحث کے گرد گھومتا رہا ہے کہ ریاست کیا ہے اور اس کے فرائض کیا ہیں ؟ سول سوسائٹی کا کیا کردار ہے اور خاص طور پر افراد جن سے معاشرہ قائم ہوتا ہے ان کے حقوق کیا ہیں، حقوق اور فرائض کا باہمی تعلق کیا ہے، قوانین کیوں قائم کئے جاتے ہیں،ان قوانین کی بنیاد کیا ہے، اور انصاف پر مبنی قوانین کون کون سے ہیں اور کون کون سے نہیں ؟

جنگ عظیم دوم تک امریکہ و برطانیہ میں لاک کا تصور سوشل کنٹریکٹ زیادہ تر رائج رہا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد ریاست نے بہت سارے امور اپنے فرائض میں لے لئے جیسا کہ ہر فرد کا معاشی تحفظ۔ اداروں پر ادارے بنائے گئے، اور کلاسیکل لبرل ازم کا یہ تصور کہ “اچھی حکومت وہی جو اپنے سائز اور فرائض میں چھوٹی مگر مو ¿ثر ترین ہو ” کی جگہ اچھی گورنمنٹ کا ایسا تصور سامنے آیا ہے جو معیشت ثقافت اور سیاست سمیت تمام شعبہ جات میں آپ کی نگران مددگار اور محافظ ہو۔ مگر اس سے ان کا قدیم شہری ڈھانچہ کافی متاثر ہوا ہے اور شخصی آزادیاں کمزور ہوئی ہیں۔ میری ذاتی رائے میں جنگ عظیم دوم کے بعد مغرب لبرل کم اور سوشل زیادہ ہوا ہے (سیاسی و معاشی امور میں زیادہ سوشل ہوا ہے جبکہ ثقافت میں زیادہ لبرل ہوا ہے ) جس کا بڑا سبب جمہوریت ہے جو اپنی فطرت میں انفرادیت پسند کم اور سوشل زیادہ ہے۔ مغرب کا دانشورانہ مکالمہ سوشل کنٹریکٹ کے نئے ڈھانچہ پر خوب غور و خوض کر رہا ہے اور یقینا یہ ایک جاری عمل ہے۔

خاکسار پاکستانی سیاسی تاریخ کے مطالعہ اور عصر حاضر کے چیلنجز کی سمجھ بوجھ سے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اٹل ہے۔ اب نہ کوئی شب خون پاکستانی شہریوں سے زیادہ تر عرصہ تک ان کا بنیادی جمہوری حق چھین سکتا ہے اور نہ ہی کسی تھیوکریسی کا کوئی امکان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت کی منزل کا حصول ہماری آخری منزل ہے ؟ کیا سیاست سماج اور معیشت کی دیگر آزادیاں یہاں محفوظ ہیں ؟ ریاست کا کام یہاں بے لگام ہے، سول سوسائٹی کو ہی نہیں معلوم کہ وہ اپنی اصل میں کیا چیز ہے۔ کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ یہاں شہریوں کی اکثریت اپنی سول آزدیوں (یعنی سول سوسائٹی کے تصور) پر ہنستی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مو ¿ثر سول سوسائٹی کے بغیر مو ¿ثر جمہوریت بھی ناممکن ہے۔ فرد کیا ہے، اس کے بنیادی حقوق کیا ہیں، اور فرائض کا تعین کیسے ہو یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے بغیر نہ لبرل ازم ممکن ہے اور نہ سوشل ازم۔ ہمیں سوشل سائنسز کے میدان میں مو ¿ثر کام کرنا ہو گا، اصطلاحات کے لغوی معانی کی بحث نتیجہ خیز نہیں بلکہ تصورات پر بحث نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ ہمیں ڈکشنری لکھنے کے بجائے بنیادی تصورات پر محنت کرنی ہو گی۔ ہمیں اپنے سماج میں سوشل کنٹریکٹ کے سوال، معانی، تشریحات، اور مختلف تناظرات کو زندہ کرنا ہوگا تب ہی بہترین مستقبل کے امکانات کے در کھلیں گے۔

اس سلسلے میں ہمیں اپنی جغرافیائی، علمی، اور مذہبی تاریخ سے بھی مدد لینی چاہئے، اقوام مغرب سے بھی، مشرقی ایشیا خصوصاً جاپان اور دنیا کے باقی خطوں سے بھی۔ مثال کے طور پر جاپان جہاں فرد کو آزادی ملی، سیاست سماج اور معیشت میں لبرل ازم قائم کیا گیا۔ اہل مغرب کے علوم و فنون اور صنعت کاری کو اپنایا گیا،اس میں جدت لائی گئی مگر اپنی شناخت قائم رکھی گئی۔ اگر ہمارا سماج اپنی دیسی شناخت کو قائم رکھنا چاہتا ہے تو جاپان ایک اچھی کیس اسٹڈی ثابت ہو سکتی ہے کہ کس طرح آزادیوں کو بھی فروغ ملے، مادی ترقی بھی عروج پر پہنچے اور ثقافتی رنگ روپ اور اس کی روح بھی دیسی رہے۔ دیکھئے سو باتوں کی ایک بات یہ کہ سوشل کنٹریکٹ ایک جگہ سے کاپی کر کے دوسری جگہ نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا سوشل کنٹریکٹ ہماری اپنی تاریخ اور سماجی حقائق سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے وگرنہ مثبت نتائج کا حصول ناممکن ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

3 thoughts on “ایک دیسی پاکستانی سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت؟

  • 16-03-2016 at 12:44 am
    Permalink

    شوشل کنٹریکٹ کا تصور تب پیدا ہوا جب بادشاہی نظام زوال پزیر ہوا ،زراعت کی جگہ آمدن کے متبادل خود رو گھریلو صنعتی نظام نے لے لی ،ریاست بادشاہت کی اطاعت گزار تھی ،ریاست کا تصور قطعہ اراضی کے مالکان کے باہمی گھٹ جوڑ سے پیدا ہوا تھا جو بادشاہت کو مدد فراہم کرتے تھے ،جب خود رو گھریلو صنعتی نظام نے اس کی جگہ لی تو قطعہ اراضی کے مالک بھی ان کے محتاج ہوکر رہ گئے ،لہذا جاگیر داری کی جگہ صنعتی نظام نے لے لی تب فرد کی محنت اجاگر ہوئی ،بادشاہت جاگیر داری کی نمائندہ تھی جو زوال کی طرف چلی گئی ،پھر نئے صنعتی سماج کے اندر فرد کی انفرادی محنت اور اس سے وابستہ اس کے حقوق کا شعور پیدا ہوا جو ریاست سے متصادم تھا،تب فرد نے اجتماعی جدوجہد کا حصہ بن کر ایک نئے سوشل کنٹریک کی طرف راغب کیا ،پاکستان انتہائی پسماندہ سیمی فیوڈل ریاست ہے جو براہ راست پسماندگی سے جمپ کر کے عالمی منڈی کے نظام کا حصہ بنی ہے،جس کا اپنا کوئی معاشی نظام نہیں ہے معاشی نظام زراعت اور صنعت کی ترقی سے جڑا ہوتا ہے جو فرد کا ریاست سے مقالمے کا شعور پیدا کرتا ہے،پاکستان کی ریاست اور اس کے اندر پسنے والے افراد اپنی بقاء کی لڑائی جب تک عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ شروع نہیں کریں گے ،تب تک ریاست کی شکل واضح نہیں ہوگی اس وقت ریاست اپنی بقاء کی لڑائی گماشتہ رول ادا کرکے لڑ رہی ہے ،اور ریاست کے افراد اپنے اصل دشمن کی پہچان میں اندھے اور بے بہرہ ہیں وہ ریاست کے گماشتہ رول کو اپنی بقاء تصور کرتے ہیں ،حالانکہ ان کا دشمن عالمی سامراج اور ریاستی گماشتہ ہے،یورپ کے عمرانی سماجی ماہرین اور فلاسفہ کی دوسو سال پرانی تحریریں مطالعہ تک تو ٹھیک ہیں مگر حل نہیں ہے جب تک ہم یورپ کی طرح صنعتی اور زرعی انفراسٹکچر کو جدید بنیادوں پر استوار نہیں کرتے تب تک ریاست کا تصور دھندلا رہے گا اور بے لگام ہجوم کا تصور پیش کرتا رہے گا۔ اگر اسی طرح کا نظام اور سلسہ چلتا رہا تو ہم اپنی مذہبی ثقافتی پہچان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے،پھر نا ہمارا ادب ہوگا نا آرٹ ہوگا اور نا انفرادی سماجی فلسفہ۔

  • 16-03-2016 at 9:09 am
    Permalink

    Very well written Hashim, We really need to work on social sciences, but the state of social sciences is pathetic in our country, government is not interested for obvious reasons, but private sector universities are also not giving these sciences their due place under the market compulsions, how can we tackle this issue, plz throw some light on it.

  • 17-03-2016 at 4:10 pm
    Permalink

    very nice zeeshan sb

Comments are closed.