ملا کی گیدڑ بھبکی …. شیر کی پسپائی


mujahid aliمنصورہ میں ملک کی مذہبی جماعتوں کے اجلاس میں سامنے آنے والے مطالبے کے بعد پنجاب حکومت نے حال ہی میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کے لئے بنائے جانے والے قانون کا نوٹیفکیشن روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک کی مذہبی جماعتوں اور علما نے جماعت اسلامی کے صدر دفتر میں منعقدہ اجلاس میں حکومت کے خلاف دھواں دار تقریریں کیں اور کہا  کہ ملک کو سیکولر اور لبرل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن ملک کے دینی رہنما اس کی مزاحمت کریں گے۔ اس اجلاس کی کارروائی کے بارے میں آنے والی خبروں اور پنجاب حکومت کی پسپائی کے بعد یہ طے ہونا باقی ہے کہ ملک میں اصل حکمران کون ہے۔ خود اپنے نام کے ساتھ مولانا یا عالم لگانے یا اپنی جماعت کو مذہبی قرار دینے والی قوتیں اور گروہ کس حد تک مذہبی اقدار اور تقاضوں کا احترام کرتے ہیں۔ فی الوقت تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے غیر ضروری تصادم سے بچنے کے لئے ایک اہم اور خوشگوار قانون کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ دونوں بھائی طویل عرصہ سے سیاسی میدان میں موجود ہیں۔ انہیں خبر ہونی چاہئے کہ اس قسم کی دھونس اور دھمکی سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے والی حکومت حالات اور معاملات پر کنٹرول کرنے کے قابل نہیں رہتی۔

پہلے تو یہ بات واضح ہو جانی چاہئے کہ ان نام نہاد مذہبی جماعتوں کے اجتماع نے پنجاب میں منظور ہونے والے جس قانون کا سہارا لے کر سیاست کرنے کی کوشش کی ہے، اسے صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور سے منظور کیا تھا۔ یہ سب مسلمان ارکان تھے اور وہ بھی اسلام اور شریعت کے تقاضوں کو اتنا ہی سمجھتے ہیں جتنا خود کو مذہب کا چیمپئن کہلانے والے دعویٰ کرتے ہیں۔ اس قانون کے تحت خواتین کے ساتھ مار پیٹ کرنے والے مردوں کے خلاف فوری کارروائی کرنے اور متاثر ہونے والی خواتین کو مدد فراہم کرنے کے لئے ایک نظام استوار کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ باتیں قانون کی صورت میں سامنے لائی گئی تھیں، لیکن ان پر عملدرآمد کے لئے جن وسائل اور صلاحیتوں کی ضرورت ہو تی، وہ حکومت پنجاب کے پاس موجود نہیں ہیں۔ نہ ہی اس قانون کے تحت خصوصی  فنڈ فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس طرح اس قانون پر عمل کرنے میں بے شمار رکاوٹیں حائل تھیں۔ اسے زیادہ سے زیادہ صوبائی حکومت کا ایک سیاسی نعرہ قرار دیا جا سکتا تھا۔ اس کے باوجود ملک میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں اور صنفی امتیاز ختم کرنے کے خواہاں لوگوں نے اس دستاویز پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔ کیونکہ یہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی حکمران جماعت کی طرف سے اعتراف حقیقت تھا کہ صوبے اور ملک میں عورتوں کے حقوق کی صورتحال تکلیف دہ حد تک خراب ہے۔ سب یہ جانتے ہیں کہ صرف قانون بنانے سے سماجی حالات تبدیل نہیں ہو سکتے، اس کے لئے مسلسل کام کرنے اور معاشرے میں موجود تعصبات اور امتیازات کو ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سچائی کو جاننے کے باوجود ان سطور میں بھی اس قانون کی توصیف کی گئی تھی کیونکہ کسی مسئلہ کو تسلیم کئے اور مانے بغیر اسے حل کرنے کے لئے اقدام کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

ملک کی مذہبی جماعتوں نے جن میں مرکز میں شریک اقتدار مولانا فضل الرحمن اور ان کی پارٹی جمعیت علمائے اسلام (ف) پیش پیش تھیں، فوری طور پر مہم جوئی کا آغاز کیا۔ جے یو آئی ایف کے ایک دوسرے رہنما جو بدنصیبی سے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بھی ہیں، تو اس بے ضرر قانون کی مخالفت میں اس حد تک چلے گئے تھے کہ انہوں نے اس قانون سازی میں حصہ لینے والے اراکین اسمبلی کے خلاف آئین کی شق 6 کے تحت بغاوت کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن خود اس قانون کے حوالے سے گھٹیا قسم کی فقرے بازی کرتے رہے۔ اس رویہ سے ہی واضح ہوتا تھا کہ ان لوگوں نے نہ تو قانون کا مطالعہ کیا تھا اور نہ ہی اسلامی تقاضوں کے مطابق اس کی شقات کو پرکھنے اور کسی نتیجہ تک پہنچنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔ کیونکہ شروع سے ہی یہ مسئلہ مذہبی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش سے متعلق نہیں تھا بلکہ مذہب کا نام لے کر سیاست کرنے اور ملک میں مذہبی جماعتوں کے محدود ہوتے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش سے متعلق تھا۔ گویا جان بوجھ کر ملک کی نصف سے زائد آبادی کے جائز تحفظ کے لئے بنائے جانے والے ایک قانون کو اسلام کے خلاف اعلان جنگ قرار دے کر خود اپنے لئے سیاسی ماحول میں زیادہ جگہ پیدا کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا گیا تھا۔ یہ سارے عناصر دراصل ملک میں دہشت گردوں کے خلاف فوج کی موثر کارروائی اور حکومت کی طرف سے قومی ایکشن پلان کے تحت مدرسوں سے انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے ناراض تھے۔ آج منصورہ میں جمع ہونے والے سارے گروہ اور افراد کا ذریعہ معاش سیاست یا مدارس کا انتظام و انصرام ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر قومی ایکشن پلان کے ذریعے مدارس کو ایک مربوط نظام کا حصہ بنا لیا گیا اور ان کی نگرانی کا عمل نافذ ہو گیا تو بے پناہ وسائل اور رسوخ کا سبب بننے والے ادارے شاید ان کے ہاتھوں سے نکل جائیں گے یا وہ ایسی سونے کی کانیں نہ رہیں جیسی کہ وہ اس وقت ثابت ہو رہی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج منعقد ہونے والے اجلاس میں وہ سارے نعرے اور حربے بروئے کار لائے گئے جو اسلامی نظام کے نام پر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے گزشتہ دو تین دہائیوں کے دوران گھڑے گئے ہیں۔ ان میں ملک میں سودی نظام کا خاتمہ اور امریکہ سے عافیہ صدیقی کی رہائی جیسے معاملات بھی شامل ہیں۔ لیکن پنجاب اسمبلی کا قانون تازہ واقعہ ہے اور اسے عذر بنا کر سیاسی ماحول کو گرمایا جا سکتا ہے۔ اس لئے اسے منسوخ کرنے کے لئے 27 مارچ تک کی ”مہلت“ دی گئی تھی۔ اسے شریف برادران کی حکمت عملی کہہ لیں ، کمزوری ، اقتدار کی حرص یا ملک کے ملا کی بلیک میل کرنے کی قوت کہ پنجاب حکومت نے ہفتہ دس دن کی مہلت کا ”فائدہ“ اٹھانے کی بجائے فوری طور پر اس مطالبہ کو تسلیم کر لیا۔ مسلم لیگ (ن) خوش ہو گی کہ اس نے ایک سیاسی بحران کو جنم لینے سے پہلے ہی ختم کر دیا اور مذہبی رہنما یہ دھوم مچائیں گے کہ وہ مل کر کسی بھی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ عام لوگوں کو اس تاثر کے سحر میں گرفتار رکھنا ہی ملک کے مذہبی رہنماﺅں کی اصل طاقت ہے۔ وگرنہ انتخابات میں تو لوگ اپنی ضرورتوں اور مفادات کے مطابق غیر مذہبی امیدواروں کو ہی ووٹ دیتے ہیں۔ اگر ملک کے ووٹر بھی ملک کے سیاستدانوں کی طرح بے حوصلہ اور خوف میں مبتلا ہوتے تو وہ مسلم لیگ یا دیگر جماعتوں کی بجائے صرف ان مستند جماعتوں کو ووٹ دیتے جنہیں مذہبی کہلانے کا اعزاز حاصل ہے اور جو ”حلال“ کی مہر بردار ہیں۔

مذہبی جماعتوں نے عورتوں کے تحفظ کے جس قانون کو بنیاد بنا کر اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور ایک خاص سیاسی ایجنڈا لانے کی کوشش کی ہے، اس کی کسی شق کے بارے میں یہ کہنے کا حوصلہ نہیں کیا گیا کہ وہ کس طرح اور کیوں کر اسلامی شریعت سے متصادم ہے۔ اجلاس کے میزبان امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے صرف یہ دعویٰ کیا کہ یہ قانون خاندان کو برباد کر دے گا اور ملک میں طلاق کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ گویا طلاق کی شرح پر کنٹرول ہی اسلام کا اصل مقصد تھا جسے اس قانون کے ذریعے مجروح کرنے کی جرات کی گئی تھی۔ اس کے باوصف یہ نعرہ کسی دستاویزی ثبوت کے بغیر لگایا جا رہا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بلکہ اس کا امکان زیادہ ہے کہ اگر مردوں کو یہ احساس ہو جائے کہ عورت پر دست درازی کی صورت میں گرفت ہو سکتی ہے اور تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کو مالی ، سماجی اور قانونی امداد بھی مل سکتی ہے تو گھروں کا ماحول زیادہ خوشگوار ہو جاتا۔ مرد اپنی مضبوط سماجی اور قانونی حیثیت کی وجہ سے ہی عورتوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں یا ان کا استحصال کرتے ہیں۔ جو قانون مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات لانے کے لئے کام کرے گا، اس سے خانگی حالات بہتر بنانے اور معاشرے کو جرائم سے پاک کرنے میں مدد ملے گی۔

امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو دھمکاتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ اگر حکومت نے اس مطالبے کو منظور نہ کیا تو 1977 کی طرز کی تحریک چلائی جا سکتی ہے۔ تب ذوالفقار علی بھٹو کی سرکردگی میں پیپلز پارٹی کی اکثریت حاصل کرنے والی حکومت کو گرا کر ضیاءالحق کے مارشل لا اور طویل سیاہ دور کی راہ ہموار کی گئی تھی۔ اگرچہ جماعت اسلامی یا دوسری جماعتیں اس وقت ملک میں ویسی کوئی تحریک چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں لیکن 1977 کا حوالہ دے کر ان لیڈروں نے اپنے عزائم اور ارادوں کا اظہار ضرور کیا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جمہوریت کا دم بھرنے کے باوجود یہ عناصر نہ ملک میں جمہوری روایات کے فروغ کے حامی ہیں اور نہ جمہور کے مینڈیٹ کا احترام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ وہ عوام پر اعتماد نہیں کرتے کیونکہ لوگ انہیں ووٹ نہیں دیتے۔ یہ لوگ البتہ اس کا بدلہ لینے اور اقتدار کی مسند تک نقب لگا کر رسائی حاصل کرنے کے لئے اسلام کے نام پر سیاست اور بغاوت کا تجربہ کرنے کو ہر دم تیار رہتے ہیں۔

اگرچہ نواز شریف کی مداخلت اور شریف برادران کی بے حوصلگی سے پنجاب کی سیاسی قیادت نے پسپائی اختیار کی ہے لیکن مذہبی عناصر اور سیاسی حکمرانوں کو یکساں طور سے خبر ہونی چاہئے کہ دہشت اور قتل و غارتگری سے ہراساں اور پریشان یہ قوم اب حبس اور جبر سے نجات چاہتی ہے۔ اگر ملک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ناجائز طریقے سے راستہ روکنے کی کوشش کی گئی تو یہ پورا نظام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس بار نہ ملا اس تخریب کاری سے فائدہ اٹھا سکے گا اور نہ مسترد سیاستدان سیاسی فائدہ اٹھا سکیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “ملا کی گیدڑ بھبکی …. شیر کی پسپائی

  • 18-03-2016 at 10:21 pm
    Permalink

    سید مجاہد علی

    اسلا می معاشرے میں عورت پر تشدد صرف اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔

    صرف ایک جملہ لکھ دیتے تو کافی تھا۔

Comments are closed.