مصطفیٰ کمال کے آنسو اور طاقت کا “ہما”


roshan
وہ آیا اور چھا گیا! ایم کیو ایم کی سکرین پر اچانک نمودار ہو کر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے بہترین مئیروں میں شامل ہو جانے والے مصطفیٰ کمال کے لیے یہ لیبل انتہائی موزوں معلوم ہوتا ہے۔ یہ لیبل ایسا اعزاز ہے جو اگر کسی پر بھی چسپاں ہو جائے تو اسکی بقایا زندگی یا بعد میں آنے والے دنوں کے لیے ایک یادگار اثاثے کا کام دیتا رہتا ہے۔ سید مصطفیٰ کمال ایسے انسان ہیں جو یہ اعزاز اپنی زندگی میں دوسری مرتبہ حاصل کرنے کے خواہاں نظر آرہے ہیں۔ قبل ازیں انہوں نے الطاف حسین کو “بھائی” کے مقام پر فائز کر کے یہ اعزاز پایا تھا جبکہ اب کی بار یہ عزت افزائی وہ انہیں “صاحب” کا درجہ دے کر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی 3 مارچ کی پریس کانفرنس کے بعد جس طرح سے وہ میڈیا کے مخصوص لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اس سے بظاہر تو وہ دوبارہ “چھا جانے” کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں مگر ایک بہت لمبی فلم کے یہ محض چند ابتدائی سین ہیں۔ اس فلم سے کون ہٹ ہوگا اور کس کے لیے یہ ڈبہ ثابت ہو گی، اس بارے میں یقینی طور پر ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
جہاں کراچی کے امن وامان کا مسئلہ یہاں دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے وہاں مصطفیٰ کمال نے “بھائی” سے “صاحب” بنا دیئے گئے الطاف حسین کو اپنی پریس کانفرنس میں کراچی کی بدامنی کا سب سے بڑا ذمہ دار ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح کی باتیں انہوں نے بے بہا آنسو بہاتے ہوئے کیں۔ کہتے ہیں کہ آنسو دل کی زبان ہوتے ہیں مگر کیا کیا جائے کہ یہاں کئی ایسے شقی القلب لوگ موجود ہیں جومصطفیٰ کمال کے آنسوؤں کوان کے دل کی زبان کی بجائے ذہن کی پیداوار سمجھ رہے ہیں۔ آنسو اظہار کا ایسا ذریعہ ہیں جو غم ہی نہیں بلکہ خوشی میں بھی آنکھوں سے چھلک پڑتے ہیں۔ دو مختلف احساسات میں آنکھوں سے باہر آنے والے پانی کے نمکین قطرے ایک ہی طرح کے نظر آتے ہیں۔ بظاہر ایک جیسے نظر آنے والے ان ننھے نمکین قطروں کے متعلق ایک امریکی محقق خاتون روز لن فشر نے یہ ثابت کیا ہے کہ مختلف کیفیتوں میں آنکھوں سے جو مواد باہر آتا ہے وہ کیمیائی طور پر باہم مماثل نہیں بلکہ مختلف ہوتا ہے۔ آنسوؤں کو خورد بین کے نیچے رکھ کر دیکھنے سے روزلن پر منکشف ہوا کہ نہ صرف مختلف کیفیتوں میں آنکھوں سے باہر امڈ آنے والے آنسو ہی کیمیائی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہوتے بلکہ جو پانی ہمارا جسم آنکھوں کو تر رکھنے کے لیے پیدا کرتا ہے وہ بھی قطعاً اس پانی جیسا نہیں ہوتا جو پیاز چھیلتے وقت زبردستی رخساروں کو گیلا کرتا رہتا ہے۔ ان باتوں کا مقصد کوئی کیمیائی عمل سمجھانا نہیں بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ مصطفیٰ کمال کے آنسوؤں کے کیمیائی تجزیے سے ان کی حقیقت کے متعلق ابہام دور کیا جاسکتا تھا۔ مگر کیا کیا جائے کہ جتنے آنسو بہنے تھے بہہ چکے ، اب تو مصطفیٰ کمال پیش قدمی کے نئے مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔
آنسو تو الطاف حسین بھی بہت بہاتے رہے ۔ روزلن فشر کی آنسوؤں کی حقیقت کے متعلق تحقیق کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب الطاف حسین کے آنسوؤں کا تجزیہ کبھی نہیں کیا گیا تو پھر مصطفیٰ کمال کی آنکھوں کے پانی کو کسی کسوٹی پر کیوں پرکھا جائے۔ جب الطاف حسین کے آنسوؤں کے چھلک جانے کے مناظر میڈیا پر دکھائی دیا کرتے تھے ان دنوں ان کی طاقت کا دبدبہ ایم کیو ایم کے اندرونی خانوں سے لے کر کراچی کے طول و عرض تک پھیلا نظرآتا تھا۔ دونوں کی “بھائی بندی” کے دنوں میں الطاف حسین کی طاقت کا سایہ مصطفیٰ کمال کے وجود میں بھی کسی نہ کسی حد تک سمایا ہوا تھا۔ مصطفیٰ کمال اور مسلم لیگ ن کے زعیم قادری کی گفتگو پر مشتمل ایک ویڈیو کلپ گزرے دنوں کی یادگار کے طور پر آجکل سوشل میڈیا پر بہت زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔ اس ویڈیو کلپ میں الطاف حسین کی طاقت کا جادو اپنے سر پر چڑھائے مصطفیٰ کمال ،زعیم قادری کو یہ دھمکی دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ میرے قائد کے خلاف اگر غلط زبان استعمال کی تو جہاں پنجاب میں رہتے ہو وہاں اپنے گھر سے باہر نہیں آپاؤ گے۔ “بھائی بندی” کے زمانے میں مصطفیٰ کمال کے مونہہ سے نکلے ہوئے الفاظ جو دستاویزی ثبوت کے طور پر بھی موجود ہیں، ان سے یہ اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں کہ الطاف حسین کی طاقت کے تمام اچھے برے ثمرات میں کسی قدر حصہ مصطفیٰ کمال کا بھی رہ چکا ہے۔
پہلے بھی اچانک آ کر اور چھا کر مصطفیٰ کمال 2005 ء سے 2010 ء تک کراچی کے ناظم (میئر) رہے۔ مصطفیٰ کمال کی نظامت کے دور ان ہی کراچی میں12 مئی 2007 ء کا خونریز دن گذرا ۔ یاد رہے کہ پولیس آرڈر 2002 ء کے تحت اس وقت ناظم شہر (مصطفیٰ کمال) ضلع میں امن امان کے قیام کے لیے اچھے خاصے اختیارات کا حامل ہوتا تھا۔ واضح رہے کہ اب وسیم اختر کے کراچی کا میئر بننے کی صورت میں ان کے پاس مصطفیٰ کمال والے اختیارات نہیں ہونگے۔ 12 مئی 2007 ء کو کراچی کا امن وامان تباہ کرتے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑا دی گئیں تھیں۔ اس ایک دن کراچی میں 50 کے قریب بے گناہ انسانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی تھی۔ یہ دن مزید یادگار بن جاتا اگر 3 مارچ 2016 کی بجائے اس روز ہی مصطفیٰ کمال کی آنکھوں سے نمکین پانی کی کچھ بوندیں برآمد ہو گئی ہوتیں۔ یہ دن پاکستان کی تاریخ کا یاد گار ترین دن بھی ہو سکتا تھا اگر مصطفیٰ کمال اگست 2013 کی بجائے 12 مئی 2007 ء کو الطاف حسین کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیتے۔
یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ 12 مئی 2007 ء کو جس طاقت کے بل پر کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی اس طاقت کا ماخذ لندن میں بیٹھا الطاف حسین نہیں بلکہ اسلام آباد میں مکے لہرانے والا شخص تھا۔ اس طاقت کا اور ان واقعات کا جن کے الزامات مصطفیٰ کمال نے الطاف حسین پر لگائے ہیں کے درمیان ہمیشہ کوئی نہ کوئی تعلق موجود رہا ہے۔ جس طاقت کے متعلق ہمیں یہ گمان رہا کہ یہ الطاف حسین کا زور بازو ہے وہ تو اصل میں اس “ہما” کی وجہ سے تھی جسے ان کے سر پر بٹھا دیاگیا تھا۔ مبینہ طور پر صحت کی ابتر ترین حالت تک پہنچ چکے الطاف حسین پر بھارتی ایجنسی ’’ را‘‘ سے تعلق سمیت جو دیگر الزامات لگائے جارہے ہیں، ان الزامات کی تہہ تک اگر کوئی اس’’ بھائی بندی‘‘ کو نظر انداز کر کے پہنچنا چاہتا جو طاقت کے اصل ماخذ، الطاف حسین اور مصطفیٰ کمال جیسے لوگوں کے درمیان تھی تو وہ اس قوم کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے جو سمجھتی تو سب کچھ ہے مگر وقت پر بولنے سے گریزاں رہتی ہے۔ جس قوم کو پہلے الطاف حسین کے آنسوؤں سے دلاسہ دیا جاتا رہا اس کی ڈھارس اب مصطفیٰ کمال کے آنسوؤں سے بندھانے کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ یہ کھیل اصل میں “ہما” کا ایک سر سے دوسرے سر پر منتقلی کا کھیل معلوم ہو رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments