پشاور میں سیکرٹریٹ ملازمین کی بس میں دھماکہ : 15 شہید


dhamakaپشاور میں نوتھیہ کے قریب سیکریٹریٹ ملازمین کی بس کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے میں 15 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ مزید زخمیوں کو نکالنے کیلئے امدادی کام جاری ہے۔
پشاور میں نوتھیہ کے قریب دہشت گردوں کی جانب سے سیکریٹریٹ ملازمین کی بس کو نشانہ بنایا گیا۔ ملازمین کی بس مردان سے ملازمین کو لیکر پشاور آ رہی تھی کہ راستے میں دھماکا ہو گیا۔ دھماکے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں ہیں۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتال میں منتقل کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی اور زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ دھماکے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد خون کا عطیہ دینے کیلئے بھی پہنچ گئی ہے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز عباس مروت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھماکا خیز مواد بس کی سیٹ کی نیچے نصب کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا بم ڈسپوزل سکواڈ مزید معلومات اکٹھی کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی خیبر پختونخوا میں سرکاری ملازمین کی بسوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ستمبر 2013 میں گل بیلہ کے علاقے میں ایسے ہی ایک حملے میں 17 افراد شہید ہو گئے تھے جبکہ اس سے ایک سال پہلے جون میں گل بیلہ کے علاقے میں ہی سرکاری ملازمین کی بس کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اس دھماکے میں 18 افراد شہید ہوئے تھے۔ اظہار تعزیت چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی پشاور میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو زخمیوں کی مکمل دیکھ بھال اور علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا مزید کہنا تھا معصوم شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے انسانیت کے دشمن ہیں۔ پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کا جرات اور جوانمردی سے مقابلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی دھماکے کی شدید الفاط میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات دینے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے شہداءکے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا اس طرح کے بزدلانہ حملے دہشت گردی کیخلاف عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ حملے میں ملوث دہشت گردوں کو ڈھونڈ کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments