وجاہت مسعود سے اختلافات اور لبرلز کا تھڑا


ہمارے ایک بزرگ صحافی بہت دلچسب قصے سناتے ہیں۔ انہوں نے ستر کی دہائی میں کراچی کے انگریزی اخبارات سے اپنی صحافت کا آغاز کیا تھا، جو اب تک جاری ہے۔ وہ ایک عملی اور متحرک صحافی ہیں۔ مجھے یہ علم نہیں کہ وہ کہانی یا افسانہ لکھتے ہیں یا نہیں۔ لیکن وہ ایک اچھے داستان گو ہیں۔ اور اکثر پاکستان کی صحافت کی تاریخ پر کئی اندرونی کہانیاں سناتے رہتے ہیں۔ یہ کہانیاں بڑی دلچسب اور سبق آموز ہوتی ہیں۔

ان کی ایک کہانی یہ ہے کہ ساٹھ ستر کی دھائی میں لبرل اور ترقی پسند صحافیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستانی اخبارات میں آ گئی تھی۔ ان لوگوں نے اخبارات کے نیوز روم سے لے کر مدیروں تک اپنی پوزیشن مستحکم کر لی تھی۔ اس وقت سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ پاکستان کے حکمرانوں کا جھکاؤ غیر ضروری حد تک ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طرف تھا۔ امریکی اس وقت کی ابھرتی ہوئی ترقی پسند تحریک کے بارے میں احساس تو تھے ہی اوپر سے ہمارے حکمران ان پر اپنی اہمیت اور افادیت ثابت کرنے کے لیے پاکستان میں ترقی پسند تحریک کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہتے تھے۔ وہ امریکیوں کو بتاتے تھے کہ اگر اقتدار کی ڈور ہمارے ہاتھ میں نہ ہو تو اس ملک میں کمیونسٹ انقلاب پرپا ہو سکتا ہے اور سوویت یونین آرام سے ٹہلتا ہوا گرم پانیوں تک آ سکتا ہے۔ چنانچہ وہ سویت یونین اور پاکستان کے ترقی پسندوں سے امریکیوں کو ڈراتے تھے۔ ڈرانے کے بعد وہ انقلاب کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ان سے سیاسی اور مالی مدد مانگتے تھے۔ اس وقت آدھی دنیا پے در پے انقلابوں کے زریعے سوویت بلاک کا حصہ بن چکی تھی۔ امریکی مزید انقلابوں کو روکنے کے لیے کوئی بھی قیمت چکانے کے لیے تیار رہتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے پاکستان کی ہئیت مقتدرہ کو ترقی پسندوں کو کچلنے کا ٹھیکہ دے دیا۔ اس ٹھیکے کے تحت لبرل اور ترقی پسند صحافیوں کو اخبارات سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ظاہر ہے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو یکدم روزگار سے فارغ کرنا آسان نہیں تھا۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے کراچی سے ایک اخبار نکالا گیا۔ اس اخبار میں کئی لبرل اور ترقی پسند صحافیوں کو دوگنے معاوضے پر کام کرنے کی پیش کش کی گئی جو کئی ایک نے قبول کر لی۔ اس طرح ایک بڑی تعداد میں ان لوگوں کو اس اخبار میں جمع کیا گیا۔ کچھ عرصے بعد اچانک یہ اخبار بند کر دیا گیا اور یہ سب لوگ بے روز گار ہو کر سڑکوں پر آ گئے۔

اسی بارے میں: ۔  ہندوستان کے بانکے۔۔۔ عبدالحلیم شرر کی ایک نادر تحریر (2)

اب یہ قصہ سچ ہے یا کوئی روایتی سامراج دشمن سازشی تھیوری؟ اس پر ساٹھ اور ستر کی دہائی میں صحافت کرنے والے خواتین و حضرات اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں اپنے اس بزرگ دوست اور سینئر صحافی کی سچائی اور دیانت پر کوئی شک نہیں ہے۔ یہ کہانی مجھے یاد آئی عدنان کاکڑ صاحب کے بلاگ سے، جس کا عنوان “وجاہت مسعود سے چند سنگین اختلافات” تھا۔ اور اس پر غزالہ قاضی نے یہ دلچسب تبصرہ لکھا کہ عدنان کاکڑ نے تو ہمیں ڈرا ہی دیا تھا کہ لبرلز کو بڑی مشکل سے ایک تھڑا ملا تھا، وہ بھی گیا۔ “ہم سب” کو لبرلز کا تھڑا ممکن ہے ازراہ تفنن کہا گیا ہو مگر اس کے پس منظر میں بڑی سنجیدگی ہے۔ ہے تو یہ کلیشے مگر دہرانے میں کوئی حرج نہیں کہ ہر مذاق کے پیچھے بہت بڑی سنجیدہ بات ہوتی ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ “ہم سب” اب ایک مقبول ویب سائٹ بن گیا ہے۔ اور ظاہر ہے اس کے ساتھ ہی یہ جلد یا بدیر مخالفین کی خاص توجہ کا مرکز بھی بن جائے گا۔ اب اس پر چاروں طرف سے طرح طرح کے حملے ہوں گے۔ جیسا کہ ہم پچاس کی دہائی سے دیکھتے آ رہے ہیں دشمن ہمیشہ کسی تنظیم، فورم یا ادارے پر سب سے پہلے اس کے اندر سے حملہ کراتا ہے، اور اس مقصد کے لیے اس کے اندر سے خود کش حملہ آور پیدا کرتا ہے۔ وہ اس مقصد کے لیے دھونس، دھاندلی، خوف، لالچ، رشوت اور سفارش جیسا ہر حربہ استعمال کرتا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق ہم سب کوچلانے والے انتہائی منجھے ہوئے، باشعور اور قابل بھروسہ لوگ ہیں اس لیے دشمن کو لبرلز کے اس تھڑے پر اندر سے حملے کا موقع تو شاید کبھی نہ مل سکے۔ اور یہ بہت ہی حوصلہ افزا اور خوش آئند بات ہے۔ ایک اہم بات یہ  کہ ہم سب کے ساتھی رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں. ان کی وقت اور توانائی کے اعتبار سے اپنی حدود ہیں، جس کی وجہ سے بہت سی تحریریں چھپنے سے رہ جاتی ہیں۔ اس حوالے سے میری تجویز ہے کہ “ہم سب” میں لکھنے اور اس کو پڑھنے والوں کو اپنی اپنی بساط کے مطابق ان مسائل کا حل سوچنا چاہیے تاکہ اس چراغ کو نہ صرف روشن رکھا جا سکے بلکہ لا محدود امکانات کو بروے کار لا کر اسے بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔

اسی بارے میں: ۔  گنگا جمنا تہذیب اور سندھ کی دھرتی

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔