ایک کہانی چین کی


چینیوں کی مہمان نوازی چینی کی مانند میٹھی ہوتی ہے۔ دو ماہ میں دوسری باری چین کی سرزمین پر تھا اور اس بار تو وفد کی قیادت بھی سپرد تھی گذشتہ برس بھی ایسی ہی دعوت تھی مگر بوجوہ جا نہ سکا تھا، بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے دفتر میں چینیوں سے گفتگو کے دوران بات جب یہاں پر آئی کہ سی پیک کے مخالفین سے کیسے نبردآزما ہوا جائے تو میں نے کہا کہ آپ کو چین کی ایک لوک کہانی سناتا ہوں۔ سارا سبق اس میں موجود ہے۔

کہیں ایک سردار اس کا خادم اور علاقے کا معروف بڑھئی رہا کرتے تھے بڑھئی کی شادی جس سے ہوئی خادم بھی اس پر فدا ہو گیا۔ اور بڑھئی سے نجات پانے کے طریقے تلاش کرنے لگاکہ اچانک سردار کا انتقال ہو گیا اور خادم نے اس واقعے کو اپنے مقصد کے حصول کے لیے موقع غنیمت جانا، بدھ مت کے قدیم رسم الخط کو چوری چھپے سیکھنا شروع کر دیا اور کچھ عرصے میں ہی اس پر دسترس حاصل کر لی ایک تحریراس رسم الخط میں تحریر کی اور سردار کے پاس لے گیا کہ مجھے یہ تحریر ملی ہے میں خود تو اس کو پڑھنے کے قابل نہیں لہذا آپ کے پاس لے آیا ہوں۔

نوجوان سردار نے وہ تحریر اپنے منشی کو دی کہ پڑھو۔ منشی اس قدیم رسم الخط سے واقف تھا تحریرپڑھی تو اس نے نوجوان سردار کو بتلایا کہ یہ آپ کے مرحوم والد نے جنت سے آپ کے نام خط بھیجا ہے کہ میں جنت میں ایک بڑے عہدے پر فائز ہو گیا ہوں، اختیارات اور وسائل سب موجود مگر میرے پاس رہنے کے لیے کوئی حویلی نہیں ہے۔ تم اپنے پاس سے بڑھئی روانہ کردو تاکہ میں حویلی کی تعمیر کا بندوبست کر سکوں۔

نوجوان سردار کو مرحوم باپ سے بڑی محبت تھی بہت افسوس ہوا کہ اس کے پاس وہاں رہنے کے لیے حویلی نہیں ہے فوراً بڑھئی کو طلب کیا کہ تم جنت روانہ کرنا ہے۔ بڑھئی اس افتاد سے گھبرا گیا انکار کی جرات نہ کر سکا عرض کیا کہ مجھے یہاں کے معاملات نبٹانے کے لیے سات روز کی مہلت درکار ہے۔ آٹھویں روز میرے گھر کے عقب میں کھیتوں میں گھانس پھونس جلانے کی رسم سے مجھے الوداع کر دیجئے گا۔

نوجوان سردار مان گیا بڑھئی وہاں سے نکلا تو پہلے اس جستجو میں ہوا کہ یہ جنت والا معاملہ ہے کیا اس کو علم ہوا کہ خادم نے یہ کہانی سنائی ہے سمجھ گیا کہ یہ سب مجھے مار ڈالنے کی سازش ہے اپنے گھر واپس آیا اور بیوی کو حالات سے آگاہ کیا اور اس کو کہا کہ بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہماری خواب گاہ سے گھر کے عقب والے کھیت تک ایک سرنگ کھودی جائے اور سرنگ کے دھانے پر ایک پتھر کی سل رکھ دی جائے اور اس پر مٹی ڈال دی جائے جب آگ لگے تو میں اس سل کو ہٹا کر خوابگاہ میں آجاؤں اور ایک برس تک روپوش رہوں پھر کوئی سبیل نکالوں گا۔

اسی بارے میں: ۔  پاکستان میں سوشل سائنسز کا انحطاط

دونوں نے راتوں کو سرنگ کھودی جب آٹھواں دن ہوا تو سردار نے گھاس پھوس جلانے کی رسم کا کہا۔ بڑھئی اوزاروں کا تھیلا لے کر آگیا اور بیچ میں کھڑا ہو گیا آگ لگائی گئی جب دھواں پھیل گیا تو بڑھئی جھٹ سے پتھر کی سل ہٹا کر اپنی خوابگاہ میں پہنچ گیا اور ایک سال تک روپوش رہا۔ اس دوران اس نے بھی بدھ مت کے قدیم رسم الخط پر دسترس حاصل کر لی اور ٹھیک ایک سال بعد اوزاروں کا تھیلا لے کر ٹھیک اسی جگہ پر کھڑا ہو گیا جہاں سے جنت روانہ کیا گیا تھا۔

سب سے پہلے اس کی بیوی نے ہی دیکھنے کا ڈرامہ کیا اور مارے خوشی کے سردار کے گھر پہنچ گئی کہ بڑھئی واپس آگیا ہے سردار اور سارا گاؤں بھی وہاں پہنچ گیا، بڑھئی نے سردار کو بتایا کہ مرحوم سردار کے لیے جنت میں حویلی تعمیر کرآیا ہوں اور اب مجھے مرحوم سردار نے واپس اس خط کے ہمراہ بھیجا ہے اور خط نوجوان سردار کے حوالے کر دیا۔ منشی نے پڑھا تو اس میں تحریر تھا کہ حویلی تیار ہو گئی ہے پر مجھے اپنا پسندیدہ خادم درکار ہے لہذا اس کو جنت روانہ کر دو۔

خادم تھرا گیا مگر پھر سوچا کہ بڑھئی بھی تو جنت سے واپس آگیا ہے حالانکہ یہ میرا فریب تھا شاید مجھ میں کوئی ایسی طلسمی طاقت ہے کہ جو کہا وہ ہو گیا۔ اب خود بھی جنت چلتے ہیں۔ راضی ہو گیا اسی طرح سات دن کی مہلت لی اور آٹھویں دن آگ میں کھڑا ہو گیا۔ اب آگ بجھی تو بس فرق صرف اتنا تھا کہ کچھ جلی ہوئی ہڈیاں راکھ کے ڈھیر میں موجود تھیں۔

یہ کہانی سنا کر میں بولا کہ دشمن بسا اوقات طاقتور بھی ہوتا ہے اور حالات بھی اس کے موافق یاں تو دشمن کو اپنے موافق کر لو یا پھر تدبیر سے اس کا دھڑن تختہ کر ڈالو۔ سی پیک کے معاملے میں بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں ہمیں یہ ہر گز توقع نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارے دشمن اس کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیں گے۔ تجزیہ یہ صرف میرا ہی نہیں تھا بلکہ میں نے چین میں جس چینی سے بھی گفتگو کی تو محسوس یہی کیا کہ وہ سی پیک کے خلاف سازشوں کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں اور پاکستان کے داخلی حالات میں آئی تبدیلیوں کو سی پیک کا نام سن کر ہی جلتے بھنتے ممالک کی کارستانی تصور کر رہے ہیں کہ کیسے سی پیک کے حوالے سے سب سے مضبوط شخصیت کو اقتدار سے بیدخل کروایا گیا اور اب سبق سکھانے کے لیے جالا بنا جارہا ہے۔ حالانکہ یہ جالا سب سے کمزور ہوتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  تقسیمِ ہند کے وقت وحشت کیوں ناچی؟

چینی اچھی طرح سے یہ جانتے ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ون روڈ ون بیلٹ کا منصوبہ سی پیک کی کامیابی سے منسلک ہے۔ سی پیک اس کا Pioneer بھی ہے۔ اور پائلٹ پروجیکٹ بھی لہذا اس کو پاکستان کے اندر سے معاملات کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اوراس کے لیے سب سے آسان ہدف بلوچستان ہے۔ بلوچستان میں جاری قوم پرستی کے نام پر شورش اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور مذہبی بنیادوں پر تشدد وہ حربہ ہے کہ جس کے ذریعے پورے پاکستان کو بدامنی کی لپیٹ میں لیا جا سکتا ہے۔

وہاں یہ احساس بہت مضبوط ہے کہ بلوچستان سی پیک کا اختتام اور سن کیانگ سی پیک کا آغاز اور دونوں طرف ایک ہی انداز میں جاری مذہبی بنیادوں پر تشدد ڈوریاں کہیں اور سے ہلائی جارہی ہیں چاہے وہ پاکستان کا زمینی ہمسایہ بھارت ہو یا پاکستان کا سمندری ہمسایہ جو قیمت چکانے کی بھی دھمکی دے چکا ہے۔ سرمایہ یہی پھینک رہے ہیں تاکہ سی پیک پر مجبوراً چین کو دوبارہ غور کرنا پڑے۔

امریکہ کے تھنک ٹینکوں میں ہونے والے مباحثوں میں یہ گفتگو کہ پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں جاری تشدد کی روش سی پیک کو ناکام کر دے گی، پھر امریکہ میں یہ بھی گفتگو ہورہی ہے کہ پاکستان میں ماضی کی فوجی آمریتیں ہمہ وقت غیر یقینی سیاسی حالات کا سبب ہے اور کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے کا تصور سی پیک کے مکمل ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکہ کے حوالے سے یہ سوچ بھی ہے کہ امریکہ سی پیک سے معاشی مفادات تو حاصل کرنا چاہتا ہے مگر اس کے ذریعے چین کی فوجی موجودگی کی بڑھوتری اس کو برداشت نہیں۔ لہذا وہ اس کو کم از کم مقررہ وقت کی بجائے تاخیر میں ڈال دینا چاہتا ہے۔

چینی اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ یہی ہتھیار صرف مباحثوں میں ہی زیر بحث نہیں ہیں بلکہ عملی طور پر استعمال بھی ہو رہے ہیں ایسی صورت میں پاکستان دوبارہ خراب معاشی کارکردگی کی جانب پلٹ جائے گا اور نتیجتاً IMF کے پاس واپسی کہ جس کا سابقہ ریکارڈ چین کے دوستوں کے حوالے سے اچھا نہیں۔ اس بات کو بہت شد ومد سے سمجھا جارہا ہے کہ دشمن موافق ہو جائے ورنہ کسی طرح جلانا تو پڑے گا ہی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔