حسن اور حسین نواز گم گئے ہیں


آج نیب کی عدالت میں حسن اور حسین نواز شریف کی پیشی تھی۔ وہ پیش نہیں ہوئے۔ تفتیشی افسر نے معزز جج صاحب کو بتایا کہ دونوں ملزمان کو پیش ہونے کے لئے اشتہار دیا گیا۔ وہ نہیں آئے۔ ان کی رہائش گاہوں کے باہر نوٹس لگائے گئے۔ وہ پھر بھی نہیں آئے۔ ان کی طلبی کی خبریں میڈیا پر چلیں۔ وہ پھر بھی نہیں آئے۔ متعلقہ تھانوں میں اندراج کروایا گیا۔ وہ پھر بھی نہیں آئے۔ حتی کہ ان کی رہائش گاہ کے باہر موجود سڑک پر اعلانات بھی کروائے گئے مگر وہ نہیں آئے۔

ہم غور کر رہے ہیں کہ رائے ونڈ روڈ پر کیسے اعلانات کرائے گئے ہوں گے۔ گمان ہے کہ علاقے کی مساجد سے اعلان کرائے گئے ہوں گے کہ ”دو معصوم سے بچے، حسن اور حسین نواز شریف، گم ہو گئے ہیں۔ ایک نے نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے، سر پر ٹوپی ہے، گلے میں کالا مفلر، پاؤں میں ہوائی چپل، جبکہ دوسرے نے کالی نیکر اور سرخ شرٹ پہنی ہوئی ہے۔ جسے ملیں وہ نزدیکی تھانے میں پہنچا دے“۔

ممکن ہے کہ تانگے اور چنگ چی پر بھی سپیکر دے کر افسران کو بٹھا دیا گیا ہو اور وہ پوری 20 کلومیٹر کی سڑک پر اعلانات کرتے پھرتے ہوں۔ یہ گمان بھی ہے کہ ان دونوں کی تصاویر بورڈ پر لگا کر چنگ چی کے دونوں اطراف میں ٹانگ دی گئی ہوں تاکہ اہل علاقہ کو پہچاننے میں آسانی ہو۔

ہماری رائے میں تو نیب کے تفتیشی افسر نے اپنی بھرپور کوشش کی ہے۔ ہمارے محلے میں بھی کوئی بچہ گم جائے تو لوگ پہلے گھر کی نزدیکی سڑکوں پر ڈھونڈتے ہیں، پھر مساجد میں اعلان کرتے ہیں، پولیس کو اطلاع دیتے ہیں، اور نزدیکی ایدھی سینٹر اور ہسپتالوں میں جا جا کر ڈھونڈتے ہیں۔ بظاہر نیب یہ سب کچھ کر چکا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ایم کیو ایم.... اس بار معاملہ مختلف ہے

جج صاحب کو اندازہ ہو گیا کہ یہ دونوں لڑکے اپنی مرضی سے گھر سے بھاگے ہوئے ہیں اور ایسے واپس نہیں آئیں گے۔ انہوں نے ان دونوں کی جائیداد کی قرقی کا حکم دے دیا۔ حسن نواز کے بینک اکاؤنٹس میں کوئی نو لاکھ اور حسین کے اکاؤنٹ میں چار لاکھ کے قریب پیسوں کی اطلاع ملی۔ ان کو قرق کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ باقی کسی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کا پتہ نہیں چل سکا۔

لیکن یہ مت سمجھیں کہ یہ دونوں قانون کے نہایت لمبے ہاتھوں سے بچ جائیں گے۔ نیب نے سراغ لگایا ہے کہ یہ دونوں طویل عرصے سے ولایت میں مقیم ہیں۔ ولایت میں موجود نیب کے جاسوسوں نے ان دونوں کے دفتر کا پتہ بھی حاصل کر لیا ہے۔ اب وزارت خارجہ کے ذریعے نوٹس بھجوائے گئے ہیں اور اسے نوٹسوں کو حسن اور حسین نواز کے دفتر ”ایون فیلڈ پراپرٹیز“ کے باہر آویزاں کرنے کا پر خطر مشن سونپا گیا ہے۔

پرخطر یوں کہ انگلستان والوں کے دماغ میں خناس بھرا ہوا ہے۔ وہ اتنے بد دماغ ہیں کہ امت مسلمہ کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کے نہ تو قانون کو مانتے ہیں اور نہ جج صاحب کے احکامات کو۔ حتی کہ عظیم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سوئٹزر لینڈ کے ایک گاؤں کے گورے مجسٹریٹ سے باقاعدہ درخواست کرنی پڑی تھی کہ آصف زرداری کی کرپشن پر کچھ کرے مگر اس نے لفٹ نہیں کرائی اور بے جا ضد کرنے لگا کہ اپنے ملک کے قانون پر چلے گا۔

انگلستان کے مجسٹریٹ بھی صفائی کے نام پر شہری آزادیاں سلب کیے بیٹھے ہیں۔ ادھر کوئی شخص وال چاکنگ کرتا یا پوسٹر آویزاں کرتا دکھائی دے تو اسے پولیس پکڑ کر بھاری جرمانہ کر دیتی ہے۔ خدانخواستہ ہمارا کوئی معزز سفارت کار اس طرح پوسٹر لگاتے ہوئے پکڑا گیا تو پاکستان کی کتنی تھڑی تھڑی ہو گی۔ تعجب نہیں کہ شرمین چنائے اس پر فلم بنا کر پاکستان کو بدنام ہی کر ڈالے اور ایک نیا آسکر جیت لے۔

اسی بارے میں: ۔  کیا پھانسی کی سزا صرف دہشت گردوں کے لئے ہے؟

ہماری مانیں تو ہمارے سفارتی افسر ایسی رات کو تین بجے کے قریب گھر سے نکلیں جس میں آسمان پر بادل چھائے ہوں اور مینہ برس رہا ہو، سر پر کالا ہیٹ پہنیں اور جسم پر لمبا سا اوور کوٹ، آنکھوں پر تاریک چشمہ لگائیں، اور پھر ایک ہاتھ میں لئی کی بالٹی اور کوچی، اور دوسرے میں نوٹس پکڑ کر ایون فیلڈ پراپرٹیز کا رخ کریں اور نہایت پھرتی سے دیوار پر پوسٹر لگا کر اڑنچھو ہو جائیں۔

بدقسمتی سے برطانیہ سے تحویل مجرمان کا معاہدہ نہیں ہے۔ سفارتی افسران کے اس بہادرانہ مشن کے باوجود حسن اور حسین کی مرضی ہے کہ وہ پاکستان واپس آتے ہیں یا پھر وہیں انگلستان میں رہتے ہیں اور مقامی تھانے میں پاکستانی سفارت کاروں پر ایون فیلڈ پراپرٹیر کو گندا کرنے کا مقدمہ درج کروا دیتے ہیں۔

ہاں ایک صورت میں ان دونوں کو پاکستان واپس لایا جا سکتا ہے۔ اگر عمران خان برطانوی شاہی خاندان اور حکومت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تو بہت امکان ہے کہ ان دونوں مفروروں کو ویسے ہی بالائے قانون گرفتار کر کے پاکستان لایا جا سکتا ہے جیسے ترک استاد مسعود کاچماز اور ان کے بیوی بچوں کو پاکستان سے ترکی بھیجا گیا تھا۔ (ختم شد)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 731 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar