شاہد آفریدی کا پیار اور غداری کا علاج


adnan Kakar

کلکتے سے پیغام رساں کبوتر کے ذریعے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ وہاں ٹوینٹی ٹوینٹی کپتان شاہد آفریدی نے پریس کانفرنس کر دی ہے کہ انہیں جتنا پیار بھارت میں ملا، اتنا تو پاکستان میں بھی نہیں ملا۔ اس پر ملک بھر کے محب الوطن حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

جاوید میانداد نے تو فرط جذبات میں یہ کہہ دیا کہ ’اپنے اوپر شرم رکھو بھائی، تم کہاں سے پاکستانی اور مسلّم ہو گئے بھائی‘۔ نوٹ کیجیے کہ آفریدی کو مسلّم، بروزن مرغ مسلّم، راقم الحروف نے نہیں بلکہ میانداد صاحب نے کیا ہے۔ غالباً وہ شاہد آفریدی کو پاکستان واپسی پر کرکٹ اکیڈمی میں طلب کر کے گراؤنڈ میں ہی مرغ مسلّم بنانے کی صلاح دے رہے ہیں تاکہ ان کی ویسی اخلاقی اصلاح ہو جائے جیسی ہمارے سکولوں میں بچوں کی مرغا بنا کر ہوا کرتی ہے۔ معلوم نہیں کہ جاوید میانداد نے اس وقت کیا کیا ہو گا جب ان کی ٹیم کے دورہ بھارت کے دوران عمران خان کو زینت امان اور محسن خان کو رینا رائے مع درجن بھر دوسری ہندوستانی اداکاراؤں کے، پاکستان سے زیادہ پیار دینے پر تلی ہوئی تھیں۔

javed miandad bal thackery
جاوید میانداد، شری بال ٹھاکرے سے حب الوطنی کے دقیق نکات سمجھتے ہوئے

ادھر اداکارہ میرا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ شاہد آفریدی کا بھارت میں پاکستان سے زیادہ پیار ملنے سے متعلق بیان اداکارہ میرا کی سمجھ سے باہر ہے، پیار پاکستان میں بھی بہت ملتا ہے۔ غالباً ان کا اشارہ فاسٹ باؤلر محمد آصف اور وینا ملک کے پیار بھرے معاملے کی طرف تھا یا کوئی دوسری بات ہو گی۔ میرا بی بی کا غالباً شاہد آفریدی سے مطالبہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ ’لے لے پیار لے پیار لے پیار لے لے، دنیا والے چاہے کچھ بھی بولیں ہم ہیں پریم دیوانے‘۔

شرمین چنائے کی فلم وزیر اعظم ہاؤس میں دکھائے جانے کی وطن دشمن حرکت پر بھی اداکارہ میرا شدید ناراض ہوئی تھیں۔ ان کی تجویز کچھ ایسا تاثر لیے ہوئے تھی کہ ’غدار شرمین‘ کی بجائے میرا کی فلموں کی وزیراعظم ہاؤس میں نمائش کی جائے۔ یاد پڑتا ہے کہ ایک ہیروئن ہوتی تھیں شمیم آرا۔ ساٹھ کی دہائی میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بس اسی شخص سے شادی کرین گی جو کشمیر فتح کرے گا۔ ریاست کشمیر تو فتح نہ ہو سکی البتہ ’چتوڑ گڑھ کا قلعہ‘ ہر حملہ آور کے ہاتھوں بار بار فتح ہوتا رہا۔ میرا صاحبہ سے پوچھ لینا چاہیے کہ آپ کی بہت سی فلمیں ہیں اور کچھ دستاویزی فلمیں بھی ہیں، وزیر اعظم ہائوس میں کون سی فلم دکھائی جائے۔

meera ashmit
اداکارہ میرا کو بھارت میں شاہد آفریدی جتنا پیار نہیں مل پایا

آفریدی کے بیان پر ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ ہمارے جیسے سدا کے بدگمان رہنے والے ایک پاکستانی مداح نے شاہد آفریدی کے حوالے سے ٹویٹ کیا ہے کہ ’آفریدی نہ بیٹنگ کر سکتے ہیں نہ باؤلنگ اور انتہائی ناقص کپتانی کرتے ہیں، اسی وجہ سے بھارتی ان سے بہت پیار کرتے ہیں‘۔

ادھر سندھ ہائی کورٹ میں عامر نواز ایڈووکیٹ صاحب نے درخواست دائر کی ہے کہ قومی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی کو بیانات دینے سے روکا جائے کہ آفریدی کے اس بیان سے ایڈووکیٹ صاحب کے جذبات و احساسات مجروح ہوئے ہیں۔ معاملے کی اہمیت اور سنگینی کو دیکھتے ہوئے مقدمے کی سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کرے گا۔

لیکن پنجاب کے لوگ کراچی والوں سے بڑھ کر غداروں کا احتساب کرتے ہیں۔ سو لاہور میں اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے شاہد آفریدی کو قانونی نوٹس دیا ہے کہ آفریدی کا بیان غداری ہے، وہ اپنے بیان کی وضاحت کریں اور قوم سے معافی مانگیں ورنہ ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھے کے تحت غداری کا مقدمہ درج کر کے ان کو ٹانگ دیا جاوے گا۔

afridi2

قارئیں، ہماری رائے میں یہ سب خواتین و حضرات بلاوجہ میں شدید ردعمل کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگر ہماری طرح یہ سب لوگ بھی حالات حاضرہ، تاریخ پاکستان، نظریہ پاکستان اور دیسی تہذیب و ثقافت کے ماہر ہوتے تو علاج سب کے سامنے موجود ہے۔ اور اس بات کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب کہ ایک دوسرے پاکستانی کرکٹر کا نظریہ پاکستان اور حب الوطنی درست کی گئی ہے۔

راوی بیان کرتے ہیں کہ اوکاڑہ کے نواحی گاؤں چون بٹا دو ایل کے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ غیر ملکی ٹیمیں تو اب پاکستان آتی نہیں ہیں اور عوام مایوس و بد دل ہیں۔ تو ایسا کرتے ہیں کہ اپنے گاؤں میں ہی ان سب ملکوں کی ٹیمیں بنا کر یہیں ایک ورلڈ کپ کروا لیتے ہیں۔ سو ٹیمیں بن گئیں۔ بھارتی ٹیم کا کپتان ایک عمر دراز نامی لڑکا تھا جس کی شکل و صورت ویرات کوہلی سے ملتی جلتی ہے۔ اسی کے پوسٹر وہ اپنے کمرے کی دیواروں پر لگاتا ہے۔ اسی کی شرٹ پہنتا ہے۔ سو اوکاڑے کی اس دو نمبر بھارتی ٹیم کے کپتان نے ’ایک نمبر‘ ویرات کوہلی کی آسٹریلیا کے خلاف نوے رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کی خوشی میں ترنگ میں آ کر کوہلی کی شرٹ زیب تن کی اور اپنے گھر پر بھارتی ترنگا لہرا دیا۔ گاؤں میں اس کے شریکوں (برادری والوں) کو خبر ملی تو انہیں آگ لگ گئی اور انہوں نے تھانے میں رپٹ لکھا دی۔ پچیس جنوری کو پولیس نے چھاپہ مار کر عمر دراز کو گرفتار کر لیا۔

ریجنل پولیس افسر فیصل رانا نے بتایا کہ بدھ ستائیس جنوری کو عمر دراز کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، ’’عمر دراز نے ابتدا ہمیں یہ بتایا کہ وہ ایک سچا پاکستانی ہے لیکن کوہلی کا پرستار ہے اور یہ نہیں جانتا تھا کہ بھارتی پرچم لہرانا کوئی جرم ہے۔ اُس کا یہ اقدام ہمارے ملک کی حاکمیتِ اعلیٰ اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہے وہ ویرات کوہلی کا ایک کٹر پرستار ہے اور اُس کے گھر میں تمام دیواروں پر کوہلی کے بڑے بڑے پوسٹر لگے ہوئے تھے‘‘۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس پاکستانی نوجوان نے اپنے گھر پر دشمن ملک کا پرچم لہراتے ہوئے ’نظریہ پاکستان کی خلاف ورزی‘ کی اور عدالت کی جانب سے قصور وار قرار دیے جانے پر عمر دراز کو جرمانے کے ساتھ ساتھ دَس سال تک کی سزائے قید بھی ہو سکتی ہے۔

عمر دراز کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہوا جس سے علاقے میں نقص امن کا خدشہ تھا۔ ملزم کے بھائی نے کہا کہ وہ محب وطن پاکستان ہے اور اس پر پر ملکی سلامتی کے خلاف اقدامات کا الزام بے بنیاد ہے۔ عمر دراز بھارتی کھلاڑی ویراٹ کوہلی کا مداح ہے اور پرچم لہرانے کے عمل میں بدنیتی یا غداری کا کوئی عنصر شامل نہیں تھا۔

مہینہ بھر کی ’تفتیش‘ کے بعد اوکاڑہ صدر کے تھانے کے ایس ایچ او عزیز چیمہ نے بتایا کہ مقدمے کے چالان میں انھوں نے ملزم کو ریاست مخالف سرگرمیوں کے معاملے میں بے گناہ قرار دیا۔ لیکن ڈسٹرکٹ جج انیق انور نے ملزم کو پولیس کی طرف سے دی گئی کلین چٹ سے قطع نظر اس کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ پولیس مہینے بھر عمر دراز سے ’تفتیش‘ کرتی رہی، اس کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنس جج اسداللہ سراج کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا، جنہوں نے عمر دراز کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔

kohli-2
چون بٹا دو ایل کے عمر دراز یہ سوچتے ہوئے کہ وہ حقیقتاً کس کے مداح ہیں

اپنی رہائی کے بعد عمر دراز نے کہا کہ ’اب میں کو ہلی کا مداح نہیں ہوں بلکہ شاہد آفریدی کا مداح ہوں‘۔ یہ بیان دیتے وقت وہ اپنی کمر اور زیریں حصوں کی ٹکور کروا رہے تھے۔ انہوں نے کراہتے ہوئے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ انہیں کوہلی کے باعث شدید تکلیف پہنچی ہے اس لیے اب وہ کوہلی کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ جب ان سے کہا گیا کہ کھیل میں تو کسی کی بھی حمایت کی جاسکتی ہے اور بھارتی کھلاڑی کا مداح ہونا جرم تو نہیں ہے تو عمر دراز اس بات پر بضد رہے کہ اب وہ صرف شاہد آفریدی کے مداح ہیں۔

لیکن اب مسئلہ یہ ہو گیا ہے کہ کلکتے کی پریس کانفرنس کے بعد تو شاہد آفریدی بھی ملک کی حاکمیتِ اعلیٰ اور نظریہ پاکستان کے خلاف اقدامات کا مرتکب قرار پا رہے ہیں اور آفریدی کو بھی آرٹیکل چھے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہماری رائے میں تو سب سے پہلے عمر دراز کی ضمانت منسوخ کر کے اسے دوبارہ اندر کر دیا جائے، کہ اب وہ دوبارہ ایک غیر محب وطن شخص کا مداح بن چکا ہے۔ اور دوسرے مرحلے میں پاکستان واپس آتے ہی شاہد آفریدی کو بھی اوکاڑہ کے نواحی گاؤں چون بٹا دو ایل کے تھانے میں بھیج کر اس کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کے تحت پرچہ کاٹا جائے اور ’نظریہ پاکستان کی خلاف ورزی‘ کرنے پر دس سال تک کی سزائے قید دے کر آرٹیکل چھے کے تحت لٹکا دیا kohli3جائے۔

اگر پیسے کے بل پر یا اپنے مرشد مولانا طارق جمیل کے وظیفوں کے زور پر شاہد آفریدی ضمانت کروا بھی لیں، تو ایک مہینے بعد جب وہ چک چون بٹا دو ایل کے تھانے سے باہر نکلیں گے تو وہ بھی ٹکور کرواتے ہوئے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ یہی کہیں گے کہ ’اب میں بھارتیوں کے نہیں بلکہ پاکستانیوں کے پیار کا مداح ہوں۔ اب میں بھارتیوں کو پسند نہیں کرتا ہوں کیونکہ مجھے بھارتیوں کے باعث شدید تکلیف پہنچی ہے‘۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

9 thoughts on “شاہد آفریدی کا پیار اور غداری کا علاج

  • 16-03-2016 at 7:25 pm
    Permalink

    حق تو یہی بنتا ھے بلکہ حق تو یہ بنتا ھے اگر کوئی اپنی پاک زبان سے بھارت کا نام بھی لے تو سولی پر لٹکا دینا چاہیے ۔ آخر وطن سے محبت کے بھی کچھ تقاضے ہیں

    • 16-03-2016 at 11:53 pm
      Permalink

      ویسے لگتا توایسا ہےکہ ہم سب کے اکثر لکھاریوں کو مذہب اور نظریہ پاکستان سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ بھارت میں خورشید قصوری صاحب کے چہرے سے پھسل کر اس کے میزبان کے چہرے پرجو کالک مل دی گئی، وہ سب کیا تھا؟ متعدد بار بھارت رانی کے سحر میں مبتلا پاکستانی ادیبوں کی ہندوستان میں دھلائی کی گئی۔۔۔۔۔ فنکاروں کے ساتھ وہاں جو حشر ہوتا ہے، سب کے سامنے ہے ۔۔۔۔۔۔ اور یہ جو ابھی بھارت میں کرکٹ کے معاملے پر طوفان بدتمیزی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ یہ تمام معاملات محض کچھ انتہا پسند سر انجام نہیں دے رہے، بلکہ بھارتی ریاست کی سر پرستی میں یہ سب ہو رہا ہے۔۔وہاں تو کسی کے گھر کوئی کتا گھس جائے، الزام پاکستان پر لگا دیا جا تا ہے۔ بہت خوب ہوتا ہمارے دانا لوگوں کو اس پر بھی کچھ لکھنے کی توفیق ہو تی۔۔۔۔مگر ہم سب کے پیج چھان ماریے، دو سطریں نہیں ملیں گی۔۔۔۔۔۔ نام تو ّہم سب ٗ ہے ،مگر یہاں سب کا موقف نہ ہونے کے برابر ہے۔شاید مخالف موقف کو کم جگہ مل رہی ہے۔ تمام تحریریں ایک ہی لئے میں لکھی ہوئی نظر اُتی ہیں۔

  • 16-03-2016 at 11:31 pm
    Permalink

    ویسے لگتا توایسا ہےکہ ہم سب کے اکثر لکھاریوں کو مذہب اور نظریہ پاکستان سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ بھارت میں خورشید قصوری صاحب کے چہرے سے پھسل کر اس کے میزبان کے چہرے پرجو کالک مل دی گئی، وہ سب کیا تھا؟ متعدد بار بھارت رانی کے سحر میں مبتلا پاکستانی ادیبوں کی ہندوستان میں دھلائی کی گئی۔۔۔۔۔ فنکاروں کے ساتھ وہاں جو حشر ہوتا ہے، سب کے سامنے ہے ۔۔۔۔۔۔ اور یہ جو ابھی بھارت میں کرکٹ کے معاملے پر طوفان بدتمیزی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ یہ تمام معاملات محض کچھ انتہا پسند سر انجام نہیں دے رہے، بلکہ بھارتی ریاست کی سر پرستی میں یہ سب ہو رہا ہے۔۔وہاں تو کسی کے گھر کوئی کتا گھس جائے، الزام پاکستان پر لگا دیا جا تا ہے۔ بہت خوب ہوتا ہمارے دانا لوگوں کو اس پر بھی کچھ لکھنے کی توفیق ہو تی۔۔۔۔مگر ہم سب کے پیج چھان ماریے، دو سطریں نہیں ملیں گی۔۔۔۔۔۔ نام تو ّہم سب ٗ ہے ،مگر یہاں سب کا موقف نہ ہونے کے برابر ہے۔شاید مخالف موقف کو کم جگہ مل رہی ہے۔ تمام تحریریں ایک ہی لئے میں لکھی ہوئی نظر اُتی ہیں۔

    • 16-03-2016 at 11:45 pm
      Permalink

      آپ سے کلی طور پر متفق ہوں جناب کہ بھارتی نہایت ہی شریر قوم ہیں۔ اسی لیے تو تجویز کیا ہے کہ جس طرح عمر دراز کے خلاف نظریہ پاکستان کی خلاف ورزی اور ملک کی حاکمیتِ اعلیٰ کے خلاف کام کرنے پر مقدمہ قائم کیا گیا ہے، شاہد آفریدی کے خلاف اس سے بڑھ کر آرٹیکل چھے کی بنیاد پر غداری کا مقدمہ قائم کیا جانا فرض ہے۔

      • 17-03-2016 at 12:10 am
        Permalink

        بلا شبہ جو بات ہمارے ہاں غلط ہو رہی ہے، اس کا سدباب ہونا چاہیے، جو بھارت میں ہو رہا ہے،اس کے خلاف بھی لکھا جانا چاہیے۔۔۔۔ مگرہرغلط بات کو مذہب یا نظریہ پاکستان کے کھاتے میں ڈالنا مناسب نہیں۔

      • 17-03-2016 at 12:15 am
        Permalink

        جناب نشاندہی فرمائیں کہ اس پوسٹ میں مذہب کا ذکر کہاں ہے؟
        اور اگر پولیس نے عمر دراز پر نظریہ پاکستان کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کیا ہے، تو جا کر پولیس کو پوچھیں۔ ان کوٹیشن مارک کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ قول بعینہ نقل کیا گیا ہے۔ تو پھر جا کر ریجنل پولیس افسر فیصل رانا صاحب کو پوچھیں کہ وہ نظریہ پاکستان کے اتنے مخالف کیوں ہیں؟

        ریجنل پولیس افسر فیصل رانا نے بتایا کہ بدھ ستائیس جنوری کو عمر دراز کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، ’’عمر دراز نے ابتدا ہمیں یہ بتایا کہ وہ ایک سچا پاکستانی ہے لیکن کوہلی کا پرستار ہے اور یہ نہیں جانتا تھا کہ بھارتی پرچم لہرانا کوئی جرم ہے۔ اُس کا یہ اقدام ہمارے ملک کی حاکمیتِ اعلیٰ اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہے وہ ویرات کوہلی کا ایک کٹر پرستار ہے اور اُس کے گھر میں تمام دیواروں پر کوہلی کے بڑے بڑے پوسٹر لگے ہوئے تھے‘‘۔

        اور جہاں تک بھارت میں برا ہونے کی بات ہے، تو آپ میں لکھنے کی صلاحیت ہے تو اس پر ضرور لکھیں۔ لیکن یہ توقع مت رکھیں کہ ساری دنیا کے لکھاری آپ کی خواہش پر ہی لکھا کریں گے۔

        لیکن بھارت پر لکھنے سے پہلے نظریہ پاکستان پر ضرور لکھیں۔ یہ وضاحت فرما دیں کہ نظریہ پاکستان کا متن کیا ہے، اسے کس نے پیش کیا تھا اور کب پیش کیا تھا۔ یہ بتانے پر آپ کا نہایت ہی ممنون ہوں گا۔

      • 17-03-2016 at 12:55 am
        Permalink

        مذہب کی بات میں نے ہم سب میں شامل دیگر تحریروں کے حوالے سے کی ہے۔ جس دن برِصغیر میں پہلا مسلمان ہوا تھا، نظریہ پاکستان کی بنیاد پڑ چکی تھی۔ یوں تو مجدد الف ثانی سے یہ سلسلہ چلا،بعد میں ہندووں کے رویے سے دل برداشتہ ہو کر سرسید نے دو قومی نظریہ دیا، دنیا کے لکھاری تو دور کی بات ، بھائی میں آپ سے بھی ایسی کسی خواہش کا آرزومند نہیں ہوں۔ میں نے آپ کی تحریر پر رائے دی ہے، جو بری بات نہیں ہے ، جہاں تک لکھنے کا تعلق ہے،پہلے کوشش کرچکا ہوں، البتہ اگر ہم سب نے چھاپا تو ضرور لکھوں گا۔۔۔۔

  • 17-03-2016 at 12:59 am
    Permalink

    جناب آپ سے نظریہ پاکستان کی وضاحت چاہی ہے، دو قومی نظریے کی نہیں۔ یہ وضاحت فرما دیں کہ نظریہ پاکستان کا متن کیا ہے، اسے کس نے پیش کیا تھا اور کب پیش کیا تھا۔ یہ بتانے پر آپ کا نہایت ہی ممنون ہوں گا۔ غالباً سر سید نے تو نظریہ پاکستان پیش نہیں کیا ہو گا۔

  • 17-03-2016 at 10:52 am
    Permalink

    آپ کا زور قلم بجا طور پر داد کا مستحق ہے اور آپ کے بین السطور پیغام سے اتفاق بھی ۔ یہ بھی درست ہے کہ شاہد آفریدی کا بیان ان کی ذاتی رائے سہی لیکن بہرحال ناپسندیدہ تھا اور اس کے جواب میں کسی اینکر کر انھیں ل ع ن ت کرنا انتہائی قبیح فعل تھا۔ اور لعنت ملامت کو ان کے اس بیان سے ہٹ کر ذاتی معاملات اور مزاج کے ساتھ جوڑنا بھی ہمارے انتہاپسندانہ رویوں کا عکاس ہے۔ شاہد آفریدی کے بیان کو مثبت سمجھنے اور سمجھانے والوں سے بس اتنا ہی کہوں گی کہ دل شکنی ان کے اس اعتراف سے نہیں ہوئی کہ بھارت سے انھیں عزت اور محبت ملتی ہے بلکہ اس غیر ذمہ دارانہ بیان سے ہوئی کہ انھوں نے مقابلے پر پاکستان کو لاکھڑا کیا کہ پاکستان سے اتنی محبت نہیں ملی جتنی بھارت سے ملی۔
    ویسے تو کیا اداکار کیا سیاست دان اور کیا عام عوام جو بھی وہاں جاتا ہے انھی کے گن گاتا ہے، وجہ کوئی بھی رہی ہو، لیکن اگر گن گانے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کی محبت اور پذیرائی کو بلاجواز رد کیا جائے تو جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
    ہمارا بچہ اگر ہماری تمام محبت اور قربانیوں کو یکسر رد کرتے ہوئے کہہ دے کہ اپنے باپ سے اتنا پیار نہیں ملا جتنا پڑوسی نے دیا ہے تو ہمارا دل ہی نہیں ٹوٹے گا بلکہ اپنی “ولدیت” سے بھی “مشکوک” ہوجائیں گے۔

Comments are closed.