شرابی کا دماغ کوکین کا آسان شکار ہوتا ہے


سائنسدانوں نے چوہوں پر ایک نئی تحقیق کی ہے۔ اس سے پتہ چلا ہے کہ جن چوہوں کو شراب اور نکوٹین دی گئی ان کے دماغ کی ساخت تبدیل ہو گئی۔ دماغ کا وہ حصہ جو اچھا محسوس کرتا ہے اس میں جینیاتی تبدیلی ہوئی اور اس میں منشیات کو قابلِ قبول قرار دینے کا رجحان پیدا ہوا۔

تجربے میں چوہوں کو مسلسل دو ہفتے تک شراب دی گئی جو ایک چوہے کی زندگی کے حساب سے ایک خاطر خواہ مدت ہے۔ اس کے بعد ان کو کوکین دی گئی۔ وہ کوکین کے ایسے عادی ہوئے کہ کوکین پانے کی کوشش میں بجلی کے تکلیف دہ جھٹکوں کو خاطر میں نہ لائے۔

تجربے میں ایسے چوہے بھی شامل تھے جن کو شراب نہیں دی گئی اور صرف کوکین فراہم کی گئی۔ لیکن شراب کی وجہ سے ایک بہت بڑا فرق دیکھنے میں آیا۔
جن چوہوں کو شراب دی گئی تھی انہوں نے کوکین حاصل کرنے کے لئے 563 مرتبہ لیور دبایا جبکہ وہ چوہے جو شراب کے عادی نہیں تھے صرف 310 مرتبہ لیور کے قریب گئے۔

کوکین کی فراہمی ختم کیے جانے کے کئی دنوں بعد شرابی چوہوں نے کوکین پانے کے لئے لیور کو 58 مرتبہ دبایا جب کہ شراب سے دور رہنے والے چوہوں نے یہ لیور 18 مرتبہ دبایا۔

لیور سے دور رکھنے کے لئے تکلیف دہ بجلی کے جھٹکوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ غیر شرابی چوہوں میں سے بیشتر بجلی کے جھٹکوں کی وجہ سے جلد ہی لیور دبانے سے تائب ہو گئے اور صرف 14 فیصد جھٹکوں کے باوجود لیور دباتے رہے۔

اسی بارے میں: ۔  #MeToo: جنسی ہراسانی کے خلاف ہالی وڈ میں جلوس

لیکن شرابی چوہوں میں سے بیشتر اس وقت تک باز نہ آئے جب تک انہوں نے بجلی کے کئی جھٹکے نہ کھا لئے۔ جبکہ 29 فیصد شدید ترین جھٹکوں کے باوجود لیور دبانے کے عادی رہے۔

یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے نیورو سائنٹنسٹ ڈاکٹر جان ڈانی بتاتے ہیں کہ ضروری نہیں ہے کہ ایک چوہا انسانی رویے کے لئے ایک اچھا ماڈل ہو، لیکن ان کے نیورون بہت حد تک انسانوں کے نیورون کی طرح ہوتے ہیں۔ ہمارے اینزائم ایک جیسے ہوتے ہیں، اور یہ اہم ہے۔ مالیکیول کے لیول پر وہ بہت حد تک ہم سے مشابہت رکھتے ہیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔