یہ جنگ ختم نہیں ہوئی


mujahid aliتمام تر یقین دہانیوں اور امیدوں کے باوجود ہر تھوڑے عرصے کے بعد کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے، جو یہ یاددہانی کرواتا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ نہ تو ختم ہوئی ہے اور نہ ہی دہشت گردوں کے حوصلے پست ہوئے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو یہ لگتا ہے کہ وہ نئے عزم اور جذبہ کے ساتھ تباہ کاری میں مصروف ہیں۔ اور پورے معاشرے میں ان کے ہمدرد اور سہولت کار موجود ہیں۔ آج صبح پشاور میں سرکاری ملازمین کی بس پر ہونے والا دہشت گرد حملہ اسی افسوسناک صورت حال کی نشاندہی کررہا ہے۔ سرکاری ملازمین کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے والی بس میں ایک ٹائم بم نصب کیا گیا تھا۔ سانحہ میں 16 افراد جاں بحق اور چالیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس قسم کا اکا دکا واقعہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوتی لیکن جس تواتر سے دہشت گرد ملک میں جاری فوجی کارروائی کے باوجود حملے کررہے ہیں، وہ یقیناً پریشانی اورتیشویش کا سبب ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے قبائیلی علاقوں میں انتہا پسند گروہوں کے اڈے اور تربیتی مراکز ختم کردئے گئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ حملہ کرنے اور لوگوں کو ہلاک کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرکے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ کسی صورت شکست قبول نہیں کریں گے۔ اس قسم کے واقعات پر صرف مذمتی بیانات جاری کرنے اور ذمہ داری کسی دوسرے پر ڈالنے کی بجائے صوبائی اور وفاقی حکام اور فوج کو مل کر ان عوامل کا جائزہ لینا ہوگا، جن کی وجہ سے یہ عناصر بدستور ملک کے مختلف حصوں میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

خیبر پختون خوا کے مشیر برائے اطلاعات مشتاق غنی نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمین پرائیویٹ کمپنی کی بس میں سفر کررہے تھے، اس لئے حکومت ان کی سیکورٹی کی ذمہ داری قبول نہیں کر سکتی بلکہ بس کنٹریکٹر پر ان کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔ دہشت گردی کے ایک واقعہ کے فوری بعد، جبکہ مرنے والوں کے لواحقین ابھی اپنے عزیزوں کو دفن بھی نہیں کرپائے، اس قسم کا بیان بے چینی اور مایوسی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس سے دہشت گرد عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کا سیکورٹی ڈھانچہ تنظیم اور ذمہ داری کے معاملے میں منقسم ہے اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، کوئی بھی کارروائی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ سیاسی لیڈروں کو اس قسم کے مباحث مناسب فورم پر کرکے فیصلے کرنے اور انہیں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ عوام میں امید پیدا ہو اور انتہا پسندوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ان کے خلاف پوری قوم اور اس ملک کے سارے ادارے یک جان ہیں۔

اسی حوالے سے یہ بات کہنا بھی اہم ہے کہ ملک کی مختلف قوتیں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بارے میں پوری طرح ہم خیال نہیں ہیں اور کسی نہ کسی طرح سے اس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے۔ خاص طور سے مذہبی قوتیں اور گروہ اس حوالے سے فیصلہ کن رول ادا کرسکتے ہیں ۔ لیکن وہ مختلف معاملات کو بنیاد بنا کر ملک میں اسلام کی حفاظت کے لئے نام نہاد مہم جوئی کرتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ پنجاب میں عورتوں کے تحفظ کا نیا قانون ہے جس کی مخالفت کرتے ہوئے کل ہی ملک کی تیس سے ذیادہ مذہبی جماعتوں نے حکومت کو دھمکی دی ہے۔ اس طرح کے رویہ سے بھی دہشت گرد گروہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ لوگ تو خود آپس میں ہی الجھے ہوئے ہیں، یہ ہمارا کیا مقابلہ کیا کریں گے۔ حالانکہ دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر سب گروہوں کو کسی حیل و حجت کے بغیر معاشرے کی تطہیر اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے کام کا آغاز کرنا چاہئے کیونکہ اس جنگ میں کامیابی کسی کی شکست اور ناکامی نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے حیات نو کا پیغام ہوگی۔  ملک میں اس قسم کی یک جہتی دکھائی نہیں دیتی۔ مذہبی گروہوں کے علاوہ سیاسی جماعتیں بھی صرف کہنے کی حد تک حکومت کے ساتھ ہیں، عملی طور پر سب پارٹیاں صورت حال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ انتشار اور سیاسی ضرورتوں کے حوالے سے جوڑ توڑ کی حکمت عملی بھی اس اہم جنگ میں مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔

اس کے علاوہ یہ رویہ بھی نقصان دہ ہے کہ ہر سانحہ کے بعد افغانستان یا بھارت پر اس کا الزام عائد کرنے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دہشت گرد کہاں سے آئے تھے۔ یہ معاملات بھی اہم اور ضروری ہوں گے لیکن سب سے پہلے ہمیں اپنے لوگوں کی حفاظت کا نظام مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا ۔ اس کے ساتھ ہی تخریبی قوتوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے یا ان کے لئے نرم گوشہ وسیع کرنے کی بجائے، بیک زبان انہیں مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔  مملکت کی تمام قوتوں کو متحد اور ہم خیال ہونا چاہئے۔ جب تک ہمارے لوگوں کو ہلاک کرنے والے یہ نہیں جان لیں گے کہ ہم سب مشترکہ طور پر انہیں دشمن سمجھتے ہیں اور کسی طرح بھی ان کا ساتھ دینے یا ان کے لئے سہولت فراہم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، اس وقت تک فوج کی مستعدی اور چند لوگوں کو ہلاک کرنے سے دہشت گردی سے نجات حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali