شام میں روس کا جانا آنا


mujahid mirza

روس کی جانب سے شام میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیے جانے کا فیصلہ بھی اتنا ہی اچانک اور غیر متوقع تھا جتنا روس سے اپنی فضائیہ اور اس سے وابستہ عملے کو واپس بلائے جانے کا فیصلہ۔ مغربی سفارت کار اور صحافی تب بھی ایسے ہی بھونچکا گئے تھے جیسے اس بار واپسی کے فیصلے سے ششدر ہیں۔ اس شش و پنج کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مغرب والے فوری طور پر روس کی ہئیت مقتدرہ کے فیصلے کی وجوہات جاننے سے قاصر رہتے ہیں اور دوسری بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ روس کی ہئیت مقتدرہ جس کے سرخیل صدر ہوتے ہیں اور موجودہ صورت میں وہ ولادیمیر پوتن ہیں، ان کی فوری پالیسی کے ساتھ مغرب کی طویل مدتی پالیسی یا تزویری صورت حال کو ہم آہنگ کرنے میں دقت ہونی ہے، جس کی ذیلی وجہ روس کو نہ سمجھنا ہے۔

امریکہ یا کسی بھی مغربی ملک میں سربراہ کو کوئی بھی سیاسی فیصلہ کرنے کی خاطر کانگریس یا پارلیمان سے منظوری لینی ہوتی ہے۔ ایسا ہی حالیہ روس میں بھی ہے کہ ولادیمیر پوتن کو پارلیمنٹ سے کسی فیصلے سے متعلق منظوری لینی ہوتی ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں کے برعکس روس میں مقتدر پارٹی کے مقابلے میں پارلیمانی حزب اختلاف نہ صرف کمزور ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ غیر فعال ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ ایسا کیوں ہے اس کی اپنی وجوہات ہیں جن کو اس مضمون کے موضوع سے براہ راست تعلق نہیں ہے، اس لیے ان کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صدر کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے متعلق پارلیمنٹ کی منظوری لینے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی یا یوں کہیں کہ منظوری ملنا متوقع ہوتا ہے۔ اگر فیصلے کا تعلق قومی مفاد سے ہو تو اس سلسلے میں فیصلہ کرنے کے بارے میں صدر کو فوری اور مکمل اختیار ودیعت کر دیا جانا اظہر من الشمس ہوتا ہے۔ لگے گا تو عجیب مگر ہے ایسے ہی کہ روس میں آج بھی “ون پارٹی سسٹم” ہے، حزب اختلاف کا ہونا نہ ہونا برابر ہی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ صدر کوئی بھی فیصلہ کسی بادشاہ کی طرح نہیں کرتے بلکہ اس کے پیش و عواقب سے متعلق پوری آگاہی پانے کے بعد، ماہرین سے مشورہ کرنے کے بعد ہی کرتے ہیں۔

روس کی حکومتی بنت کے بارے میں انتہائی اختصار سے بتانے کے بعد اس جانب آتے ہیں کہ روس نے شام میں فضائی کارروائی کیوں شروع کی تھی۔ مغرب اور مغربی خبریت پر تکیہ کرنے والے ملکوں میں یہی باور کرایا گیا تھا کہ روس پہلے تو یہ کہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے، دوسرے یہ کہ بشارالاسد کو قائم رکھنا چاہتا ہے اور تیسرے یہ کہ طرطوس میں واقع اپنی واحد بحری آماجگاہ کو قائم رکھنے کا جتن کر رہا ہے۔ بتائے جانے والی ان تین بڑی وجوہ میں پہلی وجہ یعنی طاقت کا مظاہرہ کرنا کوئی اتنی درست وجہ نہیں ہے کیونکہ روس بہت اچھی طرح سمجھتا ہے کہ سفارتکاری سے بڑی طاقت کوئی نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ شام کے بحران کے آغاز سے ہی روس کا موقف رہا ہے کہ شام کے عوام ہی شام اور بشارالاسد کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ روس نے شام کی اندرونی حزب اختلاف اور برگشتہ حکومت مخالف سیاسی عسکری گروہوں سے مسلسل رابطہ رکھا۔ ان سفارتی کوششوں کی ہی بدولت روس اس قابل ہوا کہ امریکہ یا مغرب کی دوسری طاقتوں کو شام کے خلاف عسکری کارروائی کرنے سے روکنے میں کامیاب رہا۔ روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ بات بھی بارہا کہی گئی تھی کہ روس بشارالاسد کی نہیں بلکہ شامی عوام کی مدد کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ مغرب کی جانب سے شام میں روس کی فضائی کارروائی کے فیصلے سے متعلق بتائی گئی تیسری وجہ یعنی “طرطوس میں اپنا استقرار برقرار رکھنا یقینا” ایک درست وجہ تھی لیکن یہ واحد وجہ نہیں تھی۔ بڑی وجہ داعش کا بڑھتا ہوا زور اور ترکی، سعودی عرب و قطر کی جانب سے اس کی خفیہ پشت پناہی اور داعش کی صفوں میں روس اور روس کے نزدیک کی وسط ایشیائی ریاستوں کے بنیاد پرست جنگجووں کا بڑھنا تھی۔ کیونکہ یہ جنگجو بالآخر وسطی ایشیائی ریاستوں کو غیر مستحکم کرنے اور ساتھ ہی روس میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کا موجب بن سکتے تھے۔ تاہم سب سے بڑھ کر وجہ یہ تھی کہ مشرق وسطٰی میں عدم استحکام کو حد سے زیادہ پھیلنے سے روکا جائے کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں نہ صرف یہ کہ خطے کا امن اور مجموعی طور پر دنیا کا امن بلکہ دنیا کی معیشت بھی داؤ پر لگ سکتی تھی۔ دنیا کے تیل کا بڑا حصہ جس پر دنیا بھر کے ملکوں کی معیشتوں کا دارومدار ہے مشرق وسطٰی سے ہی جاتا ہے۔

شام میں فضائی کارروائی روکے جانے اور فضائیہ اور اس سے وابستہ عملے کو بلانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ اس فیصلے کی وجوہ بیان کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ نہ تو پہلا یعنی فضائی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ اچانک تھا اور نہ ہی دوسرا یعنی فضائی کارروائی روکنے اور فضائیہ اور اس سے  وابستہ عملے کو واپس بلائے جانے کا فیصلہ، البتہ ان فیصلوں کا اعلان کیے جانے کے بعد دنیا کو اس بارے میں معلوم ہوا۔ ایسا تو ہوتا ہی نہیں کہ بغیر کسی تیاری کے فضائیہ کو حکم دے دیا جائے کہ جاؤ فلاں ملک میں جا کر کارروائی شروع کر دو۔ واپسی کا فیصلہ بھی لگتا ہے کہ اچانک کیا گیا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے، گذشتہ ایک ڈیڑھ ماہ کے واقعات بتا رہے تھے کہ یا تو کارروائی روک دی جائے گی یا اس کی شدت کم کر دی جائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ تو کارروائی مکمل طور پر روکی گئی ہے اور نہ ہی تمام طیاروں جنگی سازوسامان اور عملے کو واپس بلایا گیا ہے۔

روس کی جانب سے کارروائی شروع کیے جانے کے بعد بہت دیر تک تو روس کے خلاف شور و غوغا ہوتا رہا لیکن نئے سال کے آغاز سے مغرب اور مشرقِ وسطٰیٰ میں مغرب کے اتحادی ملکوں کو احساس ہونے لگا تھا کہ روس یہ کارروائی پوری سنجیدگی سے کسی مقصد کی خاطر کر رہا ہے۔ مقصد دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا، دہشت گردوں کا بہت حد تک صفایا کرنا اور شام کے بحران کے سیاسی حل کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ چنانچہ قطر کے امیر بھی روس آ کر پوتن سے ملے اور سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع بھی۔ شام سے متعلق جینیوا میں معاملات بھی طے ہوئے اور بالآخر روس اور امریکہ کے درمیان اس سلسلے میں سلسلہ جنبانی بھی ہوا اور انجام کار پوتن اور باراک اوبامہ کی ٹیلی فون پر مشاورت بھی ہوئی۔ جینوا میں شام کے بحران سے متعلق تیسرا راؤنڈ شروع ہوا تو شام میں فضائی کاروائی روکے جانے کا فیصلے کا اعلان کیا گیا۔ اس سے پہلے روس کے وزیر دفاع نے شام میں دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر سے وابستہ مستقروں کی بربادی اور دہشت گردوں کے مارے جانے سے متعلق معلومات دیں جس میں پہلی بار بتایا گیا کہ روس کی فضائیہ نے دوہزار سے زیادہ دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا جن میں روس کے شدت پرست شہری بھی شامل تھے۔ ایسا پہلی بار بتایا گیا۔ اس سے پہلے امریکہ کی سربراہی میں قائم داعش مخالف فضائی اتحاد مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد بتاتا تھا اور روس حملوں کی تعداد اور تباہ کیے جانے والے مستقروں سے متعلق اطلاع دیتا تھا۔ روس کے وزیر دفاع نے یہ بھی بتایا کہ روس کی فضائیہ کی اعانت سے شام کی فوج نے کتنے اور کونسے علاقوں کو جنگجووں سے خالی کرایا ہے۔

اب لگتا ہے کہ جینیوا میں ہوئے اس فیصلے پر زیادہ بہتر طریقے سے عمل درآمد شروع ہوگا کہ اٹھارہ ماہ کے اندر شام میں آئین میں ترامیم کی جائیں یا نیا دستور بنایا جائے، ساتھ ہی  منصفانہ انتخابات کرائے جائیں تا کہ نئی حکومت بن سکے۔ اس فیصلے کی پہلی شق یعنی جنگ بندی پر عمل درآمد کیے جانے کی خاطر بھی روس کی فضائیہ اور اس سے وابستہ عملے کو جزوی طور پر واپس بلایا گیا ہے مگر یاد رہے داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں پر امریکی اتحاد اور روس، دونوں کی فضائیہ کے حملے جاری رہیں گے۔ اٹھارہ ماہ ایک لمبا عرصہ ہے جس کے دوران بشارالاسد اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments