یہ راستہ کوئی اور ہے


naeem baig

بات کچھ بھی ہو ، ہجرت کا غم کسی بھی ذی روح کے لئے اولاً امتناعی اور ثانیاً شدید اضطرابی کیفیت رکھتا ہے جس کے فکری، معاشی ، معاشرتی اور سماجی اثرات نہ صرف خود اس انسان کے لئے سوہانِ روح بنتے ہیں بلکہ اس سے منسلک تمام درو بست ، رشتے ، ناتے ، عمرانی ، سیاسی و ثقافتی سطح پر دوررس نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔ اور پھر ہجرت بھی ایسی ، جہاں لاکھوں افراد کا ہر دو طرف انخلا ، سفر کی صعوبتیں اور نفرت کے بلند ہوتے شعلے اور قتل و غارت کے معرکے جس نے انسانیت شرما دی ہو۔

تقسیم ہند ، ہجرت ، انسانی ابتلاٗ اور اسکے خمیر سے اٹھتی ہوئی کہانیاں ہی وہ موضوعات ہیں جس پر اقبال حسن خان کی میں دوسری ، بلکہ یوں کہیئے کہ تیسری کتاب پڑھ رہا ہوں ۔ گو ابھی انکی اس ٹرائیلوجی میں ایک کتاب کا منصہ شہود پر نمودار ہونا باقی ہے لیکن اتفاق سے میں اسکے چیدہ چیدہ ابواب پڑھ چکا ہوں ۔۔۔۔

اس میں انکی پہلی کتاب ، انکا ناول ’ گلیوں کے لوگ‘ ہے، جس کی پذ یرائی پاک و ہند کا نہ صرف میڈیا کر چکا ہے بلکہ نقد و نظر کے ارباب اس پر سیر حاصل بحث کر چکے ہیں۔ انکی تیسری متوقع کتاب کا ذکر انہوں نے خود ’ راج سنگھ لاہوریا‘ کے عنوان سے اسی مذکورہ ناول کی پشت پر کر دیا ہے۔

اقبال حسن خان کا قلم ہجرت اور اس سے اٹھی ہوئی ان سینکڑوں کہانیوں میں وہ نثری لطافت اور رنگین بخیہ گری کرتا ہے جو قاری کی خود ہجر و فراق کی بیشمار طویل داستانوں اور راتوں کا پسِ منظر ہوتا ہے۔ اقبال حسن صرف لفظی پیکروں اور منسلک سیاسی تھیوریوں سے انسانی رشتوں کے بنتے بگڑتے مناظر تشکیل نہیں کرتے اور نہ ہی انکے نثری مناظر منجمد یا ساکت ہوتے ہیں ۔ انکا قلم ہمہ جہت استعاریت سے بڑے واضح اور متحرک اور حیرت سے بھرپور مناظر پیش کرتا ہے۔ سامنے سے واضح اور متحیر تصویر بنتی ہے تو باطن میں وہی تصویر کہیں دلفریب اور کہیں دلدوز بنتی ہے۔ آگ اور ٓانسوؤں کی اس بھٹی میں ڈھلا انکا نثری فن پارہ قاری کو جکڑ لیتا ہے۔ چونکہ بنیادی طور پر انکا فن پلے رائٹ کی اس تکنیکی مہارت سے وابستہ ہے تو اسی ہنر مندی کے نشان یہاں انکے ناولوں میں بھی ملتے ہیں۔
میں ناول کی کہانی تو آپ کے سامنے پیش نہ کر پاؤں گا کیونکہ یہ قاری کا فطری حق ہے کہ وہ ادبی حظ اٹھانے کے لئے کسی بھی نثری یا شعری فن پارے کو خود اپنی فکری ہم آہنگی سے تفہیم دے۔ تاہم میں اس ناول میں چیدہ چیدہ امید و بیم کے حصار سے نکلی ہوئی تقدیرِ آدم کی ازلی سچائی کا ذکر ضرور کرونگا۔

ناول ایک ایسے پلاٹ پر کھڑا کیا گیا ہے جہاں تقسیم ہند کی دنوں سے شروع ہوتی داستان اپنے عروج کو پہنچتی ہے ۔ اقبال حسن نے اسی زمین سے اٹھے عام کرداروں کو منتخب کیا اور ایک ایسی کہانی تشکیل دی جو اس وقت کے سیاسی حالات اور سماجی و معاشی مصائب سے جوانمردی سے نبردآزما رہے تھے۔

اقبال حسن نے انہی مسائل کے اندر سے کچھ اہم عمرانی و سیاسی سوالات بھی اٹھائے ہیں ۔ انکے کردار نئی قوم کے بنتے بگڑتے حالات میں بھی سیاست کی خاردار راہداریوں میں سچ بولتے رہے ۔ انہوں نے ہندوستان کی تقسیم ، پاکستان کا قیام اور متحدہ ہندوستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی سیاسی و شخصی غلطیوں کو آشکار بھی کیا ہے ۔

صفحہ نمبر ۳۱۳ سے ایک اقتباس اس ناول کی اساس کی شاید وضاحت کردے۔

’’ وہ اپنا بیان دے کر مڑی، دیوار کے قریب گئی اور فریم شدہ بڑی بڑی تصویروں کے ساتھ چلتے ہوئے ایک تصویر کے قریب رک کر بولی۔

’’ ادھر آؤ ، میرے قریب۔‘

میں اس کے عقب میں ایک مناسب فاصلے سے کھڑا ہو گیا۔ اُس نے شاید میری قربت محسوس کر لی تھی، اسی لئے تو اِس نے گھوم کر دیکھے بغیر ایک تصویر کی طرف اشارہ کیا۔

’’ آزادی کے وقت تمہیں زیادہ شعور نہیں ہوگا اور ہو سکتا ہے کہ تم ان میں سے کچھ لوگوں کو پہچان نہ سکو۔‘

میں نے تصویر کو غور سے دیکھا۔ میں اپنے ابا جی کی وجہ سے اُس زمانے کے اخبارات میں چھپی تصویریں دیکھتا تھا تو مجھے تصویر میں موجود چار آدمیوں میں سے تین کو پہچاننے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ اس تصویر میں، جناح صاحب، نہرو ، ولبھ بھائی پٹیل اکھٹے تھے، چوتھی تصویر ایک باریش شخص کی تھی لیکن میں اِسے نہ پہچان سکا تو میں نے سبھی کے نام لے کر کہا۔

’’ یہ شخص کون ہے؟ مجھے یہ شکل کچھ دیکھی ہوئی سی لگتی ہے لیکن میں نام نہیں جانتا۔‘‘

وہ مسکرائی اور میری طرف گھوم کر بولی۔

’’ یہ شخص ان سب سے زیادہ سمجھدار اور مستقبل کو دیکھنے والا تھا۔ یہ مولانا آزاد ہیں۔ اگر اس تصویر میں کھڑے دوسرے تین اس کی بات مان لیتے تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا اور مذہب کے نام پر یہ نفرتیں نہ پھیلتیں اور نہ ہی یہ خِطہ ہمیشہ کے لئے بارود کے ڈھیر پر بیٹھتا۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلے پیرے میں یہی کردار پھر بولتا ہے۔ ’’ ہندوستان توڑنا ایک سازش تھی، میں ہندو ہوں لیکن مجھے مسلمانوں سے ہمدردی ہے۔ تم بھی مسلمان ہو شاید تم کبھی اس بارے میں سوچو۔ یہ سامراج کا بہت ہی کاری وار تھا۔ ہندوستان کی تقسیم نے مسلمانوں کو بھی تقسیم کر دیا، لاہور اور ڈھاکہ کے درمیان گیارہ سو میل کا فاصلہ ہے یہ فاصلہ کبھی پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصوں کو ایک نہیں رہنے دیگا ۔۔۔۔۔ ‘‘

اس اقتباس سے جہاں مصنف کی فکری نہج منکشف ہوتی ہے وہیں اس ناول کی عمارت ایک ایسے معروضی حالات سے تشکیل دیتی ہوئی نظر آتی ہے جو اپنی سچائی کو جواز نہیں بناتی بلکہ بعد از قیام جو حالات سامنے آتے ہیں وہی اسکا مقصد و منشا آشکار کر دیتے ہیں، اور میرا خیال ہے کہ یہی مصنف کی کامیابی ہے۔

ایک اور اہم پہلو جو اس ناول کو انتہائی اہم ، مضبوط اورکامیاب بناتا ہے ، وہ پرانی تہذیبوں سے کشید کیا ہوا صدیوں پرانا زرعی معاشرہ ہے ، جس کے دھرتی ٹیبوز اور ٹوٹم کسی نہ کسی شکل میں آج بھی ہمارے فہم و ادراک اور طرزِ فکر واحساس میں رچے بسے نظر آتے ہیں اور ان کی گرفت بڑی مضبوط نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’یہ راستہ کوئی اور ہے‘ کی علامتی معنوی سطح اس کا عنوان بنی کیونکہ ہم جدید زندگی کی نعمتوں سے بہرہ مند ہو کر بھی اپنے ٹیبوز کو جھٹلا نہ سکے۔ ہمارے فکر و خیال کا کوئی بھی راستہ انہیں توڑ کر باہر نہیں جا سکتا لیکن زندگی انہی ٹیبوز میں بند بھی نہیں رہ سکتی۔ راقم اس عنوان کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

ناول کی زبان و بیانیہ حد درجہ سلیس ، عام فہم اور رواں ہے جو قاری کو دورانِ قراٗت لمحہ بھر کے لئے رکنے کو نہیں چھوڑتا اور شاید اسکی بڑی وجہ اسکا طرزِ بیانیہ ہے جو عموماً یاداشتوں کے اسلوب سے مماثلت رکھتا ہے۔ راقم نے بیشتر آٹو بائیوگرافیز اسی طرزِ نگارش پر پڑھی ہیں۔ تین سو اکاون صفحات پر لکھا گیا یہ ناول اردو ادب میں ہجرت کے موضوع پر لکھے گئے خزانے میں ایک انمول اضافہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “یہ راستہ کوئی اور ہے

  • 17-03-2016 at 9:47 am
    Permalink

    Who did publish it?

Comments are closed.