ڈاکٹر صاحب اورجنرل پاشا


صبح صبح صدارتی نظام اور ٹیکنو کریٹس کی حکومت کے حق میں دلائل پڑھ کر مجھ ناچیز کو جنرل پاشا یاد آنے لگے۔ میں نے سر کو زور سے جھٹکا دیا اور جنرل پاشا کو ذہن سے نکالنے کی کوشش کی لیکن جیسے جیسے میں روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحے پر 15نومبر 2017ء کو شائع ہونے والی ڈاکٹر عطاء الرحمان کی تحریر پڑھتا گیا مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں پاشا صاحب کی باتیں سن رہا ہوں۔ مجھے معاف کیجئے گا میں یہ قطعاً نہیں کہہ رہا کہ ڈاکٹر عطاء الرحمان نے جنرل پاشا کی ترجمانی کی۔ دونوں کے خیالات میں اتفاقیہ مماثلث بھی ہوسکتی ہے لیکن میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ پچھلے چند سالوں میں جب بھی کوئی صدارتی نظام کے حق میں بات کرتا ہے تو میری آنکھوں کے سامنے جنرل پاشا صاحب کی تصویر آجاتی ہے۔

اب اس نفسیاتی بیماری کی وجہ بھی جان لیجیے۔ 2مئی 2011ء کی صبح پوری دنیا میں ایبٹ آباد آپریشن کا شور مچا ہوا تھا۔ پاکستانی میڈیا میں یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کی حدود میں افغانستان کے راستے سے امریکا کے ہیلی کاپٹر بغیر کسی رکاوٹ کے کیسے داخل ہوگئے اور ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کیخلاف آپریشن کر کے خیر خیریت سے واپس بھی چلے گئے یہ سب کیسے ہوگیا؟

دوپہر کے وقت مجھے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کا پیغام ملا۔ وہ فوری طور پر ملنا چاہتے تھے۔ میں نے یہی سمجھا کہ ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں کوئی بریفنگ ہوگی لہٰذا میں مقررہ وقت پر ان کے دفتر پہنچ گیا۔ یہ ون ٹو ون ملاقات تھی۔ انہوں نے چند منٹ تک ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں بات کی اور پھر ملک کے سیاسی نظام پر گفتگو کرنے لگے۔ انہوں نے کہا پارلیمانی نظام اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ میں نے عرض کیا کہ جو معاملات آئین میں طے ہو چکے انہیں آپ اور میں نہیں بدل سکتے یہ کام پارلیمنٹ کا ہے۔

میں نے گفتگو کا رخ ایبٹ آباد آپریشن کی طرف موڑنے کی کوشش کی لیکن پاشا صاحب گویا ہوئے کہ قائداعظم بھی صدارتی نظام کے حامی تھے۔ ظاہر ہے میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا۔ ہماری ملاقات کا انجام خاصا ناخوشگوار تھا۔ اس ملاقات کے بعد میں نے صدارتی نظام کے حق میں قائداعظم کا کوئی بیان، تقریر یا انٹرویو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ قائداعظم پیپرز میں صرف ایک کاغذ موجود ہے جس پر قائداعظم نے کچھ نوٹس لکھے تھے۔ انہوں نے ان نوٹس میں پارلیمانی نظام کے نیچے صدارتی نظام کا بھی ذکر کیا لیکن صدارتی نظام کے حق میں کچھ نہیں کہا۔ ڈاکٹر عطاء الرحمان نے دعویٰ کیا ہے قائداعظم کی ذاتی ڈائری میں صدارتی نظام کے حق میں ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر موجود ہے۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان کے مایہ ناز سائنس دان ہیں۔ ایک سائنس دان کی حیثیت سے میں ان کا بہت احترام کرتا ہوں۔ بڑے احترام سے گزارش ہے کہ قائداعظم کی کوئی ذاتی ڈائری کبھی کہیں شائع نہیں ہوئی۔

جنرل ضیاء الحق کے دور میں قائداعظم پیپرز پراجیکٹ پر کام کرنے والوں کو بانی پاکستان کے کاغذات میں سے ایک ہاتھ سے لکھی ہوئی بے ربط تحریر ملی جو دراصل نوٹس تھے۔ جنرل ضیاء الحق ان دنوں صدارتی نظام کی بڑی حمایت کرتے تھے۔ ان کی حکومت کے سیکرٹری ثقافت و اطلاعات مسعود نبی نور کو اس کاغذ کا پتہ چلا تو انہوں نے بڑے اہتمام سے یہ کاغذ جنرل ضیاء الحق کی خدمت میں پیش کردیا۔ کچھ دنوں میں قومی اسمبلی کی پرانی عمارت (نادرا بلڈنگ) میں اہل قلم کانفرنس منعقد کی گئی اور اس کانفرنس میں جنرل ضیاء الحق نے یہی کاغذ بڑی رعونت سے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے اہل قلم کی طرف اچھال کر کہا یہ دیکھو قائداعظم بھی صدارتی نظام کے حامی تھے کون کہتا ہے وہ پارلیمانی نظام کے حامی تھے۔ روزنامہ جنگ کے کالم نگار ڈاکٹر صفدر محمود اس کانفرنس میں موجود تھے۔ بعدازاں انہوں نے بھی بہت تحقیق کی لیکن صدارتی نظام کے حق میں انہیں قائداعظم کا کوئی بیان نہیں ملا۔ کوئی ثبوت نہیں ملا۔

ڈاکٹر عطاء الرحمان نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل تکنیکی ماہرین کی حکومت ہے نہ کہ موجودہ نظام۔ وہ فرماتے ہیں کہ آمرانہ حکومتوں کے دور میں جی ڈی پی کی شرح جمہوری حکومتوں کے مقابلے پر زیادہ رہی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ پاکستان کو اپنے آئین میں تبدیلی لانی ہوگی اور صدارتی نظام کے تحت ٹیکنو کریٹس کی حکومت کی طرف سفر کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر صاحب جیسے نامور سائنس دان کو اپنے دلائل کے ساتھ مستند حوالے پیش کرنے کی ضرورت ہے اور کچھ اہم حقائق کا سرے سے ذکر ہی نہ کرنابھی ان کے شایان شان نہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ قائداعظم کی 25مارچ 1948ء کو چٹاکانگ میں سرکاری افسران کے سامنے تقریر کو پڑھ لیں۔

قائداعظم نے کہا ’’یہ عوام کی حکومت ہے اور کم و بیش جمہوری اصولوں اور پارلیمانی روایات کے مطابق عوام کو جوابدہ ہے‘‘۔ ڈاکٹر عطاء الرحمان نے اپنے کالم میں چین کے نظام حکومت کو ترقی کا راستہ قرا ردیا ہے۔ چین کے ساتھ دوستی اپنی جگہ لیکن چین کا نظام پاکستان میں نہیں چل سکتا۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ تاثر دیا ہے کہ پاکستان میں آج تک صدارتی نظام کا تجربہ نہیں کیا گیا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ 1962ء میں جنرل ایوب خان نے پاکستان میں صدارتی نظام نافذ کیا۔ اسی نظام کے تحت 2فروری 1965ء کو صدارتی الیکشن ہوا جس میں پاکستان کے ایک فوجی آمر نے دھاندلی کے ذریعہ محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دیدی۔ فوجی آمر جیت گیا اور پاکستان ہار گیا۔

ایوب خان کے وزیر قانون جسٹس محمد ابراہیم بنگالی تھے۔ وہ صدارتی نظام کے سخت خلاف تھے۔ انہوں نے ایوب خان کو خط لکھا اور کہا کہ صدارتی نظام پاکستان کی بنیادیں ہلادے گا۔ انہوں نے وزارت قانون سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ ڈاکٹر عطاء الرحمان کو ’’ڈائریز آف جسٹس محمد ابراہیم‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے جس میں ایوب خان کے ساتھ ان کی خفیہ خط و کتابت بھی شامل ہے۔ ایوب خان کے سیکرٹری اطلاعات الطاف گوہرکی کتاب ’’لکھتے رہے جنوں کی حکایت‘‘ میں اس تقریر کا قصہ موجود ہے جس میں ایوب خان نے صدارت سے استعفیٰ دیا تھا۔ یہ تقریر الطاف گوہر نے لکھی تھی۔ صدارت کے آخری دن ایوب خان نے اپنے قریبی ساتھیوں کو بتایا تھا کہ اب مشرقی پاکستان زیادہ عرصہ پاکستان کے ساتھ نہیں رہے گا۔ دو سال بعد مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ آپ مانیں یا نہ مانیں۔ قائداعظم کا پاکستان صدارتی نظام کے باعث ٹوٹ گیا۔

جنرل ضیاء الحق کے گیارہ سال بھی صدارتی نظام کی شکل تھے۔ ان گیارہ سالوں میں امریکی ڈالر تو آئے، جی ڈی پی کی شرح بھی بہتر رہی لیکن کلاشنکوف کلچر، ہیروئن، لسانی و فرقہ وارانہ سیاست اور بم دھماکے بھی اسی دور کا تحفہ ہیں۔ پرویز مشرف کے نو سالوں میں بھی بہت امریکی ڈالر آئے لیکن یہ دور اپنے ساتھ خودکش حملے اور سیاست میں مداخلت کے باعث فوج کے لئے بدنامی بھی لایا۔ ڈاکٹر عطاء الرحمان اس دور میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی تھے لیکن اسی دور میں فاٹا اور بلوچستان کا امن تباہ ہوا۔

آج پاکستانی فوج کے ترجمان بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہم آئین سے باہر نہیں جائیں گے، مارشل لاء یا ٹیکنوکریٹس کی حکومت کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں لیکن ڈاکٹر عطاء الرحمان فوج کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کو بھی سیاست میں مداخلت کی دعوت دے رہے ہیں۔ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ جمہوریت پر سب سے بڑا الزام کرپشن کا ہے۔ لیکن کیا یہ اسی جمہوریت کا کمال نہیں کہ سپریم کورٹ نے ایک منتخب وزیراعظم کو نا اہل قرار دیدیا اور وہ احتساب عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہا ہے۔ کیا مارشل لاء یا صدارتی نظام میں ایسا ممکن ہے؟ پاکستان کی سالمیت و بقاء 1973ء کے آئین سے وابستہ ہے۔ صدارتی نظام چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی کو بڑھائے گا۔ نیا نظام لانے کی بجائے اسی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں نئے نظام پر اتفاق رائے ناممکن ہے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔