کہانی کے بازی گر شکیل عادل زادہ سے خصوصی مکالمہ (1)


انٹرویو نگار بھی کیسے کیسے تجربات سے گزرتا ہے۔

میں نے ادبی میلوں میں نوے سالہ انتظار حسین کو چھڑی ٹیکتے مزے سے زینے چڑھتے دیکھا۔ وہ میرے اُن سوالوں کا جواب بھی دے دیا کرتے تھے، جنھیں پوچھنے کا خیال ابھی ذہن میں ابتدائی جنبش کر رہا ہوتا۔ عبداللہ حسین کے دبدبے اور اُن کی ناراضی کو کرسی بھر کے فاصلے سے محسوس کیا، اور پھران کی مخصوص مسکراہٹ، جو اشارہ ہوتی کہ انھوں نے غصہ ضبط کر لیا ہے۔ اور تارڑ صاحب کی گرم جوشی، جو کبھی ماند نہیں پڑی۔ محمد حنیف کا پریشان کن حد تک Down to earth اور فہمیدہ ریاض کا عمومی تصور کے برعکس انتہائی سادگی اور خوش مزاج ہونا۔ یہ متعدد ملاقاتیں ہی ہیں، جن کے وسیلے آج میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسد محمد خاں اور حسن منظر جیسے فکشن نگاری میں ہمالیہ سے بلند ہیں، ویسے ہی بہ طور انسان بھی اُن کا قد بادلوں کو چھوتا ہے۔

اور ان ہی ملاقاتوں کی بنیاد پر میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جس محبت اور احترام کے ساتھ آپ شکیل عادل زادہ سے ملتے ہیں ملاقات کے اختتام پر اس میں خاطرخواہ اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ ایک سادہ آدمی ہیں، جن سے مل کر کشادگی اور سہولت کا احساس ہوتا ہے۔ البتہ ان تک رسائی سہل نہیں ۔ تھوڑے بہت پاپڑ ہمیں بھی بیلنے پڑے۔ ان سے میری عقیدت کا ایک سبب الفاظ کے وہ نئے اور درست ہجے بھی تھے، جن سے میں محترم احفاظ الرحمان کی سرپرستی میں آشنا ہوا، اور جنھیں اخبارات و رسائل میں رائج کرنے کی تحریک میں شکیل عادل زادہ کا کلیدی کردار رہا۔

شکیل بھائی کی جیون کہانی دل چسپ ہے۔ بچپن میں گھر سے بھاگ گئے تھے۔ قرآن پاک حفظ کیا، برتن فروخت کیے، نوجوانی میں شکیلہ جمال کے نام سے ادیبوں کو خط لکھے، اداکارہ مینا کماری کو گرویدہ بنا لیا، امروہوی برادرز کی صحبت سے فیض یاب ہوئے، اور پھراردو کا مقبول ترین ڈائجسٹ”سب رنگ“ نکالا۔

یوں تو پاکستان میں کئی ڈائجسٹ نکلے، مگریہ اعزاز فقط ”سب رنگ“ کے حصے میں آیا کہ آج اِسے ڈائجسٹ کے بجائے ایک ادبی جریدے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ شکیل عادل زادہ نے پانچ کارنامے انجام دیے۔ پہلا کارنامہ اس کی سرکولیشن پونے دو لاکھ تک پہنچنا تھا۔ دوسرا کارنامہ: شستہ ترجموں کے ذریعے قارئین کوعالمی ادب کے عظیم لکھاریوں سے متعارف کروایا۔ تیسرا کارنامہ :زبان اور املا کی درستی ۔ آج جو ہم” امریکہ“کو ”امریکا “اور” دھماکہ “کو ”دھماکا“لکھتے ہیں، تویہ ”سب رنگ“ ہی کی دین ہے۔ چوتھا کارنامہ: کہانیوں کا کڑا انتخاب۔ کبھی سمجھوتا نہیں کیا، معیارپرپوری نہ اتریں، تو کرشن چندر اور ممتاز مفتی کی کہانیاں بھی رد کر دیں ۔ اورپانچواں کارنامہ تھا، انکا، امبربیل، اقابلااور بازی گر جیسی کہانیاں لکھنا، جو ایڈونچر سے بھرپور ہونے کے باوجود ادبیت کی حامل ہوتیں ۔

یہ بات بلامبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ شکیل عادل زادہ نے اردو ادب پر اپنے ہم عصرمدیروں سے زیادہ گہرے اثرات مرتب کیے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ دیگر فکشن نگاروں کے برعکس اُن سے ہم کہانی سے متعلق زیادہ سیکھ سکتے ہیں ۔ اُن کا علم فقط کتابوں سے کشیدہ کردہ نہیں ۔ کتنے ہی شہر دیکھے، جید شخصیات کی صحبت میں وقت گزرا، نشر و اشاعت کی دنیا میں نئے رجحانات متعارف کروائے۔

شکیل عادل زادہ 1938 میں مراد آباد میں پیدا ہوئے ۔ کم سنی میں والد، محمد عادل ادیب کے سائے سے محروم ہوگئے۔ نانا نے حافظ قرآن بنانے کے لیے جامعہ قاسمیہ میں داخل کروا دیا، جہاں حافظ صاحب سبق یاد نہ کرنے پر اتنی پٹائی کرتے کہ جسم پر نیل پڑ جاتے۔ تنگ آکر دس سال کی عمر میں گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کر لیا۔ قصہ یہ طویل ہے، مختصر یہ کہ بنا ٹکٹ سفر کیا، نقاہت کے باعث ممبئی اسٹیشن پر بے ہوش ہوگئے، پھر رشتے کی دادی کے ہاں پہنچے، آخر مراد آباد لوٹ آئے۔

قرآن حفظ کیا۔ تعلیمی سلسلہ بھی بحال ہوا، مطالعے کا شوق بھی ترقی کرتا گیا۔ انگریزی کی شدبد ہوگئی۔ پھر لکھنے کا شوق چرایا۔ اسی زمانے میں لڑکی کا روپ دھار لیا، شکیلہ جمال کے فرضی نام سے پاک و ہند کے کئی ممتاز ادیبوں کو خط لکھے۔ ایک معروف شاعر تو عاشق ہو گئے، اوردِلّی سے مراد آباد ملنے چلے آئے تھے۔ دوسری بار وہ گھر سے بھاگے، تو پاکستان پہنچ گئے۔ کچھ عرصے یہاں رہنے کے بعد واپس مراد آباد چلے گئے، مگر وہاں کی فضاﺅں پر جمود چھایا تھا، کوئی مستقبل دکھائی نہیں دیتا تھا، تو پھر پاکستان پلٹے ۔

 آنے والے چند برس والد کے دوست اور معروف شاعر رئیس امروہوی کے ساتھ رہے۔ ان کے اخبار ” شیراز“ کو سنبھالنے کی کوشش کی، مگر یہ بیل منڈھے نہ چڑھی۔ جون ایلیا پاکستان آچکے تھے، اورایک ہی فلیٹ میں رہائش تھی۔ جلد اُن میں اور شکیل بھائی میں گاڑھی چھننے لگی۔ ان کی ادبی تربیت میں جون صاحب کا بڑا دخل رہا۔ جب انھوں نے ”انشا“ کا ڈیکلریشن لیا، توشعبہ اشتہارات شکیل عادل زادہ کوسونپ دیا۔ وہاں ”داستان شہر زرنگار“ کے زیر عنوان شہر کی ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں پر مضامین لکھنے لگے، جن میں بڑی کاٹ ہوتی۔ ” اردو ڈائجسٹ“کے کام یاب تجربے کودیکھتے ہوئے انشا کو بھی”عالمی ڈائجسٹ“ کا روپ دے دیاگیا۔ جون ایلیا ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے دھیرے دھیرے ڈائجسٹ سے دور ہوتے جا رہے تھے۔ شکیل عادل زادہ ہی نے ادارتی ذمے داریاں سنبھال لیں ۔ دل جمعی سے کام کر رہے تھے، مگر جب یہ تقاضا کیا کہ پرچے میں اُن کا بھی برابری کی بنیاد پر حصہ ہونا چاہیے، تو معاملات بگڑ گئے۔ انھوں نے عالمی ڈائجسٹ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔

جیب میں ڈیڑھ ہزار روپے تھے، مگر اچھے دوست میسر تھے، ویژن تھا۔ جنوری 70ءمیں ”سب رنگ “کا پہلا شمارہ آیا۔ بعد کی کہانی تاریخ کا حصہ ہے۔

آئیں، اب آپ بھی اس جید کہانی کار اور مدیر سے ہونے والی گفت گو میں شریک ہوجائیں :

اقبال: یوں لگتا ہے کہ اردو بولی کی حیثیت سے تو باقی رہے گی، مگر رسم الخط کا مستقبل مخدوش ہے!

شکیل بھائی:ہاں، مستقبل کم زور ہے۔ تقسیم کے وقت یہ پورے ہندوستان کی زبان تھی، جب پاکستان بن گیا، تو ہندوستان نے یہ کہا کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے۔ انھوں نے اردو کو بالکل ہی ختم کر دیا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ اردو فلاں ہندوستانی اسٹیٹ کی دوسری بڑی سرکاری زبان ہے، یہ سب جھوٹ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہاں پانچ چھے ریاستوں میں صرف ہندی پڑھائی جاتی ہے، باقی جگہ انگریزی کے ساتھ علاقائی زبانیں سکھائی جاتی ہیں ۔ وہاں ہندی بولی کی زبان ہے، اور انگریزی وہاں بین الصوبائی رابطے کی زبان بن گئی ہے۔ پاکستان بننے کے کچھ برس بعد بنگلادیش کا واقعہ ہو گیا۔ اردو کو دیس نکالا کر دیا۔ اب آجائیں پاکستان میں ۔ یہاں بدقسمتی سے یہ تصور ابھرا کہ یہ مہاجروں کی زبان ہے۔ جب کہ مہاجر تو گجراتی بھی تھے، مدراسی بھی تھے۔ لطف اللہ خان مدراسی تھے۔ یعنی مختلف صوبوں سے لوگ آئے تھے۔ تو یوں لگا کہ اردو سے بے اعتنائی برتی گئی۔ انگریزی کا عروج ہوا۔ ہمارے ہاں جو تھوڑا سا مال دار ہوجاتا ہے، وہ پھر اپنے بچے کو اردو نہیں پڑھاتا۔ انگریزی اخبار لگوا دیتا ہے، انگریزی اسکول میں پڑھاتا ہے۔ پنڈی کا ایک واقعہ ہے۔ وہاں امام بری بزرگ کا مزار ہے، اُن کے نام پر ایک صاحب نے ایک اسکول کھولا، تو لوگوں نے توجہ نہیں دی۔ جب انھوں نے سینٹ میری کر دیا ہے، تو وہ چل پڑا۔

اقبال: کیا اس میں ٹیکنالوجی کا بھی دخل ہے؟

شکیل بھائی:جب سے کمپیوٹر آیا ہے، آپ کا رسم الخط رومن ہو گیا ہے۔ اب سب بل بورڈ رومن میں ہوتے ہیں ۔ یعنی ہم تیزی سے رومن رسم الخط کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔

اقبال: یہ خطر ناک ہے؟

شکیل بھائی: اسے خطرناک، دہشت ناک، الم ناک، جو بھی کہیں، لیکن ہے یہی۔

اقبال: انگریزی چینلز کے تجربات ناکام ہوئے، تمام چینلز اردو میں ہیں، نئے نئے اخبارات آرہے ہیں، کیا یہ خوش آیند نہیں ؟

شکیل بھائی: یہ درست ہے، انگریزی چینلز کے تجربے ناکام ہوئے۔ آپ نے شروع میں کہا، اردو بولی کے طور پر باقی رہے گی، تو یہ درست ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہندی اور اردو بولی میں کوئی خاص فرق نہیں ۔ ان کی فلمیں بھی اردو بولی کو سپورٹ کرتی ہیں ۔ وہاں کے پانچ چھے صوبوں میں بولی جانے والی زبان وہی ہے، جو ہم بولتے ہیں ۔ تو اردوبولی کی حد تک تو رہے گی۔ رسماً اسکرپٹ بھی رہے گا۔ اسکرپٹ ایسے نہیں مرتے۔ مگر کوئی اچھی صورت حال نظر نہیں آتی۔

اقبال: ہندوستان نے تو کہہ دیا کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے، مگرکچھ غلطیاں تو ہم سے بھی ہوئیں ۔ ہندی کے رائج الفاظ نکال کر ان کی جگہ عربی اور فارسی برتنے کی کوشش کی گئی؟

شکیل بھائی: بے شک۔ آپ نے بڑی صحیح بات کی۔ ایک اندازہ ہے کہ ستر فی صد لفظ جو ہم بولتے ہیں، وہ ہندی میں بھی بولے جاتے ہیں ۔ کوئی تیس فی صد الفاظ ایسے ہیں، جو عربی اور فارسی کے ہیں، جو دونوں زبانوں کو ممتاز کرتے ہیں ۔ اب دیکھیں :”وہ لڑکی بڑی سندر ہے!“ اس میں تمام لفظ ہندی کے ہیں ۔ گرامر بھی ہندی کی ہے۔ اب : ”وہ لڑکی بڑی خوب صورت ہے!“ اس میں ”خوب صورت“ فارسی کا لفظ ہے، باقی سب ہندی ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ نہیں پتا کہ ہم جو بولتے ہیں، اس میں ستر فی صد ہندی ہے۔

اقبال: چاند، سورج بھی ہندی، دھرتی آکاش بھی ہندی، ایک دو تین بھی ہندی؟

شکیل بھائی: بالکل۔ دراصل اب فیصلہ کرتے ہیں اخبارات اور چینلز۔ جو وہاں بولا جائے گا، وہی رائج ہوگا۔ البتہ چینلز کا عجیب معاملہ ہے کہ اینکرز کو بھاری تنخواہیں دی جاتی ہیں، مگر زبان جاننے والوں کو نہیں رکھا جاتا۔

اقبال:”سب رنگ“ کی اشاعت ڈیڑھ لاکھ سے اوپر تھی، اس نے املا کی درستی پر بہت کام کیا، اس کا کیا نتیجہ نکلا؟

شکیل بھائی:کچھ حد تک اثر رہا۔ کچھ ہم ”جیو “میں بھی کوشش کرتے ہیں ۔ جہاں موقع ملتا ہے، درست کرا دیتے ہیں ۔ ایک زمانے میں تو میں ڈھائی گھنٹے نیوز ڈیسک پر بیٹھتا تھا۔ ہمارا معاملہ کچھ عجیب ہے، ہم” الف“ پر ختم ہونے والے بہت سے لفظ ”ہ “پر ختم کرتے ہیں، جیسے پلازا، امریکا۔ اب جیسے ڈھانچا اور دھماکا ہندی کے ہیں، جس کے بیچ میں ”ھ “ آ گئی، وہ سب الفاظ ہندی کے ہیں، اور الف پر ختم ہوں گے۔ دھوکا، تھانا، ٹھکانا، ڈھاکا، گھرانا۔ ہماری کوشش کو کچھ لوگوں نے زیادتی قرار دیا، مگر کچھ نے توجہ کی، اور غلطی درست کی۔

اقبال :اردو فکشن پر آپ کی گہری نظر ہے، اب ادبی میلے اور کانفرنسیں تواتر سے ہوتی ہیں، کیا ان سرگرمیوں کا کچھ فائدہ ہوتا ہے؟

شکیل بھائی:یہ چیزیں فائدہ مند تو ہوتی ہیں، مشاعرے بھی فائدہ مند ہیں، ایک ماحول قائم ہوتا ہے۔ البتہ اردو فکشن میں اب مجھے وہ نمایاں چیزیں نظر نہیں آتیں، جو پہلے دکھائی دیتی تھیں ۔ ہمارے ہاں کتنے بڑے بڑے نام تھے۔ کرشن چندر، بیدی، عصمت، قاسمی صاحب، اشفاق صاحب، رام لال وغیرہ۔ مگر اب ان جیسے لوگ نظر نہیں آتے۔

اقبال: انتظار صاحب کو مین بکر پرائز کے لیے نام زد کیا گیا تھا، کیا وہ خاص واقعہ نہیں تھا؟

شکیل بھائی: وہ چیز تو بہت اچھی تھی۔ اگر اس جیسے واقعات نہ ہوں، تو پھر کچھ بھی نہ رہے۔ کچھ ذکر ہوتا رہنا چاہیے۔ لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو، مگر جب اثرات کی بات ہوتی ہے، تو دیکھنا ہوگا کہ ہو کیا رہا ہے۔ کیا لوگ اچھا اور بڑا فکشن لکھنے لگے ہیں ؟ یہ نہیں ہو رہا۔ پہلے جیسی سرگرمی نہیں ہے۔

اقبال:ناشروں کے استحصال پر کیا رائے ہے، وہ تو قرة العین اورن م راشد سے کہہ دیا کرتے تھے کہ آپ کی کتاب کا پہلا ایڈیشن ابھی ختم نہیں ہوا؟

شکیل بھائی: اس کو کسی حد تک نیشنل بک فاﺅنڈیشن نے روکا ہے۔ وہ دو ہزار ایڈیشن چھاپتے ہیں، سستا ایڈیشن ہوتا ہے، مصنف کو دس فی صد دیتے ہیں ۔ دوسرا ایڈیشن شایع کرتے ہیں، تو اس کے پیسے بھی دیتے ہیں ۔

اقبال: مگر یہ جو ملک بھر میں ناشر کام کر رہے ہیں، ان کے استحصال کو روکنے کا کوئی طریقہ نہیں ؟

شکیل عادل زادہ:نہیں ۔ کوئی طریقہ نہیں ۔ وہ کہہ دیتاہے کہ پانچ سو کتابیں چھاپی تھیں، ابھی پہلا ایڈیشن نہیں بکا ہے، دوسرے کی باری نہیں آ رہی۔ اوردوسری طرف وہ چھاپ رہا ہے، بیچ رہا ہے۔ اس سے اردو ادب کو نقصان پہنچا۔ مصنف کو کچھ نہیں ملتا۔ بالخصوص شاعرکو تو کچھ ملتا ہی نہیں ۔ پھرہمارے ہاں پڑھنے کا رجحان بھی کم رہا۔ شروع سے کم رہا۔ کتاب سے دل چسپی کبھی زیادہ نہیں رہی۔ پہلے کون سی کتابیں زیادہ چھپتی تھی؟ ابن صفی کی چھپا کرتی تھی، چودہ پندرہ ہزار کاپیاں ۔ اور بار بار ایڈیشن آتے تھے۔ یا پھر قدرت اللہ شہاب اور ابن انشا کی چھپیں ۔ یعنی ثابت ہوا کہ جو دل چسپ اور معلومات افزا لکھنے والے ہیں، ان کی کتابیں بک جاتی ہیں ۔

اقبال: پاپولر لٹریچر تو بک رہا ہے، عمیرہ احمد، نمرہ احمد، ہاشم ندیم وغیرہ۔

شکیل بھائی: پہلے بھی اے آر خاتون کی کتابیں بکا کرتی تھیں ۔ پھر یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ جسے آپ پاپولر لٹریچر کہتے ہیں، یا جسے ڈائجسٹ ادب کہا جاتا ہے تو اس سے متعلق بحث ہوتی ہے کہ وہ کس حد تک ادب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ادب نہیں، یا کم تر درجے کا ادب ہے۔ بعض بڑے ادیبوں کی تخلیقات پر بھی یہ اعتراضات ہوئے، مثلاً کرشن چندر سے متعلق کہا گیا۔ ”ایک گدھے کی سرگزشت “کو پاپولر لٹریچر میں رکھا گیا، مگر بعد میں وہ ادب تسلیم کر لیا گیا۔ ہم ڈائجسٹوں میں موپساں، ایڈگر ایلن پو کی کہانیاں چھاپتے تھے، جو مسلمہ طور پر ادب ہیں ۔ ڈائجسٹ میں چھاپتے، تو وہ غیر ادب ہوجاتا۔ وہی ادبی جراید میں چھپتیں، تو ادب کہلاتیں ۔ ہم نے” سب رنگ“ میں جو عالمی ادب چھاپا، وہ ادبی جراید سے لیا گیا تھا، نقوش سے فنون سے لیا۔ عجیب بات ہے کہ ہمارے چھاپنے پر وہ غیر ادب ہوگیا۔ خیر!

اقبال: کیا یہ درست ہے کہ اس بحث کو طول دے کر ہم نے معروف ادیبوں سے زیادتی کی؟ مغرب میں توپاپولر ادیبوں کا بڑا مقام ہے!

شکیل بھائی: ہاں، ہم نے زیادتی کی۔ مثلاً اگاتھا کرسٹی کا بڑا مقام ہے۔ ایڈگر ایلن پو نے تین بہترین جاسوسی کہانیاں لکھیں، جن کا ابن انشا نے ترجمہ کیا، جو پڑھنے کی چیز ہیں ۔ ادب اور غیرادب میں ایک بنیادی فرق ہے، شاید آپ اس سے اتفاق کریں، اوروہ ہے اظہار۔ یعنی آپ اظہار کس پختگی سے کرتے ہیں ۔ expression آپ کا کیسا ہے۔ بعض expression بہت بودے ہوتے ہیں ۔ البتہ ادب، غیرادب عام آدمی کا مسئلہ نہیں ہے۔ اسے جو چیزیں دل چسپ لگتی ہے، وہ پڑھ لیتا ہے۔

اقبال: تو آپ دل چسپی کو ادب کا بنیادی عنصر سمجھتے ہیں ؟

شکیل:دل چسپی نثر اور شاعری، دونوں میں بنیادی عنصر ہے۔ عالمانہ قسم کی تحریر غیردل چسپ ہوسکتی ہے۔ اچھا، ایسا بھی نہیں ہے کہ ادب غیر دلچسپ نہیں ہوسکتا۔ دل چسپی زبان میں بھی ہوسکتی ہے ۔ زبان شائستہ اور شگفتہ ہو، جیسے مختار مسعود، ابن انشا، مشتاق احمد یوسفی اور کرنل محمد خان کمال کی نثر لکھتے تھے۔ پطرس بخاری تھے۔ دل چسپی کو آپ بری شے نہ سمجھیں، دل چسپ سے مراد چھچھورا پن نہیں ہے ۔ یعنی ہمارا دل لگ رہا ہے۔ اب جس کتاب میں دل ہی نہ لگے، اسے کیا پڑھا جائے۔

اقبال: سب رنگ ایک ڈائجسٹ تھا، مگر عجیب بات ہے کہ آج ہر شخص اس کا یوں تذکرہ کرتا ہے، جسے وہ ایک ادبی جریدہ ہو، یہ کایا کلپ کیسے ہوئی؟

شکیل بھائی:یہ اب ہوا ہے۔ اُس وقت بھی تھوڑے بہت لوگ ماننے لگے تھے۔ شروع میں توڈائجسٹ ہی کا رنگ غالب تھا، مگر بعد میں ہم نے رفتہ رفتہ اس میں تبدیلیاں کیں ۔ ہماری سمجھ میں آتا رہا کہ یہ لفظ غلط ہے، اسے یوں درست لکھا جائے۔ انور شعور نے بڑا کام کیا۔ اور بھی لوگوں نے نشان دہی کی۔ ہم لسانیات کے آدمی نہیں تھے، مگر ہم نے کوشش کی، شروع میں لفظ غلط بھی لکھے، مگر دھیرے دھیرے انھیں درست کرتے گئے۔

اقبال: کس چیز نے ”سب رنگ“ کو ہم عصر جراید سے ممتاز کیا؟

شکیل بھائی: انتخاب۔ بنیادی طور پر انتخاب نے۔ ہم نے اردو ادب کی وہ چیزیں چھاپیں، جو عوام میں مقبول ہوں، جو جمیل جالبی بھی پڑھیں، عام آدمی بھی پڑھے، اور دونوں کو پسند آئیں ۔ اس میں سب سے بڑے نام ہیں ؛ منٹو اور کرشن چندر۔ انھوں نے ایسی تحریریں لکھیں، جو دونوں طبقوں میں مقبول تھیں ۔

اقبال: آپ کا انتخاب اتنا کڑا تھا کہ کرشن چندر کا ناول بھی واپس کر دیا، وہ کیا قصہ ہے؟

شکیل بھائی: ہاں ۔ دراصل میں ادیبوں سے یہ نہیں کہتا تھا کہ آپ ہمیں کہانی بھیجیں۔ فرض کریں، قاسمی صاحب نے ایک کہانی بھیجی، اور وہ ”سب رنگ“ کے پیمانے سے کم دل چسپ ہوئی، تو اب انھیں کہانی واپس کرنا ایک مسئلہ ہوجاتا ہے۔ ایک واقعہ سناتا ہوں : مجھے ابن انشا نے ممتاز مفتی کا ایک افسانہ دیا کہ اِسے چھاپیں ۔ میں نے وہ افسانہ پڑھا اچھا، صرف میں نہیں پڑھتا تھا ۔ ”سب رنگ“ میں ایک غیررسمی قسم کا بورڈ بنا ہوا تھا۔ تو ہمارا کیشیر بھی پڑھتا تھا، پانچ چھے آدمیوں کا گروپ تھا۔ اور ان پر لازم تھا کہ اپنی رائے اعداد میں دیں ۔ سب کو یکساں نمبر دینے کی آزادی تھی۔ جب کوئی کہانی مجموعی طور پر پچاس نمبر حاصل کر لیتی تھی، تو وہ ہم شایع کر دیا کرتے۔ تو ممتاز مفتی کی کہانی ہم نے اس کسوٹی سے گزاری۔ وہ کسی کو پسند نہیں آئی۔ اب جناب کیسے لوٹائیں ۔ میں نے کہا، ایک ہی صورت ہے کہ اسے روک دو۔ تو وہ دو تین سال تک رکی رہی۔ ابن انشا لندن چلے گئے تھے، وہ واپس آئے، تو آرٹس کونسل میں ملے۔ پوچھے: اس کہانی کا کیا کیا؟ اچھا، میں نے ایک جملہ ایجاد کیا تھا کہ ”سب رنگ“ کے خانے میں پوری نہیں اترتی، تو کہہ دیا کہ ”سب رنگ“ کے خانے سے بڑی تھی۔ وہ فوراً سمجھ گئے۔ کہا، ارے یار تم واپس کر دیتے۔ میں نے کہا: آپ یہاں تھے نہیں، بس، کل ہی واپس کردیتا ہوں، مگر آپ کو، مفتی صاحب کو نہیں ۔ تو ایسا ہی کچھ کرشن چندر کے ساتھ ہوا۔ ہم ان کی کہانیاں چھاپتے تھے۔ معاوضہ دیا کرتے، معاوضہ سب کو دیتے تھے۔ آخر کے دنوں میں وہ اسپتال میں داخل ہوگئے، تو مجھے خط لکھا کہ کچھ پیسے بھجوا سکتے ہو۔ میں نے دبئی میں اپنے دوست سے رابطہ کیا، جو ممبئی جاتے رہتے تھے۔ وہ خود گئے۔ کرشن چندر کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا، آئندہ جو بھی ضرورت ہو، مجھے بتا دیا کریں ۔ وہ بعد میں بھی ان کی مدد کرتے رہے۔ تو اُنھوں نے میرا بڑا شکریہ ادا کیا۔ انتظار کرتے رہے کہ میں ممبئی جاﺅں، تو اُن سے ملوں ۔ جب میں گیا، تب تک ان کا انتقال ہوچکا تھا۔ ان کی بیوہ سلمیٰ صدیقی سے ملا۔ انھوں نے ایک کمرہ مجھے دکھایا کہ یہ تمھارے لیے رکھا ہوا تھا۔ کچھ چیزیں دیں، ان میں اُن کا قلم بھی تھا۔

اقبال: تو کرشن جی کی جوتخلیق آپ نے ”سب رنگ“ میں شایع نہیں کی، وہ کب بھجوائی تھی؟

شکیل بھائی: وہ بیماری سے پہلے بھجوائی تھی۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ ہمارے لیے کچھ لکھیں ۔ انھوں نے ”سونے کا سنسار“ نامی ناول بھجوایا ۔ وہ سب سے پڑھوایا۔ کسی کوکوئی خاص پسند نہیں آیا۔ اب کیسے واپس کریں ۔ خیر، انھیں بتایا کہ بورڈ کی خواہش ہے کہ آپ”ایک گدھے کی سرگزشت“ جیسی کوئی چیزیں لکھ کر دیں ۔ کہا: تم کچھ بتاﺅ۔ میں نے کہا: آپ الف لیلہ جدید لکھیں ۔ اس میں بڑا امکان ہے۔ انھوں نے کہا، اچھا میں کوشش کرتا ہوں، مگر پھروہ لکھ نہیں سکے۔

اقبال: ایسا بھی ہوا کہ کسی نے کہانی بھجوائی، آپ کو پسند نہیں آئی، آپ نے معاوضہ دے دیا، مگر نہیں چھاپی؟

شکیل بھائی: دو تین معروف ادیبوں کے ساتھ ایسا ہوا، جیسے ستار طاہر۔ لیکن یہ بھی ہوا کہ ادیبوں نے ہم سے غلط بیانیاں کیں، جھوٹ بولا۔ ہم سے معاہدے کیے، پیسے بھی لے لیے، اور وہ معاہدے سے پھر گئے۔

اقبال: ”سب رنگ“ کی تجدید کی خبریں بھی ایک عرصے سے گردش میں ہیں ؟

شکیل بھائی: دراصل رﺅف کلاسرا” سب رنگ“ کے بڑے پرستار ہیں ۔ وہ خواہش مند تھے۔ اوراب سے چھے سات سال پہلے انھوں نے رابطہ کیا تھا۔ میں نے کہا، بھئی پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔ انھوں نے پوچھا، کتنے پیسوں کی ضرورت ہوگی؟ میں نے کہا:پچاس لاکھ کے لگ بھگ۔ میں نے ایسے ہی کہہ دیا تھا۔ بعد میں انھوں نے ایک کالم لکھا، جس میں دیگر سینئر صحافیوں سے ہونے والی ملاقات کا تذکرہ کیا، جس میں ایک فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اب یہ میری خواہش یا التجا نہیں تھی، کلاسرا صاحب کی اپنی کوشش تھی۔ خیر، وہ ہو نہ سکا۔ وقت گزرتا رہا۔ پھر کسی طرح ڈیکلریشن مجھے دوبارہ مل گیا۔ کچھ برس وہ میرے پاس رہا۔ ایک بہت بڑے پرستار ہیں، خلیل احمد نون۔ اُنھوں نے کہا: ہم نکالیں گے۔ اچھے پیسوں کی آفر کی۔ مجھے لگا، یہی غنیمت ہے۔ میں نے ڈیکلریشن ان کے نام کر دیا۔ وہ بہت پرعزم ہیں ۔ کہا ہے: آپ کی مدد کی ضرورت ہوگی۔ میں نے جواب میں کہا ہے کہ پوری مدد کروں گا۔ غالباً وہ اسے اسلام آباد لے جائیں ۔ وہ صاحب حیثیت ہیں ۔ دیکھیں، اب کیا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں 2017 میں ”سب رنگ“ آجائے گا۔ انتخاب کچھ میں کروں گا، کچھ لوگ وہ رکھیں گے۔

اقبال: انور شعور پرچے کے معاون مدیر تھے۔ اُن کا کہناہے کہ اب سب رنگ کی تجدید مشکل ہے کہ شکیل بھائی اب چالیس برس کے نہیں رہے؟

شکیل بھائی: یہ بات ٹھیک ہے۔ اور میرے لیے بھی اس طرح توممکن نہیں ۔ البتہ جو ”سب رنگ“ نکال رہے ہیں، وہ بازی گر شروع کرنے کا اصرار کر رہے ہیں ۔ لاہور میں ایک صاحب نے اس پر سیریل بنانے کے حقوق لے لیے ہیں ۔ اسکرپٹ میں نہیں لکھوں گا۔ البتہ مجھے آخری قسط لکھنی ہے۔ وہ میں لکھوں گا۔

اقبال: تو کیا وہ کسی ادبی جریدے میں شایع ہوگی؟

شکیل بھائی: کسی بھی جگہ ہوجائے گی، پہلی شرط تو یہ ہے کہ لکھی جائے۔ اصل میں اس کی قسطیں تو بہت باقی تھیں، پسند کی جا رہی تھیں، مگر جو آخری قسط چھپی، اس میں کہانی ایسی جگہ پہنچ گئی تھی کہ اُسے ختم بھی کیا جا سکتا تھا۔ جیسے کہ آپ کو پتا ہے، درمیان میں میں نے ”سب رنگ “کا ڈیکلریشن اپنے دوست اسلم ملک کے بیٹے راشد ملک کے نام کر دیا تھا، جو کراچی سے کچھ پرچے نکالنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس وقت میری میر شکیل الرحمان سے بھی بات چیت چل رہی تھی۔ یہ اچھا ہوتا کہ جنگ کے بینر تلے ”سب رنگ“ نکلتا، مگر وہ ٹی وی میں مصروف ہوگئے، اور تین سال نکل گئے۔ میرے مالی مسائل کم ہوتے گئے۔ 2003 میں راشد ملک نے رابطہ کیا۔ میری تمام شرائط مانتے ہوئے پرچا لے لیا۔ یہ طے ہوا تھا کہ ہم اسے سال بھر میں ماہوار کر دیں گے، مگر کوشش کے باوجود یہ ممکن نہ ہوسکا۔ دو سال بعد اس بات پر ان سے تنازع ہوا۔ آخر میں نے کہہ دیا: ڈیکلریشن آپ کے پاس ہے، آپ نکال لیں ۔ میں الگ ہو گیا۔ انھوں نے بڑا کہا کہ آپ بازی گر لکھتے رہیں ۔ میں نے بڑی کوشش کی، مگر لکھی نہیں گئی کہ جو پرچا میرا نہیں رہا، اس کے لیے کیسے لکھوں ۔ انھوں نے اور لوگوں سے لکھوائی، جو میں نے نہیں پڑھی، مگر لوگوں نے بتایا کہ اس میں دم نہیں تھا۔ اب بازی گر ایک شخص سن 75ء سے لکھ رہا تھا، اور اس کی وجہ سے پرچا لیٹ ہوتا تھا، گویا وہ اپنا مالی نقصان کرتا تھا، تو لوگوں نے غالباً خلاصے پڑھ کر کہانی کو آگے بڑھایا، مگر اسے پسند نہیں کیا گیا۔ سرکولیشن کم ہوگئی۔ پرچا ختم ہوگیا۔

اقبال: پھر آپ کو ڈیکلریشن دوبارہ کب اور کیسے ملا؟

شکیل بھائی: میں تو 2005 کے لگ بھگ الگ ہوگیا تھا۔ ” سب رنگ“ کچھ سال بعد بند ہوگیا۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ ڈیکلریشن ان کے پاس ہے، مگر اس کے لیے لازم ہے کہ ڈمی کی صورت ہی سہی، اسے چھاپتے رہیں ۔ انھیں دل چسپی نہیں تھی، تو ان کا ڈیکلریشن ختم ہوگیا۔ کسی نے مجھے بتایا۔ میں نے ڈیکلریشن کے لیے درخواست دے دی۔ چار پانچ ماہ لگے، کیوں کہ انھوں نے پچھلی پارٹی سے پوچھا۔ انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا، تو نتیجے میں یہ مجھے مل گیا۔ مجھے وہ دن یاد ہے۔ میں بہت خوش تھا۔ پھر خلیل احمد نون نے اس کا ڈیکلریشن خرید لیا۔

(اگلا حصہ)

کہانی کے بازی گر شکیل عادل زادہ سے خصوصی مکالمہ (2)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔