عوام اتنے احمق نہیں ہیں جتنا دانشور سمجھتے ہیں


ایک روایت ہے کہ ایک ہم جیسا کاغذی دانشور سڑک پر گزر رہا تھا تو اس نے ایک ننھے سے بچے کو گتے کے ڈبے میں بیٹھ کر کھیلتے ہوئے دیکھا۔ بچہ منہ سے جو آوازیں نکال رہا تھے ان سے دانشور سمجھ گیا کہ وہ گاڑی ڈرائیو کر رہا ہے۔ اس نے سوچا کہ بچے کی تربیت کرنی چاہیے۔ اس نے بچے کے پاس جا کر اسے مشورہ دیا کہ میاں ننھے، موڑنے سے پہلے کھڑکی سے ہاتھ باہر نکال کر مڑنے کا اشارہ ضرور دے دینا۔ بچے نے ڈرائیونگ روکی، غور سے دانشور کو سر سے پاؤں تک دیکھا، اور فرمایا ”بڑے میاں، کیا آپ کو پتہ ہے کہ میں نے اپنے سپیس شپ کی کھڑکی کھولی تو میں ہوا کے دباؤ کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر خلا میں بکھر جاؤں گا؟ “

تو جناب معاملہ یہی ہے کہ دانشوروں کو یہ پتہ ہوتا نہیں ہے کہ عوام گاڑی چلا رہے ہیں یا خلائی جہاز، مگر وہ نہایت حیران اور ناراض ہوتے ہیں کہ عوام کھڑکی سے ہاتھ باہر کیوں نہیں نکال رہے۔ ایسے ہی دانشور حضرات اکثر حیران ہوتے ہیں کہ عوام ایک صاف ستھری اور نہایت دانشور قسم کی قیادت کیوں منتخب نہیں کرتے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ عوام جب اپنے مسائل کا بیان کرتے ہیں تو ساری دانشوری دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔

پیزا کھاتے ہوئے جب دانشور اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ کوئی ایک پلیٹ بریانی یا قیمے والے نان پر ووٹ کیوں دے دیتا ہے اور اسے وسیع قومی مفاد کا خیال کیوں نہیں آتا، تو انہیں یہ دکھائی نہیں دے رہا ہوتا ہے کہ روٹی کو ترستے ہوئے اس شخص کے لئے اس قیمے والے نان کی کیا اہمیت ہے۔

چٹے ان پڑھ جمشید دستی کیوں ڈگری کے معاملے میں جعلسازی پر نا اہل ہونے کے باوجود دوبارہ بھاری اکثریت سے منتخب ہوا؟ عوام کو اس کی مبینہ کرپشن یا جعلسازی سے مطلب نہیں ہے۔ انہیں یہ یاد رہتا ہے کہ جب بھی اسے فون کیا جائے تو وہ ان کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ان کے دروازے پر موجود ہوتا ہے۔ سنا ہے کہ جمشید دستی کو اسی وجہ سے ان کے حلقے میں 1122 کہا جاتا ہے۔

نواز شریف کا معاملہ بھی یہی ہے۔ نواز شریف پر کرپشن کے سرکاری الزامات 1993 میں پہلی حکومت کی برطرفی سے شروع ہوتے ہیں جبکہ غیر سرکاری الزامات تو 1985 سے لگ رہے ہیں۔ یہ الزامات ضرور سچ ہی ہوں گے۔ مگر قانونی مجبوری یہ ہے کہ جب تک الزام ثابت نہ ہو تو اس کی سزا نہیں دی جا سکتی ہے۔ کیا یہ بات درست ہے کہ ایک شخص پر اربوں کھربوں کی کرپشن کے الزام میں مقدمہ قائم کیا جائے اور آخر میں اس بات پر اسے نا اہل کر دیا جائے کہ اس نے کسی سے تنخواہ لینے کا معاہدہ کیا تھا مگر نہیں لی؟ یعنی عدالت کی رائے میں قانونی طور پر نواز شریف کرپٹ نہیں ہے، وہ صرف سست ہے اس لئے نا اہل ہے۔

لیکن ہماری اور عوام کی اس رائے کے باوجود کوئی وجہ تو ہے کہ ڈیڑھ کروڑ ووٹروں نے نواز شریف کے نام پر ووٹ دیا تھا جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے اور کرپشن کے خلاف مہم چلانے والے عمران خان کو اس سے آدھے ووٹ ملے تھے۔ جمشید دستی کی طرح نواز شریف میں کوئی خوبی تو ہو گی جو وہ ووٹروں میں مقبول ہیں۔ عمران خان میں بھی لاکھ خامیاں سہی، مگر ان میں کوئی خوبی تو ہے جو اتنے لوگ ان کو سپورٹ کرتے ہیں۔

ہم کالج کے زمانے میں جنرل ضیا کے بہت بڑے مداح تھے۔ ہمیں یقین تھا کہ وہ امت کی سربلندی کے لئے جہاد کر رہے ہیں اور ان کی مخالف پیپلز پارٹی ایک غدار اور گمراہ لوگوں کا ٹولہ ہے۔ اس کے بعد ہم نے نواز شریف کو جنرل ضیا الحق کا جانشین سمجھ کر حق کا سپاہی سمجھا اور بے نظیر کی بھرپور مخالفت کی۔ پچھلے الیکشن میں نواز شریف نہایت کرپٹ اور نا اہل دکھائی دیے تو عمران خان کی صورت میں مسیحا دکھائی دیا۔ جب عمران خان کو دھرنے میں مسلسل سنا اور کہہ مکرنیوں میں ان کو امام پایا تو ان کی حمایت ترک کی۔ پچھلی حکومتوں کا تجزیہ کیا تو پنجاب میں سب سے بہتر حکومت چوہدری پرویز الہی کی دکھائی دی اور قانون سازی اور عوام اور صوبوں کو حقوق دینے کے حوالے سے آصف زرداری کی۔ اب یہی ارادہ ہے کہ اگلے الیکشن میں پیپلز پارٹی لاہور کے گرد و نواح میں دکھائی دے گئی تو اسے ہی ووٹ دوں گا۔

خود کو اتنی بار غلط ہوتے دیکھ کر یہی سیکھا ہے کہ عوام کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ اہم یہ ہے کہ جمہوریت چلتی رہے اور با اختیار ہو۔ اس کے بعد عوام نااہلوں سے خود نمٹ لیں گے۔ ووٹ دینے والے اتنے جاہل بھی نہیں ہوتے جتنا دانشور سمجھتے ہیں۔ خود کو عقل کل سمجھنا حماقت ہوتی ہے۔

کسی وقتی لہر میں عوام غلطی کر سکتے ہیں۔ وہ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد ایم ایم اے کو ووٹ دے سکتے ہیں یا نفرت کی بنیاد پر مہم چلانے والے نریندر مودی یا ڈانلڈ ٹرمپ کو اقتدار میں لا سکتے ہیں۔ مگر جمہوریت چلتی رہے تو عوامی مسائل حل نہ کرنے پر نہ تو ایم ایم اے دوبارہ اقتدار حاصل کر پاتی ہے اور نہ ہی نریندر مودی اور ڈانلڈ ٹرمپ جیسے۔ عوام کی اجتماعی دانش اپنی غلطیوں کا ازالہ کر دیتی ہے۔ اگر آٹھ دس مہینے مزید انتظار کر لیا جاتا اور اقامہ کو بنیاد بنا کر نواز شریف کو ٹارگیٹ نہ کیا جاتا تو اس وقت ان کی پارٹی اپنے پانچ سال کی نا اہلی پر عوام کو جواب دے رہی ہوتی جبکہ اس وقت وہ اپنے ووٹروں کے سامنے دوبارہ ہیرو بنے بیٹھے ہیں۔

با اختیار جمہوریت ہو گی تو غیر جمہوری طریقے سے اقتدار چھننے پر کوئی ہیرو بن کر دوبارہ حکمران نہیں بن پائے گا۔ اسے ووٹر کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہو گا۔ جیسا ہم پختونخوا میں دیکھتے ہیں کہ ایک پارٹی پرفارم نہ کرے تو اگلے انتخابات میں دوسری پارٹی کی صوبائی حکومت آتی ہے، ویسے ہی مرکز میں بھی ہونے لگے گا۔ ووٹوں کے بل پر چاہے نواز شریف اقتدار میں آئے، چاہے عمران خان، چاہے آصف زرداری، ان کو اقتدار سے ہٹانے کا اختیار صرف عوام کو حاصل ہونا چاہیے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 762 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar