سائنسدانوں نے آبِ حیات دریافت کر لیا


آب حیات کے چشمہ کا ذکر ہماری اساطیری داستانوں میں بار بار سنائی دیتا ہے۔ روایت ہے کہ اس چشمے کا پانی جو پیے گا اسے موت نہ آئے گی۔ مغرب میں اسے جوانی کا چشمہ کہتے ہیں کہ جو اس کا پانی پیے گا وہ سدا جوان رہے گا۔ اب مغرب سے خبر آئی ہے کہ اس کے سائنسدانوں نے آبِ حیات دریافت کر لیا ہے۔ بڈھے انسانی خلیوں کو وہ دوبارہ نوجوان بنانے پر قادر ہو گئے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم کو شوق ہوا کہ وہ آبِ حیات کا چشمہ تلاش کرے اور اس کا پانی پیے۔ وہ اسے تلاش کرتا کرتا اس تک پہنچ گیا تو اس نے چشمے کے کنارے پر ایک پرندہ پایا جس کے بال و پر جھڑ چکے تھے، کھال لٹکی ہوئی تھی، چونچ گھس چکی تھی، لنگڑا لنگڑا کر چل رہا تھا۔ سکندر نے پوچھا کے ”اے طائر لاہوتی، تو آب حیات کے چشمے کا پانی پی کر نچنت کیوں نہیں ہو جاتا؟ کیوں اتنی تکلیف میں پڑا ہوا ہے؟ “ طائر لاہوتی نے جواب دیا کہ ”اسی چشمے کا پانی پی کر تو اس حال کو پہنچا ہوں۔ میں نے لائسنس ایگریمنٹ کو پڑھے بغیر کلک کر دیا تھا اور جام چڑھا گیا۔ اب علم ہوا کہ آبِ حیات ابدی زندگی تو دیتا ہے، مگر جوانی نہیں۔ اب بڑھاپے نے میرا یہ حال کر دیا ہے کہ چلنے پھرنے سے لاچار ہوں مگر موت نہیں آتی کہ کچھ راحت پاؤں“۔ سکندر نے پانی پینے سے انکار کر دیا اور واپس پلٹ آیا اور بتیس سال کی بھری جوانی میں داعی اجل کو لبیک کہا۔

ابن انشا کی روایت ہے کہ سکندر اور حضرت خضر یہ چشمہ تلاش کرتے ہوئے اس تک پہنچے تھے مگر حضرت خضر نے یہ پانی پی لیا اور حیاتِ ابدی پائی مگر سکندر اعظم کو کوئی چکر دے کر ٹال دیا کہ تم نے جی کر کیا کرنا ہے۔

بہرحال جو روایت بھی ٹھیک ہو، اہم یہ ہے کہ آبِ حیات اور تامرگ جوانی پانے کے انسان ہمیشہ سے خواہش مند رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکیموں کا کاروبار اتنے عروج پر ہے اور چھیاسی سالہ سنیاسی باوا قوم کے نوجوانوں کو سفوف اور کشتے کھلا کھلا کر ان کا بھی سکندر اعظم والا طائر لاہوتی بنا رہے ہیں۔

لیکن اب اہل مغرب نے سائنس کی چھڑی ہلائی ہے۔ ان کو آبِ حیات مل گیا ہے۔ انسانی جسم میں خلیے آہستہ آہستہ بوڑھے ہونے لگتے ہیں۔ ایک خاص حد تک تقسیم در تقسیم ہونے کے بعد ان کی بس ہو جاتی ہے اور وہ بڑھنا بند ہو جاتے ہیں۔ کروموسوم کے سروں پر موجودہ ٹیلومر عمر بڑھنے کے ساتھ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں۔

اب برطانوی سائنسدانوں نے تجربات کیے ہیں جن کے نتیجے میں وہ ان بوڑھے خلیوں کو دوبارہ نوجوان بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان خلیوں کے ٹیلومر دوبارہ لمبے ہو گئے ہیں۔ یعنی بڈھوں کو اب یہ کیمیائی آب حیات دیا جائے گا تو وہ ایک بار پھر جوان ہونے لگیں گے۔ جھریاں جاتی رہیں گے۔ بڑھاپے کی بیماریوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ بڑھاپے کے ساتھ آنے والی دل کی بیماریاں اور فالج نہیں ہوں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 762 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar