پرویز مشرف : آئین شکن یا مسیحا


mujahid ali

سپریم کورٹ نے سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کا نام ای سی ایل یعنی ایسی فہرست سے نکالنے کا حکم دیا ہے جس میں شامل لوگ ملک سے باہر سفر نہیں کر سکتے۔ سندھ ہائی کورٹ نے 2014 میں یہ حکم جاری کیا تھا۔ اب سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے اس فیصلہ کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ عملی طور پر سابق حکمران کو بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دینے کے باوجود سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ حکومت یا ان کے خلاف بغاوت کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت اگر ان کی گرفتاری یا سفر کے حق کو محدود کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو وہ اس کی مجاز ہیں۔ اس طرح ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک پیچیدہ اور مشکل معاملہ میں فیصلہ کرنے کے باوجود اس کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ خصوصی عدالت اس سے قبل پرویز مشرف کے سفر پر پابندی لگانے سے انکار کر چکی ہے۔ البتہ اسلام آباد کی ایک عدالت میں غازی عبدالرشید قتل کیس میں پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کی نوبت نہیں آتی۔ حکومت اگر چاہے تو اس معاملہ میں یا کسی دوسرے الزام میں پرویز مشرف کو گرفتار بھی کر سکتی ہے اور انہیں سفر کرنے سے روک بھی سکتی ہے۔

تاہم ملک کے موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ بات محال ہے کہ حکومت ایسا کوئی انتہائی اقدام کرے گی۔ وفاقی حکومت اور فوج یکساں طور سے اس بات پر مطمئن اور خوش ہوں گے کہ پرویز مشرف ملک سے جا رہے ہیں ۔ اس طرح ان کے جرائم اور ان کے خلاف عائد الزامات کے حوالے سے پریشان کن سوالات کے جواب دینے سے بچا جا سکے گا۔ پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی اور ان کے خلاف بغاوت کے مقدمہ کی سماعت کے حوالے سے ملک میں ہمیشہ اختلاف رائے موجود رہا ہے۔ مستقبل قریب میں اس بارے میں اتفاق رائے پیدا ہونے کا امکان بھی نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ چلانے کی حمایت اور مخالفت کرنے والے سب عناصر اس اصول پر متفق ہیں کہ انہوں نے اکتوبر 1999 میں ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر آئین سے غداری کی تھی اور یہ اقدام ملک میں جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی پر ڈاکہ زنی کے مترادف تھا۔ لیکن یہ اتفاق اسی حد تک ہی موجود ہے۔ اس کے بعد دونوں گروہ پرویز مشرف پر بغاوت کی شق 6 کے تحت مقدمہ چلانے اور سزا دینے کے معاملہ پر شدت سے اپنے اپنے موقف کی حمایت میں دلائل لائے جاتے ہیں۔

اس مقدمہ کی مخالفت کرنے والوں کی دلیل سادہ ہے کہ ملک میں فوج کی قوت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ سوچنا بھی گناہ کے مترادف ہے کہ اس کے ایک سربراہ پر بغاوت کا مقدمہ چلا کر اسے موت کی سزا دی جائے۔ اس لئے اس قسم کی سعئ لاحاصل سے ملک میں فوج اور سیاستدانوں کے درمیان تصادم میں اضافہ ہو گا جس کی نتیجے میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہوں گے۔ یہ رائے رکھنے والوں کا خیال ہے کہ ایسی صورت میں فوج ملک میں آئین اور جمہوریت کی بساط لپیٹ سکتی ہے۔

یہ دلیل دینے والے البتہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ملک میں آج تک کسی بھی شخص پر بغاوت کے الزام میں مقدمہ قائم نہیں ہوا اور نہ ہی آئین کی اس شق پر کسی عدالت نے کبھی کوئی فیصلہ دیا ہے۔ پرویز مشرف نے خصوصی عدالت میں فرد جرم عائد ہونے کے بعد ان الزامات سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے یہ اعلان کیا ہوا ہے کہ وہ اپنے اقدامات کو راست سمجھتے تھے اور حکومت میں شامل دوسرے لوگوں کے مشورہ اور تعاون سے 2007 میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔ جبکہ 1999 کے غیر آئینی اقدامات کو سپریم کورٹ اور بعد میں منتخب ہونے والی پارلیمنٹ قبولیت کی سند عطا کر چکی ہے۔ ان حالات میں پہلے سے یہ قیاس کر لینا دور از کار فعل ہے کہ خصوصی عدالت حکومت کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے لازمی طور سے پرویز مشرف کو مجرم قرار دے گی اور انہیں موت کی سزا دی جا سکے گی۔ اس حوالے سے یہ جان لینا بھی اہم بے کہ سپریم کورٹ نے اس دوران سابق وزیراعظم شوکت عزیز ، سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور سابق وزیر قانون زاہد حامد کے خلاف آئین شکنی میں پرویز مشرف کی معاونت کرنے کے الزامات مسترد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے یہ اندازہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ طویل اور پیچیدہ عدالتی عمل میں بہت وقت صرف ہو گا۔ اس کے علاوہ اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ شاید ملک کا عدالتی نظام گڑھے مردے اکھاڑتے ہوئے ایک سابق فوجی سربراہ کو سزا دینے میں دلچسپی ہی نہ رکھتا ہو۔ ایسی صورت میں یہ قیاس ممکن نہیں ہے کہ خصوصی عدالت لازمی طور سے پرویز مشرف کو مجرم ٹھہرائے گی یا اعلیٰ عدالتیں اس فیصلہ کی توثیق کر دیں گی۔ اس طرح یہ کہنا کہ ایک سابق فوجی حکمران کو پھانسی دے کر تصادم کی فضا پیدا ہو گی، قبل از وقت اور غیر ضروری قیاس آرائی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔

پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمہ کی مخالفت کرنے والوں کی دوسری دلیل یہ ہے کہ وہ ملک میں آئین توڑنے اور زبردستی اقتدار پر قبضہ کرنے والے واحد فوجی سربراہ نہیں تھے۔ یہ روایت 1958 میں جنرل (جو بعد میں فیلڈ مارشل بن گئے) ایوب خان نے قائم کی تھی۔ پھر جنرل (ر) یحییٰ خان اور جنرل (ر) ضیاء الحق نے بھی آئینی حکومتوں کو ختم کیا اور کسی قانونی حق کے بغیر طویل مدت تک ملک پر حکومت کی اور نظام پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ ان نکتہ چینوں کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں واقعی قانون شکنی کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ہی مقصود ہے تو سب گمراہ فوجی سربراہوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے، ماضی میں ہونے والے ہر غیر آئینی اقدام کو بھی مسترد کیا جائے۔ تاکہ ماضی کے گناہوں کا کفارہ کرتے ہوئے بلا تخصیص سب ذمہ داروں کو قصور وار ٹھہرایا جائے۔ اس قسم کے اقدام کے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش سے آئندہ کسی فوجی جنرل کو جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے سے روکنے کا اصول وضع کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے مقدمہ کو انجام تک پہنچانے کی بات کرنے والے لوگ البتہ یہ بات کرتے ہیں کہ ملک میں آئین شکنی کی روایت کو ختم کرنے کے لئے پرویز مشرف کو مثال بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دو دفعہ آئین شکنی کی تھی۔ پہلی مرتبہ 1999 میں اور دوبارہ 2007 میں جب عدلیہ بحالی تحریک کی وجہ سے انہیں آئین کی شقات معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی تھی۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ 1999 کے اقدام کی توثیق ہو چکی ہے، لیکن 2007 کے اقدامات کو نہ تو سپریم کورٹ نے قبول کیا اور نہ ہی پارلیمنٹ نے ان پر قبولیت کی مہر ثبت کی۔ اس لئے پرویز مشرف خود اپنے جال میں پھنس چکے ہیں۔ یہ دلیل البتہ اس لحاظ سے کمزور ثابت ہوتی ہے کہ اس کے تحت صرف اس صورت میں کسی آئین شکن کو سزا دی جا سکتی ہے اگر وہ ملک کے دو دوسرے اداروں یعنی سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ پرویز مشرف 2007 میں اقتدار کے آخری مراحل میں تھے۔ سپریم کورٹ ان کے خلاف سینہ سپر تھی اور 2008 میں منتخب ہونے والی پارلیمنٹ ان کے زیر اثر نہیں تھی۔ اس لئے ان کے غیر آئینی اقدامات کی توثیق نہیں ہو سکی۔ ایک خاص صورتحال میں پھنس جانے کی وجہ سے صرف انہیں سزا دینے سے ہرگز یہ اصول واضح نہیں کیا جا سکے گا کہ ملک کا نظام آئین شکنی کو قبول نہیں کرتا۔ کیونکہ مستقبل میں اگر کوئی فوجی سربراہ 1959، 1968، 1977 اور 1999 کی طرح آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے لیکن ماضی کے غلط کاروں کی طرح اس فیصلہ کی سپریم کورٹ سے توثیق کروا لیتا ہے تو پرویز مشرف کیس میں قائم کی گئی روایت کے تحت انہیں بھی “معاف” کرنا پڑے گا۔

اس معاملہ میں مسلم لیگ (ن) کی خواہش اور مجبوری کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ 1999 میں پرویز مشرف نے نواز شریف کو چلتا کیا تھا اور ان کے خلاف جہاز اغوا کا مقدمہ قائم کر کے سزا دلوائی تھی۔ نواز شریف دل سے اس اقدام کا انتقام لینا چاہتے ہیں۔ اسی لئے ان سے منسوب یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ آئین شکن کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن دوسری طرف انہیں ایک بار پھر سیاسی قوت حاصل کرنے کے لئے ایسے عناصر کو قبول کرنا پڑا تھا جو پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات اور حکومت کا ساتھ دیتے رہے تھے اور اس کا حصہ بن گئے تھے۔ تاہم منظر نامہ تبدیل ہونے پر انہوں نے دوبارہ نواز شریف کا ہاتھ تھام لیا اور جمہوریت کے چیمپئن بن گئے۔ اس لئے جب تک اس قسم کے عناصر کے لئے قبولیت کا رویہ موجود ہے، ملک میں جمہوریت پر شب خون کا راستہ مکمل اور حتمی طور سے روکنا ممکن نہیں ہے۔ اس مقصد کے لئے ایک شخض کو سزا دلوانے یا نشانہ بنانے کی بجائے اگر مزاج سازی اور جمہوریت پر یقین کو مستحکم کرنے کے لئے دور رس پالیسیاں اور حکمت عملی اختیار کی جائے تو بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ فوج نے پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ قائم کرنے یا دیگر جرائم میں مختلف عدالتوں میں کارروائیوں پر کسی واضح رائے کا اظہار نہیں کیا اور اس قانونی عمل کا راستہ روکنے کی بظاہر کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ لیکن پرویز مشرف کی حفاظت ، پروٹوکول اور انہیں گرفتاری سے بچانے کے لئے فوجی ہسپتال میں داخل کرنے کی سہولت فراہم کر کے یہ ضرور واضح کیا گیا کہ فوج مکمل طور سے اپنے سابق سربراہ سے لاتعلق نہیں ہو سکتی۔ ایسی صورت میں آئین سے غداری کے الزام میں مقدمہ کی کارروائی اور اس کی تشہیر سے فوج کے بعض حلقوں میں ضرور تکلیف اور بے چینی محسوس کی جائے گی۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ان فوجداری مقدمات کے حوالے سے موجود ہو گی جو لال مسجد ایکشن یا اکبر بگٹی کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں قائم کئے گئے اور پرویز مشرف کو بالترتیب لال مسجد کے عبدالرشید و دیگر اور اکبر بگٹی کے قتل کا ملزم قرار دیا گیا۔ اکبر بگٹی قتل کیس میں تو پرویز مشرف بری ہو چکے ہیں لیکن لال مسجد کیس ابھی جاری ہے۔ یہ معاملات مملکت کی رٹ اور کنٹرول سے متعلق تھے۔ اور یہ اہم سوال سامنے لاتے ہیں کہ اگر کوئی حکمران مملکت کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے اور اس دوران کچھ لوگ مارے جاتے ہیں تو کیا اس شخص کو بعد میں قاتل قرار دیا جائے گا۔

دریں حالات پرویز مشرف کا معاملہ کئی مشکل اور گنجلک سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ اسی لئے ان کی بیرون ملک روانگی کو سب کے لئے ایک مناسب حل سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم یہ رویہ بہرصورت اہم سوالوں سے نظریں چرانے کے مترادف ہو گا۔ سیاسی طور سے شاید پرویز مشرف کا پاکستان سے دور رہنا ایک بہتر حل ہے لیکن یہ ملک کے آئین ، اس کی خلاف ورزی اور نفاذ کے حوالے سے اہم سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوششوں کو بھی معطل کر دے گا۔ اس لئے حکومت اور ملک کی پارلیمنٹ کو اس خاص صورتحال سے نکلنے کے لئے کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے کہ آئین شکنی کے معاملہ کا جائزہ بھی لیا جا سکے لیکن صرف ایک شخص اس بدعملی پر انتقامی کارروائی کا نشانہ نہ بنے۔

ایک امکان یہ ہے کہ  پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت ان کی غیر موجودگی میں کارروائی مکمل کرے۔ اگر پرویز مشرف پر آئین شکنی کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو پارلیمنٹ کوئی ایسا بااختیارعدالتی فورم قائم کرے جو ماضی کے دیگر آئین شکنوں کے اقدامات کا جائزہ لے کر یہ طے کرے کہ اگر فوجی سربراہ غیر آئینی اقدام کرتا ہے تو کیا سپریم کورٹ یا کسی پارلیمنٹ کو اس کی توثیق کا اختیار حاصل ہے۔ اس قسم کے فورم سے جاری ہونے والا کوئی بھی بیان مستقبل کے لئے ایک واضح اصول اور روشن نصب العین کا تعین کر سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

2 thoughts on “پرویز مشرف : آئین شکن یا مسیحا

  • 17-03-2016 at 2:44 pm
    Permalink

    کچه اور چهوٹ جاے تو چهوٹ جاے، آپ کو ضرور پڑهتا ہوں. خوب است.

  • 17-03-2016 at 4:20 pm
    Permalink

    شکریہ ظفر عمران صاحب

Comments are closed.