”میڈم مجھے لڑکے پسند ہیں“


جامعہ میں تدریس کے شعبے سے وابستگی کو میں اپنے لیے کہیں حوالوں سے خوش قسمتی تصور کرتی ہوں کہ ایک تو اس شعبے میں آپ کی اپنی مسلسل علمی افزائش ہوتی رہتی ہے دوسرا نوجوان نسل سے مسلسل تفاعل آپ کو بدلتے وقت کے تقاضوں اور مسائل سے روشناس کرانے کا سبب بنتا ہے۔ روایتی تدریسی عمل کے علاوہ نوجوانوں کی تربیت اور کردار سازی جیسے اہم فرض کو کسی حد تک نبھانے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ تعلیم کا شعبہ خاندان کے بعد تربیت کرنے کا اہم ادارہ تصور کیا جاتا ہے تو جہان یہ نوجوان بہت سے مسائل کو اپنے والدین سے شیئر کرتے ہوئے کتراتے ہیں وہاں استاد ایک ایسا ذریعہ ہیں جو ان کو غلط اور صیح کی پہچان کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

غلط اور صیح کیا ہے؟ معاشرے اپنے روایات اور عقائد کے مطابق طے کرتے ہیں جو کبھی تو مذہبی بنیادوں پر اور کبھی معاشرتی بنیادوں پر تشکیل پاتے ہیں۔
ایک نقطہ سے ہم سب روشناس ہیں اور وہ ہے ” جنریشن گیپ“ ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان ذہنی ہم اہنگی میں فاصلہ۔

کہیں یہ تصور جب بچوں اور والدین یا بزرگوں اور نوجوانوں کے درمیان تصور کیا جاتا تھا بحثیت استاد مجھے یہ تصور ایک سمسٹر سے دوسرے سمسٹر کے طالب علموں کے درمیان دیکھنے کو مل جاتا ہے ہر نیا آنے والا طالب علم اپنے سینیئر طالب علم سے زیادہ باشعور تنقیدی اور ٹیکنا لوجی سے بہرہ مند نظر آتا ہے ایسے میں جدید دور کے نوجوانوں کے مسائل بھی کہیں پیچیدہ اور اہم نوعیت کے ہیں۔ مندرجہ بالا تمہید کو باندھنے کا مقصد آپ کی توجہ ایک واقع کی طرف دلانے کے لیے ہیں جو حال ہی میں میرے ساتھ پیش آیا جیسا کہ میں نے عرض کیا روایتی تدریس کے ساتھ ساتھ بحثیت استاد میرا تفاعل اپنے طالب علموں کے ساتھ غیر رسمی نوعیت کا بھی رہتا ہے۔

تو ایک دن میں اپنے روزمرہ کاموں میں مصروف اپنے دفتر میں براجمان تھی کہ ایک بچی نے اندر آنے کی اجازت طلب کی میں نے پوری توجہ سے اس کو اندر آنے کی اجازت دی اور کرسی پر بیٹھنے کا عندیہ دیا۔ چہرہ غیر مانوس تھا مگر پر اعتماد تھا۔ آنے کی وجہ دریافت کی تو پتہ چلا کہ ایک مسئلہ ہے جو آپ سے شیئر کرنا سے میڈم میں نے آپ سے براہ ر است تو نہیں پڑھا مگر چونکہ آپ اس ڈیپارٹمنٹ کی ٹیچر ہیں تو سوچا یہ تھوڑی سی اجنبیت مجھے آسانی دے گی کہ میں اپنا مسئلہ آپ سے بیان کروں۔ مجھے جاننے والے استاد مجھے میری باتوں پر غلط تصور کر سکتے ہیں مگر چونکہ آپ مجھے زیادہ نہیں جانتی تو یہ غیر مانوسیت مجھے اعتماد دے گی۔

”مسئلہ بیان کیجئے!“ میں نے استفار کیا
”میڈم! مجھے لڑکے اچھے لگتے ہیں“

میں نے دوبارہ پوچھا ”جی؟ “
جواب پھر وہی ”مجھے لڑکے پسند ہیں۔ “

میر ا اگلا سوال تھا ”ٹھیک ہے آپ کو۔ ایجوکیشن میں ہیں تو میرے نزدیک یہ مکمل طور پر فطری ہے کہ آپ کو جنس مخالف میں کشش محسوس ہوتی ہو مسئلہ بیان کریں“۔
”میڈیم مجھے ’غلط ‘ تصور نہ کیجئے گا میں لڑکوں کے ساتھ اچھی دوستی بنانا چاہتی ہوں“
”محض لڑکوں سے ہی کیوں“ میرا سوال۔
”میڈم بتایا نہ مجھے اچھے لگتے ہیں۔ میں نے کچھ دوست بنائے ہیں مگر ابا جان کو نہیں پتا لگنے دیا کہ وہ بہت ناراض ہوتے ہٰیں۔ بہت سختی سے انہوں نے کہا ہے یونیورسٹی تو جا رہی ہو لڑکوں سے دور رہنا۔ میں نے ان کی خوشی کی لیے عبایا پہنا ہے۔ کلاس میں کم بولتی ہوں۔ یونیورسٹی سے مناسب اوقات میں گھر کو واپسی کرتی ہوں مگر ایک چیز جس پر میرا اختیار نہیں وہ میری لڑکوں کی طرف کشش ہے۔ ابو کو پتا چلا تو مار ڈالیں گے۔ میں چاہتی ہوں ملک سے باہر چلی جاؤں جہاں لڑکیوں کو ہر طرح کی آزادی ہے۔ وہ جو پہنیں وہ جہاں جائیں وہ جس کے ساتھ مرضی دوستی کریں۔ میں ملک سے باہر جا کر سب کچھ کرنا چاہتی ہوں جو میرے دل کو اچھا لگتا ہے۔ مجھے غلط مت سمجھیے گا میڈیم میں کسی کے ساتھ غلط تعلقات کی بات نہیں کر رہی۔ میرے ابو مجھ پر اعتماد کیوں نہیں کرتے؟ تعلیم دی ہے تو یقین رکھیں کہ شعور بھی آیا ہے۔ اچھا برا پہچان کر سکتے ہیں۔ اتنی سختی برداشت نہیں ہوتی میڈم۔ میرے پاس ایک موبائل بھی ہے۔ یقین کریں پیکج نہیں ہے مگر ابو کو نہیں بتایا کہ میرے پاس موبائل ہے۔ کہتے ہیں کزن سے شادی کرو جو میٹرک پاس ہے۔ اسی سے شادی کرنی تھی تو ہمیں کیوں پڑھایا؟ “

سوال لا تعداد۔۔۔ جواب میں آپ پر چھوڑتی ہوں کیا یہ بچی جس کو فطری طور پر جنس مخالف میں کشش محسوس ہوتی ہے کیا اپنی اس کشش کو محض اس لیے چھپائے کہ ابا جان مار ڈالیں گے؟ کیا بحثیت والدین ہم نے اپنی اولادوں کو اتنا اعتماد دیا کہ جب بچے گھروں سے اعلیٰ تعلیم کے لیے نکل رہے ہیں تو جس انداز میں ان کی تربیت ممکن تھی ہم نے کر کے بھیجی؟ اپنے بچوں کو جنسیت کے ڈبوں سے نکالنے کی کوشش کی؟ کیا ہم نے ان کو یہ سکھایا کہ کوئی حرج نہیں؟ محض جنس مخالف سے روایتی تفاعل کے لڑکے لڑکی کا تعلق محض جنسی نہیں اس کے علاوہ بھی کئی طرح کا ہوسکتا ہے محض انسان ہونے کے ناطے ایک دوسرے کے ساتھ باہمی احترام کے رشتوں کے ساتھ بھی چلا جا سکتا ہے اپنے دوستوں کو اپنے خاندانوں میں متعارف کرا کر اعتماد کی فضا بحال کی جاسکتی ہے؟

جنس مخالف سے دوری کو بنائے رکھنے کے جو حربے ہم استعمال کرتے ہیں کیا وہ واقعی معاشرے میں فعال ہیں؟ اگر آپ مجھے اس وقت دیسی لبرل سمجھ رہے ہوں یا مولانا سراج الحق کی تعریف سیکولر ازم جس کے مطابق ہم شادی کے بغیر لڑکے لڑکیوں کے جسمانی تعلقات کے حق میں ہیں تو بہت معذرت کے ساتھ کہ آپ نے اپنے معاشروں میں یک جنسی جامعات بھی بنائے۔ کیا نوجوانوں کی فطری خواہشات نے دم توڑ دیا؟ مشاہدات گواہ ہیں کہ وہاں زیادہ خرابی دیکھنے کو ملی۔

کیا آپ نے مدرسوں میں ہم جنس پستوں کے ہاتھوں نشانہ بننے والے معصوم بچوں کو  کئی منزلہ عمارتوں سے گرایا جانا نہیں دیکھا؟ کیا تہذیب کے ٹھیکہ دار آپ کو میڈیا میں شراب پی کر بیان بازی کرتے نظر نہیں آئے؟ کیا عورتوں کے حقوق پر بات کرنے والی خواتین کو ”شلوار اتار دوں گا “ کی دھمکیاں نہیں ملی؟ یا پھر مرغیوں سے جنسی زیادتی کرنے والے مجرم کا عدالت میں بیان کہ مرغی خود شہوت میں مبتلا تھی اور سیکس کرنا چاہتی تھی سامنے نہیں آیا؟ یا تو واقعی اخلاقی قدروں کو اتنا اعلیٰ بنا دیں کہ دوسروں کے اخلاقوں پر پہرے نہ بٹھائیں۔ ایک مشہور کہاوت ہے ”یہاں گنہگار دوسرے گنہگاروں کو محض اس بنیاد پر گنہگار کہتے ہیں کہ ان کے گناہ کی نوعیت مختلف ہے اور بس“ ۔ فطری خواہشات انسان کے نارمل ہونے کی نشانیاں ہیں۔ اس کے اظہار کے طریقوں پر غور کرنا ہوگا۔ محض ہم انکھیں بند کر کہ نہیں جی سکتے کہ ہمارا بچہ فرشتہ ہے۔

وہ فرشتہ موقع ملنے پر اپنے فطری تقاضوں کا اظہار کرے گا۔ پھر آپ خوش ہیں کہ خبر آپ تک نہیں پہنچی یا آپ سے چھپائی گئی۔
ہم پارٹی میں ہیں اور ابا کو بتایا ہاسٹل میں پڑھ رہے ہیں۔ حق ادا ہوگیا؟ نہیں ہرگز نہیں؟ اپنے نوجوانوں کو اعتماد دینا ہوگا جنس مخالف کے ساتھ۔

تفاعل کے مناسب اور حد درجہ گنجائش پر مبنی طریقوں کا استعمال سیکھانا ہوگا۔

اپنے نوجوانوں کو سکھانا ہو گا کہ محض جنسیت ہی انسانوں کے درمیان اکلوتا تعلق نہیں ہے۔ دوستی اور احترام کے تعلق اس سے کہیں خوبصورت ہیں۔ اجازت دیں کہ آپ کہ نوجوان آپ سے آکر اپنی غلطیوں کا اظہار اس اعتماد سے کر سکیں کہ آپ ان کی غلطی سدھارنے میں ان کی مدد کریں گے۔ نوجوانوں کی فطری تقاضوں سے ہم اہنگی اور ان کی بہتر رہنمائی ان کو مثبت انسان بننے میں مدد دے گی۔
رہنمائی کیجیئے، اعتماد دجیئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔