دی ڈانسنگ گرلز آف لاہور


ماہا اور اس کے بچے وہاں پیدا ہوئے جہاں کوئی بھی پیدا نہیں ہونا چاہتا۔ چونکہ پیدا ہونا اپنے اختیار میں نہیں ہے اس لیے وہ چپ چاپ اس گھر میں آنکھیں کھول بیٹھے۔ اگر اس دنیا میں وارد ہونا اپنے بس میں ہوتا تو شاید بہت سے لوگ نہ آنے کو ترجیح دیتے اور جو آتے، ان کی ڈیمانڈز بڑی عجیب و غریب ہوتیں۔ غریب، مزدور، چور، ڈاکو، قاتل، طوائف، جسم فروش اور کنگلے مفکروں کے گھر پیدا ہونا کوئی بھی پسند نہ کرتا۔ کوئی کہتا بھرا پُرا خاندان ہونا چاہئے، کسی کی ڈیمانڈ نرم دل ماں باپ کی ہوتی، کوئی بہت امیر کبیر فیملی کا حصہ بننا پسند کرتا، کوئی وڈیروں، جاگیرداروں کے یہاں آنکھ کھولنا چاہتا‘ لیکن ایک شرط سب کی ہوتی کہ ان کی ولدیت ایکنالجڈ ہونی چاہئے، سب کو اپنی آمد رجسٹر کرانے کا شوق ہوتا، باپ کا نام ساتھ لگائے بغیر معاشرے میں کس قدر مشکلات ہو سکتی ہیں، اس مسئلے کا تھوڑا سا بھی اندازہ ہم آپ جیسے عام انسان کو نہیں ہو سکتا۔ تو جو بھی پیدا ہونا چاہتا، وہ یہ شرط لازم قرار دیتا کہ بھئی ہمارے پیکج میں سب سے پہلے تو یہ شق موجود ہونی چاہئے، بعد کی باتیں آگے دیکھی جائیں گی۔

لوئیس براؤن پندرہ سولہ برس پہلے تک باقاعدگی سے پاکستان آتی رہیں۔ وہ چھ سال متواتر یہاں آئیں۔ ان کے تین بچے تھے۔ وہاں لندن میں ان کی ایک عدد نوکری تھی۔ اچھی خاصی گھر گرہستی چل رہی تھی‘ لیکن پاکستان کے بار بار چکر لگانا ان کی تحقیق کا حصہ تھا۔ وہ ایشیا میں عورتوں کی غیر قانونی خرید و فروخت اور جسم فروشی کی تاریخ میں دلچسپی رکھتی تھیں۔ صدیوں سے چلے آنے والے اس چبھتے ہوئے مسئلے پہ ریسرچ کا فیصلہ کرنے کے بعد جب وہ ادھر آئیں تو ان کا پہلا ٹاکرا ماہا سے ہوا، ماہا کے بچوں سے ہوا اور یہ ان کے لیے ایک دل ہلا دینے والا، تکلیف دہ اور بہت ہی عجیب سا تجربہ تھا۔

شہر کے ایک محلے میں رہنے والی ماہا (فرضی نام) کے پانچ بچے تھے۔ وہ کہاں کہاں فروخت ہوئی، کس بچے کا باپ کون تھا یہ ایک الگ موضوع ہے۔ سارے قصے میں جو چیز سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی وہ ماہا کے ازدواجی بندھن کا قصہ تھا۔ بچوں کو ایک نام دینے کے لیے، معاشرے میں باعزت مقام پانے کے لیے، اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے، جائز رشتوں کی سند کے لیے ماہا کس طرح ساری عمر گرفتار رہی، وہ سارا قصہ لوئیس براؤن نے کتاب ”دی ڈانسنگ گرلز آف لاہور‘‘ میں ساتھ ساتھ چلایا۔

لوئیس کو بھی انہیں دنوں طلاق ہوئی تھی۔ اب وہ اس بازار میں جہاں بھی جاتیں لوگ باقاعدہ ان سے ہمدردی کرتے اور افسوس میں مبتلا ہو جاتے کہ ”تمہارا کوئی مرد نہیں ہے؟‘‘ وہ اپنے مکمل ریسرچ ورک کے دوران اس سوال کا شکار بہت مرتبہ ہوئیں۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب ماہا، لوئیس اور اس علاقے کے دوسرے لوگ لعل شہباز قلندر کے عرس پہ گئے تو ماہا انہیں گھسیٹ گھساٹ کے مزار پہ لے گئی اور کہا کہ میں اپنے شوہر کے لیے دعا کرتی ہوں اور تم اپنا شوہر ملنے کی دعا کرو۔

ماہا کا شوہر ایک نشئی انسان تھا۔ وہ اسے بہت ہی کم پیسے دیتا تھا۔ بچوں کو پالنے سے لے کر ان کے تمام خرچوں کی ذمہ دار ماہا تھی۔ موجودہ شوہر سے اس کے دو بچے تھے اور باقی تین بچے پہلے کی شادیوں میں سے تھے۔ ماہا تمام وقت اس کڑھن کا شکار رہتی کہ وہ ہمیشہ اپنی خاندانی بیوی اور بچوں کے پاس رہتا ہے، انہیں پر توجہ دیتا ہے اور وہ اس کے لیے ایک جسم سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی، یہی وہاں موجود ہر خاتون کی زندگی ہے۔ تیس پینتیس برس کی عمر لے بعد انہیں کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہو گا، وہ یہ بات جانتی ہیں اس لیے کسی بھی نازک سے ازدواجی رشتے میں بندھنے اور ساری عمر کی جلن اور غصہ گلے لگانے کو تیار رہتی ہیں۔ انہیں یہ معلوم ہے کہ اس سب کے بغیر معاشرے میں ان کا مقام سب سے آخری درجوں پہ ہو گا اس لیے سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی وہ ان رشتوں میں بندھ جاتی ہیں۔

ایک بہت حیران کن بات اس کتاب میں یہ تھی کہ معاشرے میں عزت کے معیار ادھر بھی وہی ہیں جو ادھر ہمارے ہیں۔ وہاں بھی چادر پھیلا کر لینا یا دوپٹہ سلیقے سے اوڑھنا احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ لوگ بھی تیوہاروں یا عقائد کے مطابق مجالس کے لیے ایک کثیر بجٹ رکھتے ہیں اور پوری شان و شوکت سے اسے خرچ کرتے ہیں، عیدوں پر وہ بھی سب کچھ بانٹ شانٹ کے ہماری طرح خالی ہاتھ ہو جاتے ہیں، ایک عدد شوہر اور گھریلو زندگی ان عورتوں کا بھی خواب ہوتی ہے۔ یہ الگ بات کہ وہ خواب بہ مشکل چند برس کی تعبیر پاتا ہے لیکن بعد میں ایک ”نام‘‘ کی صورت ان کے ساتھ ساری عمر جڑا رہتا ہے۔ وہ لوگ بھی پڑوسیوں سے جلتے ہیں، دوسروں کی دیکھا دیکھی ان کے یہاں بھی چیزیں زبردستی یہاں وہاں سے مانگ کے خریدی جاتی ہیں، ان کے یہاں بھی رقص محض ”ناچ‘‘ اور اسے کرنے والا اسی پنجابی خطاب کے خنجر سے مضروب کیا جاتا ہے جو زخمی کرنے والے آلے کے وزن پر ہے۔ گندگی کو وہ لوگ بھی برا سمجھتے ہیں، پرسنل ہائیجین کی اہمیت ان کے یہاں بھی عام مسلمانوں جیسی ہے، ریپ کا لفظ ان کے لیے بھی ایک طعنہ ہے، پیر فقیر ان کے یہاں بھی ڈاکٹروں سے زیادہ کامل ہیں۔ گاؤں دیہاتوں سے آنے والے وہاں بھی پینڈو سمجھے جاتے ہیں، ان کا معاشرہ بھی انہیں اپنے اندر جذب نہیں کرتا۔ ”خاندانی‘‘ اور ”عطائی‘‘ کی جنگ ادھر بھی پوری طرح سے موجود ہے۔

زبانوں کے لحاظ سے مرتبے کی تقسیم ان کے یہاں بھی ہماری جیسی ہے، انگریزی والے دی بیسٹ اور ہائی کلاس، شائستہ لب و لہجے کی اردو والے مہذب اور اپر کلاس، پنجابی سرائیکی والے نسبتاً کم پڑھے لکھے اور مڈل کلاسیے سمجھے جاتے ہیں۔ باقی غربت کی اپنی ایک زبان ہے، وہ ادھر بھی وہی ہے، اپنی طرف بھی وہی ہے۔ غربت اور افلاس تو بابا آنکھوں سے ٹپکتا ہے، ایک نسل کا فقٹا پن اگلی تین نسلوں کے چہروں پہ تحریر ہوئے بغیر جان نہیں چھوڑتا، آزمائش شرط ہے!

وہ ساری کمیونٹی باہر والوں کے لیے ایک جیسی ہے لیکن ان کے اندر بالکل اتنے ہی خلا، اختلافات اور لڑائی جھگڑے موجود ہیں جتنے عام لوگوں کے درمیان یہاں رہتے ہیں۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ تھی کہ صفائی کرنے والا جو کردار اس کتاب میں موجود ہے وہ اسی فرقے سے تعلق رکھتا ہے جنہیں عمومی طور پہ ہمارے یہاں بھی صرف جمعداری کا ہی اہل سمجھا گیا ہے۔ مطلب یار وہاں بھی، اس علاقے میں بھی یہی تفریق ہے، یہی اصول ہیں، یہی زندگی ہے، سب کچھ ویسا کا ویسا ہے؟ ان کی عورتیں بھی اسی نام اور اسی عزت کے پیچھے بھاگتی ہیں جو ہمارے مرد سینٹرڈ نظام کی پیداوار ہے؟ ان کے وہاں بھی دوسرے عقیدے والے اسی کام پر ہیں جو ہم باہر والے ان سے منسوب کرتے ہیں؟ نہ کہیں جہاں میں اماں ملی؟ جنہیں ہم ساری عمر ایک برادری سمجھتے رہے، وہ لوگ بھی اندر سے جڑے ہوئے نہیں ہیں؟ وہ بھی انہی سب دھندوں کے اسیر ہیں؟

لوئیس براؤن لاہور میں جن صاحب کے یہاں ٹھہرتی تھیں، انہیں فون کیا، ان سے پوچھا کہ ماہا اور فیملی اب کہاں ہیں، کن حالوں میں ہیں، انہوں نے بتایا کہ اس علاقے سے کہیں اور شفٹ ہو چکے ہیں لیکن ٹھیک ہیں، بہتر ہیں۔ لوئیس کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیا دوبارہ پھر آئیں تو انہوں نے بتایا کہ اب تو کافی عرصہ ہوا ان کا چکر نہیں لگا۔ پھر ان سے پوچھا کہ انہیں فرضی ناموں سے کتاب پر بات کر لی جائے تو انہوں نے اجازت دے دی۔ ان صاحب کا نام یہاں ڈس کلوز نہیں ہو گا۔ وہ یا تو 2005ء کی چھپی ہوئی اس کتاب میں پڑھا جا سکتا ہے یا پھر ان پہ لکھنا تو ویسے ہی ادھار ہے۔ یار زندہ صحبت باقی!

وضاحتی نوٹ؛ اس کتاب میں ویسا کچھ نہیں ملے گا جو پڑھنے کی آرزو ہے، اس میں وہ ملتا ہے جو کوئی بھی نہیں پڑھنا چاہتا، اس میں وہ دِکھتا ہے جو منٹو دکھا نہیں پائے… کیونکہ یہ سب ایک عورت کی آنکھ سے دیکھا گیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 351 posts and counting.See all posts by husnain