دھرنا مافیا: پارلیمنٹ اور عدالت کی بے بسی


قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر انتخابی بل میں ترمیم منظور کی ہے جس کے تحت ختم نبوت کا حلف نامہ جمع کروانے کے بارے میں پیدا ہونے والی غلط فہمی دور کر دی گئی ہے۔ اس طرح حکومت نے دوسری بار ترمیم کے ذریعے یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ حکمران جماعت یا قومی اسمبلی کے اراکین میں ختم نبوت پر ایمان کے حوالے سے دو رائے موجود نہیں ہیں۔ اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد میں دھرنا دینے والے لوگوں سے کہا ہے کہ عدالت میں کارروائی جاری رکھنے کے لئے انہیں دھرنا ختم کر دینا چاہئے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس حوالے سے درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ”نیکی کے کام کو اگرغلط انداز سے کیا جائے گا تو یہ عمل بھی غلط ہی ہوگا“۔ فاضل جج نے لبیک یا رسول اللہ نامی پارٹی کے مولانا خادم حسین رضوی کی طرف سے چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف بدکلامی کا بھی نوٹس لیا اور کہا ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں اور چیف جسٹس سے معافی مانگیں۔ تاہم ان دو اقدامات کے باوجود لبیک یا رسول اللہ کی طرف سے دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ احتجاجی کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر قانون زاہد حامد کے مستعفی ہونے تک مظاہرہ اور دھرنا جاری رہے گا۔ اس گروہ کا موقف ہے کہ انتخابی قانون منظور کرتے وقت سازش کے تحت ختم نبوت پر ایمان کا حلف نامہ حذف کیا گیا تھا جس کے محرک وزیر قانون تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کلیریکل غلطی کی وجہ سے یہ تبدیلی رونماہوئی تھی جس کی فوری طور پر اصلاح کرلی گئی تھی ۔

وزیرقانون زاہد حامد نے آج ختم نبوت کے حلف نامہ کے حوالے سے ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے جذباتی انداز میں ختم نبوت پر اپنے مکمل ایمان کا یقین دلواتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کا خاندان مسلمان ہے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری رسول مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے خاندان کا بچہ بچہ ناموس رسول کے لئے جان قربان کرنے کے لئے تیار ہے“۔ وزیر قانون یہ یقین دہانی کرواتے ہوئے اس قدر جذباتی ہو گئے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال کو ان کی حمایت میں تقریر کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ عقیدے کا معاملہ اللہ اور اس کے بندے کے مابین ہے۔ کسی کو بھی کسی دوسرے عقیدے کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ احسن اقبال نے زاہد حامد سے کہا کہ انہیں اسمبلی میں اپنے عقیدے کے حوالے سے کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر دخلہ کا یہ بیان اس حد تک تو حوصلہ افزا ہے کہ انہوں نے ریاست اور مذہب کے درمیان حد فاصل قائم کرنے کے لئے ایک اصول واضح کرنے کی کوشش کی ہے لیکن انتخابی بل کے حوالے سے ہونے والی سیاست، حکومت کی پسپائی اور ایک چھوٹے سے مذہبی گروہ کی اشتعال انگیزی کی صورت حال میں وزیر داخلہ کی یقین دہانی اور وضاحت بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ چند سو لوگوں نے راولپنڈی اور اسلام آباد کی شاہراہ پر گزشتہ 8 روز سے دھرنا دے رکھا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایک ترمیمی بل میں کمی بیشی کے معاملہ میں وزیر قانون ملوث ہیں، اس لئے انہیں استعفیٰ دینا چاہئے۔ جب یہ گروہ صرف اپنے خیالات سامنے لانے تک اکتفا نہیں کرتا بلکہ حکومت کی استدعا، عدالت کے حکم اور مذہبی رہنماﺅں کی درخواستوں کے باوجود دھرنا جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے اور حکومت اسے ختم کروانے کے لئے اقدام کرنے سے گریز کرتی ہے تو یہ ایک المناک اور ناقابل قبول طرز عمل کا مظاہرہ ہے۔

پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے مذہب کے نام پر سیاست کرنے اور اپنے عقیدہ کا پرچم بلند کرکے اسے دوسروں پر مسلط کرنے کا چلن عام ہے۔ ملک میں شریعت کے نفاذ کے نام پر فساد کا آغاز کیا گیا جو بالآخر دہشت گرد حملوں اور فرقہ وارانہ قتل و غارتگری کی صورت اختیار کرگیا۔ ملک میں اب تک یہ بحث ہوتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ کی پالیسیوں پر عملدرآمد کا نتیجہ ہے یا یہ پاکستان کا مسئلہ ہے۔ ملک میں دہشت گردی میں 70 ہزار سے زائد لوگوں کے جاں بحق ہونے اور اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنے کے باوجود ابھی تک اس ایک سوال پر اتفاق رائے موجود نہیں ہے کہ دہشت گردی اور مذہب کے نام پر فساد ہر معاشرے کے لئے مہلک ہے۔ جو عناصر کسی بھی عذر پر تشدد اور ہلاکت خیزی کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا اسے درست سمجھتے ہیں، وہ دراصل بقائے باہمی کے متفقہ اور عالمی طور سے مسلمہ اصول کو مسترد کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کرنے اور اس کے نقصانات سمیٹنے کے باوجود اخباری کالم نگاروں سے لے کر ٹیلی ویژن اینکرز، مبصرین اور سیاستدانوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک میں دہشت پر آمادہ لوگ ایک درست مقصد کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاک فوج نے گزشتہ کئی برسوں کی شدید محنت اور قربانیوں کے بعد اگرچہ کسی حد تک دہشت گردی کے واقعات پر قابو پا لیا ہے لیکن جب تک ملک میں دین یا اس کے لوازمات کو پورا کرنے کے لئے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کوجائز قرار دینے والے لوگ موجود رہیں گے توپاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک بھی موجود رہے گا اور یہ عناصر کسی بھی وقت منظم ہو کر ایک بار پھر معاشرے کا امن و سکون تباہ بھی کر سکتے ہیں۔

ملک میں نظام مصطفےٰ یا نفاذ شریعت کے مطالبوں سے جنم لینے والے رویوں سے جو خوں خوار گروہ سامنے آئے تھے، ابھی ان کی زہرناکی کو ختم کرنے کا کام پورا نہیں ہوا کہ ختم نبوت کے نام سے ایک نیا مذہبی جنون عام کرنے کی کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ لبیک یا رسول اللہ ایسے ہی گروہ کا نام ہے۔ اس کے قائدین انتہائی اشتعال انگیز اور غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں، اس کے باوجود ان کی سطحی، بے بنیاد اور سماجی انصاف و مساوات کے اصولوں کو مسترد کرنے والی باتوں کو سننے اور ان پر پرجوش نعرے لگانے والے لوگ کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ یہ گروہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو سزائے موت دیئے جانے کے بعد سامنے آیا تھا اور اب یہ لوگ اس نعرے کو بنیاد بنا کر ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ عناصر لبیک یا رسول اللہ کے نام سے سیاسی پارٹی بنا کر لاہور اور پشاور میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔ ان انتخابات میں اس پارٹی کو دیگر تمام مذہبی گروہوں اور جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ ووٹ ملے ہیں جس سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔ اب وہ دارالحکومت کی شاہراہ بند کرکے وزیرقانون کے استعفیٰ سے کم پر مفاہمت پر آمادہ نہیں ہیں تاکہ اپنے حامیوں اور مخالفین پر یکساں طور پر اپنی سیاسی قوت کی دھاک بٹھا سکیں۔

آج قومی اسمبلی میں وزیر قانون زاہد حامد کی رقت آمیز تقریر اور ناموس رسول پر قربان ہونے کا بیان دراصل اسی گروہ کے دباﺅ اور دھرنا کی قوت و اہمیت کو تسلیم کرنے کا اقرار تھا۔ ملک میں اگر اسی بنیاد پر جمہوری حکومت چلائی جائے گی جسے کوئی بھی شخص چند سو یا چند ہزار لوگوں کے مجمع سے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا تو یہ معاشرہ کی تعمیر و ترقی کا نہیں اس کی تباہی و انتشارکا راستہ ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ مملکت کے معاملات قرآن و سنت کی روشنی میں طے ہونے چاہئیں یا نہیں بلکہ اہم ترین سوال یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا۔ ملک کے آئین کی رُو سے پارلیمنٹ قانون سازی اور آئینی ترامیم کا ادارہ ہے۔ عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں جو ملک کا نظام چلانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ البتہ انتخابی ترمیمی بل میں ختم نبوت کے حلف نامہ کے حوالہ سے سا منے آنے والے تنازعہ سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے اپنی مرضی و ضمیر کی آواز کے مطابق قانون بنانے میں آزاد نہیں ہیں بلکہ کوئی بھی نعرے بازگروہ ”کفر کفر“ یا ”اسلام خطرے میں ہے“ کا نعرہ لگاتے ہوئے اسمبلی پر اپنی مرضی مسلط کر سکتا ہے۔ وزیر قانون کو آج ذاتی پوزیشن کی وضاحت کرتے ہوئے اس معاملہ کے اس حساس پہلو کا ادراک ہونا چاہئے تھا۔ وہ فیض آباد دھرنا کے شرکا کے الزامات کا جواب دینے کے لئے قومی اسمبلی کے فلور پر اپنے یقین و ایمان کا اعلان کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لیکن انہوں نے اس طرح درحقیقت حکومت اور اسمبلی کے استحقاق کو کمزور کیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حکومت یا صاحبان اقتدار نے مذہبی گروہوں کے دباﺅ میں ایسے اقدامات کئے جو دراصل قانون کی حکمرانی کے اصول کی نفی کرتے ہیں۔ بدنصیبی سے اس حوالے سے کیا جانے والا بدترین فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو نے احمدیوں کو مذہبی اقلیت قرار دینے کی آئینی ترمیم قبول کرکے کیا تھا۔ اس وقت سے امور مملکت پر زور زبردستی سے اثرانداز ہونے کا رویہ مسلسل مستحکم ہو رہا ہے۔ گزشتہ برس کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بننے سے پہلے یہ افواہ عام کر دی گئی تھی کہ نئے فوجی سربراہ احمدی ہیں۔ جنرل باجوہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے گھر پر محافل میلاد منعقد کرکے اور عمرہ کے دوران اپنی تصاویر جاری کرواکے ختم نبوت پر اپنے یقین کا اعلان کیا تھا۔

حکمرانوں کو خواہ ان کا تعلق فوج سے ہویا جمہوری سیاسی پارٹیوں سے۔۔۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دباﺅ پر اعتراف کرنے سے دباﺅ ختم نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ملک میں اس مزاج اور طرز عمل کو ختم کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے جو کسی بھی شخص کو عقیدہ و مذہب کا نعرہ لگاتے ہوئے مرضی مسلط کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ جب تک یہ کام ریاست کے ہر شعبہ میں پوری تندہی سے نہیں ہوگا، پاکستان کی سرزمین انسانوں کے لئے تنگ ہوتی رہے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 701 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali