ناراض بلوچ بھائی، اگر مائنڈ نہ کریں


ابھی اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکا ہوں کہ لکھنا چاہیئے یا نہیں۔ کرب سے گزرنے والوں کو نصیحت کرنا دکھ کو ہوا دینے والی بات ہوتی ہے۔ دامن سے لپٹی ہوئی آگ باتوں سے نہیں بجھتی۔ ہاتھ پیر مارنے پڑتے ہیں دامن جھاڑنا پڑتا ہے۔ پورااحساس ہے کہ بات کرتے ہوئے کتنی احتیاط مجھے کرنی ہے۔ ہوجائے تو شکر خدا کا۔ نہ ہو پائے تو میری خطا۔

نحقئی کے خدائی خدمت گاروں نے خان عبدالغفار خان حضرت باچا خان کو مہمان کیا تھا۔ فرنگی پولیس نے آ کر گرفتار کر لیا۔ آپ کو چارسدہ جیل میں پابند سلاسل کر دیا گیا۔ خدائی خدمت گاروں نے تو مشتعل ہونا ہی تھا، نحقئی کے وہ پختون بھی آتشِ زیرپا ہوگئے جن کا باچا خان کی تحریک سے کوئی تعلق نہ تھا۔ کیونکہ قبائلی روایت میں گھر آیا ہوا مہمان پورے قبیلے کی عزت ہوتا ہے۔ مہمان کی پگڑی گرجائے تو قبیلے کی عزت خاک ہوجاتی ہے۔ حضرت باچا خان کے پیروکار تو تعداد میں کم کم ہی تھے مگر ان کی بلند نگاہی اور سخن دل نوازی کے اسیر تو سبھی تھے۔ سوائے ان کے جنہوں نے اپنی پگڑیاں وائسرائے کے قدموں میں رکھ دی تھیں۔

اس گرفتاری پر پہلی بار ہوا کہ خواتین بھی دوپٹے چھوڑ کر چارسدہ کی طرف نکل آئیں۔ ہشت نگر کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہاتھ ہی ہاتھ دیکھے جا رہےتھے۔ شاید ہی کوئی ہاتھ ہو جو تیر و تبر سے خالی ہو۔ تفتیش کے لیے باچا خان کو بوسیدہ سی کرسی پر بٹھایا کہ دور سے کچھ آوازیں سنائی دیں۔ اسسٹنٹ کمشنر علی قلی خان روشن دان سے جھانکے اور پھرتی سے پلٹ کر پولیس کو صفیں ترتیب دینے کا حکم دیا۔ کچھ دیر میں ایسا شور پڑا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔ بتایا گیا کہ لوگ مشتعل ہیں۔ باچا خان نے علی قلی خان سے کہا، یہ سپاہیوں کے بس کا روگ نہیں ہے، مجھے چھت پر جانے کی اجازت دیجیے۔ باچا خان نے جیل کی چھت سے پکارا۔ ایسا سناٹا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سنائی دے۔ ناراض بلوچ خود کو چارسدہ جیل کے باہر تصور کریں اور باچا خان کے الفاظ سنیں

“میرے پختونو! تمہارے پاس اس جنگ میں ناقابل شکست ہتھیار دو ہی ہیں۔ صبر اور استقامت! میری عرض ہے کہ گھروں کو لوٹ جاو، خدمت کرو، تعلیم جاری رکھو، جرگے لے کر جاؤ اور پختونوں کی سماجت کرو کہ اپنی دشمنیاں ختم کردو، یہ سپاہی تم پر ظلم کرکے نہیں تھکیں گے، تم نے ظلم سہہ کر نہیں تھکنا۔ وہ بات کہتے رہو جس کی سزا دی جا رہی ہے”

بلوچ روایت پر پختون روایت کو کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ دونوں زمینوں کی ثقافت کندھے سے کندھا ملا کر چلتی ہیں۔ باچا خان کی مثال کا سہارا بلوچ بزرگوں پر پختونوں کی برتری ثابت کرنے کے لیے نہیں لیا۔ سہارا اسی لیے لینا ممکن ہوا کہ بلوچوں نے باچا خان کو ایک طرح اپنے ہی بزرگوں میں شمار کر رکھا ہے۔ ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ قیام پاکستان کے وقت جو تاریخ بلوچستان میں رقم ہو رہی تھی، وہی پختونخوا میں لکھی جا رہی تھی۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ باچا خان پاکستان کے ساتھ الحاق کے روادار نہیں تھے۔ اس کے لیے ان کے پاس تاریخی اور تہذیبی استدلال موجود تھا۔ پختونخوا میں خدائی خدمت گاروں کی حکومت قائم تھی جو توڑ دی گئی۔

پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے ریفرنڈم کروایا گیا جس کا خدائی خدمت گاروں نے بائیکاٹ کیا۔ خونریزی اور بدمزگی کے امکان کو رفع کرنے کے لیے باچا خان آمادہ ہوئے تھے۔ پختونوں کی تقدیر مگرخان عبدالقیوم خان کے ہاتھ پہ رکھ دی گئی تھی۔ باچا خان نے الحاق کے لیے جو وعدے لیے، وہ وفا نہیں ہوئے۔ باچا خان انیس سو اڑتالیس میں گرفتار ہوئے۔ پختون ناراض ہوئے، ہونا بھی چاہیے تھا۔ پختونوں نے احتجاج کیا۔ خان عبدالقیوم خان نے پولیس کو چڑھ دوڑنے کا حکم دیا۔ بارہ اگست انیس سو اڑتالیس کو بابڑہ کے مقام پر لگ بھگ چھ سو لاشیں گر گئیں۔ چھ سو لاشوں کا مطلب تو سبھی جانتے ہوں گے۔ یہ وہ وقت تھا جس نے سرخ پوشوں کو علم بغاوت بلند کرنے کے تمام جواز مہیا کردیے تھے۔ کچھ اور نہ سہی، پنجاب کو گالی تو دی جا سکتی تھی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ باچا خان نے جیل سے پیغام بھیجا، پختون ہو تو رات کے اندھیرے میں اپنے پیاروں کو دفنا دو اور گھروں کو لوٹ جاو۔ صبر، صبر اور صبر!

علیحدگی کا مطالبہ انسان کا حق ہے، خواہ وہ انسان اپنی آواز میں تنہا کیوں نہ ہو۔ اس انسان کو یہ حق بھی دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی آواز کو پورے قبیلے کی آواز تصور کر لے، مگر وہ یہ تصور کرنے ہی کا حق رکھتا ہے، بزور منوانے کا حق نہیں رکھتا۔ وہ زمانے لد گئے جب آزادی کے لیے جنگیں لڑی جاتی تھیں۔ اب بات کی جاتی ہے اور تحریکیں اٹھائی جاتی ہیں۔ پہاڑ پہ چڑھنے والے تین افراد کیسے یہ تصور کر سکتے ہیں کہ وہ بلوچستان کی نمائندہ آواز ہیں۔ نمائندگی کہنے کی بات نہیں ہوتی یہ زمین پر دکھانے کا معاملہ ہوتا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ مرکزی ذرائع ابلاغ بھی بلوچستان کی آواز نہیں سناتے، مگر اپنی نمائندگی کا ثبوت نہ دے سکنے کے لیے یہ کوئی عذر نہیں۔ ضیالحق نے ریفرنڈم میں پوچھا تھا کہ کیا تم لوگ اسلام کا نفاذ چاہتے ہو؟ جتنے جواب ہاں میں آئے، اس کا مطلب ضیاالحق نے یہ پیش کیا کہ لوگ مجھے صدر دیکھنا چاہتے ہیں۔ نہ کا ووٹ نظر گنا نہیں جا سکا تو فیصلے میں شمار نہیں ہوا۔

سامنے کا سچ یہ ہے کہ بلوچستان کا ایک ایک بھائی اور ایک ایک ماں بلوچستان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا رونا روتی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ بلوچستان کا نمائندہ شعور بلوچستان کی محرومیوں کا ذمہ دار وفاق کو سمجھتا ہے۔ اس سچ سے بھی انکار نہیں ہے کہ بلوچوں کو اغوا کیا جا رہا ہے، مسخ شدہ لاشیں سڑک کنارے پھینکی جا رہی ہیں۔ بلوچستان کی اکثریت اس صورت حال پر ناراض ہے، مگر تین لڑاکے، جنرل ضیا کی طرح، اس ناراضی کا مطلب یہ کیسے لے سکتے ہیں کہ لوگ علیحدگی چاہتے ہیں؟ چاہتے ہوں گے، مگر اس خواہش کا اندراج تو بہرحال کرانا پڑے گا۔ اگر آپ کسی معصوم شہری کی جان لینے پر مجبور ہوں تو منطقی طور پر میں یہ سمجھنے پر مجبور ہوں کہ تائید نہیں ہے۔ دلیل ہو تو بولنے والے کے بول ٹھنڈے چشمے جیسے ہو جاتے ہیں۔ تائید موجود ہو تو بندوق کی نالی میں بھی تدبر اتر آتا ہے۔ تائید موجود ہے اور پھر بھی دلوں میں نفرت کے بیج بوئے جا رہے ہیں تو پھر یہ آپ کے لئے اپنی اداوں پر غور کرنے کا وقت ہے۔

چی گویرا، بھگت سنگھ، رام پرساد بسمل اور اشفاق اللہ خان کا احترام کیا جا سکتا ہے، مگر ہمارے عہد کے لیے یہ غیر متعلق (irrelevant) ہو چکے۔ تازہ عہد میں ان کو مثال بنانا تشدد کا راستہ کھولنے والی بات ہے۔ فرض کیا کہ اپنے وقت کے یہ متوالے اب بھی متعلق ہیں، تو بھی ایک نکتے پہ دھیان دینا بہت ضروری ہے۔ یہ سارے وہ لوگ ہیں جو اپنے اصولی موقف کے لیے عوامی تائید کا ثبوت دینے کے محتاج نہیں تھے۔ چی گویرا نے مزاحمت کے ایام میں لکھی اپنی کتاب “گوریلا وار فئیر” میں یہی اصول تو بیان کیا تھا”گوریلا جنگ اس وقت تک نہیں لڑی جا سکتی جب تک عوام میں اس کی تائید وحمایت موجود نہیں ہو گی۔ گوریلا فوج کے پاس ایک بڑی فوج کے مقابلے میں افراد اور وسائل کم ہوتے ہیں مگر اس کی طاقت اس کی پشت پر عوامی تائید ہوتی ہے۔ “۔

موجودہ دور میں جائز گوریلا جنگ کا بھی کیا معنی؟ خاص طور سے اس وقت کہ جب بطور شہری ریاست سے معاملہ درپیش ہو۔ اگر کوئی اپنا مقدمہ لڑنے کے لیے کوئی موثر وکیل نہ کر سکے تو اس میں پنجاب کے غریب مزدوروں کا کیا قصور؟ اگر کوئی سریاب روڈ پر دن کے تین سو روپے کمانے والے پنجابی حجام کے بھیجے میں ادھار کی گولی اتارے گا، تو اس سے کیا لگتا ہے کہ یہ سارا منظر دیکھنے والی آنکھ میں وہ کیا بو رہا ہے؟ مظلوم کی جیت یہ ہے کہ وہ اپنی مظلومیت کا دعویٰ برقرار رکھتے ہوئے اپنا مقدمہ لڑے، خواہ اس کی آواز پہنچنے میں ڈیڑھ صدی کیوں نہ لگ جائے۔ پاکستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر مارے جانے والے اہل تشیع کے لیے آنکھیں تب تک اشکبار رہیں گیں جب تک وہ نہتے رہیں گے۔ لشکر جھنگوی کی طرح کوئی لشکر مہدی ان کے ہاں سے بھی آ گیا تواہل تشیع اپنا ناقابل شکست ہتھیار کھو دیں گے۔ اس ہتھیار کو لوڈ رکھنا ہو تو پھر انہیں چونکہ اور چنانچہ کے بغیر تشدد کی مذمت کرنی ہوگی۔ نہیں کریں گے تو کسی غریب سنی کا اس میں کوئی قصور نہیں ہوگا۔

مایوسی کمزوری کی علامت ہے اور تشدد شکست کا اظہار۔ یا ہم براہ راست اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنا چاہتے ہیں یا سیدھا پہاڑ پر چڑھنا چاہتے ہیں؟ ایوان اقتدار اور پہاڑ کے بیچ مدتوں کی ایک مسافت ہے۔ ستر برس کا صبر قابل رشک ہے، مگر اپنے حق کے لیے اٹھائی گئی تحریکوں میں یہ عرصہ بہت زیادہ نہیں ہوتا۔ یہ سو گز کی دوڑ نہیں ہوتی جو بجلی کی رفتار مانگتی ہو۔ یہ میراتھن ریس ہوتی ہے جو جگرآزما حوصلہ مانگتی ہے ۔

باچا خان کے مدرسے جب تیسری بار جلا دیے گئے، جب تین گاوں جل کر خاکستر ہو گئے ، جب سرخ پوشوں پر اضافی مالیہ عائد ہوا اور چوتھی بار وہ جیل گئے، تب ایک طالب علم نے مایوس ہوکر باچا خان سے کہا تھا “بابا کیا ہم بے غیرت ہیں، ہم اور کتنا صبر کریں، خدارا ہمارے ہاتھ کھول دیجیے، یہ دیکھیے کس بے دردی سے درس گاہیں جلا دی ہیں”۔ بابا نے طالب علم کو گلے لگا کر کہا “صبر میرے بیٹے صبر، یہ آگ فرنگیوں نے مدرسے میں نہیں لگائی، بیکنگھم پیلس میں لگائی ہے۔ ،لگی رہنے دو یہ آگ، غصہ تھوک دو، یونہی برہم رہے تو یہ آگ بجھ جائے گی، کیوں بجھانا چاہتے ہو یہ آگ؟ تمہارا صبر ہی اس آگ کے لیے ایندھن ہے، ایندھن چھڑکتے رہو کہ یہی تمہارا ہتھیار ہے”۔

مزاحمت کاروں کو کسی نے غلط خبر پہنچائی ہے کہ پنجاب کا دانشور سچ نہیں کہہ رہا۔ پنجاب کا دانشور سچ کہہ رہا ہے اور سچ کی قیمت بھی ادا کررہا ہے،معاشرتی علوم میں بلوچستان کو پڑھنے والوں کی بات اور ہے۔ پاکستان بھر میں بلوچستان کی محرومیوں کے لیے رونے والی آنکھیں موجود ہیں، پی ٹی وی پر بلوچستان دیکھنے والوں کی بات اور ہے۔ مگر مزاحمت کاروں کی سفاکیت کو تاویل کی قبا پہنانے والے جو دوست پنجاب سے آنے والی آوازوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، بخدا کمال کر رہے ہیں۔ آپ علیحدگی کی بات کرتے ہیں؟ آپ تو غریب مزدوروں کو مارکر اپنا جائز مقدمہ بھی ہار رہے ہیں۔ باچا خان نے جیل کی چھت سے آخری الفاظ یہ کہے تھے “تمہارا حریف اس بات سے پریشان نہیں ہے کہ تم کوئی جرم کر رہے ہو، اس بات سے پریشان ہے کہ تم اتنے مشتعل کیے جانے کے باوجود بھی کوئی جرم کیوں نہیں کر رہے، تم پرامن رہے تو دشمن کا ظلم بلاجواز ہوگا، تم تشدد پر اتر آئے تو ان کے ظلم کو جواز مل جائے گا”۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔