ثانیہ مرزا کے خلاف چند فتوے


ثانیہ مرزا نے بھی کیا خوب قسمت پائی ہے۔ وہ اس لئے مشہور ہیں کہ وہ ٹینس کھیلتی ہیں۔ اور ان کے خلاف اس لئے فحاشی کے فتوے آتے رہتے ہیں کہ وہ ٹینس کھیلتی ہیں۔ ان کی شہرت اور نام ٹینس کی وجہ سے ہے۔ ورنہ کون ان کو پوچھتا۔ جیسے چاہتیں رہتیں اور جو من چاہتا پہنتیں۔ بس زیادہ شہرت اور اچھی صورت کا عذاب ان پر نازل ہو رہا ہے۔ گویا شاعر نے ان کے لئے ہی کہا تھا

اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نظر ڈالی

سنہ 2005 میں بھارت کے سنی علما بورڈ نے 18 سالہ ثانیہ مرزا کو میچ کھیلتے ہوئے دیکھ لیا اور مولانا حسیب الحسن صدیقی نے فتوی جاری کیا کہ ”جو کپڑے وہ ٹینس کورٹ میں پہنتی ہے، اس کے جسم کے ایک بڑے حصے کو کور نہیں کرتے بلکہ چشم تصور کے لئے کچھ بھی باقی نہیں چھوڑتے۔ وہ بلاشبہ نوجوان لڑکیوں پر ایک کرپٹ کر دینے والا اثر ڈالے گی، جو ہم روکنا چاہتے ہیں“۔ خدا جانے مولانا چشم تصور میں کیا کیا دیکھنا چاہتے ہوں گے جو دیکھنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ مولانا نے مزید فرمایا کہ ثانیہ مرزا کو ان ایرانی خواتین کی طرح لمبے عبایا اور سکارف پہن کر کھیلنا چاہیے جو ایشین بیڈمنٹن چیمپئین شپ کے لئے حیدر آباد آئی تھیں۔

جمعیت علمائے ہند کے مولانا صدیق اللہ چوہدری نے دھمکی دی ”اس نے بات نہ مانی تو اسے کھیلنے سے روک دیا جائے گا“۔
ثانیہ مرزا نے جواب دیا کہ ”میرا خیال ہے کہ آپ کو اس بات پر اتنا سنجیدہ نہیں ہونا چاہیے کہ میں کیا پہنتی ہوں۔ یہ تو بس ایک ٹی شرٹ ہے“۔

بھارت کے اماموں کی تنظیم کے سربراہ مولانا ساجد رشید نے فرمایا کہ ”اگر کسی کھیل میں عورتوں کو برقع ترک کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے تو وہ کھیل ترک کر دیں۔ ثانیہ مرزا کا لباس شہوت انگیز ہے اس لئے غیر اسلامی ہے“۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ثانیہ مرزا کے کپڑوں کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس وقت ثانیہ مرزا 34 ویں نمبر پر ہے۔ آپ پوپ سے جا کر یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ نمبر ون سیرینا ولیمز اس کی شریعت کے مطابق کپڑے کیوں نہیں پہنتی ہے۔ ایسے کپڑے پہننا مسیحیت میں حرام ہے۔ ہر اچھی مسلمان عورت کو اچھے کپڑے پہننے چاہئیں۔ میڈیا اسے اچھالتا ہے۔ کئی بھارتی اور مسلمان کرکٹر نماز نہیں پڑھتے۔ جمعے کے وقت کھیل رہے ہوتے ہیں۔ کم از کم ثانیہ مرزا نماز تو پڑھتی ہے الحمدللہ۔ ہو سکتا ہے کل وہ کپڑے بھی اچھے پہنے گی۔ تو یہ مسلمان کرکٹر تو ثانیہ مرزا سے بڑا حرام کر رہے ہیں۔ اس کے لئے ہمیں ثانیہ مرزا کا ساتھ دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ حکمت سے پیش آنا چاہیے۔

شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کی شادی سے قبل بھی ثانیہ مرزا کے خلاف سنی علما بورڈ کی جانب سے فتوی جاری ہوا تھا کہ ایک ہی چھت کے نیچے ان کا شعیب ملک کے ساتھ رہنا حرام ہے۔ ثانیہ مرزا کے گھر والوں نے ان مفتی حضرات کو بتایا تھا کہ ”شعیب ملک دلہن کے ساتھ نہیں رہ رہے ہیں۔ دولہا کے خاندان کے چند افراد ثانیہ مرزا کے گھر میں مقیم ہیں“۔ لیکن سنی علما بورڈ کی رائے تھی کہ ان دونوں کو شادی سے پہلے تقریبات کے دوران ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھنی چاہیے کیونکہ یہ غیر اسلامی ہے۔ ان دونوں نے سنی علما بورڈ کی بات پر کان نہیں دھرا۔

ثانیہ مرزا پر اس بات پر بھی تنقید ہوتی رہی کہ وہ نامحرم کھلاڑیوں سے بغل گیر کیوں ہوتی ہیں۔ سیف سیکس پر ایک کانفرنس پر ان کی گفتگو کے بعد کہا گیا کہ وہ شادی سے پہلے سیکس کی ترویج کر رہی ہیں۔ ان کا پتلا جلایا گیا۔

ثانیہ مرزا ان فتووں سے بے نیاز کھیل رہی ہیں۔ ان کا رویہ ایسا ہے جیسے یہ کہہ رہی ہوں کہ اگر میں نے ٹینس کے کورٹ میں ٹینس کا لباس نہ پہننا ہوتا تو میں یہ کھیل کھیلنا شروع ہی کیوں کرتی۔ اب ٹینس کورٹ میں تو وہی لباس پہنا جائے گا جو ٹینس فیڈریشن کے اصول کہتے ہیں۔

سکواش کی مشہور پاکستانی کھلاڑئی ماریہ تورپیکئی کو بھی گزشتہ دنوں سکواش کورٹ میں ان کے لباس کی وجہ سے ایک مہم کا نشانہ بنایا گیا تھا جو بالآخر عمران خان کی مداخلت کے بعد ختم ہوئی۔ خواتین بین الاقوامی مقابلوں میں کھیلیں گی تو ان کو ان کھیلوں کے لئے لازم قرار دیا گیا لباس پہننا ہی ہو گا۔ اور کھیلتے ہوئے ہر قسم کے پوز میں تصویر بھی اترے گی۔

اس لئے لباس پر اعتراض کرنے اور فتوے دینے سے بہتر ہے کہ سیدھی بات کی جائے کہ خواتین پر بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرنے پر پابندی کی قانون سازی کی جائے۔ بدقسمتی سے ثانیہ مرزا پاکستانی شہری نہیں ہیں۔ ان پر ہمارا یہ قانون لاگو نہیں ہو گا۔ ماریہ تورپیکئی بھی کینیڈا میں رہتی ہیں۔ تو بہتر یہی ہے کہ مقامی میڈیا میں کھیلوں کی کوریج پر پابندی لگا دی جائے، اولپمک کی رکنیت سے استعفی دے دیا جائے اور انٹرنیٹ کو بند کر دیا جائے جہاں پھر بھی یہ تصاویر آ جاتی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 762 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar