ایسٹر، ہولی، دیوالی، مشرف اور چھٹی


husnain jamal (3)

فارسی کا ایک محاورہ ہے، “زمیں جنبد، نہ جنبد گل محمد” یعنی زمین حرکت کر لے گی لیکن گل محمد حرکت نہیں کریں گے۔ اس محاورے کو ہم اپنے آس پاس رہنے والوں کی سوچ پر بھی لاگو کر سکتے ہیں۔ یعنی کبھی نہ بدلنے والے نظریات سے چپکے رہنا۔ صرف اپنی ہی بات کو درست ماننا۔ اپنی بات ثابت کرنے کے واسطے کچھ بھی کر جانا، کچھ بھی کہہ جانا۔ غلط کام کر کے اس سے مکر جانا۔ پھر اس مکرنے پر ثابت قدم رہنا، وہ پنجابی کے محاورے “منّاں گے تے ہرّاں گے” کی عملی تفسیر بن جانا، تو یہ سب کچھ گل محمد ہونے کی نشانیاں ہوتی ہیں۔

قابل اعتراض معاملات کی بحث الگ رکھتے ہوئے، نواز لیگ کی حکومت نے اوپر تلے کئی ایسے فیصلے کر دئیے ہیں جن کی بنیاد پر نسل در نسل لبرل چلے آنے والے ذہن بھی ان کی حمایت پر مجبور ہو چکے ہیں اور ان فیصلوں کا عکس اگلے الیکشن میں نظر آنے کے بھی امکانات موجود ہیں۔موجودہ حکومت سے پہلے چاہے پیپلز پارٹی ہو یا نواز لیگ یا دیگر اتحادی حضرات، تمام لوگ گل محمد کی مانند نظر آتے تھے۔ چاہے وہ پیپلز پارٹی ہو جو بائیں بازو کی پارٹی ہونے کی داعی بنتی ہو لیکن غیر جانب دار آنکھ سے دیکھیں تو جتنے بنیاد پرست فیصلے بھٹو دور میں ہوئے، شاید ہی کبھی ہوئے ہوں۔ عالم اسلام کے واحد نجات دہندہ ہونے کا مراق ہو یا احمدیوں کو اسلام کے دائرے سے باہر کرنا ہو، جمعۃ المبارک کی چھٹی ہو یا جُوئے اور شراب پر پابندی ہو، اسلامی بینک قائم کرنا ہو یا قومی لباس عطا کرنا ہو (جو بہرحال ہمیشہ سے موجود تھا) یہ سب “رنگ بازیاں” اسی دور میں نظر آئیں۔ یہ لفظ اس لیے استعمال کیا کہ اس سے بہتر کچھ سمجھ نہیں آتا۔

دیکھیے، کیا اسلامی بینکاری شروع ہونے سے آج کے دن تک آپ سچے دل سے مطمئن ہیں؟ کیا یہ واقعی اسلامی ہے یا روائتی نظام کو لبادہ اوڑھایا گیا ہے؟ اسی طرح قیام پاکستان کے بعد بھی شلوار قمیص اور کرتہ پائجامہ عوام کے لباس تھے اور آج بھی ہیں۔ جمعے کی چھٹی آخر دوبارہ اتوار پر موقوف ہوئی کہ قومی خزانہ مزید کاروباری دنوں کا نقصان اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس ہو گئی، سوائے لہو گرمانے والے ایک نغمے کے ہمارے حصے میں کیا آیا؟ احمدیوں کو دائرہ اسلام سے باہر کرنے پر ماسوائے ایک اور مظلوم اقلیت کے کچھ اور حاصل نہ ہوا (بات سیاسی فائدے کی ہو رہی ہے، روحانیات کی نہیں)۔ شراب اور جُوا بھی مہذب ہو کر ریس کورس، کرکٹ، اور پنج ستارہ ہوٹلوں میں براجمان ہوئے، بھاؤ بڑھے، حصول کے واسطے نرت دیکھنے پڑے، حاصل وصول صفر بٹا صفر۔ آپ لاکھ اسے تاریخ کا جبر کہیے، حالات کی ستم ظریفی کہیے لیکن مورخ لکھے گا کہ روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ لگانے والی حکومت ان معاملات کو اپنے خون سے دھو کر رخصت ہوئی۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی یا نواز لیگ جب بھی حکومت میں آئے آپسی چھینا جھپٹی میں روٹی کپڑوں اور مکانوں کے ٹکڑے اکثر ثالثوں کے ہاتھ جا لگتے یا ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی کہ کوئی بھی غیر روائتی قدم اٹھانا ناممکن ہوتا۔

اس بار بھی عمران خان کے دھرنے تک یہی صورت حال رہی۔ جیسے تیسے اس سے نمٹنے کے بعد پے در پے ایسے اچھے شگن نظر آئے ہیں کہ اس برہمن پر ایمان لانے کو جی کرتا ہے جس نے یہ سال اچھا ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔ ابھی آج ہی کی بات دیکھ لیجئے۔ قومی اسمبلی میں ڈاکٹر رمیش کمار کی پیش کردہ قرارداد منظور ہوئی جس کا تعلق اقلیتی تیوہاروں پر عام تعطیل دینے سے تھا۔ ایک گڑبڑ یہ ہوئی کہ قرارداد تو پیش ہوئی دیوالی، ہولی اور ایسٹر پر عام تعطیل کے لیے، لیکن منظور ہوئی وہ صرف اقلیتی برادری کے لیے (کچھ نہ ہونے سے بہرحال ہونا بہتر)۔ اب اگر ولیم، سلویسٹر، جوزف، ابھے، سریش، کشور اور سنیل چھوٹی بڑی عید ہمارے ساتھ منائیں، سویاں کھائیں، ہمیں کیک اور مٹھائی لا کر کے دیں، عاشورے کی چھٹیاں بھی انہیں ہمارے ساتھ ہوں، دیگر قومی تعطیلات میں بھی وہ ہمارے ساتھ ہوں لیکن ان کے تیوہار وہ اکیلے منائیں اور ہمیں خبر تک نہ ہو تو یہ کیا بات ہوئی؟ بھئی اگر وزیر اعظم کہتے ہیں کہ مجھ پر بھی ہولی کے رنگ پھینکیں تو صاحب چھٹی تو دیں کم ازکم پوری قوم کو، پھر ہولی بھی اکٹھے منائیں گے، اور آج کی بات نہیں سینتالیس سے پہلے بھی مناتے تھے۔ آپ میں سے کتنوں کے علم میں ہوتا ہے جب مسیحی بھائیوں کے روزے چل رہے ہوتے ہیں؟ پھر ایسٹر آتا ہے، کیا آپ کو معلوم ہوتا ہے؟ کتنے دوست ہیں جو ولیم، جوزف یا سلویسٹر کو ایسٹر کی مبارک باد دیتے ہیں؟ دیکھیے اگر ایک چھٹی آپ کو ایک تیوہار یاد دلاتی ہے تو یہ کوئی مہنگا سودا نہیں۔ انہیں بھی محسوس کروائیے کہ وہ آپ کے ملک میں باوقار شہری کی حیثیت سے رہتے ہیں۔ ویسے گمان غالب ہے کہ یہ آدھی چھٹی پوری چھٹی میں بدل ہی جائے گی۔

اب اگر مولانا عبدالعزیز، اورنج لائن، چوہدری نثار، پی آئی اے، رانا ثناءاللہ اور اس قسم کے دوسرے معاملات کا ذکر کریں تو ایک بوجھ ہے جو شریف برادران کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ تجارت اور دائیں بازو کی سیاست کے آمیزے سے جان چھڑانا یک لخت ممکن نہ بھی ہو، امکانات روشن ہیں۔ کم از کم سینٹرل لیفٹ کا ووٹ بینک اب ڈانواں ڈول نظر آتا ہے۔ روایت پسندی کا جمود توڑنا اور حرکت میں نظر آنا قابل تحسین ہے۔ جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے میں بھی آنکھ رکھنے والوں کو نشانیاں نظر آتی ہیں۔ وہ جو ہمارے صحافی بھائی کہتے تھے کہ نواز شریف جلاوطنی کے عہد میں بہت کچھ نیا سیکھ کر آئے ہیں وہ اب کچھ سچ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ غیر ضروری طور پر منتقم ہونا موجودہ حالات میں بے شک جمہوری عمل کے خلاف جاتا ہے اور اگر جنرل مشرف بہ غرض علاج وطن چھوڑنے پر آمادہ ہوتے ہیں تو اس میں عین فلاح ہے۔

ضروری بات: اگر کوئی محترم بھائی جنرل مشرف والی رائے سے اختلاف رکھتے ہیں تو ازراہ کرم ای سی ایل پر عدالتی کارروائی کی تفصیل دیکھئے جو آج ہی کی خبروں میں شامل ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 145 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “ایسٹر، ہولی، دیوالی، مشرف اور چھٹی

  • 18-03-2016 at 12:21 am
    Permalink

    صاحب یہ قربِ قیامت کے آثار ہیں کہ خروجِ دجال کی علامات۔ ظلم کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، حکومتِ وقت نے دل لگی کے خاطر پرانی شراب کو نئی صراحی کیا دی یہ دیسی لبرل گدھ ہماری طرزِ معاشرت کے لاگو ہوگئے۔ ہماری کمزوری دیکھیں کہ جہاں کہیں ہماری اقدار کا کوئی ستون کمری ہوا یہ مردار خور فورا” اپنے چونچیں تیز کرنے لگتے ہیں۔ کوئی ہے جو ان لگڑ بھگوں کو مملکتِ خداداد سے مار بھگائے۔
    علی بابا

Comments are closed.