بھٹو صاحب سے چند ملاقاتیں اور دیگر یادیں


ذوالفقار علی بھٹو کو میں نے پہلی مرتبہ لیاقت باغ میں دیکھا جہاں وہ جنرل ایوب خان کابینہ کے وزیر قدرتی وسائل کے طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ مجھے انہوں نے بہت متاثر کیا۔ بھٹو صاحب سے میری دوسری ملاقات ان کے آفس میں ہوئی جہاں میں نے انہیں بتایا کہ پاکستان ٹائمز کے سینئر رپورٹر سید سلامت علی شاہ کوگرفتار کرلیا گیا ہے۔ بھٹو صاحب نے پوچھا ’’کس جرم میں؟‘‘ میں نے بتایا ’’اپنی خبر میں سرکاری رازوں، آفیشل سیکرٹ کو پبلک کرنے کے جرم میں۔‘‘بھٹوصاحب نے پوچھا ’’انہوں نے کون سا راز افشا کیا ہے؟‘‘میں نے بتایا کہ ’’کسی کو سرکاری ملازمت دینے سے پہلے ان کی حساس اداروں سے منظوری حاصل کی جائے گی۔‘‘ بھٹو صاحب نے کہا ’’یہ خبر دینا تو رپورٹر کا فرض منصبی تھا۔ بہرحال اخبار نویس حضرات پریشان نہ ہوں مسٹر سلامت کو کچھ نہیں ہو گا۔‘‘

اگلے روز پولیس میرے گھر پر آئی اور بتایا کہ رپورٹ ہے کہ جب سید سلامت علی شاہ یہ خبر چوری کرنے کے لئے سید عابد علی شاہ کے دفتر میں گئے تو آپ بھی ان کے ساتھ تھے۔ چنانچہ اس سلسلے میں آپ کو کل مجسٹریٹ درجہ اول جعفری سعد کی عدالت میں پیش ہوکر اپنی بے گناہی کا ثبوت دینا پڑے گا۔ دوسرے دن میں جعفری صاحب کی عدالت میں پیش ہوا توجعفری صاحب نے فرمایا ’’آپ کو بے گناہی کا ثبوت پیش کرنے کی زحمت نہیں ہونی چاہئے۔ تفصیل معلوم کرنی ہے تومیری عدالت کے پرائیویٹ روم میں آ جائیں۔‘‘ وہاں گیا تو جعفری صاحب نے مجھے ایک رپورٹ دکھائی اور کہا کہ ’’آپ کو منیر احمد قریشی ولد محمد امین بھٹی لکھا گیا ہے۔ اگر خدانخواستہ اس رپورٹ میں کوئی حقیقت ہے تو پولیس والوں کو آپ کا نام مع ولدیت کیسے پتہ چلا۔ اس پولیس رپورٹ پر میں آپ کے خلاف مقدمے کوداخل دفتر کر رہا ہوں۔ آپ جائیں اور آرام کریں۔‘‘ اس کے باوجود پولیس کے اعلیٰ افسران نے میری تفتیش کو جاری رکھا، ان کے سامنےمیں نے ثبوت پیش کیا ۔پی آئی اے کے ٹکٹ دکھائے اورکہا ’’جن دنوں سید سلامت علی شاہ نے مبینہ طور پر یہ راز چرایا میں ڈھاکہ میں تھا۔‘‘اعلیٰ پولیس افسر نے کہا ’’تم سلامت علی شاہ کو جیل سے باعزت طور پر رہا کرانا چاہتے ہو تو یہ ثبوت کسی کے سامنے بھی پیش نہ کرنا اور مجھے تفتیش سے فارغ کر دیا گیا۔ اگلےروز سید سلامت علی شاہ غالباً بھٹو صاحب کی مداخلت سے جیل سے رہا ہوگئے۔

اردو کے مشہور شاعر تیغ الہ آبادی جو اپنے نئے نام مصطفیٰ زیدی کے طور پر مری کے مجسٹریٹ انچارج تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک مشہور آئل کمپنی کے منیجر سڑک پر غلط طریقے سے گاڑی چلا رہے تھے کہ میں نے انہیں ٹوکا تو انہوں نے کہا ’’اس ملک میں ہر شخص کی کوئی نہ کوئی قیمت ہے۔ تم بتائو کہ کتنے پیسے چاہتے ہو؟ مجھے بہت زیادہ طیش آ گیا اور میں نے انگریز منیجر کو ایک گھوڑے والے کی چابک سے معلوم نہیں کتنی دیر تک مارا۔ انگریز منیجر نے گورنر پنجاب سے رپورٹ کرنی ہے جو میری ملازمت کے لئے مخدوش ہوجائے گی۔ بھٹو صاحب نے کہا اپنے دوست سے کہو کہ وہ مری سے چھٹی لے کر لاہور چلا جائے۔ باقی میں سنبھال لوںگا۔ مصطفیٰ زیدی نے اسی مشورے پرعمل کیا اور ان کی ملازمت بچ گئی۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ آئل کمپنی کے انگریز منیجر کو مصطفیٰ زیدی نے چابک نہیں مارے ذوالفقار علی بھٹو نے مارے ہیں۔ کسی کے ملک کو گالی دینا سب سے بڑا جرم ہے۔ بھٹو صاحب کے وزیرخارجہ بننے سے پہلے یہ میری ان سے تیسری ملاقات تھی۔

سلامت علی شاہ نے سرکاری رازوں کو افشا کرنے کے مقدمے سے نجات حاصل کی تو کچھ دنوں بعد کسی بیرونی اخبار نے جس کا کوئی کارکن پاکستان میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کی سرگرمیوں سے بہت تنگ آیا ہوا تھا اپنی خبر میں ضیاء الحق کو ایک انتہائی ذلیل گالی سے منسوب کیا۔ یہ خبر ترجمے کے ساتھ بعض پاکستانی اخباروں میں بھی چھپی۔ اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان نے اخبار کے مدیر سے  پوچھا کہ یہ نازیبا الفاظ آپ نے کیوں چھاپے؟ حامد میر نے کہا کہ ہم نے ملک سے باہر چھپنے والی خبر کا ترجمہ کیا ہے۔ ان دنوں کسی نے مجھ سے پوچھا کہ اگر یہ خبر چھاپنے والے بیرونی اخبار کے کارکن کے خلاف مقدمہ بنانے کا سبب بنی تو مقدمہ کیا ہو گا؟ میں نے کہا ’’سرکاری راز افشا کرنے کا مقدمہ‘‘۔ ضیاالحق حکومت نے اس واردات پر مقدمہ قائم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ خوامخواہ مزید بدنامی ہو گی۔

اس واقعہ کے کچھ عرصے بعد آغا مرتضیٰ پویا نے ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے مقابلے میں انگریزی اخبار ’’دی مسلم‘‘ شائع کرنا شروع کیا۔ دی مسلم ایک خوبصورت اخبار کے طور پر خاصا مشہور ہوا بلکہ پاکستان ٹائمز کی سیلز کو متاثر کرنے کا سبب بھی بنا۔ پنجاب کے صوبائی وزیر خزانہ میاں محمد نواز شریف انڈیا کے دورے پر گئے تو واپسی پر بتایا کہ ہندوستان میں مسلمان سڑکوں کے فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں۔ میں نے اپنے کالم میں لکھا کہ ہندوستان میں تو بے گھر لوگوں کی اکثریت فٹ پاتھوں پر سوتی ہے۔ میاں صاحب ان کے اتنے قریب کیوں چلے گئے کہ انہیں سب کے مسلمان ہونے کا پتا چلا۔ اگلے روز میرے چیف ایڈیٹر میر خلیل الرحمٰن کا فون آیا کہ منو بھائی تم نے کیا لکھ دیا کہ میاں نواز شریف کو شکایت کا موقع ملا۔ میں نے کہا جی کوئی خاص بات نہیں لکھی۔ میر صاحب (مرحوم) نے کہا پڑھ کے سنائو۔ میرے پڑھنے کے بعد وہ ہنسے اور کہا ’’اقتدار میں آئے ہوئے لوگوں کو ایسی باتیں پڑھنے کا موقع مت دو‘‘۔ مجھے میاں نواز شریف کی شکایت کا بہت افسوس ہوا۔ اگلے روز میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ ’’ہم گھاس کھا لیں گے، مگر سر نہیں جھکائیں گے۔‘‘ میں نے لکھا ’’میاں صاحب! گھاس کھانے کے لئے بھی سر جھکانا پڑتا ہے، آپ گھاس کھانے کے لئے کونسا طریقہ اپنائیں گے، کہ جس میں سر جھکانا نہ پڑے‘‘۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں