عامر لیاقت حسین، خدا کو اونگھ نہیں آتی


عوام کی ذہنی سطح کا اندازہ لگانا ہو تو سروے سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ عوام کی اکثریت کس قسم کے ٹی وی پروگرام دیکھتی ہے، انٹر ٹینمنٹ چینلز وہ ون لائنر قبول کرتے ہیں جن میں عوامی زندگی کے سطحی پہلوؤں کو اجا گر کیا گیا ہو، اب بے چارے غریب عوام خود جس جبر اور کرب سے گزرتے ہیں ۔ انہیں لگتا ہے کہ یہی زندگی ہے اور وہ زندگی جسے وہ ڈراموں کی صورت میں اسکرین پر دیکھتے ہیں اپنی زندگی کی ترجمان لگتی ہے لہٰذا ایسے ڈراموں کا ریٹنگ اسکیل بلند ہو تا ہے، ہمارے کچھ نیوز چینلز کو تجرباتی بنیادوں پر اس سوچ کو تقویت ملی کہ لڑائی جھگڑے، ایک دوسرے کو گالیاں دینے، ذلیل کرنے اور شور مچانے سے ٹیلی ویژن دیکھنے والا وقفے میں بھی ریموٹ نہیں اٹھاتا مبادا کوئی گالی سننے سے محروم رہ جائے۔

پارٹی بدلنے والے سیاستدانوں کے لیے لوٹا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور یہ جو برساتی اینکر ہیں، کیا ان کے لیے بھی کوئی لفظ ایجاد ہوا ہے۔ آج یہ کسی چینل کی اسکرین پر نمودار ہیں تو کل کہیں اور سے طلوع ہوں گے، گویا بقول اقبالؔ یہ صورتِ خورشید ہیں ’’ ادھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے ‘‘

کل عامر لیاقت کے حوالے سے وجاہت مسعود اور عدنان خان کاکڑ کے دو آرٹیکل پڑھے، اور موصوف کی ویڈیو دیکھی جس میں وہ ڈھٹائی سے وہ اپنے سابقہ چینل کے کچا چٹھا کھولنے کو تیار نظر آتے ہیں۔ کل ہی کسی کی مزے دار پوسٹ پڑھی ’’ عامر لیاقت کے کسی چینل کو جوائن کرنے سے ڈر نہیں لگتا صاحب، اس کے چھوڑنے سے ڈر لگتا ہے ‘‘

ہم سوچتے تھے کہ عوام کا ایک پڑھا لکھا با شعور طبقہ اس جہادی اور اجتہادی کو کیوں ناپسند کرتا ہے جب کہ وہ تمام کام اللہ کی رضا اور اسے خوش کرنے کے لیے کرتے ہیں ہو سکتا ہے جو لوگ انہیں ناپسند کرتے ہوں ان کا ان سے کوئی ذاتی عناد ہو ورنہ اتنے معزز عالمِ دین، نعت خوان، گلو کار، اینٹر ٹینر، مقرر، سیاست دان، مصنف، صحافی جو ہر خاص و عام میں مقبول ہو اسے ناپسند کرنے کی وجہ ہونی نہیں چاہیے۔ اور ہم نے دیکھا بھی کہ بلا شبہ وہ عورتوں بچوں بوڑھوں اور جوانوں کے پسندیدہ اینکر ہیں۔ جس چینل کو وہ داغِ مفارقت دے کر جانے کی بات کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کا نمبر ون چینل ہے اور موصوف اس کے نمبر ون اینکر تھے۔ موصوف بزعمِ خود ٹرینڈ سیٹر بھی ہیں ان کا کہنا تھا کہ وہ جو ٹرینڈ سیٹ کرتے ہیں وہ عوام میں بے پنا ہ مقبول ہو جا تا ہے۔ اس میں کو ئی شک نہیں ان کا سیٹ کیا ہوا ایک ایک ٹرینڈ مقبول ہوا مثلاً کسی چینل سے جاتے وقت اندر کی خبریں بھی لے جائیں اور اس کے مخالف چینل کو جوائن کرنے کے بعد ناظرین کے علم میں اضافہ کریں کہ اس چینل میں کیا کیا ہو تا تھا، ایک اور ٹرینڈ سیٹ کیا گیا وہ یہ کہ آپ کسی کی کتنی بھی دل آزاری کریں لیکن ا حتجاج کی صورت میں فوراًمعافی مانگ لیں۔

انہوں نے ٹرینڈ سیٹ کیا کہ اگر بندے کی دل آزاری ہو تو بھی اس سے معافی مانگنے کے بجا ئے اللہ سے معافی مانگو یا ہو سکتا ہے وہ سمجھتے ہوں کہ بندہ انہیں معاف نہیں کرے گا اگر کوئی کر سکتا ہے تو اللہ کی ذات یا پھر وہ چینلز جن کا منشور دھندے کو آگے بڑھا نا ہے۔ اسی لیے اپنے پروگرام کے اختتام پر ہمیشہ یہ ہی دعا کرتے ہیں کہ اگر ان سے کوئی غلطی یا سہو ہو گیا ہو تو وہ اللہ کے حضور معافی کے خواستگار ہیں۔

آپ کو اپنی چرب زبانی اور مکاری پر پورا بھروسہ ہے کہ جب آپ معافی مانگیں گے اگلا آپ کے لیے بانہیں اور چینل کے دروازے کھول دے گا، یقین ہے کہ جعلی ڈگری چینل سے فارغ ہونے کے بعد انہیں اصلی سونا والے ضرور آفر کریں گے کیوں کہ مخالف چینل کا ریٹنگ اسکیل گرانے کے لیے جو اینکر جتنا زیادہ گر سکتا ہے اسی کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے، کہا جاتا ہے جیسے عوام ویسے حکمران، لیکن اب عوام کی اکثریت نے ایسے پروگرام کا ریٹنگ اسکیل بڑھا کر بتا دیا کہ جیسے عوام ویسے اینکرز۔

کاہل لوگ جو خود کسی کتاب کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا سکتے انہیں لگتا تھا موصوف کے ذریعے انہیں ایمان افروز باتیں ملا کرتی ہیں۔ پھر موصوف نے اپنی معلومات کا دائرہ اور وسیع کیا اور شعر و ادب، فلسفہ، تاریخ پر بھی ہاتھ کی صفائی دکھانے لگے۔ جس کی بنا پر انہیں پسند کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

جب انہوں نے بول جوائن کیا تب انہوں نے ایک مخصوص ذہنیت کے لوگوں کو اپنا گرویدہ کر لیا، وہ خواتین و حضرات جو سوپ ڈراموں کے شوقین ہو تے ہیں انہوں نے اب اپنے ٹی وی دیکھنے کے اوقات میں رات بارہ بجے تک کا اضافہ کر دیا۔ ، قسمیں کھانا، حتیٰ کہ اپنے ہی پیشے کے حامل افراد کے نام رکھنا، بلکہ بعض اوقات پھبتی اڑانے کے لیے عوام کے مقبول لیڈر کو بھی نا م دے دیا گیا، ہم کسی بھی شخص سے کتنی بھی نفرت کریں لیکن محض کسی کا مذاق اڑانے کے لیے اس کے نام رکھنا انتہائی تہذیب سے گری ہوئی حرکت ہے۔ قرآن کے اس واضح حکم کے باوجود کہ لوگوں کے نام مت رکھو اور نہ ہی ان کے نام بگاڑو۔ وہ عالمِ دین کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ وہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ قرآن مجید کے اس حکم کی عدولی ان سے کیوں ہوئی اور یہ کہ کن عوامل کی بنا پر شر پھیلانا جائز ہے۔

ایک اور حرکت جو موصوف کے شایانِ شان نہیں کہ وہ بڑے جامع اور مدلل انداز سے اپنے ناظرین کو بتاتے ہیں کہ کس کا ایمان کتنا مضبوط ہے اور کون دائرہ اسلام سے خارج ہو چکا ہے اور کس نے اپنے الفاظ سے توہین رسالت کا ارتکاب کیا ہے، موصوف پاکستان سے محبت کے دعوے دار تو ہیں لیکن انہیں یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ کسی کو بھی غدارِ وطن ٹھہرا کر اس کا ملک میں ناطقہ بند کر دیں۔ ہمارے ہاں اللہ رسول سے بات شروع کرنے اور ختم کرنے والوں کی بڑی عزت کی جاتی ہے کیوں کہ ہمیں خود مطالعہ کرنے کی عادت ہے نا فرصت، اب اگر کوئی اور قرآن اور حدیث کے حوالے دے کر ہمیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے تو ہم راستہ چاہیں بدلیں نہ بدلیں لیکن اس شخص کی اطاعت کرنے میں جنت ہمیں سامنے نظر آتی ہے۔ اب انہیں معلومات کے نام پر جو کچھ ملا، وہ تہلکہ خیزانکشافات کی صورت میں تھا، سوپ ڈراموں سے یہ انکشافات بہت بڑھ کر تھے ان میں سسپنس پیدا کرنے کے لیے جو میوزک چلایا جا تا ہے، اس کی جگہ خدا کو حاضر و ناظر جاننے کا اقرار کر کے اپنے انکشاف میں وزن پیدا کیا جاتا۔

اب کون مسلمان ہے جو خدا کو حاضرو ناظر جان کر بات کرنے والے کی بات پر یقین نہیں کرے گا، ہاں البتہ ہم جیسے کمزور ایمان کے کچھ لوگ تھے جو دعا کرتے تھے کہ خدا اس اینکر اور اس چینل کے شر سے لوگوں کو محفوظ رکھے لیکن سب جانتے ہیں کہ کتنے ہی گھرانے اس کی لغو گوئی کے ہاتھوں اذیت کا شکار ہوئے، اس شخص نے خدا کو حاضر و ناظر جان کر لوگوں کو اس حد تک اشتعال دلایا لوگ نظریاتی اختلاف کی بنیادوں پر جان لینے کے درپے ہوگئے۔ اگرکوئی شخص بات کرنے سے پہلے اس بات کو باور کرا دے کہ وہ جو بات کر رہا ہے خدا کو حاضر و ناظر جان کر، کر رہا ہے تو کون کا فر ہے جو غدارِ وطن اور تو ہینِ رسالت کے مرتکب سے نفرت نہ کرے۔ موصوف واحد اینکر ہیں جن کی بد کلامی کا خیال کر کے دبنگ سے دبنگ اینکر بھی ہار مان لیا کرتے تھے۔ اب جو ان کی ویڈیو سامنے آئی ہے، اسے دیکھ کر ایک آیت ذہن میں بار بار آرہی ہے کہ خدا کو اونگھ نہیں آتی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔