میں اتنا بڑا کب ہوں گا کہ گالیاں دے سکوں؟


اچانک سے محلے میں ایک تبدیلی رونما ہو گئی تھی۔ ہر روز شام کو کچھ عورتیں ایک مکان میں اکٹھی ہو کر کچھ پڑھتی جاتیں اور سینہ کوبی کرتی جاتیں۔ ایک شام میں اور میرا چھوٹا بھائی اُس مکان کی دہلیز پے کھڑ ے یہ منظر دیکھ رھے تھے کہ اُس سے ضبط نہ ہوا اور وہ دہلیز پھلانگ، عورتوں کی قطار میں شامل ہو کر سینا کوبی کرنے لگا۔ میں بھاگا اپنے گھر کی جانب اور اماں کو سارا احوال سنایا۔ اماں بولی اس کو فوراً گھر لے کر آؤ۔

گھر آتے ہی اماں نے صبح خود کو پڑنے والی درجن بھر گالیوں میں سے ایک آدھ، تانیث کو سلجھائے بغیر، اس کو رسید کر دی۔ کچھ دیر بعد اُسی مکان سے خالہ زینب کھیر کی پلیٹ تھامے اماں کے پاس آئی تو میں سمجھ گیا آج امام حسین کی نیاز میں کھیر آئی ہے۔ اماں اور خالہ زینب کی خوش گپیاں ختم ہوتیں تو ہمیں کھیر نصیب ہوتی۔ رات ابا نے کھیر کھاتے ہوئے سحتی سے تنبیہہ کی کہ آئندہ ہم میں سے کوئی خالہ زینب کے مکان کے پاس بھی نہ پھٹکے۔ اور پھر اماں کی باری تھی گالیاں کھانے کی۔ اماں گالیاں کھا کر کام میں لگ گئی۔

اماں نے مجھے کہہ رکھا تھا کہ صرف بڑ ے گالیاں دے سکتے ہیں۔ چھوٹے کیوں نہیں دے سکتے؟ اس کا جواب کوئی نہیں دیتا تھا خیر اس اُلجھن سے بچنے لیے دن میں نکی کے کھوکھے سے جیب خرچ کی اٹھنی میں خریدی عمرو عیار اور دیو کی کہانی باہر گلی میں لگے بلب کی اُس روشنی میں پڑھنے لگا جو آدھ کھلی کھڑکی سے چھن کر میری چارپائی کی پائنتی تک آتی تھی۔

پھر یوں ہوا کہ سیپارے والی مامی والے ماموں کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھنے مسجدِ گئے تو وہاں اُن کے دو دوست بھی تھے سبز پگڑیوں والے۔ اُن سے ہم دونوں بھائیوں کے لیے بھی پگڑی کی بات کی گئی۔ انہوں نے ماموں کو مبارک دی کہ اتنی چھوٹی عمر میں اُنکے طفیل ہم عاشقان رسول میں شامل ہو رہے تھے۔ ساتھ ساتھ ہمیں یہ بتایا گیا کہ پگڑی باندھ لینے کے بعد نماز چھوڑنے کی کسی صورت بھی اجازت نہیں ہوگی۔ ویسے بھی نماز فرض ہے مگر پگڑی کے بعد تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

مگر پگڑی آنے سے پہلے ہی ہمارا محلہ بدل گیا کہ بچوں کی صحیح تربیت کے لئے ایسے محلے میں رہنا ٹھیک نہیں تھا۔ نئے محلے کی نکڑ والے لوگ بہت اچھے تھے۔ فریحہ باجی تو بہت اچھی تھیں بسنت آئی تو ان کی چھت پر سب بھائی اور دوست اکٹھے ہوئے۔ فریحہ باجی نے سینڈوچ بنائے تھے اور پتنگ اڑانے والے کو اپنے ہاتھ سے کھلا رہی تھیں۔ وہ اپنی بڑی باجی سے کتنی مختلف تھی۔ ویسے بھی بڑی باجی ٹھیک نہیں تھی۔ شام کو دفتر کی گاڑی میں واپس آنے کی بجائے کالے چشموں والے باس کے ساتھ کالے شیشوں والی گاڑی میں آتی تھی۔ پھر ہمارا اُن کے گھر جانا بند کر دیا گیا کہ ابا نے اُن کے گھر ڈرائنگ روم میں دیوار سے ٹنگی کچھ ایسی تصاویر دیکھ لیں تھی جو کہ کافروں کے گھروں میں ہوتی ہیں۔ اور یہ تو کافروں سے بھی بدتر تھے، واجب القتل تھے، مرتد کہیں کے۔ (کاش فریحہ باجی ایسی نا ہوتیں) ابا کو اب سمجھ آئی کہ ان لوگوں نے ڈش کیوں لگوا رکھی تھی۔ خیر جو بھی تھا بسنت تو اب دور کی بات روز شام کو ٹام اینڈ جیری دیکھنے کی سہولت سے بھی گئے۔ کبھی اماں سے ملنے اُن میں سے کوئی آ جاتا تو گالیوں کا کوٹہ تین گنا ہو جاتا۔ میں ابھی بھی اتنا بڑا نہیں ہوا تھا کسی کو گالی دے سکوں۔

فریحہ باجی کی شادی ہو گئی۔ سنا تھا کہ کسی مسلمان سے ہوئی تھی۔ خیر محلہ میں اب بچوں نے مل کر شام کو کرکٹ کھیلنا شروع کر دی۔ پھر ربیع الاول کا مہینہ آیا تو پلان کہ کے اب کی بار ہماری گلی میں بھی پہاڑ ی بنے گی۔ سب بچوں نے محلے سے چندہ جمع کیا۔ کسی نے دس روپے دیے تو کسی نے بیس۔ نکڑ والے مکان سے بھی سعید بیس روپے لے آیا۔ محلے میں ایک گھر زیرِ تعمیر تھا وہاں سے کسی مزدور کا بیلچہ لیا اور گراؤنڈ سے مٹّی کھود لائے۔ پچھلی گلی میں جو ترکھان تھا اُس سے بورا بھی لے آئے کہ رنگ بنانے کے لیے وہ ایک لازمی جزو تھا۔ کھلونوں کی دکان سے طرح طرح کے کھلونے جس میں دو رنگ کے فوجیوں کا سیٹ اور ٹرین اپنی پٹری سمیت نمایاں تھے۔ آبشار کے لیے ٹوٹے شیشے کا بندوبست کر ہی رہے تھے کے سعید دوڑا دوڑا آیا اور بولا کہ قاری عابد صاحب نے بتایا ہے کہ پہاڑی بنانا جائز نہیں ہے، حرام ہے۔ قاری عابد وہی تھے جو دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں فجر کے بعد قرآن پڑھاتے تھے۔ہم بھائیوں سے  بھی کہہ چکے تھےکہ تم لوگوں نے عورت سے قرآن پڑھا ہے اور وہ ٹھیک سے نہیں پڑھا لہٰذا دوبارہ سے پڑھیں۔

بہر کیف ہم دو تین ”سیانے“ بچے سعید کے ہمراہ قاری صاحب کے پاس پہُںچ گئے۔ انہوں نے ہمیں بھی یہی بتایا کہ پہاڑ ی بنانا حرام ہے، سراسر گناہ ہے، بدعت ہے۔ لاکھ التجا کی کہ جناب اب تو سب کچھ ہو چکا مٹّی کھد چکی، رنگ مل چکا، سرکار کوئی گنجائش نکال لیں مگر ایسا ممکن ہی نہ تھا۔ ٹوٹا شیشہ تو کیا ڈھونڈتے ٹوٹے دل سے واپس آ گئے۔ خیر فیصلہ یہی ہوا کہ اب کی بار بنا لیتے ہیں اگلی دفعہ سے نہیں کریں گے یہ بدعت۔ سعید مگر نہ مانا اور گھر چلا گیا۔ پہاڑی تو بن گئی مگر دل بھاری ہی رہا سارا دن۔ قاری عابد کو پتہ چلا تو انہوں نے تو کچھ نہ کہا مگر قاری ادریس نے خوب گالیاں دی کہ ایسا کام جان بوجھ کر کرنا گناہِ کبیرہ تھا۔

کچھ وقت اور گزرا تو دارالعلوم میں ٹھیک سے سیپارہ بھی پڑھنا شروع کر دیا پھر پتہ چلا یہ کھیر کی نیاز والے بھی مسلمان نہیں ہوتے۔ یہ سن کر تو کان ہی لال ہو گئے۔ میرا ایک بہت قریبی دوست اب کافر ہو گیا تھا۔ فریحہ باجی تک تو بات ٹھیک تھی مگر اب اس دوست کو کیسے چھوڑیں؟ غور کرنے پہ پتہ چلا کہ دارالعلوم کے بّیت الخلا میں جو خطاطی کہ فن پارے ہیں وہ میرے دوست کے بارے میں ننگی گالیاں ہیں۔ بہت دل برا ہوا، ایک اور گناہ سرزد ہو چکا تھا۔ مگر صاحب دل کو اچھا لگتا دوست کیسے چھوڑتے؟ پھر قاری صاحب سے رجوع کیا اب کی بار بات کو ذرا گول کر پوچھا کہ جناب واقعی اس طرح کے لوگ مسلمان نہیں ہوتے؟ جواب ملا بالکل نہیں ہوتے۔ کیوں نہیں ہوتے؟ کیونکہ یہ ہمارے بڑوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ (مگر میرا دوست تو کسی کو گالی نہ دیتا تھا). پوچھا جناب اگر کوئی گالی نہ دیتا ہو تو کیا اُسکی گنجائش نکل سکتی ہے؟ جواب ملا کہ یہ سب کے سامنے تھوڑے ہی دیتے ہیں گالیاں، دل میں دیتے ہیں، چھپ کے دیتے ہیں۔

صاحب دل تو جیسے بیٹھ ہی گیا، اب اسکول میں سیکشن ب کو آدھی چھٹی میں فرزبی یا کرکٹ کے میچ کیسے ہرا سکتے ہیں کہ وہ دوست ہماری ٹیم کا مرکزی پلیئر ہے۔ ابھی اس بارے کوئی فیصلہ کر نہیں پائے تھے کہ وہی دوست صاحب شلجم گوشت کی نیاز لے کر گھر آ دھمکے۔ اماں کو یہ نیاز تو بہت پسند تھی اور دوست کی اماں نے بھی خاص طور پے اسی لیے بھیجا تھا کہ نیاز میرے گھر پہنچا کر آئے۔ پھر سب بھول بھال ہم گلی میں کرکٹ کھیلنے لگ گئے۔ شام کو گھر سے گالیوں کی آوازیں باہر آنے لگی۔ شلجم گوشت کی بڑی بوٹی کھانے کے بعد ایک بڑا حکم جاری ہوا آئندہ اُس سے تعلق ختم کر دیا جائے۔ ابا عشا پڑھنے گئے تو اماں نے سمجھایا کہ دوستی بیشک رکھ مگر اس کو گھر آنے سے منع کر دے۔ ورنہ تیرے ساتھ مجھے بھی گالیاں پڑتی رہیں گی۔ مگر اماں نے یہ نہیں بتایا میں اتنا بڑا کب ہوں گا کہ گالیاں دے سکوں۔

سوچتا ہوں جب اتنا بڑا ہو جاؤں گا تو اپنے بیوی بچوں کو خوب گالیاں دوں گا، پھر اور بڑا ہو جاؤں گا تو شمال کی جانب جاؤں گا اور کنٹینر پے کھڑا ہو کر سب چوروں اور ڈاکوؤں کو اُن کے گھر کے سامنے گالیاں دوں گا۔ اور اگر کنٹینر سے گرِ گیا اور کمر میں چوٹ لگ گئی تو وہیل چیئر پے بیٹھ کر فریحہ باجی کو گالیاں دوں گا، باس کی گاڑی میں آنے والی باجی کو گالیاں دوں گا، کھیر کی پلیٹ اور شلجم گوشت کی بوٹیوں کو گالیاں دوں گا۔ بس آپ لوگ دعا کریں کہ میں اتنا بڑا ہو جاؤں۔ مجھے بہت سی گالیاں دینا ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسد علی کی دیگر تحریریں
اسد علی کی دیگر تحریریں