ضرب عضب اور یہ مٹھی بھر لوگ!


ranaجن کو ہم پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتیں کہتے ہیں پاکستان کے سواداعظم نے کبھی بھی ان کو منتخب نہیں کیا۔ پاکستان کی 69 سالہ سیاسی تاریخ میں یہ عناصر صرف آمروں کی کی گود میں ہی پلے بڑھے ہیں، کبھی نظام مصطفیٰ کے نام پر, کبھی ناموس رسالت کے نام پر, کبھی نفاذ شریعت کے نام پر لوگوں کو ورغلانا اور دین کی آڑ لے کر فسطایت پھیلانا ان کا طرّہ امتیاز رہا ہے، یہ وہ طبقہ ہے جس نے لوگوں کی سادگی اور کم علمی کا ناجایز فایدہ اٹھایا دین کی غلط تشریحات کرکے ہمارے سماج میں انتہا پسندی کا بیج بویا جس نے ہمارے معاشرے سے تحمّل روادری برداشت بھائی چارے کو مفقود کردیا ہے-

اب ہم کسی انسانی اور اسلامی معاشرے کے فرد نہیں ہیں بلکہ ہم لوگ شیعہ، سنی، اہل حدیث، دیوبندی، بریلوی، عیسائی۔ احمدی اور دیگر مذاہب کے مخلوط گروہ کا حصہ ہیں۔ جس میں آپکے وجود کی ضمانت اس بات پر ہے کہ آپ ان کی مذہبی اجارہ داری کو قبول کریں ورنہ کوئی بھی انتہا پسند اور بااثر گروہ یا فرد آپ سے مذہبی اختلافات کی بنا پر آپکو قتل کرسکتا ہے۔ اگر آپ کا تعلّق کسی اقلیت سے ہے تو مرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا پڑے گا، ان مذهبی جنونیوں نے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو محض عقیدے کی بنیاد پر خاک و خون میں ملا دیا، علیٰ انسانی اقدار سے عاری یہ لوگ کونسا دین ہمیں سکھا رہے ہیں، نام نہاد مذہب کے علمبرداروں سے کوئی یہ تو پوچھے کہ آپ نے اس ملک کے لوگوں کو آج تک کیا سکھایا ہے، حضور آپ کی اولین ذمداری تو قوم کی علیٰ اخلاقی تربیت تھی آپ نے لوگوں کو آنحضرت محمّد صلّ اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور سنّت کے بارے کچھ نہیں بتایا، صرف نفرت کی آگ ہی لگائی ہے، آپ نے ہم لوگوں پر اپنے عقیدے ہی نافذ کئے ہیں صرف خون بہانا ہی سکھایا ہے انسانی جانوں کی حرمت اور عظمت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

اسلام پاکستان کے 98 فیصد لوگوں کا مذہب ہے پھر اسلام کو یہاں کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟ خطرہ اسلام کو نہیں، خطرہ آپ کے خود ساختہ نظریات کو ہے۔ آپ کی جبہ و دستار میں چپھی ہوئی سیاست کو ہے، تحفّظ حقوق نسواں کے قانون سے آپ چند مولانا حضرات کیوں سیخ پا ہیں؟ اس میں کون سی شق قران و سنّت کے خلاف ہے؟ یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے۔ خالصتاً انسانی حقوق کا ہے اور اسے اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ منصورہ میں ہونے والے اجتماع ضدین میں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے کسی مسئلے پر آج تک اتحاد کا مظاہرہ نہ کرسکے آپ کسی گاؤں میں یا محلے میں چلے جائیں آپ کو تین چار مساجد مختلف مکتبہ فکر کی مل جایئں گی ہر کوئی دوسرے کو کافر ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے لیکن جہاں ان کی مذہبی اجارہ داری کا مسلہ درپیش ہو، وہاں سب اکھٹے ہوں گے۔ مولانا کوثرنیازی اپنی مشہور تصنیف اور لائن کٹ گئی میں رقم طراز ہیں کہ ایک انتخابی جلسے میں انہوں نے مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا مفتی محمود کو کھلا چیلنج دے دیا کہ اگر شاہ احمد نورانی مفتی محمود کی اقتدا میں نماز پڑھ کر دکھا دیں تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے، ذولفقار علی بھٹو شہید نے جب یہ سنا تو مولانا کوثر نیازی کو سرزنش کی اور فرمایا کہ میری دشمنی میں اگر ان حضرات کو مرزا غلام احمد کی قبر پر بھی جانا پڑا تو یہ چلے جائیں گے۔

اسلام کے ان ٹھیکیداروں کو آج تک توفیق نہیں ہوئی کہ یہ یک زبان ہوکر دہشت گردوں کی مذمّت میں کوئی ریلی، کوئی جلسہ،  منصورہ سے لے کر اکوڑہ خٹک تک کہیں کوئی میٹنگ کرتے، آرمی پبلک اسکول کے سانحے سے لے کر چارسدہ یونیورسٹی کے سانحے تک ان کی زبانیں جیسے کسی نے سلب کرلی ہوں، حقوق نسواں کا قانون خدا ہی بہتر جانتا ہے کیوں اس پر اتنا تماشا بنا رکھا ہے۔ اب یہ ریاست نے فیصلہ کرنا ہے کہ ان مٹھی بھر لوگوں سے آپ نے آزاد ہونا ہے یا نہیں۔  یہاں فیصلے جمہور کی آواز سے ہوں گے یا یہ چند پریشر گروپ کریں گے۔ حکومت پاکستان کو بھی یہ بات ذہن نشیں کرلینی چاہیے کہ ضرب عضب کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس مافیا سے اسلام اور پاکستان دونوں کو آزاد کروایا جائے۔ بقول شورش مرحوم !

منبر و محراب پر بہروپیوں کا غلغلہ

دعوت تذکیر کیا شے ہے، کوئی واقف نہیں


Comments

FB Login Required - comments

رانا امتیاز احمد خان

رانا امتیاز احمد خاں جاپان کے ایک کاروباری ادارے کے متحدہ عرب امارات میں سربراہ ہیں۔ 1985 سے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے جاپان اور کیلے فورنیا میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم بحر پیمائی۔ صحرا نوردی اور کوچہ گردی کی ہنگامہ خیز مصروفیات کے باوجود انہوں نے اردو ادب، شاعری اور موسیقی کے ساتھ تعلق برقرار رکھا ہے۔ انہیں معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور تازہ ترین حالات پر قلم اٹھانا مرغوب ہے

rana-imtiaz-khan has 21 posts and counting.See all posts by rana-imtiaz-khan