میڈیا کریانہ سٹور: بھلے خریدو نہیں، دیکھ تو لو


12278294_10156337253690599_1970941295_n

خبریں والےےے۔۔۔ تازہ خبریں یں

خبریں والےےے۔۔۔ تازہ خبریں یں۔۔۔ خبریں والا ۔۔۔

خریدار: ہاں بھئی۔۔۔ کیا بیچ رہے ہو؟

دکاندار:خبریں ہیں صاحب۔۔۔ ٹی وی کی۔۔۔ گرما گرم

خریدار: اچھا۔۔۔ کیسے دِیں؟

دکاندار:سلاٹس کے حساب سے ہیں، یہ صبح والی 100 روپے فی منٹ سر، دوپہر والی 1500 اوریہ چاندی کے ورق والی شام کی ہیں۔۔۔ 3000 لگائی ہیں یہ

خریدار: اتنا چمک کیوں رہی ہیں یہ بھائی؟

دکاندار: چمکیں گی کیوں نہیں صاحب، بلوم برگ لوور تھرڈز کے ورق چپکائے ہیں، ٹو وِنڈو ہے ہر دانے کی وڈیو میں۔۔۔ بریکنگ ٹکرز سے پالش کی ہے، اور زبان سنئے، کیا مزا ہوگا اچار چٹنی میں جو اِن میں ہے۔ گونجتی رہیں گی رات سونے تک کانوں میں۔۔۔

خریدار: یار تمہیں نہیں لگ رہا کہ اِن کے رنگ آنکھوں کو چُبھ رہے؟

media_advertising_marketingدکاندار: یہی تو خوبی ہے سرکار۔۔۔ بلکہ خوبی بھی کیا بِکری کا فارمولا ہے۔۔۔  خبروں کا رنگ تو قیدیوں کی وردی سا ہونا چائیے۔۔۔ 100 میں بھی ایک منفرد نظر آئے دور سے۔

خریدار: مگر چِھلکوں کی سجاوٹ کا ذائقے پر کیا اثر؟ جو میٹھی ہے وہ میٹھی ہے، جو کڑوی ہے وہ کڑوی۔۔۔

دکاندار: وہ کہاوت تو سنی ہوگی آپ نے، جو دٕکھتا ہے، وہ بِکتا ہے، اب کیا قسم کھاؤں کہ جس کی نظر ریڑھی پر پڑ گئی وہ چند لمحے کے لئے ہی سہی۔۔۔ رُکتا ضرور ہے۔۔ایسا مال تو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے، آپ پہلے آدمی ہیں جو میٹھے کڑوے کے چکر میں پڑے ہیں، لینا ہے تو لیجئے ورنہ آگے بڑھیں

۔۔۔ خبریں والییہ۔۔۔ تازہ خبریں یں۔۔۔ خبریں والییہ

خریدار: بھئی لینا ہے تبھی اتنی بات کر رہا ہوں، شام کا وقت ہے کچھ مناسب کر لو۔۔۔

دکاندار: ہمارے کام میں الٹا چکر ہے سر، ہوگئی شام گِر گئے دام نہیں، ہوگئی شام بڑھ گئے دام !

خریدار: اچھا یہ بتاؤ جب مال بڑھیا ہے تو بیچنے کے لئے چِلاّ کیوں رہے ہو؟ مطلب چیز آدمی کے بچےّ کی طرح بھی فروخت کی جاسکتی ہے۔ یہ ہاتھ لہرا لہرا کر زور زور سے دھاڑنے کا فائدہ؟

دکاندار: لگتا ہے سواری سے اُتر کر مارکیٹ میں آپکا پہلا اِسٹاپ میرا ٹِھیا ہی ہے۔ جناب نظر دوڑائیے اِدھر اُدھر، مال سب کا ایک ہی منڈی سے آتا ہے، لیکن پہلے بیچ کر گھر وہ جاتا ہےجس کی آواز میں دم ہو، لہجہ دوٹوک ہو، جس کی ریڑھی سجی بنی ہو، جس کو جوڑ توڑ آتا ہو

خریدار: جوڑ توڑ مطلب؟

دکاندار: مطلب اِسکیمیں، آفرز، جیسے خبریں سنیئے انعام پائیے۔۔ موبائل سے ہمیں میسج کیجئے، دبئی جائیے۔۔ وڈیو بھیجئے، نام تصویر چلوائیے۔۔ہمارا فیس بک پیج لائیک کیجئے، اور انعامی کوُلر میں ٹھنڈا پیجئے۔۔ایسی اسکیموں کے لئے گاہک کو گھیرا جاتا ہے۔ اسکے لئے چِلاّنا پڑتا ہے، سر میں درد کر دینے والے چھوٹے چھوٹیاں بھرتی کرنے پڑتے ہیں، جن سے دامن چھڑانا مصیبت ہوجائے۔ دماغ کا دہی کا محاورہ سنا ہے آپ نے؟

خریدار: ہنہ۔۔۔ نہیں سنا تو نہیں۔۔۔ لیکن یار خبر تو صرف ایک اطلاع ہوتی ہے، واقعہ بتانا اور سننا ہی تو مقصود ہوتا ہے؟

دکاندار: سرجی ی ی  ی۔۔۔ وہ زمانہ چلا گیا جب خبر صرف اطلاع ہوا کرتی تھی، لوگ سنتے تھے اور اپنے مطلب یا تعلق کی بات نا پا کر ان سُنی کر دیتے تھے، اب خبر پیدا ہونے کے بعد تعلق ہمیں جوڑنا ہوتا ہے، یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ اگر واقعے کی آپ سے وابستگی نہیں تو عمر، قوم، رنگ، نسل، مذہب یا پھر انسانیت ہی کےناتے ہو تو سکتی ہے۔۔یہاں امکانات پیدا کرنے کے پیسے ملتے ہیں، منطق نہیں نکل پاتی تو بے منطق نکالنا پڑتی ہے۔۔ یہ سب لال پیلے پھولدار ڈیزائن، آنکھیں چندھیا دینے والی ٹرانزیشنز، پس پردہ میوزک، گانے، ڈائیلاگز۔۔۔ آپ کو لگتا ہے یہ سب خبر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں؟ خبر تو ننگی ہوتی ہے صاحب، کپڑے تو ہم پہناتے ہیں، اب جو اچھا ڈیزائنر، درزی، اسٹائلسٹ کچھ بھی کہیں۔۔۔ کامیاب ہے،اُسی کا مال سُرخاب ہے

خریدار: خبریں جھوٹی بھی تو ہوتی ہیں، تم ٹھیئے پر گاہکوں کو میٹھا میٹھا ہپ ہپ کرتے دیکھتے ہو گے تو کوئی ایک آدھ کڑوا کڑوا تھو تھو والا بھی تو ٹکراتا ہو گا۔

دکاندار: تھوکتے رہیں، میری بلا سے۔۔۔ پوری ریڑھی کھا کر تھوک دیں، لیکن پیسے چکھنے سے پہلے ہوں گے صاحب۔ ہی ہی ہی

خریدار: اچھا ایک کام کرو۔۔۔ یہ سجاوٹ کا سامان اور میوزک شیوزک ہٹا کر صرف صبح کی سلاٹ میں سے دو کلو اچھی اچھی خبریں تول دو۔۔۔

دکاندار: نہیں سر یہ چھانٹی گلی نہیں ہے۔ ہر سلاٹ میں سے خبریں لینا ہوں گی، دوں گا بھی میں اپنے ہاتھ سے، اور تولوں گا بھی اپنے حساب سے

خریدار: کیوں بھائی، جو میری پسند ہے میں اُسی حساب سے مال لوں گا۔۔تم کون ہوتے ہو یہ بتانے والے کہ مجھے کیا چائیے

دکاندار: حضور میں کون ہوتا ہوں نہیں، کہیئےہم کون ہوتے ہیں۔ اس پوری مارکیٹ میں مال آپ کو وہی ملے گا جو ہم بیچیں گے، اُسی طرح سے ملے گا جو طریقے ہم نے رائج کر رکھے ہیں ۔وقت کا تعین بھی ہم کریں گے کیونکہ ہم اس دھندے کے گاڈ فادر ہیں، یعنی مائی باپ

خریدار: یا ر یہ تو دادا گیری ہے۔۔کوئی ہے بھی تمہیں پوچھنے والا؟

دکاندار: ہاں پوچھتےہیں، سرزنش ہوتی ہے، ڈانٹ پڑتی ہے، پابندی لگتی ہے، ٹھیا اِدھر سے اُدھر ہوتا ہے، لیکن اندھوں میں کانا راجا ہی راہ دِکھاتا ہے۔اب جو بھی ہے یہی ہے

خریدار: اچھا۔۔۔ رہنے دو یار میں اخبار خرید لوں گا۔۔خبریں باسی ہوں گی لیکن پڑھنے اور دسترخوان کے طور پر استعمال کے بعد بھی بچہ جہاز کشتی بنا ہی لیتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “میڈیا کریانہ سٹور: بھلے خریدو نہیں، دیکھ تو لو

  • 18-03-2016 at 1:20 am
    Permalink

    کمال تحریر ہے احسان سبز صاحب ۔ کچھ جملے تو ایسے آئے ہیں کہ جواب نہیں ۔۔ ” خبروں کا رنگ تو قیدیوں کی وردی سا ہونا چائیے۔۔۔ 100 میں بھی ایک منفرد نظر آئے دور سے۔” ۔
    ” یہاں امکانات پیدا کرنے کے پیسے ملتے ہیں، منطق نہیں نکل پاتی تو بے منطق نکالنا پڑتی ہے۔۔ یہ سب لال پیلے پھولدار ڈیزائن، آنکھیں چندھیا دینے والی ٹرانزیشنز، پس پردہ میوزک، گانے، ڈائیلاگز۔۔۔ آپ کو لگتا ہے یہ سب خبر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں؟ خبر تو ننگی ہوتی ہے صاحب، کپڑے تو ہم پہناتے ہیں، اب جو اچھا ڈیزائنر، درزی، اسٹائلسٹ کچھ بھی کہیں۔۔۔ کامیاب ہے،اُسی کا مال سُرخاب ہے”
    بہت عمدگی سے آپ نے اس ہاہاکار کی نشان دہی کی ہے جو سکرین پر کسی لحظہ قرار نہیں پا رہی ۔ بہت سلامت رہئیے، لکھتے رہئیے ۔

  • 18-03-2016 at 4:03 pm
    Permalink

    ارے احسان سبز صاحب. کیا انداز تحریر ہے، کیا جملے ہیں، اور لگتا ہے گھر کے ہی بھیدی ہیں… کسی چینل سے ہی تعلق ہے.

Comments are closed.