کرکٹ ٹیم کی ہیٹ ٹرک کی طرف پیش قدمی


نعیم اقبال

NAEEM IQBAL.انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے شائقین کرکٹ کی اکتاہٹ بھانپتے ہوئے انہیں کم وقت میں زیادہ لطف اندوز کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے ٹی 20ورلڈ کپ کا آغاز کیا ۔ جو دیکھتے ہی دیکھتے ایسا کارگر ثابت ہوا کہ ہر کوئی اس کے بخار میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ یہ مختصر فارمیٹ کی کرکٹ پہلے بھی کھیلی جا رہی تھی خصوصاً ایشیا اور ہمارے گلی محلوں میں۔ اگر یہ کہا جائے کہ ٹی20کرکٹ کا آئیڈیا آئی سی سی نے ہماری گراس روٹ لیول پر کھیلی جانے والی کرکٹ کو دیکھ کر اپنایا ہے تو قطعاً غلط نہ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایشیائی ٹیمیں اس فارمیٹ کی کرکٹ پر چھائی ہوئی ہیں۔ جب 2007ءمیں پہلا ٹی 20ورلڈکپ کا انعقاد کیا گیا تو اس کے فائنل تک رسائی بھی دو ایشیائی ٹیموں نے حاصل کی اور وہ بھی روایتی حریف پاکستان اور بھارت نے۔ پہلا ٹی20ورلڈکپ تو ہم نے جیت ہی لیا تھا لیکن اپنی حماقت کی وجہ سے اسے بھارت کی جھولی میں ڈال دیا۔

 پہلے ٹی20ورلڈکپ کو شائقین کرکٹ میں بھرپور پذیرائی ملی اور جو آئی سی سی کا آئیڈیا تھا کہ کم وقت میں شائقین کو زیادہ سے زیادہ انٹرنین کیا وہ بھی کامیاب رہا۔ اس کے بعد2009ءمیں ٹی20ورلڈکپ انگلینڈ کی میزبانی میں کھیلا گیا۔ اس ورلڈکپ میں بھی ایشیائی ٹیمیں چھائی رہیں ا ور فائنل ایک بار پھر پاکستان نے کھیلا۔ اب کی بار اس کا حریف بھارت نہیں تھا بلکہ وہ تھا سری لنکا۔ لنکن ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے138رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب پاکستانی بلے بازﺅں نے عمدگی سے کیا ا ورفائنل جیت کر پہلی دفعہ ٹی20ورلڈکپ اپنے نام کیا۔ فائنل جیتنے کی وجہ حالیہ ٹی 20کپتان شاہد خان آفریدی تھے جنہوں نے بہترین بیٹنگ کرتے ہوئے54رنز کی نا قابل شکست اننگز کھیلی۔ یہ وہی شاہد آفریدی ہیں جن کے ایک بیان پر ،( جس کو بریکنگ نیوز کے متلاشی میڈیا نے متنازع بنا دیا) ’تعریفوں‘ کے پل باندھتے آج کل ہم تھکتے دکھائی نہیں دے رہے۔

ICC-T20-World-Cup-Schedule-2016-Timetable-Fixtures-Start-Date-Downloadاب آجاتے ہیں2010ءکے ٹی20ورلڈکپ کی جانب۔ جو ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ فائنل میچ دو روایتی حریفوں آسٹریلیااور انگلینڈ کے مابین کھیلا گیا۔ اس مرتبہ قسمت کی روٹھی ہوئی دیوی کو انگلینڈ پر ترس آہی گیا اور پہلا اور اکلوتا ورلڈکپ اس کی جھولی میں ڈال دیا۔ انگلینڈ نے آسٹریلیا کو فائنل میں شکست دے کر دنیائے کرکٹ کو حیران کر ڈالا کیونکہ کرکٹ انگلینڈ کی تاریخ بتلاتی ہے کہ وہ بڑے ٹورنامنٹ میں یا تو بری طرح ہار جاتی ہے یا بد قسمتی آڑے آجاتی ہے۔ 2012ءکا ورلڈکپ سری لنکا میں کھیلا گیا اور فائنل میچ میزبان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلا گیا۔ ویسٹ انڈیز نے138رنز کا ٹارگٹ دیا جبکہ سری لنکنز101پر ڈھیر ہو گئی اور اس طرح ویسٹ انڈیز نے بھی ٹی20ورلڈکپ میں اپنا کھاتہ کھولا۔ جبکہ2014ءکا ورلڈ کپ بنگلہ دیش میں کھیلا گیا۔ فائنل ایک مرتبہ پھر دو ایشیائی ٹیموں بھارت اور سری لنکا کے مابین ہوا۔ سری لنکا نے بھارت کو شکست دے کرٹی20ورلڈکپ کا چیمپئن بنا۔

ٹی20ورلڈکپ کے پانچ ورلڈکپ کا طائرانہ سا جائزہ لینے کے بعد اب آتے ہیں حالیہ ورلڈکپ کی طرف جو اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ بھارت میں جاری ہے۔ ورلڈکپ شرو ع ہونے سے ذرا پہلے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو کوئی بھی کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس سے مطمئن نہ تھا خصوصاً ایشیا ٹی20ورلڈکپ میں جب ہم بنگلہ دیش سے بری طرح ہارے تو یہی زبان زدعام تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ٹیم موجودہ ورلڈکپ میں بھی پٹ جائے گی۔ اس کی وجہ تھی ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی۔ لیکن کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ ٹیم نے بنگلہ دیش کو ابتدائی میچ میںشکست دے کر ایشیا ٹی20ورلڈکپ کا حساب وادھے کے ساتھ برابر کر دیا ہے اور ٹورنامنٹ میں ایسی دھماکے دار انٹری کی کہ ناقدین بھی پاکستانی ٹیم بالخصوص کپتان شاہد آفریدی کی تعریفیں کرنے پر مجبور ہو گئے۔

90143_pakistanliftcupجس طرح2009ءکے فائنل میں سری لنکا کے خلاف آفریدی نے یونس خان کی قیادت میں ٹیم کی ڈوبتی ناﺅ پار لگایا تھا بالکل قوم اسی طرح کی امیدیں ان سے دوبارہ لگائے بیٹھی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے جو دوورلڈکپ جیتے ہیں وہ پٹھان کپتانوں کی ہی مرہون منت ہےں۔ ایک عمران خان جنہوں نے1992ءکے ایک روزہ ورلڈکپ کے ایک مشکل فائنل میچ میں اپنی قائدانہ صلاحیتوںکو بروقت بروئے کار لاتے ہوئے ہمیں یہ ورلڈکپ جتواکر ایک لازوال خوشی دی ا وراوردوسرے یونس خان، جن کی قیادت میں 2009ءمیں ٹی20ورلڈکپ جیتی اور ایک بار پھر قوم ہیٹ ٹرک کے لئے، ایک اور پٹھان یعنی شاہد خان آفریدی سے پھر سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ جس طرح ہماری ٹیم خصوصاً کپتان بر وقت فارم میں آگئے ہیںاور اگر اسی طرح یہ فارم برقرار رہی تو یہ کوئی ایسی امید نہیں بھی نہیں جو پوری نہ ہو سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر ٹیم خدانخواستہ کسی دن اچھا نہ کھیل پائے تو اسی لعن و طعن کرنے کے بجائے سپورٹ کریں کیونکہ برے وقت میں ہی انسان کو زیادہ سپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب ٹیم اچھا کر رہی ہو تونہ چاہتے ہوئے بھی تعریف کرنا ہر کسی کی مجبوری بن جاتی ہے ۔ یہ ٹیم ہماری اپنی ہے۔ یہ بھی انسان ہیں۔ ظاہر ہے انسان سے غلطیاں بھی ہوں گی۔ غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے کا نام ہی زندگی ہے۔ میرے خیال میں ہماری ٹیم نے بھی اپنی غلطیوں سے سیکھا ہے اور اس کی جھلک بنگلہ دیش کے خلاف پوری قوم نے دیکھی۔ اس وقت ٹیم کو آپ کی سپورٹ اور حوصلے کی ضرورت ہے۔ ا پنی ٹیم کا حوصلہ بڑھایے۔ جب آپ ان کو حوصلہ اور سپورٹ دیں گے تو ٹیم پاکستان کی ہیٹرک کی طرف پیش قدمی آسان ہو جائے گی۔


Comments

FB Login Required - comments