میں ڈرتا وڑتا کسی سے نہیں


shanilaیہ جملہ سنتے ہی فضا میں مکے لہراتا ایک ہی شخص ذہن میں آتا ہے. پاکستان کے سابق صدر اور سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف۔ 1999 میں ایک جمہوری ، منتخب حکومت کو ہٹا کر جنرل مشرف اقتدار میں آئے اور دس سال تک بلا شرکت غیرےاقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ اپنی طاقت کے زعم میں اکثر وہ یہ جملہ دہراتے رہتے تھے کہ میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں۔ ۔ لیکن پھر قوم نے دیکھا کہ وکلا کی تحریک کے بعد وہ اتنے کمزور ہوئے کہ ان کو ایک معاہدہ کے ذریعے اس ملک کو چھوڑ کرجاناپڑا۔ لیکن جنرل صاحب اس کے بعد بھی اس گمان میں رہیے کہ وہ اس ملک کہ ایک اہم لیڈر ہے اور قوم ان کو ایک مسیحا کے طور پر دیکھتی ہے اس بےخودی میں وہ  ملک میں واپس چلے اور ان کے ساتھ وہ ہوا جو اس ملک کی روایت نہیں ہے۔

موجودہ حکومت کیونکہ جنرل مشرف کی ڈسی ہوئی تھی اس لئے آتے ہی ان پر مقدمات کی بھرمار کردی گئی اور آرٹیکل 6 کے تحت آئین کو توڑنے اور مارشل لاء لگانے کے جرم میں غداری کا مقدمہ دائر کردیا گیا۔ جنرل مشرف کی طرح موجودہ حکومت بھی شاید اس غلط فہمی میں تھی کہ یہ ملک تبدیل ہوگیا ہے اوراب یہاں پرجمہور اور آئین کا راج ہوگیا ہے۔ لیکن یہ سارا سپنا تب ٹوٹ گیا جب مختلف حیلوں بہانوں سے ان مقدامات میں روڑے اٹکائے جاتے رہے۔ سول ملٹری تعلقات پر روز تجزئیے ہوتے رہے افواہوں کا بازار گرم رہا اور ایک وقت یہ بھی آیا کہ حکومت نے اس مقدمہ میں عدم دلچسپی لینا شروع کردی۔ ای سی ایل میں نام ڈالا گیا جس کو سندھ ہائی کورٹ نے نکال دیا حکومت اس فیصلہ کے خلاف اپیل میں گئی اور سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر مہر تصدیق کرکےگیند حکومت کے کورٹ میں ڈال دی اور حکومت نے بھی کمال فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو ملک سے باہر علاج کے لئے جانے کی اجازت دے دی۔

جنرل مشرف جب اس ملک میں آئے تو کسی ایک دن بھی وہ اپنے خلاف مقدمات کا سامناکرنے کے لئے خود کو تیار نہ کرسکے۔ میں ڈرتاوڑتا کسی سے نہیں کا نعرہ لگانے والا کمانڈو جب بھی مقدمے کےسلسلے میں عدالت جانے کے لئے نکلتے تو راستے سے ہی خرابی طبعیت کی بنائ پر ہسپتال چلے جاتے۔ لوگوں کو مکا دکھا دکھا کر اپنی طاقت کا اظہار کرنے والے اس حکومت جس کو کبھی وہ طاقت کے نشے میں کہتے تھے کہ اب ان کا کوئی مستقبل نہیں اور وہ کبھی پاکستان نہیں آسکتے سے علاج کے نام پر درخواست کرنے لگ گئے ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے اور حکومت کی طرف سے جانے کی اجازت دینے نے ویسے حکومت کو کچھ سکھ کا سانس فراہم کیا ہے کیونکہ یہ وہ ہڈی تھی جو گلے میں پھنس گئی تھی۔ جوش اور ترنگ میں حکومت نے مقدمہ تو قائم کردیا لیکن ان کو اس حقیقت کا اداراک نہیں تھا کہ یہ 1999 والا ہی پاکستان ہے تاریخ صرف کلینڈر پر تبدیل ہوئی ہے۔ سیاسی تاریخ ویسی ہی ہے طاقت کا محور اب بھی وہی ہے، حکومتیں اب بھی اسی کے فرمان سے چلتی ہیں۔ ۔

جنرل مشرف کے اس طرح بغیر ٹرائل کے اس ملک سے چلے جانے نے بہت سے سوالوں کو جنم دے دیا ہے۔ اس فیصلہ نے آنے والے مارشل لاءکا راستے روکنے کی بجائے ان کو مزید  واضح راستہ فراہم کردیا ہے۔ اس نے آنے والے تمام جنرلز کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ ابھی اس ملک میں جمہوریت اتنی بھی پروان نہیں چڑھی کہ وہ آئین توڑنے والوں کو سزا دلاسکے۔ آپ جرم کریں آپ کو سزا مل جائے گی ۔ سیاست دانوں کا احتساب ہوتا رہے گا ان پر الزام لگتا رہے گا لیکن آئین کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے والے عزت واحترام کے ساتھ اس ملک سے جائیں گے۔ وہ شخص جس نے اپنی طاقت کے نشے میں اس ملک کے آئین کو دودفعہ توڑاآج اس نظام پر ہنس رہا ہوگا۔ اکبر بگٹی کا قتل کرنے والا، آج وکلاء کی تحریک چلانے والوں کا تمسخر اڑا رہا ہوگا۔ ملک کو دہشت گردی کی طرف دکھیلنے والا آج کہہ رہا ہوگا آئو جو کرنا ہے کر لو میں کل بھی آزاد تھا آج بھی آزاد ہوں۔  یہ آئین اور قانون بنتے ہی اس لئے ہے کہ ان کو توڑا جائے۔ ویسے جنرل مشرف کی رہائی سے یاد آیا کہ جو اتنے ملزم قید میں ہیں ان کو بھی رہا کردیں  اگر قانون ایک کے لئے نہیں ہے تو سب کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔ ویسے کہیں سنا اور پڑھا تھا کہ قانون سب کے لئے برابر ہوتا ہے۔ آج سنے اور پڑھے پر ہنسی آرہی ہے۔

مسلم لیگ نوز کی حکومت سے گزارش ہے کہ عدالتی حکم کی آڑ میں چھپنے کی بجائے قوم کو اصل حقائق بتا دے۔ قوم کو بتا ہی دے کہ جمہوریت کتنی مجبور ہے۔ بتا دے کہ وہ یہ مقدمہ قائم کر کے کتنا پچھتا رہے تھے۔ بتا  دے کہ پاکستان ابھی بھی تبدیل نہیں ہوا جمہور کی حکومت۔ عوام کا راج ، آذاد عدلیپہ سراب تھا ایک دھوکا تھا ۔ اب حکومت یہ جھوٹ بولنا بھی چھوڑ دے کہ مقدمہ قائم ہے اور جنرل مشرف مقدمات کا واپس آکر سامنا کریں گے۔ جو ایک دفعہ گیا وہ واپس نہ آیا۔ ویسے بھی جب ابھی کچھ نہ کرسکے تو بعد کی کس نے دیکھی ہے۔ اقتدار کی محبت ایک ایسی چیز ہے جو سب اصولوں پر بھاری پرجاتی ہے۔ بہت سے لوگوں کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ یہ فیصلہ کر کے نظام کا بچا لیا۔ ہاں نظام بچ گیا لیکن کس قیمت پر۔ اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ اب حکومت آرام سے 23 مارچ کی پریڈ انجوائے کرے گی اور ایک دفعہ پھر قوم کے نام پیغام دیا جائے گا پاکستان میں جمہوریت پروان چڑھ رہی اور ہم نے مارشل لا کا راستہ روک دیا اور دور کسی ملک میں بیٹھا ہوا جنرل مشرف اس پیغام کے بعد ہنس کر کہے گا، میں ڈرتا وڑتا کسی سے نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “میں ڈرتا وڑتا کسی سے نہیں

  • 18-03-2016 at 11:39 am
    Permalink

    بھٹو صاحب کی بات یاد آرہی ہے
    “ابھی ہم جنگل سے نہیں نکلے۔

Comments are closed.