بولان سے جمنا تک (آخری حصہ)


usman Qazi اردو بازار میں اردو کے نام پر صرف انجمن ترقی اردو ہند کا دفتر اور کتابوں کی دکان ہے۔ ہم بہت اشتیاق سے اس جانب لپکے مگر دفتر بند تھا اور دکان عین ویسا ماحول لیے ہوئے تھی جیسا کہ پاکستان میں مساجد کے باہر مذہبی کتابوں کی دکانیں۔ کتابیں انباروں کی شکل میں جا بجا پڑی ہوئی یا بغیر کسی موضوعاتی یا کسی بھی ترتیب کے، شیلفوں میں ٹھونسی ہوئی۔ ایک آدھ کتاب ہمیں پسند آئی تو ہم نے دکان کے مہتمم صاحب کا پوچھا۔ دکان کے تھڑے پر رکھے ایک سٹول پر براجمان ایک جوان عمر صاحبزادے نے کچھ ایسا جواب دیا کہ قبلہ شاید قیلولہ کرنے گئے ہیں۔ اسی صاحبزادے نے ہم سے قیمت وصول کر کے رسید کاٹی۔ ہم سمجھے کہ شاید یہ اسی ادارے کا اہل کار ہو گا چنانچہ بے ترتیبی کی شکایت بھی کی۔ وہ چمک کر گویا ہوا کہ وہ تو اس تھڑے پر کھیر بیچتا ہے اور مہتمم صاحب اکثر دکان اسے سونپ کر ادھر ادھر کھسک جاتے ہیں۔

اب قارئین خود انصاف کریں کہ ہندوستانی سرکار پر اردو دشمنی کا الزام لگانے والے ہمارے بھائی خود اپنے ثقافتی و تہذیبی ورثے کی حفاظت میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ اس سے ذرا دیر پہلے ہم سرکاری سرپرستی میں چلنے والا ’ایوان غالب‘ بھی دیکھ آئے تھے لہٰذا برادران ملت کی بے اعتنائی کا احساس مزید شدید ہو گیا۔ بصد معذرت عرض ہے کہ ہمارے وطن میں بھی علاقائی اور قومیتی ثقافتوں اور زبانوں کے حقوق کے علم بردار بھی ہمارے ذاتی مشاہدے کے مطابق چنداں مختلف نہیں ہیں۔ اکثر قوم پرست دوست یہ مبنی برحقیقت گلہ کرتے ہیں کہ ہمارے نصاب میں مطالعہ پاکستان وغیرہ کے نام پر بچوں اور جوانوں کو ادھوری اور مسخ شدہ تاریخ و ثقافت پڑھائی جاتی ہے۔ بجا فرمایا مگر دست بستہ سوال ہے کہ ہم اور آپ نے اس سازش کا علمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے بچوں اور جوانوں کے لیے کتنی کتابیں ترتیب دے کر چھاپی ہیں۔ کیا کسی نے سوچا کہ زبان، ادب، ثقافت، سائنس وغیرہ کے موضوع پر پشتو، بلوچی، پنجابی وغیرہ میں کچھ آسان معلوماتی کتابچے ہی چھاپ دیے جائیں کہ لوگ اپنی زبان سے بھی بے بہرہ نہ رہیں اور علم کی روشنی بھی پھیلے۔ یقینا یہ اتنا مہنگا نسخہ بھی نہیں۔ اس سے دوگنی لاگت تو ان شامیانوں، ہوائی فائرنگ میں صرف ہونے والی گولیوں اور بسوں پر آتی ہے جو ہر جلسے میں بے مصرف طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اگر آپ دوستوں کو اس تجویز سے مغربی سامراجیت یا ’این جی اوز‘ ذہنیت کی بو آتی ہو تو ہمارا قبلہ درست کریں، ورنہ کچھ عمل درآمد اس طرف۔
یا مجھے ہم کنار کر، یا مجھے بے کنار کر

2493902190_b6b4c48ec9پرانی دلی سے واپس آکر ذرا سے آرام کیا اور شادی شدہ زندگی کے تلازمے کے طور پر بیگم کے ہمراہ چند جدید طرز کے شاپنگ سنٹرز کی غلام گردشوں کی سیر پر نکل گئے اور شام ڈھلے واپسی ہوئی۔ دہلی میں ہمارے دور قیام برطانیہ کے ایک دوست راجیندر پرشاد شرما رہتے ہیں جن کا کام سماعت سے محروم بچوں کو بولنا سکھانا ہے۔ جے پور وغیرہ جانے سے پیشتر ہم نے ان کا فون نمبر ڈھونڈ کر رابطہ کر لیا تھا چنانچہ وہ شام کو ہمیں لینے آگئے اور رات کا کھانا ہم نے ان کے گھر ساریتا بھابھی اور بچیوں ردھی اور میدھا وی کے ہمراہ کھایا۔ میدھا وی ذرا کم گو بچی ہے جبکہ ردھی حلیے، لباس وغیرہ میں ہماری دوست راحیلہ درانی (حالیہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی) سے مشابہہ ہے۔ رات گئے راجو بھائی ہمیں اپنی گاڑی میں میور وہار واپس چھوڑ آئے۔

اگلے روز کہ روانگی بالکل سر پر آپہنچی تھی۔ ہم نے دلی کی نواحی بستی مہر ولی کا رخ کیا جہاں مشہور زمانہ قطب مینار اور مسجد قوت الاسلام واقع ہیں۔ قطب مینار دیکھ کر ہمارے دل پر ایک رعب سا طاری ہو گیا۔ اس کی دو منزلیں سنگ سرخ سے ترک سلاطین خاندان غلامان نے بنوائی ہیں جبکہ بالائی منزل سنگ مر مر سے پشتون سلاطین خاندان لودھی نے مگر نہایت مناسب امتزاج کے ساتھ۔ آس پاس کے باغ بھی بہت حسین ہیں۔ مسجد قوة الاسلام شکست و ریخت کا شکار ہے۔ بنیاد کے پتھروں میں مورتیوں کے ٹکڑے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میںمنہدم کردہ مندروں کا ملبہ استعمال ہوا ہے۔ اسی احاطے میں شمس الدین التمش کا بغیر چھت کا مزار اور مشہور اسطوری شخصیت، امام ضامن کا مقبرہ بھی ہے۔ احاطے کے بیچوں بیچ ایک انتہائی قدیم آہنی ستون ہے جسے اس دور کے ہنرمندوں نے نہ جانے دھاتوں کے کیسے ملغوبے سے بنایا ہے کہ اس کو ایک ذرہ رنگ نہیں لگتا۔ اس کے متعلق طرح طرح کے افسانے مشہور ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اسے اگر ہاتھ کمر کے پیچھے لے جا کر بازوﺅں کے حلقے میں لے کر دعا مانگی جائے تو ضرور قبول ہوتی ہے۔ہم نے تو فطرتاً قناعت پسند ہونے کے باعث یہ تجربہ نہیں کیا۔ ویسے بھی اب اس کے گرد جنگلا لگا ہوا ہے اور محکمہ آثار قدیمہ کے اہل کار بھی دیکھ رہے تھے۔

DSCN3186-500x375ادھر سے ہم نے مقبرہ ہمایوں کا رخ کیا جو سنگ سرخ اور مر مر سے بنایا گیا ہے۔ سچ پوچھیں تو تاج محل سے زیادہ اثر اس عمارت نے ہم پر ڈالا۔ پھر عرض کر دیں کہ تاج محل کی برائی مقصود نہیں مگر مقبرہ ہمایوں کی شکل و شباہت کو اس کی پانچ صدیوں کی عمر نے ایک پختگی سی عطا کی ہے جبکہ تاج محل یو ں لگتا ہے کہ گویا کل ہی اس کا افتتاح ہوا ہے۔ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے دوستوں کو علم ہو گاکہ آخری مغل تاج دار بہادر شاہ ظفر جنگ آزادی 1857 ءکے آخری دنوں میں لال قلعے میں لڑتے ہوئے مارے جانے کی بجائے مقبرہ ہمایوں میں پناہ گزین ہو گیا تھا اور یہیں سے انگریزوں نے اسے گرفتار کر کے رنگون بھجوا دیا تھا جہاں وہ آج بھی دفن ہے۔

کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمیں بھی مل نہ سکی کوئے یار میں

ہم نے چشم تصور سے ان طاقوں اور محرابوں میں ظل الٰہی، ان کے اہل خانہ اور ملازمین کو جلوہ افروز دیکھا اور گوش تصور سے ان کے غدار وزراءمرزا الٰہی بخش وغیرہ کو بیرونی دروازے پر انگریزوں سے ساز باز کرتے سنا۔ کہیں پس منظر میں جلال الدین اکبر، جہانگیر و شاہ جہاں کے ذی سطوت درباروں کے مناظر بھی ذہن پر پھرتے رہے۔ بے شک (اے رب) تو ہی عزت بخشنے اور تو ہی ذلت دینے والا ہے۔

واپسی پر بیگم نے رہی سہی خریداری، میوروہار کے بازار اچاریہ نکیتن سے مکمل کی۔ گھر واپس آکر ہم اپرنا، اشوک صاحب، اپرنا کی والدہ کرشنا جی، منن، شکنتلا بھابھی اور ان کے نت کھٹ بچے اپانچ سے رات گئے تک گپ لڑاتے رہے۔ اگلے روز ہماری واپسی کی پرواز تھی۔ ہوائی اڈے کے ڈیپارچر لاﺅنج میں پتہ چلا کہ ہمارے صحافی دوست محمد شہزاد بھی اسی پرواز سے واپس آرہے ہیں اور فضائی میزبان بھی بی بی نیرا ٹھاکر ہیں۔ جہاز میں آتے ہی نیرا بی بی نے کمال مہربانی سے ہمیں اپنے اختیارات کے بل بوتے پر فرسٹ کلاس میں بٹھا دیا اور ہمارے اہل ہند کے احسانوں تلے دبے کندھوں کو مزید بوجھل کر دیا۔

b696ab5f90182840a74e1300ad6e0c1cاب چند عمومی تاثرات۔ ہندوستان کے سماج کو کسی طرح بھی ایک آئیڈیل سماج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ یقینا غربت، فرقہ واریت، جہالت، بدعنوانی وغیرہ کے امراض میں مبتلا ہے مگر جو چیز اسے دنیا کی دیگر اقوام سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان امراض کی موجودگی کا وسیع پیمانے پر ادراک موجود ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ انہیں دور کرنے کے لائحہ عمل پر بھی ہر سطح پر بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔ ہماری ناقص رائے میں اس کی بنیادی وجہ وہاں پر پارلیمانی جمہوریت کا تسلسل ہے۔ غریب، امیر،جاہل، دانشور، ہندو، مسلمان سب میں کسی نہ کسی سطح پر سیاسی عمل میں بھرپور شمولیت کا احساس پایا جاتا ہے مثلاً ایک سائیکل رکشتہ کھینچنے والے مزدور سے ہم نے ایک روز پوچھا کہ بھارت میں بادشاہی کس کی ہے تو اس نے یک دم رک کر پھولی ہوئی سانس کے ساتھ سینے پر ہاتھ مار کر کہا ”ہماری! ہمیں بی جے پی سرکار نے نراش کیا تو ہم نے چناﺅ میں اسے نکال باہر کیا“۔ یہ ہے وہ عمومی سوچ جو قومی کو غربت ، بدحالی اور عدم مساوات کے باوجود اکٹھے آگے بڑھنے کی راہ دکھاتی ہے۔

دوسری برکت اس جمہوریت کی یہ ہے کہ فضا میں ایک آزادی کا احساس پایا جاتا ہے۔ عمومی احساس یہ ہے کہ اپنی تمام تر کمی اور خرابی کے ساتھ قانون موجود ہے اورعام آدمی کو ، موہوم سی سہی، مگر امید رہتی ہے کہ قانون اسے ریلیف دینے کے لیے بنا ہے اور اگر کوئی حکمران قانون کے پھندے سے بچ بھی گیا تو ووٹ کا ہتھیار تو ہے ہی۔ لہٰذا ماضی قریب کی تاریخ شاہد ہے کہ اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگا کر بنیادی حقوق سلب کیے اور عدلیہ بھی لوگوں کو ریلیف نہ دے سکی تو عوام نے 77 ءکے الیکشن میں کانگریس پارٹی کا صفایا کر دیا۔ ”شائننگ انڈیا“ کے نعرے کی چکاچوند، بھارتیہ جنتا پارٹی کو عوام کے غیظ و غضب سے نہ بچا سکی۔ جمہوریت کے اسی کھلے پن کی بدولت ہم ہر جگہ دندناتے پھرے مگر کسی ادارے یا پیراملٹری فورس نے روک کر نہیں پوچھا کہ تم ویزا دکھاﺅ، کسی نے پگڑی اور شلوار قمیض پہننے کی وجہ سے ہم پر مشکوک نگاہ نہ ڈالی ، نہ کسی نے اعتراض کیا کہ تم ’بلڈی سویلین‘ اور وہ بھی پاکستانی ہوتے ہوئے آگرہ چھاﺅنی میں واقع ہوٹل میں کیسے قیام پذیر ہو سکتے ہو؟

Qutb_minar_from_Quwwat_ul-Islam_mosque,_Qutb_complexتیسری اہم بات یہ کہ ہمارے پالیسی سازوں اور ’وسیع تر قومی مفاد‘ کے خود ساختہ ٹھیکے داروں کے برعکس بھارت میں ہمارے دیس کے حوالے سے کوئی خوف و ہراس نہیں پایا جاتا۔ جیسا کہ ماسکو جا کر ہمیں معلوم ہوا کہ سوویت یونین کو بذریعہ جہاد افغانستان توڑنے کے ہمارے دعوے کو کوئی لطیفے کی حیثیت دینے پر بھی تیار نہیں۔ اسی طرح پاکستانی خطرے وغیرہ کا کوئی تاثر عوام، ذرائع ابلاغ اور درمیانے طبقے میں ہمیں نہیں ملا۔ تنگ نظر پارٹیاں ضرور انتخابات کے زمانے میں یہ کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتی ہیں مگر اکثر لوگ ہمیں اس سوچ سے بیزار نظر آئے۔ بھارتی سرمایہ داروں اور پیشہ ور طبقے خصوصاً انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق لوگوں کی نظریں عالمی مارکیٹ پر ہیں۔ اکھنڈ بھارت، مادر وطن کا دفاع وغیرہ سے اکثریت کو واجبی سی دلچسپی بھی نہیں۔

سو پیارے دوستو، یہ تھے بھارت نام کے ہاتھی کے بارے میں ہم جیسے نابینا کے خیالات و مشاہدات۔ ممکن ہے اس کہاوت والے اندھے کی طرح ہمارا ہاتھ ہی سپاٹ جگہ لگا ہو اور لوگوں کے ہاتھ شاید دم آئی ہو۔ مگر یہ طے ہے کہ ہم ایک وسیع و عریض اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کے ہمسائے ہیں۔ ہم جتنی جلد بالادست طبقات کے پھیلائے ہوئے نفرت و جذباتیت کے جال سے نکل آئیں اتنا اچھا ہے۔ اس کا سب سے ضروری اور آسان طریقہ یہ ہے کہ دونوں طرف کے عوام کو ایک دوسرے سے ملنے جلنے کا زیادہ سے زیادہ موقع ملے۔ یقین کیجئے گزشتہ پاک بھارت کرکٹ سیریز میں ایک ہزار سے زائد بھارتیوں کو ویزے دے کر ہم نے ہندوستان کے ایک ہزار سے زائد گھرانوں کو اپنا دوست بنا لیا ہے ۔ یہ کارنامہ ہم سو برس تک سلامتی کونسل میں قراردادیں پیش کر کے سرانجام نہیں دے سکتے تھے۔ نہ ہی جیشوں اور لشکروں کی مدد سے اس اس طرح کی باقی رہ جانے والی فتوحات حاصل کر سکتے تھے۔ انٹرنیٹ، ڈش انٹینا اور بڑھتی ہوئی عالمگیریت یعنی گلوبلائزیشن نے ثقافتی یلغار وغیرہ کے جعلی نعروں سے یوں بھی ہوا نکال دی ہے۔ کچھ ٹھوس اقدامات مثلاً عوامی، ثقافتی اور کھلاڑیوں کے وفود کے تبادلے، قونصل خانے کھولنے وغیرہ سے فاصلے کم ہوں گے تو اس کے امکانات مضبوط ہوں گے اور باعزت بقائے باہمی کو فروغ ملے گا۔ ایسے ہی اقدامات بھارتیہ سرکار کو بھی اٹھانے ہوں گے مثلاً اکثر تاریخی مقامات پر بھارتی شہریوں کے لیے اگر ٹکٹ بیس روپے کا ہے تو غیر ملکیوں کے لیے پانچ سو روپے کا۔ گورے صاحب پر تو فرق نہیں پڑتا ہم جیسے نام نہاد ’فارنر‘ مارے جاتے ہیں۔ اگر نیپال کی طرح سارک ممالک کے شہریوں کے لیے خصوصی رعایت کا التزام ہو جائے تو اپنائیت کا احساس مزید بڑھے گا ورنہ۔

دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے

پہلا حصہ

دوسرا حصہ 

تیسرا حصہ 

چوتھا حصہ 

پانچواں حصہ


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “بولان سے جمنا تک (آخری حصہ)

  • 18-03-2016 at 1:45 pm
    Permalink

    جزاک اللہ۔
    قاضی بھائی کے مجمون سے ہم سب کے رنگوں میں چمک پیدا ہوتی ہے

  • 18-03-2016 at 4:59 pm
    Permalink

    عثمان قاضی کی تحریر پڑھ کر اندازہ ہوتے ہے کہ پرانے وقتوں کے ان قصہ گووں کا جادو کیسا ہوتا ہو گا جو خلق خدا کو ساری ساری رات باندھے رکھتے تھے۔۔۔۔۔۔

  • 19-03-2016 at 12:15 am
    Permalink

    بالکل درست فرمایا کہ بجائے شور مچانے کہ کچھ کتابچے چھاپ کر اس کا علاج کیا جا سکتا ھے۔

Comments are closed.