ڈیرہ اسماعیل خان کی بیٹی اور عمراں خان کا انوکھا انصاف


تبھی تو میں انہیں لاڈلہ سیاستدان کہتا ہوں۔ میڈیا اور میڈیا کو کنٹرول کرنے والی قوتوں کا لاڈلہ۔ ڈی آئی خان کا المناک واقعہ سندھ یا پنجاب میں وقوع پذیر ہوتا تو نہ جانے میڈیا میں کیا قیامت برپا ہوتی لیکن چونکہ یہ واقعہ اس خیبرپختونخوا میں رونما ہوا ہے جہاں کے حکمران لاڈلے سیاستدان ہیں، اس لئے سب کی زبانوں کو تالے لگ گئے ہیں۔ یہ سانحہ اندرون سندھ، جنوبی پنجاب یا بلوچستان میں نہیں بلکہ اسی خیبر پختونخوا میں وقوع پذیر ہوا جس کے بارے میں پی ٹی آئی کی قیادت دعوے کر رہی ہے کہ وہاں پولیس کو غیرسیاسی بنا دیا گیا ہے۔ 27اکتوبر 2017ء کو یہ واقعہ اس ڈی آئی خان کے اس علاقے میں رونما ہوا جہاں ایم پی اے اور ایم این اے بھی پی ٹی آئی کے ہیں اور وزرا بھی۔

دن دہاڑے ایک معصوم اور یتیم بچی کو برہنہ کرکے گلیوں میں گھمایا گیا اور ساتھ اس معصوم کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔ مظلوم خاندان تھانے پہنچا تو ایس ایچ او نے حکمران خاندان کے قریب سمجھے جانے والے مبینہ ملزم سجاول کو بچانے کے لئے الٹا متاثرہ خاندان کو ڈرایا دھمکایا اور ملزمان کے سرغنہ کے کہنے پر متاثرہ خاندان کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی۔ اس ظلم کی کہانی اسی روز سوشل میڈیا پر عام ہوئی لیکن عمران خان صاحب حرکت میں آئے اور نہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے ہیلی کاپٹر کو حرکت دی۔ روزانہ ٹی وی ٹاک شوز میں گلے پھاڑ پھاڑ کر انصاف انصاف کے نعرے لگانے والے خیبر پختونخوا کے کسی ایم این اے کو لب کشائی کی توفیق ہوئی اور نہ کسی ٹی وی چینل کو آواز اٹھانے کی ہمت۔ ہمت ہوئی تو بس پی ٹی آئی کے ایک مغضوب ایم این اے داور کنڈی کو ہوئی۔ وہ متاثرہ لڑکی کے گھر پہنچے تو انہوں نے اپنا دکھڑا سناتے ہوئے یہ بھی بتا دیا کہ ملزم سجاول کی سرپرستی مبینہ طور پر صوبائی وزیر علی امین گنڈاپور کے قریبی عزیز کر رہے ہیں۔ داور کنڈی نے ایس ایچ او کے ظلم کے خلاف اعلیٰ پولیس حکام سے رابطہ کیا لیکن چونکہ دعوئوں کے برعکس تمام ایس ایچ اوز، خان صاحب اور وزیراعلیٰ صاحب کے چہیتے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کی مرضی سے لگائے گئے ہیں اور چونکہ داورکنڈی چہیتے نہیں بلکہ مغضوب ہیں، اس لئے وہ ایس ایچ او کا کچھ نہیں بگاڑسکے۔ اس لئے انہوں نے عمران خان صاحب کو خط تحریر کرکے پوری صورت حال بتادی (خط کی کاپی میرے پاس موجود ہے) لیکن پھر بھی ایس ایچ او کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی اور نہ متاثرہ خاندان کی داد رسی کے لئے صوبائی حکومت حرکت میں آئی۔

چنانچہ 12 نومبر کو داور خان کنڈی میرے’’ جرگہ‘‘ میں تشریف لائے اور میرے سوالات کے جواب میں سانحہ کی تفصیل بیان کردی۔ حکومت خیبر پختونخوا کا موقف جاننے کے لئے میں نے صوبائی وزیرعلی امین گنڈاپور کو زحمت دی۔ سچ یہ ہے کہ داورکنڈی نے اپنی طرف سے کوئی الزام نہیں لگایا بلکہ جو کچھ انہوں نے متاثرہ خاندان سے سنا تھا، وہی بیان کر دیا البتہ علی امین گنڈاپور سے متعلق ماضی کے ان الزامات کا بھی اعادہ کیا جو دو سال سے وہ اور پی ٹی آئی کے بعض دیگر ممبران اسمبلی لگاتے آ رہے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وقوعہ کے دن ( 27 اکتوبر) اور داور خان کنڈی کے جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں اظہار خیال کے دن ( 12 نومبر ) تک دو ہفتے گزر چکے تھے۔ ان دو ہفتوں میں نہ تو متاثرہ خاندان کے خلاف غلط درج کی گئی ایف آئی آر مکمل طور پر واپس لی گئی تھی، نہ ملزمان کا سرغنہ سجاول گرفتار ہوا تھا، نہ عمران خان صاحب متاثرہ خاندان کی داد رسی کے لئے گئے تھے، نہ شادیوں کے لئے جانے کی خاطر سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے والے پرویز خٹک نے نوٹس لیا تھا اور نہ اس علاقے کے خان صاحب کے چہیتے وزیر علی امین گنڈا پور نے بچی کے سر پر ہاتھ رکھنے کے لئے وہاں جانے کی زحمت گوارا کی تھی۔ اور تو اور ان دو ہفتوں میں عمران خان صاحب، ان کے کسی ترجمان یا پھر وزیراعلیٰ نے مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا تھا۔

ریحام خان صاحبہ کے متاثرہ خاندان کے پاس پہنچ جانے اور میرے ٹی وی پروگرام کے اگلے روز ایس ایچ او کو لائن حاضر کیا گیا اور متاثرہ خاندان کے خلاف جھوٹی اور غلط ایف آئی آر واپس کرنے کا اعلان کیا گیا تاہم اصل ملزم تادم تحریر گرفتار نہیں ہوا۔ البتہ میرے پروگرام میں جب میں نے علی امین گنڈاپور سے پوچھا کہ وہ ابھی تک متاثرہ بچی کے گھر کیوں نہیں گئے تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ کل جائیں گے اور اگلے روز وہ متاثرہ بچی کے گھر چلے گئے۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عمران خان صاحب دو ہفتے تک معاملے پر خاموش رہنے پر قوم سے معافی مانگتے اور پرویز خٹک سے باز پرس کرتے کہ ان کے صوبے میں یہ کیا ہورہا ہے۔ اسی طرح ہونا تو یہ بھی چاہئے تھا کہ وہ اپنے ایم این اے داورکنڈی کو شاباش دیتے کہ وہ متاثرہ خاندان کے پاس سب سے پہلے پہنچے اورخط لکھ کر معاملے کو خود ان کے نوٹس میں لے آئے۔ پھر علی امین گنڈاپور کے کردار سے متعلق تحقیقات کے لئے ایک آزاد اور خودمختار کمیٹی بناتے لیکن انہوں نے الٹا علی امین گنڈاپور کو شاباش دے کر داور کنڈی کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا۔ اسے کہتے ہیں انصاف کے نام لیوائوں کا انصاف۔

دلیل یہ دی کہ انہوں نے آئی جی سے معلوم کیا ہے اور آئی جی نے داور کنڈی کے الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔ ویسے اگر سانحہ ماڈل ٹائون کے بارے میں میاں نوازشریف یہ موقف اپناتے کہ آئی جی پنجاب کو فون کرکے انہوں نے معلوم کیا ہے اور پنجاب حکومت کا کوئی قصور نہیں تو کیا عمران خان صاحب ان کو معاف رکھتے۔ لیکن عمران خان صاحب میڈیا اور میڈیا چلانے والوں کی طرف سے معاف ہیں کیوں کہ لاڈلے جو ہوئے۔ لیکن اس انوکھے انصاف کا مظاہرہ انصاف کے نام لیوا خان صاحب نے پہلی مرتبہ نہیں کیا۔ خان صاحب کے پاس جو بھی شکایت لایا ہے، اس نے ہمیشہ شکایت کرنے والے کو سزا دی۔ جاوید ہاشمی نے شکایت کی کہ امپائر ان سے غلط کام کروا رہے ہیں تو امپائروں سے پوچھنے کی بجائے خان صاحب نے جاوید ہاشمی کی چھٹی کرا دی۔ جسٹس وجیہہ الدین نے الیکشن کمشنر کی حیثیت سے شکایت کی کہ پارٹی انتخابات میں بے ضابطگی ہوئی ہے تو بے ضابطگیاں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے والوں کی بجائے انہو ں نے جسٹس وجیہہ الدین کی چھٹی کرا دی۔ مشکل دنوں کے ساتھی اور پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے شکایت کی کہ پارٹی فنڈز خوردبرد ہوئے ہیں تو خورد برد کی تحقیقات کی بجائے انہوں نے ان کی چھٹی کرا دی۔ ضیاء اللہ آفریدی نے پرویز خٹک پر کرپشن کے الزامات لگائے تو تحقیقات کی بجائے انہوں نے ان کو گرفتار کروایا۔ صوبائی احتساب کمیشن کے وہ سربراہ (جنرل حامد خان ) جنہیں خود خان صاحب نے چنا تھا، نے جب وزیراعلیٰ اور وزرا کی کرپشن کی طرف توجہ دلا دی تو ان کے خلاف کارروائی کی بجائے جنرل حامد خان کی چھٹی کرا دی گئی۔ دوسری طرف شوکت یوسفزئی اور یاسین خلیل پر خود کرپشن کے الزامات لگا کر وزارتوں سے الگ کیا اور اپنے مذکورہ اصولوں کے تحت ہونا توچاہئے تھا کہ خود اپنے خلاف کارروائی کرتے لیکن اپنے خلاف کارروائی کی اور نہ ان کو پارٹی سے نکالا بلکہ اب ان کو عہدے دئیے گئے۔

اسی طرح آفتاب شیرپائو کی جماعت کے وزراء کے خلاف کرپشن کے الزامات لگا کر حکومت سے الگ کیا لیکن پھر خود ہی اسد قیصر کی قیادت میں وزراء کا جرگہ بھیج کر اس وزیر (بخت بیدار) سے معافی مانگی جن کے خلاف کرپشن کا الزام لگایا تھا اور اس کے بعد اس جماعت کو دوبارہ منتیں کر کے حکومت میں شامل کروایا اور اب دوبارہ علیحدہ کیا۔ اسے کہتے ہیں تحریک انصاف کا انصاف اور اب وہ اس انوکھے انصاف کو پورے ملک میں رائج کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے عوام کی مرضی ہے۔ وہ اگر اپنے اپنے صوبوں میں اسی طرح کا نظام انصاف رائج کرنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ۔ خیبر پختونخوا کے لوگ تو ان شاء اللہ دوبارہ یہ غلطی نہیں دہرائیں گے۔ کسی کو یقین نہ آئے تو گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے موقع پر پی ٹی آئی کے وزرا اور اراکین اسمبلی کے یونین کونسلوں کے نتائج ملاحظہ کر لیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔