ایک غیر ملکی سیاح کا سفر نامہ لاہور


ان دنوں جو پاکستانی ادیب بھی بیرون ملک جاتا ہے وہ واپسی پر سفرنامہ ضر ور لکھتا ہے۔ اس سے ہم نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ جو غیر ملکی پا کستان آتے ہوں گے واپسی پر وہ بھی یقیناً ایک عدد سفرنا مہ ضر ور قلمبند کرتے ہوں گے جس طرح ہمارے ہاں کے بعض سیاح کسی غیر ملک میں گزارے ہوئے چند گھنٹوں ہی سے اس کی تہذیب اور تمدن کا کچا چٹھا کھول کر ہمارے سا منے رکھ دیتے ہیں اسی طرح ممکن ہے بعض غیر ملکی سیاح بھی سپر ایکسپریس پر پاکستان کا ایک چکر کاٹنے کے بعد اپنے قارئین کو پاکستانی عوام اور یہاں کی معاشرت کے بارے میں فیصلہ کن معلومات دے ڈالتے ہوں، سو ہم نے چشم تصور میں ایک ایسے گیر ملکی سیاح کا سفرنا مہ ملاحظہ کیا ہے جس نے چند روز لاہور میں قیام کیا اور پھر اپنے تاثرات ایک کتا بی صورت میں پیش کر دیے۔ اس ’’ سفر نامے ‘‘ کے کچھ حصے آپ بھی ملاحظہ فر مائیں ۔

ایک حیرت انگیز رسم :

میرے لیے یہ امر باعثِ حیرت تھا کہ پاکستان میں عور توں اور مردوں سے کہیں زیادہ مردوں اور مردوں کو اختلاط کی آزادی حاصل ہے۔ کیونکہ میں نے بے شمار نو جوانوں کو دیکھا جو ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے خر اماں خراماں چلے جا رہے تھے اسی طرح میں نے مر دوں کو عور توں سے زیادہ ’’سیکسی ‘‘ لباس میں ملبوس پا یا۔ انہوں نے سکرٹ قسم کی کوئی چیز پہنی تھی جسے وہ اتنا اوپر اٹھا کر چلتے تھے کہ وہ منی سکرٹ بلکہ مائیکرو منی سکرٹ میں تبدیل ہو جاتی تھی۔ میں نے لوگوں کو بر سر عام کسی ایسی دیوار کی طرف منہ کر کے جس پر کسی گدھے کی تصویر بنی ہوئی تھی، دھواں ’’ دھار ‘‘ حرکت کرتے ہوئے بھی پایا۔ کئی ایک لوگوں کو اس کام سے فراغت کے بعد اپنے محرک ہاتھ کے ساتھ اِ دھر اُدھر ٹہلتے بھی دیکھا۔ اگلے روز میں نے اخبار میں ایک خبر پڑھی ’’ شارع عام پر فحش حرکات کرتے ہوئے گرفتار…..‘‘۔ یقیناً وہ یہی لوگ ہوں گے۔

شادی کی رسوم

مجھے یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ پاکستان میں شادی کے لئے لڑکے اور لڑ کی کا راضی ہونا کا فی نہیں، بلکہ ان کے وا لد ین کا راضی ہونا ہے ‘تاہم وہ اس سلسلے میں اولاد کی مرضی ضرور دریافت کرتے ہیں۔ اگر لڑ کا لڑ کی ’’ ہاں ‘‘ کر دیں تو یہ شادی ہو جاتی ہے۔ اور اگر ’’ نہ ‘ کہیں ……. تو بھی ہو جاتی ہے۔ مجھے یہاں ایک شادی میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ بارات میں بے شمار لوگ تھے جو پیدل چل رہے تھے اور دولہا گھوڑے پر بیٹھا تھا۔ دولہے کو گھوڑے پر بٹھا نے کی رسم میرے لیے نا قابل فہم تھی ممکن ہے اس کا تعلق گھوڑے کی ذہنی سطح یا ’’ ہارس پاور ‘‘ وغیرہ سے ہو۔ بار ات میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے سر پر کچھ صندوق اٹھائے ہوئے تھے۔ میرے در یافت کرنے پر انہوں نے بتا یا کہ اس میں دلہن وغیرہ کے لیے قیمتی پارچہ جات ہیں جو دلہن وا لوں کو دکھا کر دولہا واپس اپنے گھر لے جائے گا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ان کپڑوں کو ’’ وری‘‘ کے کپڑے بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ ’’وری ‘‘ سن کر بہت چونکا کیونکہ ہمارے ہاں بھی یہ لفظ موجودہ اور انہی معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں وری (worry) کا مطلب ’’ پریشانی ‘‘ ہے۔ اور جن کپڑوں کو یہاں ’’وری ‘‘ کہا جاتا ہے وہ بھی پریشانی ہی کے زمرے میں آتے ہیں کیونکہ انہیں بلا وجہ اٹھا کر دلہن کے گھر لے جانا پڑتا ہے جبکہ بالآخر انہیں واپس دلہا کے گھر آنا ہوتا ہے۔

ٹرانسپورٹ کے قد یم ذرائع

مجھے لاہور اس لحاظ سے بھی اچھا لگا کہ یہاں کے لوگ اپنی بے پناہ خوشحالی اور حد درجہ ماڈرن ہو نے کے با وجود بعض قدیم روایات کو بھی عزیز رکھتے ہیں۔ اس میں سر فہرست ٹرانسپو رٹ کے ذرائع آتے ہیں جن میں زمانہ قد یم سے ابھی تک سر مو تبدیلی نہیں کی گئی، چنانچہ مجھے یہاں ایک ایسی سواری پر بیٹھنے کا اتفاق ہوا جس کے تین پہیے تھے۔ اگلی نشست پر صرف ڈرائیور بیٹھتا تھا اور پچھلی نشست دو مسافروں کے لیے تھی۔ اسے رکشہ کہا جاتا ہے، اس میں سفر کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اگلی نشست صرف ڈرائیور ہی کے لئے کیوں مخصوص کی گئی ہے۔ اس تیز رفتار اور ہجوم میں ’’ زگ زیگ ‘‘ (Zigzag)بناتی ہوئی سواری کی اگلی نشست پر دراصل بیٹھ بھی وہی سکتا ہے جو کسی سرکس کا انتہائی ماہر فنکار ہو۔ شیر کے منہ میں گردن ڈال سکتا ہو۔ اسی طرح ایک لاہور دوست مجھے ایک پنجا بی فلم ’’ ہیر رانجھا ‘‘ دکھا نے کے لئے اپنے ہمراہ لے گیا۔ اس کے ایک سین میں ہیر کو اس کا چچا مارتا ہے جس کے باعث ہیر کے ما تھے سے خون بہنے لگتا ہے۔ اس پر اسے فوراً ایک لکڑی کی بنائی ڈولی میں بٹھا دیا جاتا جسے چار افراد کاندھوں پر اٹھائے ہوتے ہیں۔ اور یہ لوگ یقیناً اسے ہسپتال لے گئے ہوں گے۔ میر لے لیے یہ ایمبو لینس بہت (Fascinating)تھی۔ ہم یورپ والے اپنی قد یم روایات کو بالکل ترک کرتے جار ہے ہیں۔ جو کوئی اچھی بات نہیں۔

انگریز کا بچہ

لاہور کے عوام کو انگریز قوم کے ساتھ شد ید محبت ہے اور وہ آج بھی انہیں یاد کیا کرتے ہیں۔ میرے لیے یہ بات خاصی باعث حیرت تھی کیونکہ انگریزوں نے ڈیڑھ سو برس تک یہاں کے لوگوں کو غلام بنائے رکھا ہے اور اس دور ان ان پر سخت مظالم روا رکھے لیکن اس کے با و جود لوگ انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ انگریز کا جو اب نہیں تھا۔ ایک روز گلی میں سے گزرتے ہوئے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے بچے کو گود میں لیے ہلکارے دے رہا تھا اور ساتھ ساتھ منہ سے کچھ بو لے بھی جاتا تھا میں جاننا چاہتا تھا کہ یہاں لوگ اپنے بچوں کو بہلا نے کے لئے ان کے ساتھ کس قسم کی گفتگو کرتے ہیں، چنانچہ میں نے اپنے ہمراہی سے پو چھا کہ یہ شخص کیا کر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ شخص اپنے بچے کو محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے کہ ’’آ ہا۔ میرا بیٹا تو کسی انگریز کا بیٹا لگتا ہے ‘‘۔

ایک حکیم سے ملاقات

میرے معدے میں خاصی گڑبڑ تھی۔ ، چنانچہ میں نے راستے میں ایک حکیم کی د کان دیکھی تو اندر داخل ہو گیا۔ وہاں بیٹھے ہوئے ایک مریض نے بتا یا کہ حکیم صاحب ملک کے بہت بڑے طبیب ہیں۔ میں علاج کے لیے کسی ڈاکٹر کی دکان پر بھی جا سکتا تھا لیکن میں نے طب مشرق کے کمالات کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا، چنانچہ میں نے خود کو یہاں پا کر بہت تھرل (Thrill)محسوس کی۔ حکیم صا حب کے کمرے میں چاروں طرف کتابیں ہی کتابیں تھی۔ اور وہ درمیان عینک چہرے پر چڑھائے ایک کرسی پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے میری نبض دیکھی ور اس دوران آنکھیں بند کیے بیٹھے رہے۔ ان کے چہرے پر غور و فکر کی گہری لکیریں تھی۔ تھو ڑی دیر بعد انہوں نے اپنا ہاتھ نبض پر سے اٹھایا۔ آنکھیں کھولیں اور پوچھا : ’’ عربوں کی طرف سے تیل کا ہتھیار استعمال کرنے کا آپ کی معیشت پر کیا اثر پڑا ہے؟ ‘‘ میں اس سو ال پر بہت سٹپٹایا کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہ میری مرض کے بارے میں مجھ سے پوچھیں گے جب میں نے دانستہ طور پر اس بارے میں لا علمی کا اظہار کیا تو انہوں نے دوسرا ہاتھ دکھانے کو کہا اور ایک بار پھر کچھ دیر کے لئے گہرے غور و فکر میں مبتلا ہو گئے۔ کچھ ہی دیر بعد انہوں نے ہاتھ اٹھایا۔ عینک اٹھا کر میز پر رکھی اور میری طرف دیکھ کر پو چھنے لگے : ’’ کیا انگولا کی صورت حال میں تبدیلی کا کوئی امکان ہے ؟ ‘‘اس بار میں سخت جھنجھلایا اور میں نے بالکل چپ سادھ لی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ روایات کے مطابق در اصل طب مشرق سے وا بستہ افراد صرف طبیب ہی نہیں ہوتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سیات دان سما جی کارکن، شاعر اور ادیب بھی ہوتے ہیں۔ چنانچہ حکیم صاحب کے ہاں جو ہزاروں کتا بیں نظر آ رہی تھی ان میں سے چند ایک طب کے موضوع پر بھی تھیں باقی کتابیں دیگر فنون سے متعلق تھیں۔ ایک نازک سا فرق یہ بھی معلوم ہوا کہ ان اطباء کےنا مور آ با ؤ اجداد اپنے پیشے میں مکمل مہا رت اور تمام تر دلچسپی کے پیرو کار زندگی کے تمام شعبوں میں سرگرم حصہ لینے کے بعد اگر کچھ وقت بچتا ہے تو وہ طبا بت پر صرف کرتے ہیں۔

(جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔