خیر پور میں کوئلے سے بھرے ٹرک کے نیچے دبے لوگ اور امریکی نظام


خیرپور میں کوئلے سے بھرا ٹرک مسافر وین پر الٹنے سےباپ اور بیٹے سمیت 20 افراد جاں بحق اور 7شدید زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے 20 افراد میں سے 11مسافر موقع پر چل بسے جبکہ 9 ہسپتال پہنچ کرجاں بحق ہوئے۔ پیر کی صبح خیر پور سے سکھر جانے والی مسافر وین جب حسین بائی پاس پر پہنچی تو وہاں پر کراچی سے پنجاب جانے والا کوئلے سے بھرا ٹرک مسافر وین پر الٹ گیا۔ ٹرک ویگن کو گھسیٹتا ہوا دور تک لے گیا۔ جاں بحق ہونے والے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ وین میں سوار تمام مسافر محنت کش تھے اور مزدوری کے لیے کام پر جارہے تھے۔ ہاں بچارے مزدور ہی تو صبح سویرے اٹھتے ہیں۔

حادثے ہوتے رہتے ہیں، پوری دنیا میں ہوتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ہمیں ہمارے حکمرانوں نے حادثہ ہونے کے بعد ایسی صورتحال میں جو مدد ملنی چاہیے وہ فراہم کی ہے یا نہیں۔ یہ حادثہ تھر کے کسی ریگستان میں، سرائیکی چولستان میں یا دورافتادہ بلوچستان میں پیش نہیں آیا بلکہ سندھ کے اس کافی بڑے شہر خیرپور میں پیش آیا ہے جس کے دو سیاستدان سید غوث علی شاہ صاحب اور سید قائم علی شاہ صاحب کل ملاکر تقریبا پندرہ سال تک سندھ کے وزیر اعلٰی رہے ہیں اور اس حادثے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کوئلے سے بھرا ٹرک مسافر وین پردوگھنٹے تک پڑا رہا مگراس کو اٹھانے کا کوئی بندوبست نہیں تھا ورنہ کافی لوگوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ سندھ میں تو نہ کوئی پراپر ریسکیو کا ادارا ہے، نہ ٹوٹے پھوٹے اداروں کی کوئی ٹریننگ، نہ ڈیوٹی کی فرض شناسی اور نہ انسانیت کا احساس بس تنخواہیں لینے کے مجمعے ہیں اور کام چلا رہے ہیں۔

شاباش ہے آس پاس کے لوگوں، لوکل پولیس، ایدھی رضاکاروں اور بوائے اسکاؤٹس کو جو فورا اس مقام پر پہنچے مگر ان بچاروں کے پاس تو نہ مشینری تھی نہ مہارت پھر بھی اپنی حیثیت سے بڑا کر انہوں نے کوشش کی۔ مقامی لوگوں اور میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ موٹر وے پولیس دو گھنٹے دیر سے پہنچی، ان کو مسلسل فون کیے گئے مگر کسی نے فون اٹینڈ نہیں کیا حالانکہ ان کا آفس نزدیک ہی ہے۔

سول ہسپتال خیرپور کے ڈاکٹروں نے بھی فرض شناسی کا مظاھرہ کیا اورہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی مقامی لوگ بڑی تعداد میں خون کا عطیہ دینے لے لئے پہنچ گئے۔ مگر بات وہیں پر آکر اٹک جاتی ہے کہ خیرپور جیسے بڑے شہر میں لوگ کوئلے سے بھرے ٹرک کے نیچے دو گھنٹے دبے رہے اور سینکڑوں افراد بے بسی سے ان کو دیکھتے رہے، روتے رہے، چیختے رہے، ٹرک کو زور لگاتے رہے مگر حکومت کا ایسے حالات میں مدد کے لئے پہنچنے والا کوئی ادارہ نہیں پہنچا۔ بلکہ ادارہ ہے ہی نہین تو پہنچے گا کہاں سے۔

ایسے میں مجھے امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک چھوٹے سے گاؤں ایل کیمپو میں میرے ساتھ پیش آنے والا واقع یاد آ رہا ہے، 2003ء کی سردیوں کی بات ہے میں اپنے دوست بشیر شاہانی کے گیس اسٹیشن سپر اسٹاپ فور پر صبح کی ڈیوٹی کر رہا تھا کہ مجھے ایک لڑکی نے کاؤنٹر پر آکر بتایا کہ تمہارے اسٹور کی حدود میں فون بوتھ کے پاس کوئی نیچے گرا پڑا ہے۔ میں فورا باہر گیا دیکھا کہ ایک میکسیکن نوجوان وہاں الٹے منہ گرا پڑا تھا، میں نے اس کو بنا ٹچ کیے اسٹور میں واپس آکر فورا911 پر کال کی۔ کال اٹینڈ کرنے والی لڑکی کو صورتحال سے آگاہ کیا، اس نے مجھے کہا کہ میں فون پر بات کرتا ہوا اس کے پاس جاؤں۔

فون کارڈلیس تھا میں اس لڑکی کی ہدایت کے تحت اس نوجوان کے پاس پہنچا، لڑکی نے مجھے کہا کہ اس کو سیدھا کرو اور ہلاؤ جُلاؤ۔ میں نے اس خوف سے کہ میرے لئے کوئی مسئلہ نہ ہو جائے اس سے پوچھا کہ آر یو شوئر کہ میں اس کو ٹچ کروں۔ لڑکی نے مجھے کہا کہ ڈرو نہیں میں جو کہہ رہی ہوں وہ کرو۔ میں نے نوجوان کو ہلایا مگر وہ مکمل طور پر بے ہوش تھا، 911 کی یہ کال کوئی سات منٹ تک میرے ساتھ رہی ہوگی کی سائرن کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں اور پولیس، ایمبولینس اور فائر برگیڈ کی چھوٹی گاڑی ایک ساتھ پہنچ گئی۔ لڑکی ابھی تک میرے ساتھ کال پر تھی اس نے میرا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ کال کے پہلے چند سیکنڈ میں ہی اس نے ہدایت جاری کر دی تھی اور ہماری بات چیت کے دوران پولیس، ایمبولینس اور فائر برگیڈ کی گاڑیاں آپ کی طرف رواں دواں تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ فائربرگیڈ کی کیا ضرورت تھی اس نے بتایا کہ میں نے جس وقت مدد کو تمہاری طرف جانے کی ہدایت جاری کی اس وقت ایمرجنسی کی مکمل تفصیل معلوم نہیں تھی اس لئے سب کو الرٹ کیا۔

میں آج تک یہ واقعہ بھول نہیں پایا۔ ہم امریکا کا مقابلہ تہ نہیں کر سکتے مگر پھر بھی سندھ کے ایک بڑے شہر میں لوگوں سے بھرے وین کا ایک کوئلے سے بھرے ٹرک کے نیچے دو گھنٹے تک کے دبے رہنے کی ذمے دار ہماری حکومت ہے کہ اس نے اربوں روپے بجٹ ہونے کے باوجود ایسا کوئی نظام نہیں بنایا جو عوام کو ایسی صورتحال میں ریلیف دے اور فوراً ان کی مدد کو پہنچے۔

ادارتی نوٹ: علاقے کے اے ایس پی رائے مظہر صاحب نے اطلاع دی ہے کہ صبح ساڑھے چھے بجے سموگ اور ڈرائیوروں کی لاپروائی کی وجہ سے ایک ٹرک اور ہائی ایس وین ٹکرا گئے تھے۔ اس مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں 20 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ خیر پور میرس پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ریکوری وہیکل، کٹرز، کرینوں اور ٹریکٹر استعمال کیے اور 7 افراد کی جانیں بچانے میں کامیاب ہوئے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔