وزیر داخلہ کی داخلی مجبوریاں


nisar وزیر داخلہ نے حاکمانہ طمطراق کے ساتھ سابق صدر، فوجی آمر اور نواز شریف کے ذاتی دشمن پرویز مشرف کو از راہ ترحم اور انسانی ہمدردی ملک سے باہر جانے کی اجازت مرحمت فرما دی ہے۔ آخر کو یہ ایک جمہوری حکومت ہے اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنا اور عدالت عظمیٰ کے حکم پر عمل کرنا، بے حد ضروری سمجھتی ہے۔ اسی جذبہ اور اصول کا مظاہرہ کرتے ہوئے آج وزیر داخلہ نے یہ فیصلہ کیا کہ پرویز مشرف شدید بیمار ہیں اور انہیں علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی فوری ضرورت ہے۔ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلہ اور بیمار آدمی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ قباحت اس میں صرف یہ ہے کہ جو بات پوری دنیا کو بدھ کی صبح سے پتہ تھی، اس کا علم وزیر داخلہ اور ان کے وزیر اعظم کو جمعرات کی شام کو ہؤا۔

وزیر داخلہ نے اپنے روایتی جوش و خروش اور ’مدلل‘ انداز میں پیپلز پارٹی اور دیگر ناقدین کی اس نکتہ چینی کو حقارت سے مسترد کردیا کہ حکومت آئین سے غداری کرنے والے سابق حکمران کو سزا دلوانے کی بجائے اب میدان چھوڑ کر بھاگ رہی ہے اور واضح کیا کہ آپ نے تو اس شخص کو گارڈ آف آنر دے کر ایوان صدر سے رخصت کیا اور پانچ برس تک ملک سے باہر جانے کی اجازت دیتے رہے۔ ہم سپریم کورٹ کا واضح حکم آنے کے بعد کیسے اس حکم کی خلاف ورزی کرسکتے تھے۔ اس دلیل کو مان بھی لیا جائے تو وزیر داخلہ سے صرف اتنی گزارش کی جا سکتی ہے کہ سپریم کورٹ کو اپنے سیاسی فیصلوں اور مجبوریوں کا ذمہ دار قرار دینا بھی اسی طرح غلط ہے جس طرح سپریم کورٹ کے کسی حکم پر عمل کرنے سے انکار کرنا توہین عدالت کہلاتا ہے۔ کیونکہ کل سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے ای سی ایل  سے پرویز مشرف کا نام ہٹانے کے بارے میں سندھ ہائی کورٹ کا حکم ضرور برقرار رکھا اور حکومت کی طرف سے اسے معطل کرنے کی اپیل مسترد کردی تھی۔ لیکن اسی فیصلہ میں یہ بھی واضح کردیا گیا تھا کہ اگر حکومت مشرف کو بیرون ملک سفر سے روکنے یا کسی الزام میں گرفتار کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے یہ اختیار حاصل ہے۔ اس کا مقصد تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے درحقیقت وفاقی حکومت کو یہ پیغام دیا تھا کہ اگر آپ کو پرویز مشرف کے جرائم پر اسے سزا دلوانی ہے تو ذمہ داری قبول کیجئے اور مروجہ طریقہ کے مطابق کارروائی کیجئے۔ اس معاملہ میں عدالتوں کو ڈھال بنانے کی کوشش نہ کریں۔ لیکن وائے رے مجبوری شکاری جب اپنے جال میں خود ہی پھنستا ہے تو وہ ایسی بے سر وپا باتیں ہی کرتا ہے اور مخالفین پر یوں ہی غراتا ہے ، جس کا مظاہرہ وزیر داخلہ نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں بخوبی کیا ہے۔ وگرنہ قتل کے الزام میں پرویز مشرف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری تو گزشتہ کئی ہفتوں سے عملدرآمد کے منتظر تھے۔ وزیر داخلہ نے ایک عدالت کے احکامات کو نظر انداز کرکے دراصل ملک کے قانون اور عدالت کے ساتھ مذاق فرمایا ہے۔ بڑے لوگ شاید چھوٹی عدالتوں کے احکامات کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔

یہ بات البتہ مسلم لیگ (ن) کے دوستوں اور دشمنوں کے لئے یکساں طور سے نا قابل فہم ہو گی کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی صورت میں ’ڈھال‘ میسر آنے کے بعد اس کا سہارا لینے میں مزید چوبیس گھنٹے کا انتظار کیوں ضروری تھا۔ کل ساری رات ملک کے چوکس میڈیا نے یہ فوری خبر دے کر قوم کو جگائے رکھا کہ پرویز مشرف اب بیرون ملک روانہ ہوئے کہ اب ۔۔۔ بالآخر یہ پتہ چلا کہ شیر سویا تھا، کمزور نہیں ہؤا تھا۔ حکومت نے سابق آمر کی بیرون ملک روانگی روک دی۔ لیکن شاید یہ اختیار محض 24 گھنٹوں کے لئے ہی تھا۔ آخر کا ر وہی ہونا تھا جو منظور خدا تھا۔ اب وزیر داخلہ سوائے اپوزیشن پر غرانے کے اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali