جا پیجی جا اور جی لے اپنی زندگی


wisi 2 babaپرویز مشرف کو دوستوں نے کتنا پیارا نام دیا تھا پیجی۔ دل کرتا ہے کہ بس پیجی کو پیار کریں اتنا پیار کریں اتنا پیار کریں کہ کیا بتائیں کتنا پیار کریں۔ ہم پاکستانیوں نے کسی سردار کو پنڈی سے لاہور وایا (براستہ) بھٹنڈہ انڈیا سے آتے نہیں دیکھا۔ پیجی نے ہمیں پنڈی سے اسلام آباد وایا کارگل آ کر دکھایا۔

ویسے تو نورجہاں نے جب میرا کرنیل نی میرا جرنیل نی گایا تھا تو میڈم کے دل میں پیجی ہی کی تصویر تھی۔ میڈم مزید امر ہو جاتی اگر ساتھ میرا کمانڈو نی بھی گا لیتی کیا جاتا، پیجی کا دل رہ جاتا۔

ہم پاکستانیوں نے کب مولوی کو برقعے میں دوڑ لگاتے دیکھا تھا پیجی نے ہمیں یہ دن بھی دکھایا۔ اس دلکش منظر کے لئے اسلام اباد کتنا دھواں دھواں کرنا پڑا کون کر سکتا تھا پیجی نے کیا۔ کیا کیا یاد کرائیں ، بلوچوں کو وہاں سے ہٹ کریں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں لگے گا۔ بلوچ شائید مڑنے میں دیری لگاتے ہیں اس لئے انہیں بروقت پتہ نہیں لگتا ۔

پیجی کے اس ڈائلاگ سے ہی سمجھنے والوں نے خدا کی قدرت دیکھی کہ بلوچستانیوں نے پیجی کو وہاں سے مارا جہاں سے اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ افتخار چوھدری بلوچستان کا وہ جدید ہتھیار ثابت ہوا جس نے پیجی کو حیران پریشان کر دیا۔

افتخار چوھدری صاحب سے بھی اپنی پیٹرول کے وہ پیسے ابھی وصولنے ہیں جو ہم لوگوں نے پھونکا پشاور سے اٹک پل کے چکر لگاتے۔ ہم لوگ دیوانے ہو گئے تھے کہ ریاست ہو گی ماں کی جیسی ، بس اسی چکر میں چوھدری صاحب کے اسقبال کو اتاولے ہوئے پشاور اٹک کے چکر لگاتے رہے۔ اب کہنے کو کچھ نہیں بس اتنا کہتے ہیں کہ افتخار چوھدری صاحب آپ کی عظمت کو سلام، پیجی کو قانونی مشورے دیتے رہے کہ کیسے عدالت سے بچ کے نکلنا ہے۔ ان مشوروں کے زور پر آپ صدارتی نظام لائیں گے، ہم دیکھیں گے کہ کیسے لاتےہیں۔

جج حضرات کو بھی کیا کہیں ایک واقعہ سنیں۔ الیکشن کے دن تھے ایک پیر صاحب اور ایک وڈے جج صاحب کے ساتھ بطور نکا ہم لور لور پھر رہے تھے۔ ہم لوگ الیکشن آبزرور تھے۔ جج صاحب نے پیر صاحب کی نہ کرنے والی بزتی خراب کر کے رکھ دی۔ پیر صاحب سہہ نہ سکے تاریخی ارشاد کیا کہ جج حضرات کی باتوں فیصلوں کا برا نہیں منانا چاہئے کرسی پر بیٹھ بیٹھ کر انکو بواسیر ہو جاتی ہے۔ اکثر فیصلے وہ اسی خونخوار حالت میں کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد جج صاحب کی مٹی سے بھی آواز نہ سنائی دی کہ بواسیر نے انہیں بھی تنگ کر رکھا تھا۔

اپنی حکومت سے ہم کیا کہیں پھر ایک قصہ ہی ہے سنانے کو۔ ہمارےاستاد دوست جیسا ایک استاد کبھی پہلے بھی گزرا تاریخ میں اس کی بڑھکیں سن کر استادوں نے اس کو اپنا صدر بنا لیا۔ استاد کا نام محمد حسین تھا، استادوں نے اس کی قیادت میں جلوس نکالا۔ انتظامیہ نے بھپرے ہوئے استاد دیکھے تو انکی قیادت کو مذاکرات کے لئے بلا لیا۔

کمرے میں بند کر کے محمد حسین صاحب کا اچھی طرح انتظام کیا انہیں جب چانن ہو گیا تو چھوڑ دیا کہ جاؤ جا کر اپنے استاد گھروں کو کو لے جاؤ۔ استادوں نے جب اپنی قیادت کی حوصلہ شکن باتیں سنیں تو محمد حسین صاحب کو لٹا کر ان میں جرات وغیرہ ڈالنے کی فوری کوششیں کیں۔ محمد حسین صاحب نے سکون سے مار کھائی اور ہاتھ باندھ کر استاد حضرات سے اپنی بات سننے کو کہا۔

محمد حسین صاحب نے اٹھ کر استادوں سے کہا اوئے منحوسو میرا نام محمد حسین ہے مجھے کیوں امام حسین سمجھا ہوا۔ یہ کہا اور دوڑ لگا دی۔ قوم کو نوید مسرت ہو کہ ہمارے وزیراعظم کا نام نوازشریف ہے، راحیل شریف نہیں، ہیں جی کچھ سمجھ آئی جی۔

دل برا نہ کریں صورتحال اتنی بھی بری نہیں۔ ہم ایک بار نکے وڑائچ کے ساتھ اپنے کزن کی الیکشن مہم کے سلسلے میں ساتھ والے پنڈ گئے۔ پنڈ کے جب نزدیک پہنچے تو سارے پنڈ کے کتے بہت ہی کتے ہو گئے۔ ہمارے پیچھے لگ گئے ، لیڈر حضرات کو اپنی لیڈری سائیکل پر رکھ کر بھاگنا پڑا۔ ڈیڑھ دو کلومیٹر دور پہنچ کر سائیکلوں پر بیٹھنے کو رکے۔ ابھی سانس وغیرہ درست ہی کر رہے تھے کہ نکے وڑائیچ نے ایک تاریخی جملہ ارشاد کیا۔ اس نے کہا یار بڑا پروٹوکول دتا سانوں اس پنڈ دے کتیاں نے۔ اس کا ترجمہ نہیں کرنا میں نے خود ہی سمجھیں۔ اس الیکشن کا نتیجہ جو بھی نکلا ہمارے ساتھ جو کتے خانی ہوئ وہ سارے علاقے میں مشہور ہو گئی۔

مشرف صاحب انقلاب بانٹنے کے نعرے لگاتے آئے تھے۔ ان کو یہاں جو پروٹوکول ملا وہ بھی ساری عمر یاد رکھیں گے۔ پیجی بندہ اچھا تھا اگر آرمی کے بینڈ میں بھرتی ہوتا خیر جو ہونا تھا ہو گیا۔ آرمی بینڈ والوں کو بھی کسی نے نئے باجے نہیں لیکر دئیے جب سے پیجی گیا ہے۔

ہم تمھیں بھول نہ پائیں گے پیجی لیکن تیرا حق ہے کہ اپنی زندگی جئیے۔ جا پیجی جا، جی لے اپنی زندگی، بجا لے اپنا طبلہ۔۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “جا پیجی جا اور جی لے اپنی زندگی

  • 18-03-2016 at 8:57 am
    Permalink

    Hahahah superb

  • 18-03-2016 at 10:01 am
    Permalink

    ھاھاھاھا ۔۔۔ یار بڑا پروٹوکول دتا سانوں اس پنڈ دے کتیاں نے۔ ھاھاھاھا ۔

Comments are closed.