’ہم سب‘ کیوں ہم سب کو شائع کرتا ہے؟


humsub-square2

ادارہ ’ہم سب‘ کے قیام کا مقصد مکالمے کی فضا کو فروغ دینا ہے جس میں معاشرے کے ہر طبقہ فکر کو اپنا موقف دینے، اور اس موقف کے حامیوں کو اس سے اتفاق کرنے اور مخالفین کو اختلاف کرنے کی آزادی دی جاتی ہے۔ بہت مختصر عرصے میں ’ہم سب‘ نے اپنے پڑھنے والوں کے دلوں میں اپنے لیے ایک ایسا مقام پیدا کر لیا ہے کہ ستیہ پال آنند، ضیا الدین یوسفزئی، عامر خاکوانی، ارشاد محمود، سبوخ سید، آصف محمود، سید مجاہد علی، نصیر احمد ناصر، رضی الدین رضی، اصغر ندیم سید، عمار مسعود، ڈاکٹر ساجد علی، مجاہد حسین، فرحت عباس شاہ، عقیل عباس جعفری، اور انیق ناجی جیسے معتبر نام ’ہم سب‘ پر تحریریں ارسال کرتے ہیں۔

دوسری طرف ہم سب نے یہ بات محسوس کی ہو گی کہ پرنٹ میڈیا میں کئی عشروں سے ادارتی صفحے پر چند نام چھائے ہوئے ہیں اور نئے لکھاریوں کے لیے وہاں جگہ بنانا ایک مشکل امر ہے۔ ایسے میں ’ہم سب‘ کے توسط سے عدنان خان کاکڑ، فرنود عالم، ظفر اللہ خان، رامش فاطمہ، ذیشان ہاشم، وسی بابا، عاصم بخشی، عثمان قاضی، وقار احمد ملک، حسنین جمال اور انعام رانا جیسے نام بھی قارئین سے مقبولیت کی سند پانے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ نئے نام اس فہرست میں شامل ہو رہے ہیں۔

’ہم سب‘ اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے جتنی تحریروں کو ممکن ہو، شائع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر تحریر ادارتی ٹیم کی نظر سے گزر کر ہی شائع کی جاتی ہے۔ ادارتی ٹیم الفاظ کی درستی اور جملوں کی تراش خراش پر کام کرتی ہے، اور مصنف کی دلیل سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرتی ہے۔ واضح رہے کہ ’ہم سب‘ کا کام صرف ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے، اور تحریر کی مقبولیت اور دلیل کے وزن کو جانچنا، پڑھنے والے کا کام ہے۔ ممکن ہے کہ ایک پڑھنے والے کو ایک دلیل بودی نظر آئے تو دوسرے کو وہ صائب معلوم ہو۔

’ہم سب‘ کا ادارتی عملہ صرف اس چیز پر نظر رکھتا ہے کہ تحریر میں وطن عزیز کی سالمیت کے خلاف بات نہ کی گئی ہو، کسی بھی مذہب کی گستاخی یا تحقیر کا پہلو اس میں نہ ہو، اور تحریر میں کسی شخصیت یا ادارے کے خلاف توہین آمیز انداز گفتگو اور دشنام طرازی یا بے بنیاد الزامات کا پہلو موجود نہ ہو۔

تحریر ہلکی ہے یا فن تصنیف کا ایک شاہکار ہے، اس کا آخری فیصلہ ادارتی ٹیم نہیں کرتی ہے بلکہ یہ فیصلہ ’ہم سب‘ کے پڑھنے والے کے ہاتھ میں ہے۔ ’ہم سب‘ کے مستقل اور چنیدہ لکھاری کالم اور بلاگ کے سیکشن میں شائع کیے جاتے ہیں۔ میری نگاہ میں اور نقطہ نگاہ کے سیکشن بیشتر صورتوں میں ان لکھاریوں کے لیے مخصوص ہیں   جو کہ ابھی اپنی جگہ بنا رہے ہیں، گو کہ گاہے بگاہے پختہ لکھاریوں اور مدیر کی تحریریں بھی ان دو سیکشنوں میں شائع کی جاتی ہیں۔ ’ہم سب‘ اس امر کو پیش نظر رکھتا ہے کہ کوئی بھی لکھاری پہلے دن سے ایک پختہ کار مصنف نہیں ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی تحریر میں ایک پختگی پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم کسی لکھاری کو پختگی کی طرف سفر شروع کرنے کا موقع ہی نہیں دیں گے، تو وہ ضائع ہو جائے گا۔

بعض دوسری ویب سائٹوں اور اخبارات کی مثال پیش کی جاتی ہے کہ وہاں تحریر شائع کرنے کا معیار بہت سخت ہے۔ کیا کسی نو آموز کے لیے ان جگہوں پر شائع ہونا ممکن ہے؟ کیا وہاں عدنان خان کاکڑ، فرنود عالم، ظفر اللہ خان، رامش فاطمہ، ذیشان ہاشم، وسی بابا، عاصم بخشی، عثمان قاضی، وقار احمد ملک، حسنین جمال اور انعام  رانا جیسے نام رفتہ رفتہ ابھر کر سامنے آ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، کیونکہ وہاں تو ان کو تحریر کا سفر شروع کرنے کا موقع ہی نہیں دیا جائے گا۔ دنیا اخبار کے میگزین ایڈیٹر جناب عامرہاشم  خاکوانی صاحب اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ دائیں بازو کے نئے لکھنے والے سامنے نہیں آ رہے ہیں۔ یہی عرض ہے کہ اگر خود کو دائیں بازو سے جوڑنے والے ادارے ہی نئے لکھاری کو ابھرنے سے روکیں گے تو پھر بس شکوہ ہی باقی رہ جائے گا، نیا لکھاری باقی نہیں رہے گا۔

جہاں تک تحریر کے نقطہ نظر اور نظریے کی بات ہے، تو ’ہم سب‘ ہر نقطہ نظر کو شائع کرنے کا قائل ہے۔ اب یہ ’ہم سب‘ کے پڑھنے والوں پر منحصر ہے کہ وہ کس مصنف کو اور کس نقطہ نگاہ کو پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ ’ہم سب‘ کسی کو زبردستی کچھ پڑھنے پر مجبور نہیں کر سکتا ہے۔ اسی طرح، ’ہم سب‘ صرف وہی شائع کر سکتا ہے جو اسے موصول ہوتا ہے۔

ایک خاص غلط فہمی یہ جنم لے رہی ہے کہ ’ہم سب‘ صرف لبرل اور سیکولر حلقوں کی ترجمانی کرتا ہے اور قدامت پرست حلقوں کی تحریروں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ یہاں یہ سوال پوچھا جانا بنتا ہے کہ کیا عامر خاکوانی، آصف محمود، فیض اللہ خان، رائے محمد حسین کھرل اور انور غازی جیسے لکھاری لبرل اور سیکولر حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں؟ کیا ان کی تحریر ’ہم سب‘ شائع کرنے سے انکار کرتا ہے؟ مسئلہ وہی ہے جس کی عامر خاکوانی صاحب نے نشاندہی کی ہے کہ قدامت پرست حلقوں سے تعلق رکھنے والے معیاری لکھاری ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ جو بھی اچھی تحریر ’ہم سب‘ کو موصول ہوتی ہے، اسے شائع کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جاتی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ قدامت پرست حلقے سے تعلق رکھنے والے انور غازی صاحب پر اسی حلقے سے وابستہ لوگوں کی طرف سے اعتراض اٹھایا جانے لگا ہے کہ انہیں ’ہم سب‘ پر شائع کیوں کیا جاتا ہے جبکہ، معترضین کے بقول، غازی صاحب کی تحریر مدلل نہیں ہوتی ہے۔ جناب انور غازی صاحب حافظ قرآن، جامعہ دارالعلوم کراچی سے درس نظامی کے فاضل، جامعہ الرشید کے شعبہ صحافت کے استاد، اور روزنامہ جنگ، روزنامہ اسلام، اور دوسرے اخبارات و جرائد کے کالم نگار ہیں۔ اگر یہ معتبر ادارے جناب انور غازی صاحب کو اہمیت دیتے ہیں، تو پھر ’ہم سب‘ کو بھی اسی کشتی کا سوار جانیے۔

ایک اعتراض محترمہ رامش فاطمہ پر بھی کیا جاتا ہے لیکن کیا اسے اتفاق سمجھا جائے کہ ان کا نام ’ہم سب‘ کے دس مقبول ترین لکھاریوں میں شامل ہے؟ ایسا ہی ایک اعتراض جناب ذیشان ہاشم صاحب کی ایک تحریر پر کیا گیا ہے۔ اس تحریر کو تئیس ہزار سے زیادہ لوگ پڑھ چکے ہیں۔ تحریر کی ٹائمنگ مناسب نہیں تھی، اور اس کے خلاف ’ہم سب‘ کے بعض دوسرے نمایاں لکھاریوں نے بھی لکھا، لیکن کیا اب ویسے معاملات ہی پیش نہیں آ رہے ہیں جیسا کہ تحریر میں پیش گوئی کی گئی تھی؟

ایک نئے لکھاری اظہر خان صاحب کی ایک تحریر ‘جدید دور کی گرل فرینڈز اور چند ٹوٹکے’ مقبول مزاح نگاروں ڈاکٹر یونس بٹ اور گل نوخیز اختر کے سے شگفتہ انداز میں لکھنے کی کوشش پر مبنی ہے۔ کیا ادارہ ’ہم سب‘، ڈاکٹر یونس بٹ اور گل نوخیز اختر صاحب کی کوئی تحریر موصول ہونے پر انہیں شائع کرنے سے بھی انکار کر دے؟

’ہم سب‘ کی ادارتی ٹیم، مدعی یا منصف یا فریق بننے سے احتراز کرتی ہے۔ یہ حق صرف ’ہم سب‘ کو پڑھنے والے کا ہے۔ وہ ’ہم سب‘ پر لکھنے والوں سے واقف ہو جاتا ہے، اور جان لیتا ہے کہ اس کے مزاج کے مطابق کون سا مصنف لکھتا ہے۔ ’ہم سب‘ کسی بھی ایک مخصوص قاری کے رجحانات کے مطابق تمام تحریریں شائع کرنے سے قاصر ہے۔

آخر میں ’ہم سب‘ کی ادارتی ٹیم، اپنے تمام لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کا شکریہ ادا کرتی ہے جن کی توجہ اور محبت سے ’ہم سب‘ اس وقت ایک مقبول ویب سائٹ بن چکی ہے اور ہم سب آپ کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ سب کی آرا کی روشنی میں، ویب سائٹ کو بہتر کرنے پر ہماری توجہ مرکوز رہے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

10 thoughts on “’ہم سب‘ کیوں ہم سب کو شائع کرتا ہے؟

  • 19-03-2016 at 7:02 pm
    Permalink

    بجا فرمایا جناب مدیر صاحب

  • 19-03-2016 at 8:11 pm
    Permalink

    آپ نے بہت اچھے طریقے سے معترضین کے اعتراضات کا جواب دیا اور خود لکھاریوں کے اذہان میں پنپنے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے

  • 19-03-2016 at 9:59 pm
    Permalink

    عمدہ جناب،یہی تو خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے ہم سب اسکے دیوانوں میں شامل ہیں

  • 20-03-2016 at 12:12 am
    Permalink

    ہم سب میں لکھنا بہت ہی اچھا تجربہ ہے۔میں بہت شکر گزار ہوں ہم سب کی ٹیم کا جو کہ نئے رائٹرز کو بھی لکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، بلا شبہ ہم سب کی ٹیم قابل تحسین ہے، میں اپنے کالم جدید دور کی گرل فرینڈز اور چند ٹوٹکے پر تعریفی الفاظ کا بہت مشکور ہوں۔ اور جس طرح میرے دوسرے آرٹیکل شادی اور آبادی کو پسند کیا گیا، اس پر بھی تمام ریڈرز کا شکر گزار ہوں۔

  • 20-03-2016 at 12:46 pm
    Permalink

    الفاظ کا انتخاب اور ان کی ترتیب کسی بھی انسان کے علم اور مطالعے کو عیاں کرنے کی سب سے روشن دلیل ہے

  • 21-03-2016 at 11:00 am
    Permalink

    وطن عزیز کی سالمیت؟؟ میرے نزدیک وطن صرف اور صرف بلوچستان ہے….تو میں مکالمے کیلئے اپنے “بودے” دلائل کہاں پیش کروں؟؟….

  • 21-03-2016 at 4:36 pm
    Permalink

    ?i wana send u my writings .how can i

  • 22-03-2016 at 3:20 pm
    Permalink

    مجھ گنہگار نے کچھ ہفتے پہلے ایک تحریر وجاہت مسعود صاحب کے ای میل پر ارسال کی۔ دو تین دن گزرے تو اس کو نہیں شائع کیا گیا۔ میں نے اسے دوبارہ پڑھا، اپنے تئیں پھر سے نوک پلک سنواری اور پھر سے اسی ای میل پر ارسال کیا۔ انتظار کیا اور کرتا رہا۔ وہ تحریر پھر شائع نا ہوسکی۔
    میں نے اپنے ناقص فہم کے مطابق کچھ نتیجے نکالے۔ اللہ کرے وہ غلط ہوں۔ ان نتائج کو میں اب زبان پر نہیں لانا چاہوں گا۔
    ایک قابلِ بحث نکتہ پیش کرتا ہوں کہ “ہم سب” شاید سب طرح کی آراء کو شامل کرتا ہے؛ میرے لئے اتفاق کرنا مشکل ہے۔

  • 29-03-2016 at 1:48 am
    Permalink

    اسلامُ علیکم، خاکسار نے کچھ ہفتے گزرے ایک تحریر ای میل کی تھی، لیکن نہ جواب آیا اور نہ ہی تحریر چھپی۔ یاد دہانی کے طور پر کچھ دن بعد دوبارہ ایک ای میل کی، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اب معلوم نہیں ایسا کیوں ہوا، لیکن ایک نئے لکھنے والے کا اعتماد اُٹھ گیا۔

Comments are closed.