چودھری لال بجھکڑ


adnan Kakar

چودھری لال بجھکڑ کا اصلی نام تو بھولا چودھری تھا، لیکن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ وہ کراچی جا کر ایک بحری جہاز میں بھرتی ہو گئے اور دیس دیس کی سیر کے کے جب وہ گاؤں واپس آئے تو ان کی عقل و دانش سے سب دیہاتی خوب متاثر ہوئے۔ دنیا جہاں کی معلومات ان کے دماغ میں موجود تھیں۔ بڑے سے بڑا مسئلہ بھی ہو تو وہ چٹکیوں میں اس کا حل پیش کر دیتے تھے۔

ایک صبح ایسا ہوا کہ دیہاتی جب سویرے اٹھے تو کچی پگڈنڈی پر ہاتھی کے پیروں کے بڑے بڑے نشان دیکھ کر حیران رہ گئے۔ رات وہاں سے سرکس والے اپنا ہاتھی لے کر گزرے تھے۔ دور دراز گاؤں تھا، کسی نے ہاتھی دیکھنا تو کجا، اس کا نام بھی نہ سنا تھا۔ حیران ہو کر سب چودھری لال بجھکڑ کو لے کر آئے اور ان کو نشان دکھا کر پوچھنے لگے کہ یہ کیا ہے۔ چودھری صاحب نے دیکھتے ہی قہقہہ لگا کر فرمایا کہ

یہ تو بوجھے لال بجھکڑ اور نہ بوجھے کوئی
پیرن چکی باندھ کہ کہیں ہرنا کودا ہوئے

یعنی یہ مشکل بات اور عقدہ لاینحل تو صرف لال بجھکڑ ہی حل کر سکتا ہے، کوئی دوسرا اتنی عقل نہیں رکھتا ہے۔ ہو نہ ہو ہرن اپنے پیروں میں چکی کے ChaudhryLalBujhakarپاٹ باندھ کر یہاں اچھلتا کودتا رہا ہے۔

ایک مرتبہ ایک لڑکا گھر کے ستون کے گرد بازو لپیٹے کھڑے تھا کہ اس کا باپ آیا اور اس نے اس کے ہاتھوں میں گرما گرم خستہ چنے پکڑا دیے۔ لڑکے نے کوشش کی کہ منہ کو ہاتھوں تک لے جائے لیکن درمیان میں ستون تھا اور اس کا ہاتھ منہ تک نہ پہنچ سکا۔ وہ رونے لگا اور اس کا باپ دوڑ کر لال بجھکڑ کے پاس گیا کہ یہ مسئلہ کیسے حل ہو کہ لڑکے کا منہ اس کے ہاتھوں تک پہنچ جائے۔ لال بجھکڑ نے کچھ دیر تک غور کیا اور پھر قہقہہ لگا کر بولا، ایسا کرو کہ جس جگہ ستون چھت سے مل رہا ہے، وہاں سے چھت توڑ دو، اور لڑکے کو اتنا اونچا اٹھاؤ کہ ستون اس کے بازوؤں کے بیچ سے نکل جائے تو اس کی مشکل
آسان ہو جائے گی۔

موبائل فون اس گاؤں تک بھی پہنچا تو گاؤں والے بہت حیران ہوئے کہ ان کے شہری عزیز فون کرتے ہی ان کو سلام دعا کہنے کی بجائے ہیلو کہتے تھے۔ آخر کار ایک سب جمع ہو کر چودھری لال بجھکڑ کے پاس پہنچے کہ پتہ تو چلے کہ یہ ہیلو کیا بلا ہے۔

چودھری صاحب نے یہ معاملہ سنا تو مسکرائے اور کہنے لگے کہ جب میں پہلی مرتبہ جہاز میں بیٹھ کر برطانیہ مانچسٹر شہر کی بندرگاہ پر اترا، تو وہاں سپاہی نے مجھے دیکھتے ہی ہیلو کہا۔ اس کا خیال تھا کہ مجھے ہیلو کا پس منظر نہیں معلوم ہے۔ میں نے پلٹ کر اسے جواب دیا کہ ’یو ہیلو ٹو‘، یعنی تم پر بھی ہیلو ہو۔ اصل میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہیلو کا لفظ ہیل، یعنی جہنم سے نکلا ہے۔ جب امریکہ میں گراہم بیل ٹیلیفون ایجاد کر رہا تھا تو اس وقت بجلی نئی نئی ایجاد ہوئی تھی۔ جب بھی وہ بولنے کے لیے اپنا دھاتی فون منہ سے لگاتا تھا تو اسے زور کا کرنٹ لگتا تھا اور وہ بے ساختہ چیخ اٹھتا تھا کہ ’ہیل‘۔ پھر یہ رواج پڑ گیا کہ لوگ فون کو منہ سے لگاتے ہی ’ہیل‘ کہنے لگے، جو بگڑتے بگڑتے ہیلو بن گیا۔ پھر جب وہاں کی حکومت کو احساس ہوا کہ اس سے قوم کا اخلاق بگڑ رہا ہے، تو اس نے شہریوں پر پابندی لگا دی کہ ایک دوسرے کو ہیلو مت کہا کریں۔ اب متعصب گورے ایک دوسرے کو تو ہائے کہتے ہیں، لیکن رنگدار لوگوں کو وہ ہیلو کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور بظاہر مسکراتے ہوئے دل ہی دل میں گالی دیتے ہیں کہ کالو، تم جہنم میں جاؤ۔

گاؤں میں ایک شخص نے کیبل لگا دی تو دنیا بھر کے معاملات کے بارے میں علم حاصل کرنے کے لیے چودھری لال بجھکڑ ہی کی خدمات حاصل کرنی پڑیں۔ اور بھلا کون تھا جس نے پچاس کلومیٹر دور کے قصبے کے علاوہ کوئی اور دنیا دیکھی ہو۔

چودھری صاحب، یہ امریکہ کہاں ہوتا ہے اور یہ کیوں باقی دنیا سے آگے ہے؟ ایک شخص نے سوال پوچھا۔

چودھری لال بجھکڑ نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگے “میرا بحری جہاز پانچ مرتبہ امریکہ جا چکا ہے۔ تقریباً پورا امریکہ میں دیکھ چکا ہوں۔ اس کا رقبہ کوئی دس ہزار مربع کلومیٹر ہے اور آبادی ایک ارب ہے۔ یعنی کوئی دس لاکھ بندہ ایک مربع کلومیٹر میں رہتا ہے۔ لیکن یہ دس لاکھ بندہ اتنی کم جگہ میں کیسے رہتا ہے؟ جب امریکہ کی آبادی بڑھنے لگی تو وہاں کے بادشاہ کو فکر ہوئی کہ کیا کیا جائے۔ اس نے اپنے وزیروں کو بلایا کہ اتنے لوگوں کو کیسے رہائش دی جائے ورنہ ایسے ہی چھوڑ دیا تو یہ ایک دوسرے کو دھکے دے دے کر سمندر میں ڈبو دیں گے۔ اس وقت ان کے لیے تو امریکہ میں کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں ہے۔ ہر شخص کو اپنا کنبہ اپنے سر پر اٹھا کر رکھنا پڑتا ہے اور کام کرنے کے لیے اس کے بازو ہی خالی نہیں ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ کوئی حل نہ کر سکا تو بادشاہ نے وہاں ایک یونیورسٹی کو یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے ریسرچ کرنے کا کہا۔ اس پر اس یونیورسٹی کے پروفیسر نے ایک اچھوتا حل پیش کیا۔ اس نے کہا کہ دو آپشن ہیں۔ یا تو ہر دس میں سے نو لاکھ آدمیوں کو سمندر میں دفن کر دیا جائے۔ اس سے سمندر سے نئی زمین بن جائے گی جہاں باقی شہری رہ سکیں گے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ ایسی عمارتیں بنائی جائیں جن کی سو منزلیں زمین کے اندر ہوں اور سو منزلیں زمین سے اوپر ہوں۔ بادشاہ نے خوب غور و فکر کر کے دوسری آپشن چوز کی۔ اس طرح جب لوگوں کو رہنے کی جگہ مل گئی تو ان کے ہاتھ فارغ ہو گئے اور انہوں نے فیکٹریاں وغیرہ لگائیں۔ ہماری حکومت کو بھی چاہیے کہ ہر گاؤں میں سو سو منزلہ عمارتیں بنانے کا حکم دے کر ملک کی آبادی بڑھانے پر توجہ دے۔ ہماری آبادی بھی ایک ارب ہو جائے گی تو ہم سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بن جائیں گے”۔

وہ شخص کہنے لگا کہ چودھری صاحب، باقی ملک کی خیر ہے، میں جا کر ذرا اپنے خاندان کو ترقی دے آتا ہوں۔


مصنف کا نوٹ

چودھری لال بجھکڑ کی کسی بھی زندہ یا مردہ یا نیم مردہ دانشور، صحافی، چودھری یا لال بجھکڑ سے مشابہت محض اتفاقی سمجھی جاوے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “چودھری لال بجھکڑ

  • 18-03-2016 at 2:22 pm
    Permalink
  • 18-03-2016 at 5:40 pm
    Permalink

    He always play a good move.

Comments are closed.