نیچریت، نصاب اور تقابلی ادب


naseer nasir ڈاکٹرعابد سیال ادب اور تعلیم دونوں شعبوں میں بڑے فعال اور متحرک ہیں۔ بنیادی طور پر سیلف میڈ انسان ہیں اور کسی شارٹ کٹ کے بجائے شبانہ روز محنت، خلوصِ نیت اور اپنے پیشے سے گہری وابستگی سے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں۔ نمل یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں پڑھاتے ہیں لیکن پروفیسری کےعلاوہ بھی وہ کوئی نہ کوئی ادبی و علمی کام کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی کتاب شائع کر دیتے ہیں، کبھی کوئی جریدہ نکال لیتے ہیں۔ کبھی کوئی تحقیقاتی ادارہ بنا لیتے ہیں، کبھی لائبریری اور کبھی پی ایچ ڈی اسکالرز کے لیے کوئی تربیتی اکیڈمی۔ کبھی اپنے ادارے کے تحت کوئی سیمینار اور کبھی کوئی مشاعرہ۔ کبھی تنقیدی نشستوں اور کبھی ادبی کالموں کی اشاعت کا سلسلہ شروع کر لیتے ہیں، کہیں مستقل رکتے نہیں، لیکن جو کام کرتے ہیں سلیقے اور وابستگی سے کرتے ہیں۔ آج کل چینیوں کو اردو پڑھانے چین گئے ہوئے ہیں۔ عمدہ شاعر ہیں مگر کبھی شاعری کا رعب نہیں ڈالتے۔ یہ محض چند اوصاف ہیں، ان کے تمام گن تو ان کی عزیز ترین شاگردہ فاخرہ نورین ہی بتا سکتی ہیں جو اب خود بھی سچ مچ کی استاد اور فنِ ترجمہ کاری کی ماہر ڈاکٹر بن چکی ہیں مگر پتا نہیں کیوں مجھے لگتا ہے کہ وہ شاگردی سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں مبادہ کوئی اور ان کے استادِ محترم کی شاگردِ عزیز بن جائے۔ بلکہ اب تو  ان کے تازہ ترین برین چائلڈ “ادبی کالم” کی شریک مدیرہ بھی بن گئی ہیں اور مجھے اس کے لیے کالم لکھنے کی دعوت نہ دے کر مدیرانہ خفگی کا اظہار بھی کر چکی ہیں۔ اسی سے اندازہ لگا لیجیے کہ وہ یعنی عابد سیال کتنے پیارے اور گنونتا ہیں۔ ان سے مل کر تو مجھ جیسے اَن پڑھ کا بھی پی ایچ ڈی کرنے کو جی چاہتا ہے۔ لیکن اس کے لیے پہلے ایم اے اردو کرنا ضروری ہے جو اپنے بس کا روگ نہیں۔ کچھ عرصہ ہوا ڈاکٹر عابد سیال  نے ادارہ تحقیقاتِ اردو کے تحت ” ادب میں فطرت نگاری” کے موضوع پر سیمینار منعقد کر کے نہ صرف پُر مغز مقالات سننے کا موقع فراہم کیا بلکہ مجھ جیسے عامی کو بھی، جس کا کسی یونیورسٹی سے تعلق ہے نہ کسی اکیڈمی سے، اس تقریب کی صدارت اور اس موضوع پر اظہار خیال کے لیے آمادہ کر لیا۔ ہر چند کہ میں نے انہیں اس سے باز رکھنے اور تقریب میں تاخیر سے پہنچ کر گویا انہیں باور کرانے اور موقع فراہم  کرنے کی پوری کوشش کی کہ وہاں تشریف فرما محترم یوسف حسن کی موجودگی میں کوئی اور منصبِ صدارت کا اہل نہیں ہو سکتا۔ لیکن عابد سیال اپنے “جٹگانہ” ارادے کے ” ٹھوس” نکلے۔ حالانکہ میں انہیں ہیر والا سیال نہیں مائع والا سیال سمجھتا ہوں۔ نتیجتہً جب صدارتی تقریر شروع ہوئی تو یوسف حسن دانش و ترقی پسندی کی استغراقی نیند میں چلے گئے اور اس وقت جاگے جب تقریر ختم ہو گئی۔

فطرت نگاری یا نیچریت یا نیچرل ازم صرف مظاہرِ فطرت کے بارے میں لکھنے کا نام نہیں جیسا کہ ہمارے ہاں عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ محض درختوں، پھولوں، جنگلوں، پہاڑوں، پرندوں، گلہریوں، چوپایوں وغیرہ کا ذکر فطرت نگاری نہیں۔ لفظ فطرت ہی کو دیکھیں۔ حفیظ صدیقی کی مرتب کردہ تنقیدی اصطلاحات کی کتاب کے مطابق ادب اور فن کی دنیا میں لفظ فطرت چار مختلف مضمونوں میں استعمال ہوتا ہے۔ صحیفہ ء فطرت یعنی خارجی کائنات، قوانینِ فطرت، ہر چیز کی مخصوص افتادِ طبع اور انسانی سرشت۔ ادب و فن میں یہ اصطلاح وسیع معانی کی حامل ہے۔ اشیا، انسان اور دیگر جاندار، مظاہرِ قدرت اور ان کی طبعی حالت، انسانی جبلت، سادہ پرستی اور یہاں تک کہ طبعی اخلاق اور مذہب بھی نیچرل ازم میں آتے ہیں۔ اس لحاظ سے فطرت نگار یا نیچری محض مطاہرِ فطرت کے بارے میں لکھنے والا یا ان کی منظر نگاری کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ فطرت میں عقیدہ رکھنے والا، فطرت پرست، طبعی تاریخ، علم طبیعات اور حیوانات کا ماہر بھی ہوتا ہے۔ دراصل فطرت نگاری حقیقت نگاری کا وہ انداز ہے جو انیسویں صدی کے نصف آخر میں نمودار ہوا اور جسے فرانسیسی ادیبوں زولا اور موپساں نے اپنایا۔ ادبی مواد اور موضوعات میں آزادی اور فطری انسانی جذبات و احساسات کا اظہار اس ادبی اسکول یا مسلک کی اہم خصوصیات ہیں۔ اگر فلسفے کی رُو سے دیکھا جائے تو ادب میں جمالیات مظاہرِ فطرت ہی کی دین ہے اور جمالیاتی حسیات میں انہی مظاہر کا اظہار جھلکتا ہے۔ شاید ہی کوئی اعلی درجہ کا ادب یا فن پارہ ہو جس میں مظاہرِ فطرت کے اثرات نہ ہوں۔ فیثا غورث، سقراط، ارسطو، ہیگل اور دیگر فلسفیوں کے نظریات کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ ادبی جمالیات، تخلیقی قوت اور مظاہرِ فطرت کا باہمی تعلق کتنا گہرا ہے۔ ارسطو نے تو فطرت کو تخلیق کا سب سے بڑا استعارہ قرار دیا ہے۔ ہیگل نیچریت کے فلسفے کا بانی تھا۔

اردو ادب میں سب سے پہلے سرسید احمد خاں کی تحریک نے اردو نظم میں فطرت نگاری پر بڑے اثرات مرتب کیے اور ادب میں فطرت نگاری ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ سرسید کے مخالفین طنزاً انہیں نیچری کہا کرتے تھے۔ اردو میں نیچرل شاعری کی اصطلاح مولانا آزاد اور مولانا حالی کے ذریعے متعارف ہوئی۔ جدید نظم کے تشکیلی دور میں عبدالحلیم شرر کی مثال دی جا سکتی ہے جو علی گڑھ تحریک کے رکن تھے۔ اُس دور اور فوراً بعد کے دیگر شعرا میں نظیر اکبر آبادی، الطاف حسین حالی، اسماعیل میرٹھی، علامہ اقبال، ظفر علی خان، اختر شیرانی، حفیظ جالندھری، احسان دانش وغیرہم شامل ہیں۔ میر انیس اور میر حسن کی مثنویاں بھی اس ذیل میں رکھی اور پرکھی جا سکتی ہیں۔ جب کہ اردو کے جدید تر ادب بطورِ خاص شاعری میں فطرت نگاری سے لبریز فن پارے با افراط موجود ہیں۔ لیکن انہیں ایک خاص عہد سے آگے آ کر اور ایک نصابی طرزِ فکر سے ہٹ کر پرکھنے والے نقاد نہیں۔

انگریزی اور امریکی ادب بالخصوص شاعری کے حوالے سے ہمارے ہاں ایک نصابی سی فہرست ہے جو سب اساتذہ کو ازبر ہے۔ کولرج، بائرن، کیٹس، ورڈزورتھ، شیلے، رابرٹ فراسٹ وغیرہم۔ لیکن امریکہ کے سٹیفن کرین اور فرینک نورس کو زیادہ نہیں جانا جاتا حالانکہ فرینک کرین کو پہلا امریکی نیچرلسٹ کہا جاتا ہے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ انیسویں اور بیسویں صدیاں جہاں سائنسی ایجادات کی تھیں وہاں شعر و ادب میں یہ فطرت نگاری کی صدیاں تھیں۔ یہ نصابی جبر ہے کہ جب اردو میں فطرت نگاری کی بات ہوتی ہے تو موسموں، چوہوں، گلہریوں اور گایوں پر بچوں کے لیے لکھی نظموں سے آگے نہیں بڑھتی۔ اور جب انگریزی ادب میں فطرت نگاری کی بات کی جاتی ہے تو ہمارے اساتذہ بس انگلستان کے ادب سے آگے نہیں بڑھتے۔ جبکہ امریکی ادب اور لاطینی امریکہ میں بھی فطرت نگاروں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ گارشیا مارکیز بھی فطرت نگار ہے تو شاید آپ سب ہنسنے لگیں کہ وہ تو طوائفوں کی پیچیدہ زندگیوں کے بارے میں لکھتا ہے۔ لیکن دراصل تو وہ انسانی فطرت ہی کی بات کرتا ہے جو محبت سے لے کر انقلابی تحریکوں تک زندگی میں کارفرما ہے۔ پابلو نیرودا کو اس ضمن میں کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ جب تک ہم فطرت نگاری کے اصل اور وسیع تر معانی نہیں سمجھتے ہم جدید ادب، چاہے وہ فکشن ہو یا نظم، کی صحیح تفہیم نہیں کر سکتے اور نہ اس کی ارفعیت کا تعین کر سکتے ہیں۔ ہماری جامعات میں ابھی تک انگریزی ادب ہی پڑھایا جاتا ہے اور کالونیل ازم کی وجہ سے اس سے مراد انگلستان کا ادب لیا جاتا ہے جس میں اسکاٹ لینڈ، آئر لینڈ، ویلز اور انگلستان کی کچھ سابقہ کالونیز بشمول امریکہ کا ادب بھی آ جاتا ہے۔ جبکہ انگریزی ادب سے مراد اب دنیا بھر کا وہ ادب ہونا چاہئے جو انگریزی زبان میں لکھا گیا ہو۔ چنانچہ صدارت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے ” ڈرتے ڈرتے” اپنی اس دیرینہ خواہش اور سوچ کا اظہار کر دیا، جو پہلے بھی موقع بموقع کر چکا ہوں، کہ باقی دنیا کی طرح کیوں نہ ہم بھی اپنے ادبی نصاب کو وسعت دے کر اسے عالمی ادب سے ہم آہنگ کریں، شیکسپیرئین مراق سے باہر نکلیں، محض انگلستان کے انگریزی ادب تک محدود نہ رہیں بلکہ دوسرے یورپی، امریکی، لاطینی امریکی، روسی، افریقی، مشرقِ وسطی، مشرقِ بعید و دیگر ایشیائی ممالک کے ادب کو بھی یونیورسٹی کی سطح پر نصاب میں شامل کریں۔ اس طرح طلبا و طالبات کو دنیا بھر کے ادب اور ادبی تواریخ و تحاریک سے آگاہی حاصل ہو گی، نئی نسل میں غیر ملکی زبانوں کو سیکھنے کا رجحان بڑھے گا جو آج کے دور کی ایک اہم ضرورت ہے اور تراجم کو بھی فروغ حاصل ہو گا۔ میری تجویز ہے کہ یونیورسٹیوں میں انگریزی ادب کے بجائے عالمی ادب (بشمول انگریزی ادب) یا تقابلی ادب میں ایم اے، ایم فِل اور پی ایچ ڈی کی مکمل الگ ڈگری ہونی چاہیے۔ اس وقت دنیا میں سینکڑوں یونیورسٹیاں ہیں جہاں عالمی اور تقابلی ادب پڑھایا جاتا ہے۔ امید ہے کہ جامعات سے وابستہ احباب اس تجویز کو مثبت انداز میں آگے بڑھائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “نیچریت، نصاب اور تقابلی ادب

  • 19-03-2016 at 11:04 pm
    Permalink

    جناب نصیر احمد ناصر شاگرد ڈاکٹر بھی بن جائے استاد کا شاگرد ہی رہتا ہے۔ آپ کی خوبصورت تحریر نے راولپنڈی آرٹس کونسل کی وہ شام تازہ کر دی جب آپ اور الیاس بابر اعوان فطرت نگاری اور ادب پر اپنے اپنے خیلات کا اظہار کر رہے تھے۔ جناب آپ کی محبت اور گلہ سر آنکھوں پر۔ یہ کالم غالبا اردو کالم میں شائع ہونا تھا اگر میری مدیرانہ سستی آڑے نی آتی۔

  • 26-03-2016 at 12:56 pm
    Permalink

    آپ کی نثر جتنی معلوماتی ہوتی ہے اتنی ہی شگفتہ اور پرتاثیر بھی لیکن اس کی ایٹیلکچوئل سطح بھی بلند ہی رہتی ہے

Comments are closed.