مگر یہ تو بتاو ہم کس سے کہیں


پولیس کے بارے میں عام شہری کے تاثرات منفی ہیں۔ میں نے سوچا خود اپنی آنکھوں سے پڑتال کی جائے، مشاہدہ کیا جائے، احوال معلوم کیا جائے، کچھ تجزیہ کیا جائے۔ یہی مشق کرنے دُپہر دو بجے کر دس منٹ پہ ایک تھانے، وہاں کی صورتحال جاننے جا پہنچا۔ احتیاط کے پیش نظر تھانے میں داخل ہونے سے پہلے میں نے اپنے بائک کو آدھا کلو والا تالا لگایا۔ تھانے کی چاردیواری میں داخل ہونے سے پہلے گیٹ پہ بیٹھے پولیس اہلکار کو مصافحہ کرتے سلام کیا۔

”صاحب جی کہاں ہیں؟“
اہلکار نے مودبانہ لہجے میں جواب دیا، کہ صاحب جی اندر کمرے میں ہیں۔ میں ٹوٹے پھوٹے کمرے میں داخل ہوا، تو دکھائی دیا کہ صاحب بہادر کرسی پہ بیٹھے ہیں۔ ان کے دائیں بائیں دو منشی منکر نکیر کی طرح براجمان ہیں۔

خوش خلقی کا تقاضا تھا، سو میں نے صاحب جی کو سلام کیا۔ صاحب جی نے بیٹھے بیٹھے بے پروائی سے ہاتھ ملایا اور کچھ لوگوں سے ”ضروری“ بات کرنے لگے۔ میں نے دیکھا کہ ایک ایسا سائل بھی موجود ہے، جس کی بائک کے کاغذات نہ تھے۔ صاحب جی نے خشک لہجے میں کہا، ”کاغذات لے آو اور بائیک لے جاو“۔
”ملزم“ صاحب جی کو منت سماجت کرنے لگا، ”کاغذات گھر پہ بھول آیا ہوں“۔

صاحب جی نے قانون کے احترام کے پیش نظر واضح کیا، کہ ”پہلے کاغذات لاو، پھر بات کریں گے“۔ اس دوران صاحب جی کو خیال آیا کہ ”ملزم“ کے بارے میں مزید تفتیش کی جائے۔ ”کیا کرتے ہو؟“ وہ منمنایا، ”کسان ہوں“۔ صاحب جی نے تیز لہجے، کرخت آواز میں کہا، ”ہاتھ دِکھاو“۔ اس نے اپنا ہاتھ صاحب جی کے ہتھیلی پہ رکھا۔ صاحب جی کی تفتیش انجام کو پہنچی۔ ”تم تو اپنے ہاتھ سے چور لگتے ہو، نہ کہ کسان“۔

داد کے ڈونگرے کیا برساتا کہ میں تفتیش کا ”سائنسی“ طریقہ دیکھ کر مبہوت تھا۔ زرا سنبھلا تو عرض گزار ہوا، ”سر جی بلاگ کے لئے آپ سے کچھ بات کرنا ہے اور یہ کہ آپ لوگوں نے علاقے سے کن کن جرائم کا خاتمہ کیا ہے، نیز کون کون سے مسائل ابھی موجود ہیں۔“

میری بات پوری ہوئی نہ تھی کہ صاحب جی کے ایک منشی چونک اٹھے، ”شہر تو مسائلستان ہے، کس کس پہ لکھو گے؟“
دوسرا منشی بھی چوکنا ہوچکا تھا، ”جاو یار، سڑک پہ کسی مزدور کا انٹرویو لے لو“۔

اس میں حیرانی کی بات نہیں، کہ شاہ سے زیادہ، شاہ کا وفادار اس کا منشی ہوتا ہے۔ اس دوران صاحب جی کو یاد آگیا کہ کیا انتہائی ضروری کام کرنا باقی ہے۔ انہوں نے اپنی ٹوپی اٹھائی اور ہاتھ پہ پھیرتے ہوئے کہا، ”ایسا کرو ایک گھنٹا آپ تھانے میں انتظار کرو، بعد میں آپ سے کچھ بات کرتا ہوں“۔
صاحب جی مجھے اکیلا چھوڑ کر اپنی بغیر نمبر پلیٹ والے کار میں سوار ہوکے علاقے کے گشت پہ چلے گئے۔ میں نے اپنا بائک کا تالا کھولا اور گھر کی طرف چل پڑا۔

آپ اسے فسانہ سمجھ کے پڑھ رہے ہوں گے، جبکہ یہ ہڈبیتی ہے۔ آپ سوچیں گے اس میں کیا تھا کہنے کو، یہ تو معمول کی کہانی ہے۔ جی ہاں! یہ معمول کی کہانی ہے کہ جنہیں مظلوموں کی دادرسی کرنا ہے، وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں بے حسی کی حد تک غفلت برت رہے ہیں۔ اچھا جانے دیجیے، آپ میرا دُکھ نہیں سمجھے، نہ سہی۔ مگر یہ تو بتاو ہم کس سے کہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں