پاکستان کو ایک نئی قرارداد کی ضرورت


 raaziaقرارداد پاکستان اور پھر قرارداد مقاصد ہم سبھی اپنے بچپن سے پڑھتے چلے آرہے ہیںجن میں بنیادی انسانی حقوق کا بھی ذکر ہے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اہم نکات بھی درج ہیں ۔ جہاں پاکستان کی نظریاتی اساس اور ہماری جداگانہ حیثیت کا ذکر ہے تو وہیں قرآن و سنت کو بھی ان قراردادوں کا ماخذ قرار دیا گیا ہے ۔

لیکن برا نہ مانیں تو یہ ضرور ذہن میں رکھئے کہ بلاشبہ ہمارے آئین ساز اداروں کی نیت بری نہیں تھی وہ مملکت خداد اد کے باسیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن کیا یہ ’مقدس قوانین ‘ صرف آئین کی کتابوں کی زینت بنا دینے کے لئے ہی کافی سمجھ لئے گئے ؟ یا ان پر کوئی عمل درآمد بھی ہونا چاہیے تھا ؟ ہر سال 23مارچ آتا ہے اور اللہ کے کرم سے اب تو فوجی پریڈ بھی ہونے لگی ہے جو ہمارے ملک کی ایک اہم قومی تقریب تصور کی جاتی ہے ۔خیر مقتدر طبقہ تقاریر کر کر کے عوام الناس کو یہ سکھا دیتا ہے کہ ان کا فرض کیا ہے اور انھوں نے ملک و ملت کے لئے کیا کیا خدمات سرانجام دینی ہیں ؟ یعنی الٹی کنگا والا حساب کہ حکومت عوام کا احتساب کر رہی ہے اور انھیں ہی سب اچھا کرنے کی نصیحت کی جا رہی ہے ۔سیاسی جماعتیں ہیں تو وہ انقلاب اور آزادی کے نعرے دے کر غائب ہو جاتی ہیں ۔بھائی بات یہ ہے کہ دنیا میں ایک تغیر ہے ، کسی کو ثبات نہیں ، کسی بچے کو ہی دیکھ لیں آج ایک چیز کے لئے ضد کرے گا تو کل کوئی او ر شے بھانے لگے گی ۔

جب ہر کوئی تبدیلی چاہتا ہے تو کیا ہمارے ملک کو تبدیلی کی ضرورت نہیں ؟ بالکل ہے لیکن آپ یہ مت سمجھ لیں کہ میرا مطلب ہے کہ خدا نخواستہ ان قراردادوں کو ہی ختم کر دیں اور کچھ نیا لے آئیں ہر گز نہیں ۔ میرے خیال کے مطابق پاکستان کو ایک ایسی نئی قرارداد کی ضرورت ہے جو سب سے پہلے ملک میں قانون کے نظام کو ٹھیک کرے ۔ یعنی قانون کی حکمرانی ہو اور وہ سب کے لئے ایک جیسا اور برابر ہو ۔ پاکستان کا کوئی بھی شہری خواہ اسکا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو اس کو اس کے بنیادی حقوق ملیں ۔

پاکستان کو عہد حاضر میں غربت ، جہالت اور انتہا پسندی کا سامنا ہے لیکن کیا کسی نے یہ سوچا ہے کہ ان سب مسائل کا نہ صرف آپس میں گہرا تعلق ہے بلکہ مزے کی بات یہ ہے کہ حل صرف ایک چیز قانون کی بالادستی میں ہے ۔ ہم آج محض اس لئے ہی پریشان ہیں کہ منصف آزاد نہیں ،وہ مقتدر طبقے کے سامنے پابند سلاسل ہے ، بے بس اور سرنگوں ہے ۔ آج اگر نچلی سطح سے لے کر عدالت عالیہ تک بے خوف و خطر ہو کر کام کریں تو کوئی مسئلہ ہی جنم نہ لے ۔

یقین مانئے میرا ملک بہت اچھا ہے ، یہاں کے لوگ خوب صورت دل کے مالک ہیں ۔ ہمارا امیج بھی برا نہیں ، مسائل کے باوجود ہم سروائیو کر رہے ہیں ۔ لیکن کمی کس چیز کی ہے صرف ایک ایسی قرارداد کی جو وطن کی محبت کے جذبے سے گندھی ہو ئی ہو ، ایک ایسی تحریر کی ضرورت ہے پاکستان کو جو دل پر اثر کرنے والی روشنائی سے لکھی ہوئی ہو ۔ہمیں ایک ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں نہ صرف قدامت پسندی کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہو بلکہ لبرل ازم کے حقیقی وارثین کوبھی گولی کا نشانہ نہ بنایا جائے ۔ پاکستان کو ایک سچی قرارداد کی ضرورت ہے جس کے مطابق ایک ایسا لبرل معاشرہ بنایا جائے کہ سچ بولنے والے بے خوف ہو کر سچ بولیں اور انھیں یہ ڈر نہ ہو کہ ابھی کوئی بھی آکر ان کی حیات کی شمع گل کر دے گا ۔


Comments

FB Login Required - comments