مشرف کی روانگی اور آہ وزاریاں


husnain jamal (2)

صدر مشرف آج بہ خیر و عافیت دبئی روانہ ہو گئے۔ ’گئے ہیں آپ ‘ نکل اب لکیر پیٹا کر!

محترم بلاول زرداری کا ایک بیان پڑھنے میں آیا کہ جس میں وہ فرماتے ہیں کہ شہید بی بی نے مشرف کو اپنی اصل طاقت سے محروم کیا، یعنی وردی سے اور آصف زرداری نے انہیں قصر صدارت سے باہر نکال پھینکا، بتائیے آپ نے کیا کیا؟ آزاد کر دیا؟ گو نواز گو!

قاضی جی کے گھر کے چوہے اب اتنے سیانے ہو گئے ہیں دوستو کہ ان بول بھاشنوں میں ان کو پرانی فلمیں چلتی نظر آتی ہیں۔ اس بات کو چھوڑیے کہ چوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا کہا، ظاہری بات ہے، ان کے پاس یہی بچا تھا کہنے کو، یہی گھرکیاں اور یہی تشنے ان کی جگہ پر موجود ہر وزیر دیتا، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ بلاول جو سیاسی افق پر آہستہ آہستہ نمودار ہو رہے ہیں، ان کے پاس نیا کیا ہے؟ اگر وہی سب پرانی باتیں دہرانی ہیں تو اس بار یہ ڈوبتی کشتی گویا نئے کپتان کے ساتھ ڈوبے گی۔

جس طرح مشرف صاحب نے وردی اتاری، پھر جیسے صدارت چھوڑی، اس سب معاملے میں نام نہاد ہی سہی لیکن وکلا تحریک اور دوست ممالک کا دباو ابھی کل ہی کی بات ہے۔ مانتے ہیں بی بی قتل ہوئیں تو میثاق جمہوریت نے کئی لوگوں کو بے دست و پا کیا لیکن اس طرح جوتوں سمیت آنکھوں میں گھس آنا اور یہ دعویٰ کرنا کہ ہم نے انہیں ایوان صدر سے باہر نکال پھینکا، یہ کچھ کاغذی شیروں کی سی حرکات ہیں جو بلاول زرداری کو بہرحال زیب نہیں دیتیں۔

پیپلز پارٹی کے گذشتہ دور حکومت میں فقیر سمیت لوگ اس انتظار میں رہے کہ اور کچھ نہیں کم از کم بی بی کے قتل کا مقدمہ فیصل ہو جائے، مگر نہیں ہوا۔ بات طعنہ دینے کی نہیں ہے، بلاول کی والدہ تھیں، صدر زرداری کی اہلیہ تھیں، انہی کی شہادت کا ووٹ پڑا اور پارٹی اقتدار میں آئی، لیکن مقدمہ کیوں لٹکا رہا؟ پھر تقریباً تین چوتھائی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت میں آئی ہوئی جماعت تھی جو چاہتی تو جنرل مشرف کا مواخذہ بہت آرام سے کر سکتی تھی لیکن بہرحال انہیں بھی مفاہمت کے بندھن میں باندھا گیا اور توپ دم کرنے کی حسرتوں میں اکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ رخصت کیا۔ پھر جب وہ باعزت ملک چھوڑ گئے تو وزیر داخلہ کا ادھر ادھر ٹاپتے پھرنا اور انٹرپول کی مدد مانگنا بھی ہمیں یاد ہے۔ پھر اس دور میں بھی مقننہ پر سب کچھ ڈال دینا اور مقتدرہ سے ’پیری پیناں ‘ (پیر پڑنے) قسم کا جو سلوک رہتا تھا، اس کے بھی اخبارات گواہ ہیں۔

دیکھیے جو رکاوٹ اس وقت پیپلز پارٹی کو تھی، وہی آج نواز شریف کی راہ میں حائل ہے۔ نظر نہ آنے والی مقدس طاقتوں کی آغوش میں مشرف بہ حفاظت روانہ ہوئے اور پھر سن لیجیے کہ یہی بہتر تھا۔ جو لوگ سسٹم چلتا رہنا چاہیے، یا جمہوریت کو موقع ملنا چاہئیے قسم کی سوچ رکھتے ہیں کم از کم انہیں ماضی کی تمام تر درخشندہ روایات دیکھ کر صبر کرنا چاہئیے اور سمجھنا چاہئیے کہ فلاح کا رستہ یہی تھا۔ ورنہ وہ دن بھی زیادہ دور نہیں گئے جب عدالتیں پی سی او ہو جاتی تھیں، ادارے اپنی جگہ مکمل بھرم سے موجود ہوتے تھے اور بی جمہوریت بے چادری ہوئی گھومتی تھیں۔

زرداری جونیر نے جو بیان دیا اس کی جگہ اگر وہ یہ دعویٰ کرتے کہ آئین توڑنے والے کو فرار کروا دیا تو کچھ بات میں وقعت اور بالغ نظری بھی نظر آتی اور یہ ۹۰ کی سیاست والے مناظر بھی آنکھوں کے آگے نہ آتے، یا کم از کم وہ بگٹی قتل کیس کا ہی ذکر کر دیتے تو شاید ان کے بیان میں کچھ اخلاقی جان پڑ جاتی۔ کیونکہ سابق صدر مشرف اب بھی اپنے اسی پاسپورٹ پر تشریف لے گئے ہیں کہ جس پر آپ کے دور میں روانہ ہوئے تھے۔

لکیر کھینچ کے بیٹھی ہے تشنگی میری
بس ایک ضد ہے کہ دریا یہیں پہ آئے گا

بلاول صاحب، سیاست میں اب اس شعر کی عملی تفسیر بنے بیٹھنے کے زمانے لد گئے، اگر آپ آج بھی لغو قسم کی طعنے بازی کریں اور منشور کے نام پر آپ کے پاس دھیلے کا حساب کتاب نہ ہو اور وہی پرانے رونے دہراتے جائیں گے تو لوگ اب زیادہ آسرا نہیں کرتے اور اس کا ثبوت ابھی کل کے الیکشن میں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں۔ طالع تو بہرحال حکم ران جماعت کے عروج پر ہیں ہی، لیکن کچھ چیزیں بہرحال ایسی آپ کو ڈھونڈنی پڑیں گی کہ جن کی بنیاد پر وہ ڈھائی سال بعد بھی ووٹ لیے جا رہے ہیں اور ایسا امیدوار کھڑا کر کے جیتتے ہیں کہ جو تین دفعہ سیاسی پارٹیاں بدل چکا ہے۔

بھٹو، ضیاالحق، بے نظیر، نوازشریف، الطاف حسین، عمران خان، سب کے سب جمہوری عمل کا حصہ ہیں، لیکن جمہور اب کچھ کچھ بدلتا نظر آ رہا ہے۔ اس کی وجہ آپ مسلسل سیاسی عمل کی کامیابی جانیں یا ذرائع ابلاغ کا انقلاب کہہ لیں مگر شخصیت پرستی کا طلسم کچھ ٹوٹتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا بین ثبوت تحریک انصاف کا جھاگ کی طرح بیٹھنا اور پیپلز پارٹی کا بری طرح ناکام ہونا ہے۔ ایم کیو ایم کو بھی اب جن مسائل کا سامنا ہے، پارٹی میں موجود اہل نظر اس کی پیش گوئی کب سے کیے بیٹھے تھے۔

آخر میں چوں کہ ہمارے مرغے کی ٹانگ ایک ہے اور ہمارے یہاں کوا سفید ہوتا ہے تو یار لوگوں کو پھر سے یاد دلا کر جاتے ہیں کہ اگر آپ سب ایک ہی زلف کے مجازی و معنوی اسیر ہیں تو بھائیو یہ بے کار کی لڑائیاں چھوڑیں، اب تو عوام بھی جانتے ہیں کہ چار کھونٹ جانا ہے اور پانچویں کھونٹ کی مناہی ہے تو بس اپنا اپنا کام کریں اور حمام میں مل جل کر رہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 145 posts and counting.See all posts by husnain