کرپشن، احتساب اور ریاستی ادارے


سید وارث علی شاہ

waris

پاکستان میں ایک عرصہ کے بعد ایک دفعہ پھر سیاسی جمہوری عناصر کے خلاف کرپشن اور احتساب کی مہم شروع گئی ہے۔ ماضی میں سیاسی حکومتوں کے خلاف نادیدہ مقتدر قوتوں کی طرف سے مارشل لاء لگانے سے پہلے اسکی راہ ہموار کرنے کیلئے کرپشن کہانیاں پھیلائی جاتی تھیں اور اس وقت کے رسائل اورجریدوں میں بر سر اقتدار سیاسی رہنماوں کے بارے میں سکینڈل شائع کروائے جایا کرتے تھے یا یوں کہہ لیں کہ شائع ہوتے تھے اور نتیجۃ کچھ دنون یا ہفتوں بعد وہی صدا ایک بار پھر ریڈیو پاکستان پرــــ “میرے پیارے ہم وطنو؛ اسلام علیکم”، سنائی دیتا تھا۔
یاد رہے کہ نیب پر وزیراعظم کی بہاولپور دورہ کے دوران برہمی اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا اعتراف کہ انکی حکومت یعنی پیپلز پارٹی تو ۲۰۰۸ میں ہی نیب پر پابندی لگانا چاہتی تھی جیسے واقعات و بیانات بلاوجہ نہیں۔
وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف بھلے احتساب کی گونج کو جس حوالہ سے دیکھیں ۔ واللہ عالم ۔غیبی یا حاضر مقتدر قوتیں کس موڈ میں ہیں لیکن یہ طے شدہ امر ہے کہ بے لاگ، شفاف و منصفانہ کڑا احتساب اور کرپشن کا مکمل ہونا اشد ضروی ہے خواہ وہ نیب کرے یا یف آئی اے کرے۔ اس ملک کا ہر شہری اس دھرتی پر کرپشن کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے، نیز تمام ریاستی و غیر ریاستی اداروں بشمول سیاسی جماعتوں اور انکے رہنماوں کا بے لاگ اور شفاف احتساب ہی نہیں بلکہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں قانون کی حکمرانی و نظم و ضبط کی پابندی کا شدت سے خواہاں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میڈیا نے جب بھی ان مذکورہ ریاستی اداروں، طبقوں بالخصوص سیاسی جمہوری حکومتوں کے شفاف احتساب اور کرپشن کے خاتمہ کی بات کی ہے۔ عوامی حلقوں نے ہمیشہ بھرپور ساتھ دیا ہے لیکن چند دن یا ایک آدھ ہفتہ کے بعد میڈیا کی ترجیحات غالباً بدل جاتی ہیں یا کوئی اور واقعہ عوامی توجہ کھینچ لیتا ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ا ب اگر کوئی مقتدر ادارہ یا حکومت چاہے تب بھی اس کیلئے ریاستی یا غیر ریاستی اداروں سمیت سیاسی رہنماوں، بیوروکریٹ،عدلیہ، فوج، میڈیا، صنعت کار اور تاجروں کا شفاف احتساب،کرپشن کے خلاف آپریشن سمیت قانونی و عدالتی کارروائیوں کو مزید روکنا بہت مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بن چکا ہے۔
ان مذکورہ ریاستی اداروں اور سیاسی طبقوں میں کرپشن اپنی حدود و قیود سے آگے بڑھ چکی ہے۔ کرپشن پر کنٹرول کرنے کے ضمن میں ہمارے ریاستی ادارے اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ کرپشن قومی، سیاسی، انتظامی، عدالتی، کاروباری و تجارتی نظام سمیت ہمارے قومی مزاج میں اس حد تک سرایت کر چکی ہے جیسے انسانی خون میں پانی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 12، ارب روزانہ کی کرپشن ہو رہی ہے یعنی 4380 ارب روپے سالانہ۔ یہ ہندسہ ناقابل یقین حد تک خطیر ہے مگر مبنی برحقیقت ماننا پڑے گا کیونکہ سرکاری اداروں کا توثیق کردہ ہے۔
یقین کریں کہ اگرکسی طرح قومی ریاستی ادارے اس کرپشن پر کنٹرول کر لیں تو پاکستان کو اپنے میگا انرجی پیداواری پراجیکٹ کی تکمیل کیلئے کسی عالمی فنانشل ادارے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک یا کسی ڈونر مالیاتی ایجنسی سے قرض کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یاد رہے کہ ملک میں انرجی کے زیر تعمیر و تجویز کردہ تمام پراجیکٹس کی مجموعی تخمینہ لاگت تقریبا 5289، ارب رو پے یعنی ان مذکورہ پراجیکٹ کی تکمیلی لاگت بھاشا ڈیم 1335 ارب روپے، داسو ڈیم 895 ارب روپے، سنائی ڈیم 828 ارب روپے، کالا باغ ڈیم 1090 ارب روپے، پتن ڈیم 939 ارب روپے اور تھاکوٹ ڈیم 939 ارب روپیہ ہے۔ باالفاظ دیگر مذکورہ روزانہ کرپشن کی ڈیڑھ سال تک کی مجموعی رقم سے بھی کم۔
واضح رہے کہ وطن عزیز پاکستان سرکاری مصدقہ ذرائع کے مطابق تقریبا 8299، ارب روپے کا مقروض ہے۔ سادہ الفاظ میں اگر ریاستی ادارے نیک نیتی کے ساتھ 12 ارب روپے کی روزانہ ہونے والی کرپشن پر 3 سال کیلئے قابو پا لیں تو پاکستان نہ صرف چند سال کے اندر مزید کسی قرضے کے بوجھ کے بغیر انرجی بحران کاحتمی مسئلہ بھی حل ہو جائے گا بلکہ آئی ایم ایف سمیت تمام عالمی ڈونر ایجنسیوں کے قرض سے بھی ہمیشہ کیلئے نجات مل سکتی ہے۔
کیا یہ سمجھا جائے کہ ریاستی ذمہ دار ادارے ان حقائق اور اعداد و شمار سے آگاہ نہیں یا دیدہ دانستہ کرپشن کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ کہا جاتا ہے کہ نیب کے پاس سینکڑوں نہیں ہزاروں مقدمات زیر تفتیش ہیں جبکہ 150 سے زائد میگا کرپشن کیسز فائلوں میں بند پڑے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے 202 ٹریلین روپے کے اعتراض شدہ کیسز کئی سال سے طے نہیں کئے گئے۔
بلاشبہ کرپشن کا مکمل خاتمہ اور بے لاگ شفاف احتساب ایک گھمبیر قومی مسئلہ ہے لیکن اصل مسئلہ ریاستی مقتدر اداروں کی جھوٹی انا اور گروہی مفادات ہیں جس پر مبالغہ آرائی کر کے اندرونی اور بیرونی ملک دشمن عناصر اپنے مخصوص فوائد حاصل کرتے ہیں، جیسے کالا باغ ڈیم کو اپنوں نے بگاڑا ہوا ہے۔ احتسابی عمل کی بحالی اور کرپشن کا خاتمہ و کنٹرول کیلئے پاکستان میں اس کے پس منظر سے آگاہی بہت ضروری ہے۔
بلا شبہ سندھ بالخصوص کراچی میں کرپٹ عناصر کیخلاف جاری حالیہ اپریشن کے اپنے منطقی انجام تک پہنچنے میں ہمارے اداروں کی روایتی ناقص کارکردگی اور ان پر کرپٹ مافیا کی گرفت و اثر بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ لیکن کرپٹ عناصر کے خلاف آپریشن کرنے والے ادارے یعنی نیب وغیرہ اور صوبائی سیاسی حکومت کا آپریشن کے طریقہ کار اور لائحہ عمل میں ہم آہنگ نہ ہونے کی وجوہات کسی بھی لحاظ سے ملکی مفاد میں نہیں۔
ہاں یہ بھی ٹھیک ہے کہ سیاسی حکومتیں کسی بھی حالت میں اپنے حامی کاروباری اور تجارتی طبقوں کے مفادات کے خلاف کام کرنا برداشت نہیں کر سکتیں، کیونکہ یہی طبقے ان سیاسی جماعتوں کے حقیقی فنانسر ہونے کی وجہ سے سیاسی نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ لیکن بہر حال برسر اقتدار و دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو موجودہ نازک ملکی صورتحال اور ملکی مفاد کو ہر چیز پر ترجیح دینا چاہئے۔
ماضی میں سیاسی حکومتوں اور جماعتوں کے خلاف بوجوہ احتساب کا نعرہ لگایا جاتا رہا ہے، یہ علیحدہ بات ہے کہ کرپشن میں ملوث ہونے کی الزام تراشی اور کڑے احتساب کی دھمکیاں صرف سیاسی حکومتوں اور سیاسی لیڈرشپ کے خلاف کی گئی اور وہ بھی صرف پراپیگنڈا کی حد تک۔ لیکن یہ کسی طرح بھی اچھا عمل نہیں تھا۔ کیا کرپشن صرف سیاسی دور میں ہوتی رہی ہے اورصرف سیاسی طبقے ہی اپنے دور حکومت میں کرپشن اور بدعنوانیوں کے مرتکب رہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جب بھی احتساب کی بات ہوئی صرف سیاسی حکومتوں اورجماعتوں کے خلاف ہوئی اور وہ بھی صرف اس وقت جب کچھ طالع آزما فوجی جرنیلوں نے جمہوری ائینی حکومتوں پر غاصبانہ قبضے کے بعد ان سیاسی حکمرانوں کے خلاف ان پر اقرباپروری، کرپشن اور بدعنوان طرز حکمرانی کے الزامات عائید کرتے ہوئے میڈیا کے ذریعے ان کا بے لاگ احتساب کرنے کے بار بار سرکاری طور پر اعلانات تو کئے لیکن کمال یہ ہے کہ کبھی بھی کسی سیاسی فردکا احتساب نہیں کیا گیا اورنہ ہوتا نظر آیا۔ ہاں انتقامی حربے ضرور آزمائے گئے جبکہ پاکستانی عوام کی سادگی اور افواج پاکستان پر اندھے اعتماد کی انتہا ہے کہ ہر بار پورے جوش وخروش کے ساتھ ان کا استقبال ہواایک دفعہ نہیں چار وں بار احتساب کا نعرا لگایا گیا لیکن کیا حقیقت میں ایک دفعہ بھی احتساب کیا گیا بلکہ ہر نئے مارشل لا اور فوجی دور کا خاتمہ کرپشن کی نئی ہوش ربا داستانوں اور طریقوں کے ساتھ ہوا۔ وہ فیلڈ مارشل کا ایبڈو ہو یا جنرل یحییٰ کا ایل ایف او، جس کے نتیجہ میں آدھا ملک علیحدہ ہوا، یا جنرل ضیاالحق کا وعدہ احتساب اور اسلامی نظام کے نفاذ کے بجائے اسلامی تعزیرات کا نفاذ، یا جنرل مشرف کا شفاف اور منصفانہ احتساب کیلئے ایک با اختیار قومی احتساب بیورو یعنی نیب کا قیام۔ مگر مقام حیرت و افسوس ہے کہ اس سر زمین پر قومی خزانہ لوٹنے والے کسی سرکاری چھوٹے بڑے اہلکار، سیاستدان، تاجر، جج، جرنیل یا کسی اور شعبہ زندگی کے حامل فرد کے خلاف احتساب کے نام پر شائید ہی کارروائی ہوئی ہو۔
احتساب کے نام پرڈرامے ضرورکھیلے گئے ہاں ایسا ضرور ہوا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے کچھ رہنمائوں کو بلیک میل کر کے ان فوجی آمروں نے اپنی حکومتیں بنائی اور انہیں دوامی رنگ دینے کا ذریعہ بنایا۔کیا اس حقیقت سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ جنرل مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو ایک جمہوری حکومت پر کرپشن اور بد عنوانیت کا الزام عائید کرکے غیر آئنی طور پر اسکا خاتمہ کیا اور 19 نومبر 1999 کو قومی سطح پر ایک اعلیٰ اختیاراتی احتساب بیورو یعنی نیب کی تشکیل ہوئی لیکن اس احتساب بیورو نے بھی میاں نواز شریف کی بدعنوان جمہوری حکومت سمیت سابقہ جمہوری حکومتوں کے خلاف نہ ہی کوئی احتسابی کارروائی کی نہ ہی انکی بد عنوانیوں کی چھان بین کیلئے کسی قسم کے کمیشن مقرر کئے گئے۔ صرف فائلیں تیار کی گئیں تاکہ بوقت ضرورت بلیک میلنگ کیلئے استعمال ہوں۔عوام انتظار کرتے رہے کہ جنرل مشرف بد عنوان قرار دئیے گئے ان سابق سیاسی حکمرانوں کے خلاف احتسابی کارروائی کریں مگر تاریخ گواہ ہے جنرل مشرف کی منظوری سے پیپلز پارٹی جسے وہ کئی بار اپنی تقریروں میں بد عنوان اور کرپٹ کہتے رہے کے ساتھ 5 دسمبر 2008 کوان کی مرضی کی شرائط پر نہ صرف مصالحت کی بلکہ بدنام زمانہ این آر او نامی معاہدہ پر دستخط کر کے بد عنوان ترین 8041 قومی خزانہ لوٹنے والے مجرم افراد کے خلاف قائم کئے گئے تمام مقدمات کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ یاد رہے کہ ان 8041 مجرم افراد میں سے صرف 34 عدد سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن شامل تھے باقی اکثریت بیوروکریٹ، سرکاری اہل کار اور کاروباری شخصیتیں تھیں۔
ہمیں قومی سطح پر کرپشن کے سدباب کرنے والے اداروں نیب اور ایف آئی ا ے وغیرہ کو مزید با اختیار اور مضبوط بنانی کی ضرورت ہے اور اسی طرح ان اداروں کے اہلکاروں اور افسران کا بھی فرض ہے وہ اپنے رویئے اور کارکردگی سے زیادہ سے زیادہ اپنے ادارے کو عوامی اعتماد کا حامل ثابت کریں اور ہر ممکن لوٹی گئی قومی دولت قومی خزانہ میں واپس لائیں تا کہ ملک اقتصادی طور پر خود کفالت کی طرف بڑھے۔
تسلیم کہ ماضی میں کچھ اداروں نے سیاسی حکومتوں پر جھوٹے الزامات عائید کئے لیکن کیا ماضی کی ان الزام تراشیوں کی وجہ سے مستقبل میں سیاسی جماعتوں کو کرپشن یا دیگر بد عنوانیوں میں ملوث ہونے کی کھلی چھٹی مل گئی ہے یا وہ قانون سے بالادست ہوگئے ہیں یاد رہے کہ
ماضی میں قومی اداروں کی باہمی چپقلش نے ملک کو بے تحاشہ نقصان پہنچایا۔ لہذا ان تمام اداروں کو آئین کے مطابق تفویض کردہ حدود اور اختیارات کے مطابق قومی فرائض ادا کرنے چاہئے ہیں نہ کہ آپس میں چپقلش اور ٹکراؤ کا راستہ اپنایا جائے۔
ماضی کی حماقتوں اور غلط روشوں سے ہمیں بحثیت قوم چھٹکارا پانا ہوگا، بالخصوص دفاعی، سیاسی اور قومی اداروں پر زیادہ ذمہ داری عائید ہوتی ہے کہ وہ قانون کی بالا دستی کیلئے ہر سطح پر کوشش کریں اور ہر سطح پر کرپشن کے خاتمہ کیلئے کئے جانے والے ہر اقدام کاساتھ دیں نیز قومی سطح پر ہر ادارے اورہر شہری کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر بے لاگ اور منصفانہ احتساب کو ممکن بنائیں اور یہ سارا عمل قوم کو عملی طور کو ہوتا نظر آئے۔


Comments

FB Login Required - comments