بلوچستان کی نصابی کتابوں میں تعصب اور امتیاز (حصہ اول)


abid mir

پاکستان میں نصاب سازی کبھی بھی مقتدر حلقوں کے ہاں سنجیدہ موضوع نہیں رہی۔ قوموں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے اس جزو کو حب الوطنی کے تمغے رکھنے والے چند افراد کے حوالے کر کے فیصلہ ساز قوتیں ہمیشہ خود کو بری الذمہ قرار دیتی رہی ہیں۔ نتیجہ یہ رہا کہ آج ستر برس ہونے کو آئے، ملک میں ایک یکساں نصاب تک کا تعین نہ ہوسکا۔ بلوچستان تو یوں بھی اپنی پیشانی پہ شروع دن سے پسماندگی کا داغ سجائے ہوئے ہے۔ وفاق کے رویے اور رحجانات ہمیشہ یہاں اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ ابھی چند برس قبل تک نصاب سازی کے تمام تر اختیارات جب وفاق کے پاس ہوا کرتے تھے تو بلوچستان میں نصاب کی تمام کتابیں اسلام آباد یا پنجاب سے تیار ہو کر آتی تھیں۔ اب جب کہ اٹھاوریں ترمیم کے بعد نصاب سازی کا اختیار صوبوں کو منتقل ہو چکا، اس کے باوجود بلوچستان میں اب تک نصاب کی کوئی کتاب صوبائی سطح پر تیار نہیں کی جا سکی۔ شعبہ نصابیات کے ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ بلوچستان حکومت نے یہ کہہ کر کہ ان کے پاس نصاب سازی کے اہل افراد ہی موجود نہیں، 2016ء تک وفاقی نصاب کو ہی بروئے کار لانے کا حکم جاری کیا ہے۔

قطع نظر اس بحث کے، پاکستان میں تین مضامین نصاب کی سطح پر ہمیشہ نظریاتی افکار کی ترویج کا باعث رہے ہیں؛ اردو، اسلامیات اور مطالعہ پاکستان۔ مطالعہ پاکستان کا مضمون جنرل ضیاالحق کے عہد میں متعارف ہوا۔ یہ آج بھی لازمی مضمون کی صورت میں میٹرک سے لے کر انٹر (بعض مضامین میں یونیورسٹی کی سطح تک) پڑھایا جاتا ہے۔ ان مضامین سے بالخصوص طلبہ کی نظریاتی تربیت کا کام لیا جاتا ہے۔ اور جو مضمون ریاست کی نظریاتی تربیت کا ذریعہ بن جائے، اس میں مبالغہ آمیزی کا عنصر یقینی ہو جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں پڑھایا جانے والا مطالعہ پاکستان کا اہم مضمون مبالغہ کے علاوہ حقائق کی اغلاط اور تعصبات سے بھی بھرا ہوا ہے۔ بلوچستان میں گذشتہ برس نئی ’روشن خیال‘ حکومت نے آتے ہی تعلیمی ایمرجنسی کا جو اعلان کیا تھا، اس میں نصاب میں نفرت انگیز اور متعصب مواد کو خارج کرنے کا عزم بھی شامل تھا۔ لیکن آج ڈیڑھ برس بعد بھی جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے، وہ کس قدر تعصبات اور اغلاط سے بھرا ہوا ہے، ذیل میں ہم محض اس کی ایک جھلک پیش کر رہے ہیں۔

مذکورہ مطالعے کے لیے ہم نے بلوچستان میں میٹرک اور انٹر لیول پر پڑھائی جانے والی مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کی نصابی کتب کو منتخب کیا ہے۔ ہر دو کتب میں شامل اغلاط اور متعصبانہ مواد کی الگ الگ نشان دہی کی گئی ہے۔

آئیے پہلے تذکرہ کرتے ہیں میٹرک،جماعت دہم میں پڑھائی جانے والی مطالعہ پاکستان کی کتاب کا۔ اس کے مصنفین ہیں، پروفیسر احمد سعید خٹک اور پروفیسر محمد نصیر خان۔ مدیر: ڈاکٹر محمد نواز، اشاعت: 2013۔ منظور شدہ: بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ، کوئٹہ۔ پبلشر: نیو کالج پبلی کیشنز، کوئٹہ۔

یہ کتاب ہندو اور بھارت دشمنی کے مواد سے بھری ہوئی ہے۔ اس کی چند مثالیں دیکھیں:

 1۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا، اس کے ایک روز بعد بھارت کاقیام عمل میں آیا۔ (ص،63)

2۔ لاکھوں مہاجرین نے پاکستان کا رخ کیا، جن کے قافلوں کے ساتھ بھارت کے اندر ہندوؤں اور سکھوں نے وہ انسانیت سوز سلوک کیا جس کے بیان سے بھی دل لرز جاتے ہیں۔ اس ہجرت کے دوران بعض واقعات میں تو بھارتی فوج بھی برملا عام ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ مسلمانوں کے قتل و غارت میں شامل تھی۔ (ص، 64)

3۔ پاکستانی علاقوں میں قائم دفتروں کے ہندو اہلکار ہندوستان جاتے ہوئے تمام ریکارڈ تباہ کر گئے تھے ۔ (ص،65)

4۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آج تک یہ (کشمیر کا) مسئلہ جوں کا توں ہے۔ (ص،97)

 5۔ 1971ء میں بھارتی جارحیت کی بدولت ہی تو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ (ص،97)

6۔ پاکستان نے بھی چھ ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔ (ص،97)

7۔ بھارت کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ پر امن بقائے باہمی میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

انٹر میڈیٹ کی سطح پر رائج مطالعہ پاکستان کی کتاب بھی اسی قسم کے مواد سے بھری ہوئی ہے۔ اس کے مدیران ہیں؛ محمد سلیم اختر، حفصہ جاوید سبط حسن، مسز شفقت افتخار، اشاعت: 2011۔ منظور شدہ: بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ، کوئٹہ۔ پبلشر، فہد پبلشنگ کمپنی، کوئٹہ۔

 1۔ اونچی ذات کے ہندو، نچلی ذاتوں خصوصاً ویش اور شودروں سے بہت برا سلوک کرتے تھے۔ مسلمان حملہ آوروں نے جب ان لوگوں سے رواداری کا مظاہرہ کیا تو انھوں نے اپنے حکمرانوں کا ساتھ دینے کی بجائے مسلمان حملہ آوروں کا ساتھ دیا۔… ویش اور شودر نہایت ذلت و رسوائی کی زندگی گزار رہے تھے۔(ص، 1)

2۔عوام کی اکثریت جاہل، پسماندہ اور توہم پرستی کا شکار تھی…ہندو، ترقی اور جدت کے دشمن تھے، غیر ملکیوں کو ناپاک سمجھتے تھے۔…ذات پات کے بندھنوں کے باعث عوام میں باہمی رواداری کا فقدان تھا…عورت کی معاشرے میں کوئی عزت نہ تھی۔ وہ مرد کی دست نگر اور لونڈی بن کر رہتی تھی۔ ستی کا رواج عام تھا۔…گوتم بدھ کی اصلاحی کوشش جو بدھ مت کے نام سے مشہور تھی اندرونی انتشار اور شاہی سرپرستی سے محرومی کے باعث ناکامی کا شکار ہو چکی تھی۔ (ص،2)

(یہ باتیں وہاں بھی پڑھانی پڑتی ہیں جہاں کلاس میں کہیں کہیں ہندو طلبہ کی تعداد مسلمان طلبہ سے زیادہ ہوتی ہے، جیسے بیلہ وغیرہ)

 3۔مسلمانوں کی آمد سے پہلے ہندو، لباس کے معاملے میں سلیقہ مند نہ تھے۔ وہ اپنے جسم کو ایک یا دو چادروں سے ڈھانپ لیتے تھے، مسلمانوں نے پہلی دفعہ لباس سینے کا طریقہ رائج کیا، جو زیادہ باپردہ اور زیادہ خوبصورت تھا۔ (ص،3)

 4۔ مسلمانوں کی آمد سے اس خطے کے عوام کو ہندو سماج کی ناانصافیوں سے بڑی حد تک نجات مل گئی۔ ذات پات کی چکی میں پسنے والے پسماندہ طبقات نے سکھ کا سانس لیا اور اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔ (ص،4)

 5۔ مسلمانوں کو ہمیشہ اپنی بلند پایہ تہذیب و ثقافت پہ ناز رہا ہے، ہندو قوم اس تہذیب کو مٹانے کے درپے تھی۔…جنوبی ایشیا میں مسلمانوں نے صدیوں حکومت کی تھی چنانچہ وہ نہایت خوش حال قوم تھے۔ انگریزوں کے دور حکومت میں ہندوؤں اور انگریزوں کی ملی بھگت سے مسلمان اس علاقے کی نہایت مفلس و بدحال قوم بن گئے۔  (ص،6)

 6۔ انسانیت دشمن ہندوؤں اور سکھوں نے ہزاروں بلکہ لاکھوں عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو انتہائی بے دردی اور سنگ دلی سے قتل کیا اور بے آبرو کیا۔ (ص،43)

 7۔مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے ساتھ کئی جنگیں ہو چکی ہیں۔مگر بدقسمتی سے بھارت کی روایتی سامراجیت کی وجہ سے آج تک یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث ہے۔ یہ کہنا کوئی مبالغہ نہیں کہ نہ صرف پاکستان کی ابتدائی مشکلات اور مسائل بھارت کے پیدا کردہ ہیں بلکہ پاکستان کا ہر مسئلہ بھارت کا پیداکردہ ہے، جبکہ پاکستان نے شروع ہی سے بھارت کے ساتھ اچھے ہمسائیوں جیسے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ (ص،40)

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “بلوچستان کی نصابی کتابوں میں تعصب اور امتیاز (حصہ اول)

  • 20-03-2016 at 12:23 am
    Permalink

    کیا یہ حقیقت نھیں۔۔تو پھر ۔سچ تو یھی ھے۔آپنے جن باتوں کا ذکر کیا ھے کیا ایسا نھیں ھوا تھا۔کیاآپ جانتے ھیں برطانیہ اور انڈیا کی اور بنگلہ دیش کی ھسٹری کی کتابوں میں کیا کچھ نھیں لکھا ھے۔ کبھی اس بارے میں قلم اٹھایئے۔بلا وجہ انگلی نہ اٹھاءیں۔

  • 20-03-2016 at 12:34 am
    Permalink

    کیا یہ سب با تیں درست نھیں ھیں۔ کیا ایسا نھیں ھوا تھا ۔ تو پھر تاریخ کو جھٹلانے یا چھپانے کی کیا ضرورت ھے۔ آپنے کبھی انڈیا ، انگلینڈ یا بنگلہ دیش کی تاریخ کی کتابوں کے بارے میں کیوں کچھ نھیں لکھا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ھے کہ آپ جیسے تعلیم یافتہ لوگ نجانے کیوں تاریخ کے سیاہ باب کو نئ نسل سے کیوں چھپانا چاھتے ھیں۔

  • 21-03-2016 at 4:02 am
    Permalink

    یہ سب تو 90 کی سکول کی کتابوں میں بھی تھا جب ہم ہائی سکول میں تھے۔ میرے خیال میں تو پورے پاکستان کے سکول کورس میں یہ باتیں شامل ہوں گی۔ اگرچہ مصنف نے یہ واضح نہیں کیا کہ باقی صوبوں کی کتب میں کیا اس سے مختلف کورس ہے ؟

  • 26-03-2016 at 2:51 am
    Permalink

    “اونچی ذات کے ہندو، نچلی ذاتوں خصوصاً ویش اور شودروں سے بہت برا سلوک کرتے تھے” یہاں غلطی یہ ہے کہ فعل ماضی استعمال کیا گیا ہے۔۔۔ کیونکہ سلوک تو وہ اب بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔۔ ویسے ہندؤں کو ہماری درسی کتابوں میں مفت کا رگڑا دیا گیا ہے،،،،باقی کشمیر والے مسئلے پر جو باتیں ہیں ان میں شاید ہی کوئی حقیقت کے منافی ہو۔۔۔ صاحب تحریر نے گدھے گھوڑے سب کو ایک ہی گنا ہے۔ ہندوستان کے بارے میں سچی باتیں بھی انہیں یا تو کڑوی گولی کی طرح ہضم نہیں ہوئیں یا پھر موصوف مسئلہ کشمیر کو بھارتی عینک سے دیکھتے ہیں۔۔۔ دوچار دن کے لیے کوئی کشمیری اخبار پڑھ لیں تو ان کی طبیعت خاصی صاف ہو جائے گی۔۔۔۔

  • 27-03-2016 at 11:27 pm
    Permalink

    بظاہر دونوں مصنیفین غیر پنجابی ہیں 🙂

  • 29-04-2016 at 9:08 pm
    Permalink

    bhaee sahib inn tammam baton main tahasab kaan hy

Comments are closed.