برطانیہ کی غلامی اور سعودی عرب سے عقیدت


farnood alamافغانستان میں بیسیوں ٹی وی چینلز اور سیکڑوں اخبارات ہیں جو غیر ملکی تنظیموں کے تعاون سے چل رہے ہیں۔ ترقی وفلاح کی بے شمار تنظیمیں ہیں جن کے پیچوان کو تمباکو باہر سے میسر آتا ہے۔ ان ٹی وی چینلز اور اخبارات کا اجرا ایک خوشحال افغانستان کیلئے ہوا اور یہ فلاحی ادارے بھی افغانستان کی تقدیر بدلنے کے لئے قائم ہوئے۔ جنہوں نے قائم کئے انہیں ایک ہی سوال لاحق ہے کہ صاحب بدحال افغانستان کا مسئلہ کیا ہے؟ اب کون بتلائے کہ افغانستان کا مسئلہ یہی خارجی عناصر ہیں جو افغانستان کو خوش حال دیکھنا چاہتے ہیں۔ میڈیا کا کام خبر دینا ہے۔ خبر رائے عامہ کو متاثر کرتی ہے۔ رائے عامہ کا بہاو اسی جانب ہوتا ہے جس کے اطراف و جوانب میں خبر کے بین السطور نے لکیر کھینچی ہوتی ہے۔ یہ جو ”اطراف و جوانب‘ ‘ ہیں ان کا تعین ہی دراصل مفادات سے ہوتا ہے۔ مفادات کی شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ یہ نظریاتی بھی ہوسکتی ہیں اور معاشی بھی۔ اطراف و جوانب کا تعین اگر آپ نے آزادی سے کیا ہے اور داخلی بنیادوں پہ کیا ہے تو یہ خیر کا پہلو ہے۔ اگر آپ اپنے ”اطراف و جوانب “ کے تعین میں ہی آزاد نہیں ہیں تو سمجھ جائیں کہ کہ مایوسی ساز فیکٹری کی بنیاد رکھ دی گئی ہے جس کی چمنیوں سے پیہم نامیدی کا زہریلا دھواں اٹھتا رہے گا۔ افغانستا ن کے منجملہ مسائل میں ایک یہ ہے کہ وہاں کا دانشور نفع نقصان کی جمع تفریق میں آزاد نہیں ہے۔ ہوتا یہ کہ آدمی جس کا کھاتا ہے اسی کا گانے پہ مجبور رہتا ہے۔ پھر معیشت کا انحصار جن مفادات پہ ہو، انہی میں خوب سے خوب تر کی کھوج لگاتا ہے۔ وسیع تر تناظر میں دیکھیئے تو یہ بد سے بدتر کا ایک خوشگوار سفر ہوتا ہے جس میں قومی مفاد بری طرح سے پامال ہوجاتا ہے۔
یہی مسئلہ نائن الیون کی رات کے بعد سے پاکستان کو درپیش ہے۔ یہاں کسی کے مفادات امریکہ سے وابستہ ہیں تو کسی کے برطانیہ سے۔ وہاں کی ڈونر ایجنسیاں چیک کاٹتی ہیں اور یہاں اداروں کے فیتے کٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔ انیس کروڑ کی آبادی میں شعور کی بیداری کو پانچ سو تحقیقاتی ادارے بہت ہوتے ہیں۔ اس دیس میں دو ہزار سے متجاوز تحقیقاتی ادارے قائم ہو چکے ہیں۔ کام کیا ہے؟ بس وہی مکھی پہ مکھی مارے جاو¿۔ نتیجہ؟ وہی ڈھاک کے تین پات۔ ان اداروں میں بیشتر وہ ہیں جو خواتین کے غم میں ہلکان ہوئے جارہے ہیں۔ انہیں شدید صدمہ ہے کہ پاکستان میں عورتوں کے منہ پر تیزاب پھینکاجاتا ہے۔ انہیں یہ پریشانی بھی لاحق ہے کہ عورتیں ذاتی خواہش کے برعکس بیاہ دی جاتی ہیں۔ کچھ ادارے وہ ہیں جنہیں تعلیم کا غم کھائے جارہا ہے۔ انہیں افسوس ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں گھوڑے گدھے بندھے ہوئے ہیں۔ انہیں دکھ ہے کہ یہاں اسکول بموں سے اڑا دیئے جاتے ہیں۔ ان مسائل میں یہ اس قدر سنجیدہ ہیں کہ سر سید احمد خان کی طرح ہاتھ بھی پھیلا لیتے ہیں۔ میں انہیں سر سید احمد سے بھی برتر اس لیئے سمجھتا ہوں کہ تعلیم کو فروغ دینے کیلئے یہ سات سمندر پار برطانیہ امریکہ ناروے اور ڈنمارک میں مارے مارے بھی پھر لیتے ہیں۔ اتنی قربانی تو عبدالستار ایدھی بھی کہاں دے پائے ہیں۔ کراچی سے شروع ہوئے کراچی پہ ہی ختم ہوگئے۔ حد ہوگئی۔
بے ایمانی کے معاملات بھی پوری ایمانداری کا تقاضا کرتے ہیں۔ روپے پیسے حرام کے ہی کیوں نہ ہوں حلال کرنے پڑتے ہیں۔ کروڑوں کا ہاتھ اگر مار کے آئے ہیں تو ثابت بھی کرنا ہوگا کہ عورت کے گال سے تیزاب کی کھرچن اکھیڑنے پہ کتنے اور بچوں کے الف انار بے بکری پہ کتنے خرچ ہوئے۔ اٹھیئے پانچ کروڑ میں تیزاب سے جلی عورت پہ ایک دستاویزی فلم بنا یئے، موٹے آنسووں کو زوم کیجیئے، بیک میں روح کو چھلنی کردینے والی موسیقی چلایئے، چھ کالم، دو ٹاک شو اور ایک سیمنار کا اہتمام کیجئے اور اللہ اللہ خیر سلا۔ خواتین تو نمٹ گئیں۔ رہ گیا تعلیم کا بحران، تو تعلیم کے بحران سے نمٹنے کے لئے تو ضروری ہے کہ آپ کے پاس ایک عدد ڈی ایس ایل آر کیمرہ اور ایک عدد ناتجربہ کار فوٹو گرافر ہو۔ فوٹو گرافر کو چھلاوے کی طرح ہر منظر پہ چھوڑ دیجیئے، اسکول میں بینر ٹانگ کر اکتالیس تصویریں لیجیے، گروپ فوٹو ضرور لیجیئے، سیلاب سے متاثر ہونے والے گیارہ بچوں میں کتابیں بانٹیئے، گروپ فوٹو ضرور لیجیئے، سال میں ایک ہائی ٹی سیمینار کا انعقاد کر کے دس دانشوروں کو تعلیم کی اہمیت کا احساس دلا یئے، گروپ فوٹو ضرور لیجیئے اور پھر سیگریٹ سلگا کر معجزے اپنے ہنر کے دیکھیئے۔
یقین جانئے، اگر یہ ادارے دوسو برس تک بھی قائم رہیں تو تبدیلی کا ریشو اور مسائل کا گراف ایک برابر رہے گا۔ یہ ادارے ڈونر ایجنسیوں کو دی جانے والی رپورٹ میں اہداف کے حصول کا دعوی بھی کریں گے اور اگلی سانس میں یہ مسائل میں اضافے کا مژدہ بھی سنائیں گے۔ ادراک سلامت ہو تو سوال اٹھتا ہے کہ یہ کیسا توازن ہے صاحب؟ مسائل اگر پہلے سے بڑھتے جارہے ہیں تو یہ ہزاروں ادارے کیا ساحل کی ریت پہ دیوان لکھنے میں مصروف ہیں؟ کر کیا رہے ہیں آپ؟ یہ وہ سوال ہے جو ڈونر ایجنسیاں بھی نہیں اٹھاتیں۔ کیوں؟ کیونکہ اہداف کے حصول کا مطلب یہ ہے کہ جو پیسے دیئے گئے تھے اس کی پائی پائی حلال کی جا چکی ہے، اور مسائل میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ میرے ملک میں ابھی مزید پائیاں حلال کرنے کی بھرپور گنجائش موجود ہے۔ گورا صاحب زنبیل کا منہ تھوڑا اور ڈھیلا کر دیتے ہیں کہ آخر وہ خوش حال پاکستان دیکھنے کی شدید خواہش جو رکھتے ہیں۔ یہ خوش حالی کی وہ مکروہ خواہش ہے جس نے بدحالی کی سیاہ رات کو طویل تر کر دیا ہے۔ داخلی مفاد کو خارجی خواہشیں بہا لے گئی ہیں۔ غمِ روزگار نے یہاں لا کھڑا کیا ہے کہ میں ڈونر ایجنسی کو بتاﺅں کہ اس سال بے شمار عورتوں کے چہرے تیزاب سے جھلس گئے ہیں۔ میں بتاﺅں کہ پاکستان میں ماہانہ بنیادوں پہ بیس بیس اسکول بند ہوتے چلے جارہے ہیں۔ طلبا کی حاضری افسوس ناک حد تک کم ہوگئی ہے۔ کیا میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ ہمارے ملک میں یہ سارے مسائل نہیں ہیں؟ نہیں،ہر گزنہیں۔ یہ اور اس طرح کے کئی اور سنگین مسائل ہیں جو سرتاپا انسانیت سوز ہیں، مگر یہ قومی اثاثے نہیں ہیں جو بیچ دیئے جائیں۔ بیچنے کے نہیں، یہ مسائل ختم کرنے کے ہیں۔ مسئلے ہی کو اگر میں مالِ تجارت بنالوں تو مسئلہ ختم کیسے ہوگا؟ اس پر تو سرمایہ کاری ہوگی۔ اب اگر میں ڈونر ایجنسی کو اپنے ملک کا یہ مسخ چہرہ نہ دکھاوں تو کیا میرا پیٹ کمر سے نہیں لگ جائے گا؟ بھئی گھوڑے کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ گھاس سے دوستی نہیں کر سکتا۔ گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا، خاک؟
بیرونی مداخلت کی جو قسم بیان ہوئی یہ مکروہ قسم ہے۔ یہاں بیرو نی مداخلت کی ایک اور قسم پائی جاتی ہے، جو کہ بہت مقدس اور لائق تکریم ہے۔ مداخلت کی اس اجلی قسم کا تعلق سعودیہ اور ایران سے ہے۔ سعودیہ اور ایران اسلام کے دو بنیادی ستون ہیں۔ سعودیہ اور ایران کی خوش نصیبی یہ ہے کہ پاکستانیوں کی غیر مشروط عقیدت انہیں میسر ہے۔ یہ عقیدتیں وقت اور حالات سے بالاتر ہیں۔ سرد و گرم سے یہ رشتے بے نیاز ہیں۔ فصلِ گل و لالہ کا تو یہ نغمہ سے سے پابند ہی نہیں ہے۔ بہار ہوکہ خزاں بس لا الہ الا اللہ۔ فرقوں کی ہنڈیا میں ویسے بھی ہلدی لگتی ہے نہ پھٹکری، رنگ بہر حال چوکھا ہی رہتا ہے۔ بے مروت تو خیر شیخ اور آغا بھی نہیں ہیں۔ ہاتھ کو کچھ نہ کچھ جنبش تو دے ہی دیتے ہیں۔ اور یہ جنبش صرف انہی علمائے کرام ومشائخ عظام کے لئے ہوتی ہے جنہوں نے سعودیہ اور ایران کو وہ سینگ ثابت کرنا ہوتا ہے جن پر خدا کا عرش دھرا ہے۔ ان میں سے ایک کو بھی اگر ہلکی سی جھرجھری آئی تو اسلام کے پانچوں ستون بحیرہ عرب میں ڈھولتے نظر آئیں گے۔ جتنا گڑ ڈالیے، قرآن سے اتنے دلائل نکل آتے ہیں۔ اسی لئے تو برطانوی سفارت خانے کی سرگرمیاں مداخلت اور سعودیہ و ایرانی سفارت خانوں کی سرگرمیاں ’رشتہ‘ کہلاتی ہیں۔ کتنے مدارس ہیں کتنی جماعتیں ہیں اور کتنے جرائد ورسائل ہیں جن کے ہر حرف و دیوار سے عود و عنبر اور خاکِ کربلا کی خوشبو آتی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق پچاس فیصد سے زیادہ شیعہ و سنی سعودیہ اور ایران کے مفادات کو پاکستان پر ترجیح دیتے ہیں۔ سعودیہ اور ایران کے بیچ آج پھر چھتیس کا آکڑا ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک نظر ڈال لیجئے کہ اس ملک میں کتنے پاکستانی اور کتنے عربی و ایرانی پائے جاتے ہیں؟
یہ سب کے سب جو اس وقت بقائم ہوش و حواس امریکی، برطانوی، سعودی اور ایرانی ہوچکے ہیں انہیں اس بات کا بہت دکھ ہے کہ بلوچی سندھی سرائیکی اور پختون کی رٹ لگانے والے لوگ خود کو پاکستانی نہیں کہتے۔ ایک ہفتے سے انہیں اب اس بات پر غیرت کے شدید دورے پڑے جارہے ہیں کہ عدنان سمیع نے ہندوستان کی شہریت کیوں حاصل کرلی۔ سبحان تیری قدرت!


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “برطانیہ کی غلامی اور سعودی عرب سے عقیدت

  • 14-03-2016 at 11:35 am
    Permalink

    !!!Excellent farnoof alam sahab
    Ap ka shakooh e qalam aor bharta rahey.

Comments are closed.