ناانصافی کا آسیب اور دھونس کی ثقافت


wajahat

کارل مارکس اور اینگلز نے 1849 ء میں کمیونسٹ مینی فیسٹو کے منشورکا آغاز اس جملے سے کیا۔’یورپ پر ایک بھوت منڈلا رہا ہے۔ کمیونزم کا بھوت‘۔ کچھ محترم دوستوں کے بقول ٓآج پاکستان پر لبرل ازم کا بھوت منڈلا رہا ہے۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ انیسویں صدی میں بھی یہ خدشات بے بنیاد تھے اور آج بھی ان خدشات کا حقیقی مقصد کچھ اور ہے۔ پنجاب اسمبلی کی طرف سے حقوق نسواں بل منظور ہونے کے بعد مذہبی جماعتوں اور گروہوں نے 15مارچ کو جماعت اسلامی کے صدر دفتر منصورہ میں ایک اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں شریک تنظیموں اور رہنماؤں کی فہرست ملک میں نئی سیاسی صف بندی کی نشان دہی کرتی ہے۔ اس موقع پر جاری کیا جانے والا اعلامیہ جنوری 1951 ء میں علماء کے کراچی اجلاس کے اعلامیے کی یاد دلاتا ہے۔ تب بھی موجودہ حکمرانوں کو دین دشمن اور شریعت مخالف قرار دیا گیا تھا اب بھی منبر و محراب سے یہی صدا بلند ہوئی ہے۔ تب بھی علماء کے لیے قانون سازی پر اجارے کا مطالبہ تھا ، مطالبہ اب بھی یہی ہے ۔ تب بھی کچھ ناپسندیدہ شخصیات کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، اب بھی کچھ افراد کی قربانی مانگی جا رہی ہے۔ پینسٹھ سال قبل وقت کی چال پہچانی تھی اور نہ آج کے مطالبات کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق ہے۔

اگر حقوق نسواں بل آئین کے منافی ہے تو اس کے لیے عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا جاتا ؟ پاکستان کی نظریاتی اساس کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والوں سے پوچھنا چاہیے کہ اگر ملک کا منتخب وزیراعظم پالیسیوں میں تبدیلی کرنا چاہے تو ایسے لوگ اسے کیسے روک سکتے ہیں جنہیں عوام نے اپنی تائید سے نہیں نوازا۔ ستم یہ ہے کہ ملک کی نظریاتی اساس کا تحفظ کرنے کا دعویٰ کرنے والوں نے اس ملک کے قیام کی سرتوڑ مخالفت کی تھی۔ اصل معاملہ تو شاید یہ ہے کہ ملکی سیاست میں اپنے لئے ختم ہوتی جگہ واپس لینے کے لئے بہانہ سازی کی جا رہی ہے۔

ممتاز قادری کی پھانسی کے بارے میں شکوہ ہے کہ اس میں جلد بازی کی گئی ۔ کیا اس مقدمے میں قانون کے سب تقاضے پورے نہیں کیے گئے؟ کیا سماعت اور اپیل کا کوئی مرحلہ باقی رہ گیا۔ واضح رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو راستے سے ہٹانے کے لیے قتل کا مقدمہ چلایا گیا تو سرے سے سیشن کورٹ میں سماعت کا تردد ہی نہیں کیا گیا تھا۔ نواب محمد احمد خان قتل کیس کا مقدمہ براہ راست ہائیکورٹ میں چلایا گیا۔ ممتاز قادری کی پھانسی کے نام پر سیاست کرنے والوں کو حقیقی جھنجلاہٹ یہ ہے کہ انہوں نے 1986 ء اور پھر 1990ء میں توہین مذہب سے متعلق قوانین میں ترمیم کر کے بزعم خود قتل کرنے کا لائسنس حاصل کر لیا تھا۔ قانون کی آڑ میں یہ لوگ در اصل چاہتے تھے کہ یہ جس کی طرف انگلی کر دیں وہ سانس لینا بند کر دے۔ اسے عدالت کے ذریعے پھانسی دی جائے یا پھر مردان حر کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنا ہنر آزمائیں۔ اگراس معاملے میں قانونی تقاضوں کی پیروی کا کوئی ارادہ ہوتا تو سلامت مسیح کیس کا ملزم عدالت عالیہ کے دروازے پر قتل نہ کیا جاتا۔ لاہور ہائیکورٹ کا جج توہین مذہب کے ملزم کو بری کرنے کی پاداش میں قتل نہ کیا جاتا۔ ملتان میں راشد رحمن کو ملزم کا دفاع کرنے کے جرم میں قتل نہ کیا جاتا۔ چنانچہ یہ واضح ہے کہ اس قانون کی موجودگی میں بھی کوئی ملزم محفوظ ہے اور نہ منصف اور نہ ہی وکیل۔ممتاز قادری کی پھانسی سے پیغام دیا گیا ہے کہ ریاست اس قانون کی من مانی تشریح کا اختیار کسی کو سونپنے پر تیار نہیں ہے۔

حقوق نسواں قانون کے ضمن میں اسلامی نظریاتی کونسل کا مہرہ آگے بڑھایا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل بنیادی طور سے عوام کے منتخب نمائندوں کے حق قانون سازی پر ناروا پابندی کا نام ہے۔ 1962ء میں ایک فوجی آمر نے مخالفین کی تالیف قلب کے لئے یہ مشاورتی کونسل قائم کی تھی۔ 73 ء کے آئین میں اس ادارے کو مشاورتی حیثیت دی گئی تاہم منتخب پارلیمان نظریاتی کونسل کی رائے کا انتظار کیے بغیر قانون سازی کر سکتی تھی۔ بعد ازاں ایک دوسرے ڈکٹیٹر ضیاالحق نے اس ادارے کی مشاورتی حیثیت میں اضافہ کر کے اسے دس برس کی مدت میں تمام ملکی قوانین کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپ دی۔ یہ مدت 1997ء میں نظریاتی کونسل کی حتمی رپورٹ پیش ہونے پر ختم ہو چکی۔ تاہم اس ادارے کی آئینی حیثیت پر نظرثانی نہیں کی گئی اور یہ بدستور ہر برس اپنی نامطلوب سفارشات کا پلندہ پارلیمنٹ کے سپرد کر دیتی ہے۔ ایک طرف یہ ادارہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو مراعات بخشنے کا ذریعہ بن گیا ہے اور دوسری طرف سیاسی عمل اور قانون سازی کو یرغمال بنانے کی خواہش مند قوتوں کے لئے ایک آزمودہ ہتھیار بن گیا ہے۔ یہ ادارہ معاشرتی ارتقا اور قانون سازی کی حرکیات میں ایک رکاوٹ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ دنیا بھر کے غیر متعلقہ موضوعات پر خیال آرائی کی جاتی ہے ۔ گزشتہ عشروں میں اس ادارے کی رپورٹیں گواہ ہیں کہ اس کونسل کا بنیادی مقصد مردانہ بالادستی کی اقدار کو مضبوط بنانا اور پیوستہ مفادات کی عذرخواہی ہے۔ کونسل نے مذہبی رواداری کے حصول میں کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ اس کی سفارشات سے ملک کی جگ ہنسائی کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے۔ مقصد قرآن و سنت کی بالادستی نہیں بلکہ قرآن و سنت کے نام پر مٹھی بھر افراد کے اثر و نفوذ کو بڑھانا ہے جو مذہب کے نام پر معاشرے کو یرغمال بنانا چاہتے ہیں۔

تاریخ کے اس موڑ پر پاکستان کی ریاست اور معاشرے کو اہم فیصلے کرنا ہیں۔ پاکستان میں دھونس کی سیاست ختم ہو رہی ہے۔ عوام کو بے اختیار کر کے مرتب کیا جانے والا وہ اجتماعی ایجنڈا اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے جس نے معیشت کو مفلوج کیا ۔ معاشرے کو پسماندہ کیا اور پورے ملک کو دہشت گردی کے عفریت کا شکار کر دیا۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ملک کو سیکولر بنایا جا رہا ہے یا یہ کہ حکومت کی ترجیحات لبرل ہو گئی ہیں ۔ لبرل سیاست کے امکانات بنیادی قضیہ نہیں ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ چالیس برس پہلے جس بیانئے کی آڑ میں پاکستان پر دھونس کا بندوبست قائم کیا گیا تھا ، وہ بیانیہ اب قابل عمل نہیں رہا۔ پاکستان کی معیشت میں ایسے امکانات پیدا ہوئے ہیں جن سے تمام طبقات کے لیے بہتر زندگی کا امکان موجود ہے۔ ملکی ادارے مضبوط ہوتے ہیں ۔ پارلیمنٹ، فوج ، ذرائع ابلاغ، صنعت ، خدمات اور زراعت سمیت کوئی شعبہ ایسا نہیں جسے نئے سیاسی اور اقتصادی بیانئے میں فائدہ نہیں ہو گا۔ نقصان صرف اس طبقے کا ہے جو مذہب کے نام پر مفادات کی آبیاری کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ اس طبقے کی جھنجلاہٹ دیدنی ہے۔ کھلے لفظوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ 1977 ء کی تحریک کا ذکر کیا جاتا ہے تو پوچھنا چاہیے کہ 1977ء کی تحریک کے نتائج کیا رہے تھے۔ اس طبقے نے ملک کو کوئی علمی فائدہ نہیں پہنچایا ۔ معاشی سرگرمیوں میں حصہ ڈالنے کا کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا اور اس کی غیر ذمہ داری سے ملک کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اگر پچیس مذہبی جماعتیں مل کر فروعی معاملات کے نام پر ملک کا راستہ کھوٹا کرنے کی دھمکی دیتی ہیں تو ریاست کی جائز نمائندہ اور ریاستی قوتوں کو بھی سنجیدگی سے ایک معاشی اور جمہوری میثاق کے بنیادی خدوخال پر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے تاکہ ریاست اور عوام کے تال میل سے ان عناصر کا راستہ روکا جا سکے جن کی مہربانیوں کے طفیل دہشت گردی ، عدم رواداری ، پسماندگی اور غربت نے ہمارا گھر دیکھ رکھا ہے۔ آپریشن ضرب عضب جہاں ریاست کی ترجیحات میں تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے تو دوسری طرف یہ تقاضا بھی کرتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کا ہدف قرار دیے جانے والوں کے پشتی بانوں کا راستہ بھی روکا جائے۔ عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیے بغیر پاکستان کو ناانصافی کے آسیب اور دھونس کی ثقافت سے نجات نہیں دلائی جا سکتی۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب پارلیمنٹ سے بھی لینا ہو گا اور عدالت سے بھی۔ لیکن ایسے بنیادی اخلاقی سوال کے لئے حتمی لڑائی انسانی ضمیر اور تاریخ کے احاطے میں لڑی جاتی ہے۔ انسانی ضمیر ناانصافی کے آسیب سے خالی ہے اور تاریخ کی عدالت میں دھونس کو دخل نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ناانصافی کا آسیب اور دھونس کی ثقافت

  • 19-03-2016 at 4:38 am
    Permalink

    استادِ محترم
    آپ نے فرمایا:
    ۔ پاکستان میں دھونس کی سیاست ختم ہو رہی ہے۔ عوامی کو بے اختیار کر کے مرتب کیا جانے والا وہ اجتماعی ایجنڈا اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے جس نے معیشت کو مفلوج کیا ۔ معاشرے کو پسماندہ کیا اور پورے ملک کو دہشت گردی کے عفریت کا شکار کر دیا۔”
    کیا واقعی؟
    سنگین غداری اور ججوں کو قید میں ڈالنے کے ملزم کی مسلسل توہینِ عدالت اور بالآخر بڑی فاتحانہ پروز کے بعد بھی؟؟؟
    یہ اگر پوری قوم، آئین اور ریاست پر مسلط کی جانے والی دھونس کی سیاست بلکہ سیاہ عملی دستور نہیں تو پھر اور کیا ہے؟
    معاف کیجیے، جب تک ہمارے ریاستی کنوئیں میں گرا آئین شکنی اور نظامِ قانون و عدل کی بے توقیری کا وجودِ نامسعود موجود ہے,,, دہشتگردی سمیت ہر سیاسی، سماجی اور اخلاقی برائی کے خاتمے کی خواہش محض خیال و خوب ہی ہے۔ اگر آپ کو اس خواب آگیں ماحول میں رہنا پسند ہیں تو وہیں خوش رہیے۔

  • 19-03-2016 at 10:57 pm
    Permalink

    Welcome to Ham Sab. It is nice approach to facilitate the new or the old writers to ensure their access to lot of information to help, educate and learn the people at large.
    Each writing is a talk and has its potential to make or break the civil society.
    We at the moment need badly such writers who could fight back the social evils to ensure the masses access to justice as the equal gender with equal right and respect in the society we are waiting for the last 70 years.
    I did not see some English writings. I hope you will let them too to your newspaper.
    Thanks lot.

Comments are closed.