سب رنگ کا بازی گر


ستمبر انیس سو نناوے کی ایک شام، پریس چیمبرز کے زینے کے نیچے کھڑا سوچ رہا تھا، کہ انھیں‌ طے کیا جائے، یا نہیں، دو قدم بڑھائے، اور پلٹ گیا۔ راجندر سنگھ بیدی کا قول یاد آیا، کہ جس سے آپ متاثر ہوں، اس سے ہاتھ ملا لیں، آپ کو یہ احساس ہوگا، کہ وہ بھی آپ ہی کی طرح گوشت پوست کا انسان ہے۔ زینے طے کرتا “سب رنگ ڈائجسٹ” کی چوکھٹ پہ جا کھڑا ہوا۔ بائیں ہاتھ پہ دو سوفوں پہ دو افراد بیٹھے تھے۔ انھوں نے میری طرف استفسارانہ دیکھا۔راجندر نے یہ نہیں بتایا تھا، کہ جو ہاتھ ملانا ہے، وہ پسینے میں شرابور ہو، تو کیا کرنا چاہیے۔

shakeel adilzada
سید محمد عباس، شکیل عادل زادہ اور جون ایلیا۔ 1963۔

ان میں سے دراز قد گویا ہوئے، “جی؟” میں نے جھجھکتے ہوئے پوچھا، “شکیل عادل زادہ؟”

“آ جایئے” انھی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا، تو میں نے آمد کا مقصد بتانا چاہا، کہ میں “سب رنگ ڈائجسٹ کا دیوانہ ہوں، یا یہ کہتا کہ مجھے شکیل عادل زادہ سے ملنے کا از حد اشتیاق ہے، لیکن انھوں نے یہ کہہ کر مجھے اظہار کا موقع ہی نہیں دیا کہ “ارے سانس تو لے لیجیے۔ بیٹھیے۔” میں دم سادھ کر بیٹھ گیا۔ دوسرے سوفے پر جو صاحب براجمان تھے، وہی شکیل عادل زادہ تھے۔ اور وہ مسکراتا ہوا شفیق چہرہ، جس نے مجھے سانس بہ حال کرنے کا مشورہ دیا تھا، ان کا نام حسن ہاشمی تھا۔ حسن ہاشمی اب ہم میں نہیں رہے۔ “کوہ نور” جہاں سے دریافت ہوا ہوگا، وہاں مزید کتنے ہیرے ہوں گے، سب رنگ ڈائجسٹ کے دفتر میں جا کر اِس کا ادراک ہوا۔

شکیل عادل زادہ۔ دیو مالائی سا ایک کردار۔ دیو مالائی کردار پہ لکھنا کتنا مشکل عمل ہوگا، یہ شکیل عادل زادہ پر لکھتے احساس ہوتا ہے۔ آپ یہ نہیں سمجھ پاتے، کس کرامت کا بیان پہلے کیا جائے، اور کس معجزے کو کہاں لایا جائے۔ میں اس روز اردو بازار سے ہوتا ہوا، یہاں آیا تھا۔ دو تین شاپنگ بیگز میں کتابیں تھیں۔ حسن ہاشمی اور شکیل عادل زادہ نے جاننا چاہا کہ میں نے کون کون سی کتابیں خریدی ہیں۔ ابنِ صفی کا “عمران سیریز” میرے بچپن کا عشق ہے۔ ان دنوں میں عمران سیریز کے وہ ناول جمع کرتا پھر رہا تھا، جو میرے خزانے میں نہ تھے۔ میں‌عمران سیریز کے ناول دکھاتے جز بز ہوا، کہ کہیں میرے ذوق کا مذاق نہ اڑایا جائے، لیکن اس وقت حوصلہ ہوا، جب شکیل عادل زادہ کہنے لگے، کہ ابنِ صفی کا اردو پہ بہت بڑا احسان ہے۔ وغیرہ۔ باتوں باتوں میں سب رنگ کے حالیہ شمارے کی بابت پوچھا، کہ کیسا تھا؟ میں نے برملا کہا، کہ اِس بار کا شمارہ اس معیار کا نہیں تھا، جس کی توقع کی جاتی ہے۔ شکیل عادل زادہ ترنت بولے، آپ ٹھیک کہتے ہیں، اِس shakeel-0بار کا شمارہ واقعی اچھا نہ تھا۔ مجھے اپنے کہے پر پشیمانی ہوئی۔ یہ میرا پہلا سبق تھا۔

اس دِن کے بعد، جب جب کراچی جانا ہوا، “سب رنگ” کے دفتر حاضری نہ ہوئی، ایسا نہ تھا۔ سب رنگ کے دفتر میں دپہر کا کھانا ایک روایت تھی۔ (سنتے ہیں، یہ روایت پھر سے زندہ کی گئی ہے) دپہر کے کھانے کے بعد شکیل عادل زادہ جو شکیل بھائی کے نام سے پکارے جاتے ہیں، قیلولہ کرتے۔ چوں کہ سبھی احباب اس روٹین سے واقف تھے۔ لہاذا تین سے پانچ کوئی مہمان نہ ہوتا۔ میں راول پنڈی یا لاہور سے کراچی گیا ہوتا، تو دل میں یہ چاہ ہوتی، کہ زیادہ سے زیادہ وقت وہاں گزاروں۔ کھانے کے وقت سے پہلے پریس چیمبرز بلڈنگ پہنچ جاتا، لنچ ٹائم پر مخصوص احباب اکٹھے ہونا شروع ہوتے، میں یہ اداکاری کرتا کہ مجھے بھوک نہیں ہے۔ اصرار کیا جاتا، کہ کھایئے۔ چند لقمے لیتا، اور الگ ہوجاتا۔ حیا مانع ہوتی، کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے، کہ کھانے کے وقت نازل ہو جاتا ہے۔ وہاں ایسا سوچنے والا کوئی نہ تھا، لیکن میں تو تھا، ناں۔ تین سے پانچ شکیل بھائی قیلولے کے لئے ملحقہ کمرے میں چلے جاتے، اور میں وہاں تنِ تنہا پانچ بجے کا انتظار کرتا، جو میرا فیورٹ ٹائم تھا۔ پانچ بجے ملاقاتیوں کا تانتا نہ ہوتا۔ شکیل بھائی سے گفت گو کرنے کا بہ ترین وقت وہی تھا۔ چھہ بجے شکیل بھئی گھر کے لئے روانہ ہوتے، تو میں ہم راہ ہوتا، کہ مجھے میری منزل پر چھوڑتے ہوئے جاتے تھے۔

میرے اولین سوالوں میں ایک یہ تھا، کہ “کورا کون ہے؟” اس کا جواب مجھے ایک وقت حسن ہاشمی نے دیا تھا، لیکن بوجوہ یہاں تذکرہ نہیں کر رہا۔ پھر میں نے یہ پوچھا، کہ “بازی گر کے بِٹھل آپ ہی ہیں ناں؟” میرا یہ خیال ہے، کہ شکیل عادل زادہ کو بِٹھل ہی ہونا چاہیے، وہ بابر زمان خان نہیں ہو سکتے۔ تیسرا سوال جو مجھے یاد ہے، وہ یہ تھا، کہ “بابر کو کورا کبھی نہیں ملے گی، ناں؟” شکیل بھائی نے بڑے تیقن سے فخریہ کہا، “بالکل نہیں۔” میری یہی خواہش تھی، کہ بابر کو کورا کبھی نہ ملے، اب مجھے زریں کی فکر ہوئی، “اور زریں؟ زریں کا کیا ہوگا؟” زریں “بازی گر” کے یادگار کرداروں میں سے ایک حسین کردار، اسے بابر زماں خان سے محبت ہے۔ مجھے کورا سے زیادہ زریں سے محبت ہے۔

اِن ملاقاتوں میں بہت سے لمحے ہیں، جنھیں ایک ترتیب سے بیان کرنا میرے لئے تو ممکن نہیں۔ ایک بار کہنے لگے، شادی کا انسٹی ٹیوٹ جس نے بھی بنایا، بہت ظلم کیا۔ سب کو آزادی ہونی چاہیے تھی، جس سے، اور جب چاہے تعلق قائم کرلے۔ یہ سن کر، میرے کان غصے سے لال ہو گئے، میں نے انتہائی بد تمیزی سے سوال کیے، انھوں نے کمال تحمل سے جواب دیے، یہ دوسرا موقع تھا، کہ مجھے اپنے سوال پہ پشیمانی ہوئی۔ مختلف لوگوں سے ایک ہی سوال کرتے پایا، “شادی سے کیا راحت ملی؟” مجھ سے بھی پوچھا، میرا جواب تھا، “بچے۔” اثبات میں سر ہلایا، خاموش رہے۔

شکیل بھائی کے علاوہ میں کسی ایک کو بھی نہیں جانتا، جو مقابل کی ہر بات سے اتفاق کرلیتا ہو۔ نہ وہ کسی عیسائی کو غلط کہیں گے، نہ مسلم کو، نہ ہندو مت پہ اعتراض کریں گے، تو نا ہی کسی اور مذہب پہ سوال اٹھائیں گے، لیکن یہ واضح ہے، کہ وہ مذہب کے پیرو کار نہیں ہیں۔ ایک بار ایک معروف مصنف جو ان کے قریبی دوست ہیں، اِس بات پہ قائل کرنے لگے، کہ ہمیں نظریہ الحاد کا پرچار کرنا چاہیے۔ شکیل بھائی نے انھیں کسی نہ کسی طرح ٹال دیا۔ شکیل بھائی کہتے ہیں، اکثر ملحدین آخری عمر میں مذہب سے رجوع کرلیتے ہیں۔ انسان کم زور ہوتا ہے، تو مذہب کے قریب ہو جاتا ہے۔ میں نے چھیڑنے کے انداز میں پوچھا، “اور آپ؟” تو کہا، “اماں چھوڑو، یار۔”

کیسے “سب رنگ” کے حقوق فروخت ہوئے، کیسے شکیل بھائی اس ادارے سے الگ ہوئے، وہ بھی آنکھوں دیکھا ہے۔ یہاں شکیل بھائی کے لکھے شذرے یاد آتے ہیں، جس میں وہ کہتے ہیں، “سب رنگ فرد ہے، ادارہ نہیں۔” فرد الگ ہوا، تو سب رنگ ماند پڑ گیا۔ جب نور الہدا شاہ نگران حکومت میں وزیر ہوئیں تو ان کی کوششوں سے “سب رنگ” ایک بار پھر شکیل عادل زادہ کے نام ہوا۔ آج اگر ان کے لئے “سب رنگ” کورا ہے، تو یہ وہ بابر زمان خان ہیں، جو کورا کا گھونگٹ اٹھاتے لرزتے ہیں، اِن کے چاہنے والے زریں کے مانند ہیں، جن کے لئے سب رنگ بابر زماں خان ہے، اور وہ اس کی ایک جھلک کے منتظر۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 85 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

2 thoughts on “سب رنگ کا بازی گر

  • 15-01-2016 at 10:51 pm
    Permalink

    Zafar Imran Sb kuch owr lamba likhtay is article ko….. bahut maza aaya….. hum bhi abhi tak Bazigar k sehar say nahin niklay hain,,,, Ap k Shakeel Adil zadad sa sawalat goya hamaray dil ki awaz hain…..Thank you for such a nice article….

  • 03-02-2016 at 4:46 pm
    Permalink

    Killed by shortness and abrupt end.

Comments are closed.