بھاگتے کمانڈو کی لنگوٹی


razi uddin razi دکھ تو بس اتنا سا ہے کہ بھاگتے کمانڈو کی لنگوٹی بھی ہمارے ہاتھ  نہ آ سکی۔ اس کی لنگوٹی تو خیر ہمارے ہاتھ کیا آنا تھی بہادر کمانڈو بھاگتے ہوئے ہماری بھی کچھ  لنگوٹیاں اپنے ساتھ  لے گیا۔ ان میں سب سے اہم لنگوٹی تو اس نام نہاد جمہوریت کی تھی جس کے ذریعے ہم عوامی حاکمیت کی عریانی چھپانے کی کوشش کررہے تھے ۔ ہم دعویٰ کرتے تھے کہ ہماری اورہمارے جمہوریت پسند رہنماﺅں کی قربانیوں کے نتیجے میں جمہوریت مستحکم ہو گئی ہے اوراتنی مستحکم ہوئی ہے کہ یہ اب شب خون مارنے والوں کوخون سے رنگے ہوئے ہاتھوں سمیت اپنے شکنجے میں لے سکتی ہے۔ ہم دعویٰ کرتاتھے کہ ہم نے شب خون مارنے والوں کا راستہ ہمیشہ کے لئے روک دیا ہے افسوس کہ راستہ روکنے والی یہ لنگوٹی بھی کمانڈو اپنے ساتھ ہی لے گیا۔ عبرت کی مثال شب خون مارنے والے کبھی بنے ہیں نہ بن سکیں گے۔ یہی راستہ ذوالفقارعلی بھٹونے بھی روکنے کی کوشش کی تھی اور 1973ء کا آئین بنانے کے بعداعلان کیا تھا کہ اب اس ملک کو آئین کی تحت ہی چلایا جائے گا اور آئین توڑنے والوں کو یہی آئین عبرت کی مثال بنا دے گا۔ بعد کے دنوں میں معلوم ہوا کہ آئین توڑنے والے نے نہ صرف یہ آئین توڑا بلکہ خود بھٹو صاحب کو ہی عبرت کی مثال بنا دیا۔ لیکن یہ سرپھرے جن کے سروں میں آئین کی بالادستی کا سودا سمایا ہوا تھا اپنی حرکتوں سے بازنہ آئے اورآئین کے تحفظ کی کوششیں کرتے چلے گئے انہیں کیا معلوم کہ آئین ہو یا پاکستان دونوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش میں ہی غیرمحفوظ بنایا گیا۔ پاکستان اس وقت ٹوٹا تھا جب کسی نے یہ کہا تھا کہ یہ ملک ہمیشہ قائم رہنے کے لئے بنایا گیا ہے یہ اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے اوراللہ اس کی حفاظت کر رہا ہے پھر 1973ء کا آئین بھی اس وقت ٹوٹا جب آئین بنانے والوں کو یقین ہو گیا کہ اس آئین کو توڑنا اب کسی مہم جو کے لئے ممکن نہیں رہا۔

چلئے صاحب چھوڑیں ان باتوں کو آئیں ذرا دوبارہ اپنی لنگوٹیوں کا جائزہ لیتے ہیں اوریہ دیکھتے ہیں کہ کمانڈو ہماری عریانی کے اور کون کون سے سامان کر کے گیا ہے۔ ایک لنگوٹی حکومت اورفوج کے درمیان مفاہمت کی بھی تھی یہ لنگوٹی بہت عرصہ تک خود آصف علی زرداری نے بھی پہنے رکھی وہ اس لنگوٹی کے ساتھ بھی بندوق میں ہاتھ لے کر ایوان صدر میں پھرتے تھے۔ بندوق اس لئے ہاتھ میں رکھتے تھے کہ انہیں معلوم تھاکہ اگر میں نے مفاہمت کی لنگوٹی پہن رکھی ہے تودوسری جانب کچھ لوگوں نے لنگوٹ بھی کس رکھے ہیں۔ جاتے جاتے آصف علی زرداری فوج کے ساتھ مفاہمت والی لنگوٹی میثاق جمہوریت کے نام پرنوازشریف کو عطا کر گئے۔ نواز شریف نے نثارعلی خان کے ذریعے کسی فوجی پٹڑے سے لنگوٹی دھلوائی اور تبلیغی جماعت والوں کی ہدایت پر میثاق جمہوریت کو مسواکِ جمہوریت میں تبدیل کر لیا۔ عمران خان اور طاہرالقادری نے ان کی دھلی د ھلائی لنگوٹی کھینچنے کی کوشش کی تونواز شریف نے پارلیمنٹ اورعدلیہ کی بالادستی والی لنگوٹی بھی فوج کے ساتھ مفاہمت والی لنگوٹی کے اوپر ہی چڑھا لی۔ یہ الگ بات کہ عدلیہ اورپارلیمنٹ نے اپنی آزادی اوربالادستی کی لنگوٹیاں بھی الگ سے پہن رکھی تھیں۔ اگرچہ جنرل اسلم بیگ سمیت بہت سے جرنیل کئی مقدمات میں پارلیمنٹ اورعدلیہ کوان کی لنگوٹیوں کی حیثیت بتا چکے تھے لیکن پھربھی عدلیہ کو یقین تھا کہ وہ کمانڈو کے خلاف قتل اورغداری کے مقدمات منطقی انجام تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اس دوران کمانڈو ٹھا ٹھ  کے ساتھ اپنے گھر پر ہی ”گرفتار“ رہا۔ وطن عزیز کے محافظ اس تمام عرصے میں بہادرکمانڈوکی حفاظت پر مامور رہے۔ آخری کھیل بہت عمدگی کے ساتھ کھیلا گیاعدالت نے اپنی بالادستی والی لنگوٹی مضبوطی کے ساتھ تھام کر گیند حکومت کی طرف اچھال دی اورکہا کہ حکومت اگر چاہے تو بہادر کمانڈو کو بیرون ملک جانے سے روک سکتی ہے ۔ یہی وہ لمحہ تھا کہ جب وزارت داخلہ کی لنگوٹی بھی سلامت نہ رہی ۔ بھاگتا کمانڈو اتنی بہادری کے ساتھ سب کی لنگوٹیاں چھین کر واپسی کا وعدہ کرتے ہوئے فرارہوا کہ ہم سب اس رائیگانی پر ہاتھ بھی نہ مل سکے کہ ان ہاتھوں سے توہمیں اپنی عریانی چھپانا تھی۔ اب ہم انتہائی عاجزی کے ساتھ صرف یہ درخواست لے کرحاضر ہوئے ہیں کہ کمانڈوصاحب ہمیں یقین ہے کہ آپ ڈرتے ورتے کسی سے نہیں آپ جب چاہے واپس آئیں بے شک سب لنگوٹیاں اپنے پاس رکھیں لیکن ہمیں صرف ایک لنگوٹی واپس کردیں تاکہ ہم اپنی جمہوریت کی عریانی چھپا سکیں اوردنیا کو بتا سکیں کہ یہ ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں عوام کے  نمائندے بہت طاقتور ہیں۔ یقین جانئے ہم بھی صرف دکھاوا ہی چاہتے ہیں حقیقت سے تو بخوبی آشنا ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments